10 جنوری 1919
مدینہ منورہ میں ترک سلاطین کی خدمت کا وقت پورا ہوا۔۔مدینہ منورہ کے آخری گورنر فخری پاشا نہ چاہتے ہوئے بھی ہتھیار ڈالتے ہیں۔
مدینہ جو حجاز کا ایک مقدس شہر ہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران میں ایک طویل محاصرے گزرا۔ اس وقت مدینہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ نےمرکزی طاقتوں کا ساتھ دیا۔ شریف مکہ نے سلطنت عثمانیہ سے غداری کی اور خلیفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، جس میں لارنس آف عربیہ کا ہاتھ تھا۔ شریف مکہ نےمکہ پر قبضہ کرنے کے بعد مدینہ کا محاصرہ کیا۔ یہ تاریخ کے طویل ترین محاصروں میں سے ایک تھا جو جنگ کے بعد بھی جاری رہا۔یہ محاصرہ 10 جون 1916 سے 10 جنوری 1919 تک جاری رہا۔فخری پاشا نے مدینہ کا دفاع کیا۔ انگریزوں اسے اس کی شجاعت کی وجہ سے اسے شیر صحرا (the Lion of the Desert) کہتے تھے۔یہ محاصرہ دو سال اور سات ماہ تک جاری رہا
10 جنوری 1919ء کو فخری پاشا نے مسجد نبوی میں 456 آفیسروں اور 9،364 جوانوں کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے
ایڈ جوئینٹ اے ڈی سی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور مدینہ منورہ حسین بن علی (غدار شریف مکّہ) کے سپرد کر دیا۔
فخری پاشا پہلی جنگ عظیم کے دوران 23 مئی 1916 میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے مدینے کے گورنر مقرر ہوۓ. 10 جون 1916 کو شریف مکّہ نے انور پاشا، جمال پاشا، اور طلعت پاشا کی جواں ترک کہلانے والی قیادت کے فیصلوں کو وجہ بناتے ہوئے خلافت عثمانیہ سے بغاوت کا اعلان کر دیا. صورت حال کچھ یوں تھی کے عثمانوی فوج کا بڑا حصہ موسم گرما غالب پاشا کے ساتھ طائف منتقل ہو جاتا تھا. مکّہ کے عثمانوی قلعہ میں صرف 1000 نفوس پر مشتمل فوج موجود تھی. 10 جون 1916 کی صبح شریف مکّہ نے ایک فضائی فائر کے ذریعے بغاوت کا اعلان کیا تو جروال کےبیرکس کے علاوہ تین قلعوں میں موجود ترک سپاہی اپنی بیرکس میں سوئے ہوے تھے. عرب باغیوں کی پلاننگ کے مطابق شریف مکّہ کے وفا دار 500 حامیوں نے اسمانوی سپاہیوں پر اچانک حملہ کر دیا. بغاوت سے بے خبر فوج کا کمانڈنگ آفیسر نے شریف حسین کو فون ملایا تو انھوں نے اسے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا. برطانوی حمایت سے شریف حسین کے بیٹے فصل نے اکتوبر 1916 میں مدینے پر حملہ کیا.
فخری پاشا نے تین سال سے کچھ کم سخت محاصرے، حجاز ریلوے پر متعدد حملوں کے دوران مدینے کا دفاع کیا. وہاں تعمیراتی کام کروائے، آنحضرت صلیٰ الله علیہ وسلم سے منسوب عرب نوادرات اور پانچ سو کے قرین عرب مخطوطات کو حفاظت کے پیش نظر استنبول پہنچایا. سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ جب 30 اکتوبر 1918 کو مرڈوس معاہدے میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے ان سلطنت کے سیاہ و سفید کے مالک ان تین پاشاؤں نے اپنی شکست قبول کر لی تب بھی فخری پاشا نے ہتھیار نہیں ڈالے. انکا کہنا تھا کہ مجھے آنحضرت نے مدینے کے دفاع کا حکم دیا ہے میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا. وہ معاہدہ مرڈوس کے 72 دن بعد تک بھی اپنے فیصلے پر جمے رہے حتیٰ کہ آخرکار 10 جنوری 1919 کو روح فرسا آہ وبکاء اور سسکیوں کے ساتھ اس شیر صحرائے عرب جناب فخری پاشا نے مواجہہ شریف پر آہ وزاری کرتے ہوئے اپنے آخری حاضری دی اور ان کلمات کے ساتھ :
تقدير الہٰی، رضائے پیغمبری، اور ارادہ پادشاہی کے سامنے ہم اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔دفاع مدینہ طیبہ زندہ وپائندہ باد
یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو حلیف قوتوں کے سامنے سرنڈر کردیا ترک شکست پاچکے تھے۔فخری پاشا نے اپنے ہی ایڈ جوئینٹ اے ڈی سی کے سامنے جسے ترک جمہوریہ نے اس کام پر مامور کیا تھا ہتھیار ڈال کر سرنڈر کر دیا اہل مدینہ نے انہیں آہ وبکاء کے ساتھ رخصت کیا یوں 10 جنوری 1919 کو عثمانی پرچم مدینہ طیبہ کے قلعہ شامیہ پر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوگیا چار صدیوں کا سنہرہ باب اپنے پایہ تکميل کو پہنچ گیا اور ترکوں کی جگہ اتحادی افواج اور برطانیہ کے عرب گماشتوں نے عرب نیشنلزم کی خوبصورت تصویر اپنی احمقانہ آنکھوں میں سجائے ہوئے حاصل کرلی تھی ایک سنہری باب قصہ پارینہ بن چکا تھا جو چندلال بجھکڑوں کے لیے صبح نو کی نوید لانے والا تھا کہ اب آزادی ان کا مقدر بن چکی ہے مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ کافر قوتوں نے عربوں اور خاص طور پر ہاشمیوں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرلیا تھا۔
28 جنوری 1919 کو احمد نجیب نے فخری پاشا کو دھوکے اور زبردستی سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کیا. ان پر عراق کی برطانوی عدالت میں مقدمہ چلا اور دو سال کی قید کاٹنے کے بعد یہ رہا ہوئے.
ترکوں کی مدینہ میں شکست کے بعد باقی عرب علاقوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ، شکست کی وجہ سے ترک سلطان کمزور ہوگئے خلافت عثمانیہ کا سورج غروب ہوگیا ، اس کے بعد برطانیہ طاقتور ہوگیا اور عربوں کو دھمکیاں دینے لگا ، اسرائیل کی ریاست کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ، جس کی وجہ سے گورنر مکہ حسین بن علی کی مخالفت شروع ہوگئی کہ حسین بن علی جو ہاشمی خاندان سے تھا عربوں نے کہا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ، اب برطانیہ اسرائیلی ریاست قائم کرے گا ، اس مخالفت کی وجہ سے ایک اور تحریک شروع کی گئی جس کی کمان سعود خاندان نے کی گورنر مکہ حسین بن علی اور اس کے بیٹوں کی حکومت کو گرادیا گیا سعود خاندان نے نیا ملک سعودی عرب تجویز کیا پر برطانیہ کی مخالفت کی وجہ سے نہ کرسکے ، گورنر مکہ کو بیدخل کرکے الجزائر بھیج دیا گیا باقی عرب برطانیہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے ، کیونکہ عرب ترکوں اور خلیفہ کے بغیر مفلوج کمزور اور نالائق تھے ، کچھ عرصہ بعد برطانیہ سے سعود خاندان نے امن کا معاہدہ کیا ، اسرائیلی ریاست کے قیام کو روکنے کی کوشش کی گئی ، باقاعدہ برطانیہ سے معاہدہ کرنا چاہا ، پر سلطنت برطانیہ کمزوروں سے معاہدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔
آج بھی حجاز مقدس پہ آل سعود کا قبضہ غیر قانونی اور سلطنت برطانیہ و امریکہ کی رضامندی سے ہے۔
مدینہ منورہ میں ترک سلاطین کی خدمت کا وقت پورا ہوا۔۔مدینہ منورہ کے آخری گورنر فخری پاشا نہ چاہتے ہوئے بھی ہتھیار ڈالتے ہیں۔
مدینہ جو حجاز کا ایک مقدس شہر ہے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران میں ایک طویل محاصرے گزرا۔ اس وقت مدینہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ نےمرکزی طاقتوں کا ساتھ دیا۔ شریف مکہ نے سلطنت عثمانیہ سے غداری کی اور خلیفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، جس میں لارنس آف عربیہ کا ہاتھ تھا۔ شریف مکہ نےمکہ پر قبضہ کرنے کے بعد مدینہ کا محاصرہ کیا۔ یہ تاریخ کے طویل ترین محاصروں میں سے ایک تھا جو جنگ کے بعد بھی جاری رہا۔یہ محاصرہ 10 جون 1916 سے 10 جنوری 1919 تک جاری رہا۔فخری پاشا نے مدینہ کا دفاع کیا۔ انگریزوں اسے اس کی شجاعت کی وجہ سے اسے شیر صحرا (the Lion of the Desert) کہتے تھے۔یہ محاصرہ دو سال اور سات ماہ تک جاری رہا
10 جنوری 1919ء کو فخری پاشا نے مسجد نبوی میں 456 آفیسروں اور 9،364 جوانوں کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے
ایڈ جوئینٹ اے ڈی سی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور مدینہ منورہ حسین بن علی (غدار شریف مکّہ) کے سپرد کر دیا۔
فخری پاشا پہلی جنگ عظیم کے دوران 23 مئی 1916 میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے مدینے کے گورنر مقرر ہوۓ. 10 جون 1916 کو شریف مکّہ نے انور پاشا، جمال پاشا، اور طلعت پاشا کی جواں ترک کہلانے والی قیادت کے فیصلوں کو وجہ بناتے ہوئے خلافت عثمانیہ سے بغاوت کا اعلان کر دیا. صورت حال کچھ یوں تھی کے عثمانوی فوج کا بڑا حصہ موسم گرما غالب پاشا کے ساتھ طائف منتقل ہو جاتا تھا. مکّہ کے عثمانوی قلعہ میں صرف 1000 نفوس پر مشتمل فوج موجود تھی. 10 جون 1916 کی صبح شریف مکّہ نے ایک فضائی فائر کے ذریعے بغاوت کا اعلان کیا تو جروال کےبیرکس کے علاوہ تین قلعوں میں موجود ترک سپاہی اپنی بیرکس میں سوئے ہوے تھے. عرب باغیوں کی پلاننگ کے مطابق شریف مکّہ کے وفا دار 500 حامیوں نے اسمانوی سپاہیوں پر اچانک حملہ کر دیا. بغاوت سے بے خبر فوج کا کمانڈنگ آفیسر نے شریف حسین کو فون ملایا تو انھوں نے اسے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا. برطانوی حمایت سے شریف حسین کے بیٹے فصل نے اکتوبر 1916 میں مدینے پر حملہ کیا.
فخری پاشا نے تین سال سے کچھ کم سخت محاصرے، حجاز ریلوے پر متعدد حملوں کے دوران مدینے کا دفاع کیا. وہاں تعمیراتی کام کروائے، آنحضرت صلیٰ الله علیہ وسلم سے منسوب عرب نوادرات اور پانچ سو کے قرین عرب مخطوطات کو حفاظت کے پیش نظر استنبول پہنچایا. سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ جب 30 اکتوبر 1918 کو مرڈوس معاہدے میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے ان سلطنت کے سیاہ و سفید کے مالک ان تین پاشاؤں نے اپنی شکست قبول کر لی تب بھی فخری پاشا نے ہتھیار نہیں ڈالے. انکا کہنا تھا کہ مجھے آنحضرت نے مدینے کے دفاع کا حکم دیا ہے میں ہتھیار نہیں ڈالوں گا. وہ معاہدہ مرڈوس کے 72 دن بعد تک بھی اپنے فیصلے پر جمے رہے حتیٰ کہ آخرکار 10 جنوری 1919 کو روح فرسا آہ وبکاء اور سسکیوں کے ساتھ اس شیر صحرائے عرب جناب فخری پاشا نے مواجہہ شریف پر آہ وزاری کرتے ہوئے اپنے آخری حاضری دی اور ان کلمات کے ساتھ :
تقدير الہٰی، رضائے پیغمبری، اور ارادہ پادشاہی کے سامنے ہم اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔دفاع مدینہ طیبہ زندہ وپائندہ باد
یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو حلیف قوتوں کے سامنے سرنڈر کردیا ترک شکست پاچکے تھے۔فخری پاشا نے اپنے ہی ایڈ جوئینٹ اے ڈی سی کے سامنے جسے ترک جمہوریہ نے اس کام پر مامور کیا تھا ہتھیار ڈال کر سرنڈر کر دیا اہل مدینہ نے انہیں آہ وبکاء کے ساتھ رخصت کیا یوں 10 جنوری 1919 کو عثمانی پرچم مدینہ طیبہ کے قلعہ شامیہ پر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوگیا چار صدیوں کا سنہرہ باب اپنے پایہ تکميل کو پہنچ گیا اور ترکوں کی جگہ اتحادی افواج اور برطانیہ کے عرب گماشتوں نے عرب نیشنلزم کی خوبصورت تصویر اپنی احمقانہ آنکھوں میں سجائے ہوئے حاصل کرلی تھی ایک سنہری باب قصہ پارینہ بن چکا تھا جو چندلال بجھکڑوں کے لیے صبح نو کی نوید لانے والا تھا کہ اب آزادی ان کا مقدر بن چکی ہے مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ کافر قوتوں نے عربوں اور خاص طور پر ہاشمیوں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرلیا تھا۔
28 جنوری 1919 کو احمد نجیب نے فخری پاشا کو دھوکے اور زبردستی سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کیا. ان پر عراق کی برطانوی عدالت میں مقدمہ چلا اور دو سال کی قید کاٹنے کے بعد یہ رہا ہوئے.
ترکوں کی مدینہ میں شکست کے بعد باقی عرب علاقوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ، شکست کی وجہ سے ترک سلطان کمزور ہوگئے خلافت عثمانیہ کا سورج غروب ہوگیا ، اس کے بعد برطانیہ طاقتور ہوگیا اور عربوں کو دھمکیاں دینے لگا ، اسرائیل کی ریاست کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ، جس کی وجہ سے گورنر مکہ حسین بن علی کی مخالفت شروع ہوگئی کہ حسین بن علی جو ہاشمی خاندان سے تھا عربوں نے کہا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ، اب برطانیہ اسرائیلی ریاست قائم کرے گا ، اس مخالفت کی وجہ سے ایک اور تحریک شروع کی گئی جس کی کمان سعود خاندان نے کی گورنر مکہ حسین بن علی اور اس کے بیٹوں کی حکومت کو گرادیا گیا سعود خاندان نے نیا ملک سعودی عرب تجویز کیا پر برطانیہ کی مخالفت کی وجہ سے نہ کرسکے ، گورنر مکہ کو بیدخل کرکے الجزائر بھیج دیا گیا باقی عرب برطانیہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے ، کیونکہ عرب ترکوں اور خلیفہ کے بغیر مفلوج کمزور اور نالائق تھے ، کچھ عرصہ بعد برطانیہ سے سعود خاندان نے امن کا معاہدہ کیا ، اسرائیلی ریاست کے قیام کو روکنے کی کوشش کی گئی ، باقاعدہ برطانیہ سے معاہدہ کرنا چاہا ، پر سلطنت برطانیہ کمزوروں سے معاہدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔
آج بھی حجاز مقدس پہ آل سعود کا قبضہ غیر قانونی اور سلطنت برطانیہ و امریکہ کی رضامندی سے ہے۔

No comments:
Post a Comment