Ad3

Showing posts with label Islamic History. Show all posts
Showing posts with label Islamic History. Show all posts

26 صفر المظفر 63 ھجری02 نومبر 682یوم پیدائش سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ تعالی علیہ۔

26 صفر المظفر 63 ھجری
02 نومبر  682
یوم پیدائش سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ تعالی علیہ۔
چھٹے خلفیہ راشد ۔
(عام طور پر پہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو پانچواں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے جب کہ وہ چھٹے خلیفہ راشد تھے۔پانچویں خلیفہ راشد سیدنا امام حسن مجتبی تھے جن کو عام طور پہ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے تمتہ کے طور پر الگ سے خلیفہ راشد نہیں گنا جاتا۔لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ سے سیدنا امام حسن مجتبی کو سردار کہا ہے تو ہم کو بھی چاہیے کہ ان کی  خلافت کو الگ سے گنیں)

سیدنا عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم  سلطنت بنو امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے اور سلیمان بن عبدالملک کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے۔ انہیں ان کی نیک سیرتی کے باعث پانچواں (جب در حقیقت وہ چھٹے خلیفہ راشد ہیں۔پانچویں  خلیفہ راشد سیدنا امام حسن مجتبی ہیں) خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے جبکہ آپ خلیفہ صالح کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے 2 نومبر 682 بمطابق  26 صفر المظفر 63  کو مدینہ منورہ میں آنکھ کھولی۔ نام عمر بن عبد العزیز بن مروان اور ابو حفص کنیت تھی۔ آپ کی والدہ کا نام ام عاصم تھا جو عاصم بن الخطاب کی صاحبزادی تھیں گویا حضرت عمر فاروق کی پوتی ہوئیں اس لحاظ سے آپ کی رگوں میں فاروقی خون تھا۔ ان کے والد مسلسل 21 برس مصر کے گورنر رہے۔ دولت و ثروت کی فراوانی تھی لہذا نازو نعم کے ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ جس کا اثر خلیفہ بننے تک قائم رہا۔ وہ ایک نفیس طبع خوش پوش مگر صالح نوجوان تھے۔ عہد شباب میں اچھے سے اچھا لباس پہنتے۔ دن میں کئی پوشاک تبدیل کرتے، خوشبو کو بے حد پسند کرتے، جس راہ سے گزر جاتے فضا مہک جاتی۔ ان ظاہری علامات کو دیکھ کر اس امر کی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی تھی جو خلیفہ بننے کے بعد ظاہر ہوئے لیکن چونکہ طبیعت بچپن ہی سے پاکیزگی اور زہد و تقویٰ کی طرف راغب تھی اس لیے یہ ظاہری اسباب و نشاط ان کو قطعاً متاثر نہ کر سکے۔ ان کا دل ہمیشہ اللہ تعالٰی کی عظمت اور خوف سے لبریز رہا۔ پاکیزگی نفس اور تقدس آپ کی شخصیت کا ایک نہایت ہی اہم اور خصوصی وصف تھا۔

آپ کے والد نے آپ کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی۔ مشہور عالم اور محدث صالح بن کیسان کو آپ کا اتالیق مقرر کیا۔ اس دور کے دیگر اہل علم مثلاً حضرت انس بن مالک، سائب بن یزید اور یوسف بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر صحابہ اور تابعین کے حلقہ ہائے درس میں شریک ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا اور قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم مکمل کرکے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اسی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ کی شخصیت ان تمام برائیوں سے پاک تھی جن میں بیشتر بنوامیہ مبتلا تھے۔ نگرانی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار عمر نماز میں شریک نہ ہو سکے استاد نے پوچھا تو آپ نے بتایا کہ میں اس وقت بالوں کو کنگھی کر رہا تھا استاد کو یہ جواب پسند نہ آیا اور فوراً والد والیٔ مصر سے شکایت لکھ دی وہاں سے ایک خاص آدمی انہیں سزا دینے کے لیے مدینہ آیا اور ان کے بال منڈا دیے اور ان کے بعد ان سے بات چیت کی۔

آپ طبعاً صالح اور نیک تھے اس کی نشان دہی ان کے استاد صالح بن کیسان، عبد العزیز کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ان الفاظ میں کر چکے تھے۔

”مجھے ایسے کسی آدمی کا علم نہیں ، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اس لڑکے سے زیادہ نقش ہو“

یہی وجہ تھی کہ خلافت سے پہلے جب کئی دیگر اعلیٰ عہدوں پر آپ کو فائز کیا گیا تو انہوں نے اپنی اس نیک نفسی اور خدا خوفی کی روش کو قائم رکھا۔ عبد الملک نے ہمیشہ ان کو دیگر اموی شہزادوں سے زیادہ پیار و محبت اور قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے بھائی عبد العزیز کی وفات کے بعد عبد الملک نے اپنی چہیتی بیٹی فاطمہ کی شادی عمر سے کر دی اس وجہ سے بنو امیہ میں عمر کے وقار میں مزید اضافہ ہوا

707ء میں ولید بن عبد الملک کے کہنے پر آپ نے مدینہ کی گورنری اس شرط پر قبول کی کہ وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح لوگوں پر ظلم اور زیادتی نہ کریں گے۔ ولید نے بھی اس شرط کو قبول کیا اور کہا کہ آپ حق پر عمل کیجیے گو ہم کو ایک درہم بھی وصول نہ ہو۔ جب مدینہ پہنچے تو اکابر فقہا کو جمع کرکے کہا کہ:

”میں نے آپ لوگوں کو ایک ایسے کام کے لیے طلب کیا ہے جس پر آپ لوگوں کو ثواب ملے گا اور آپ آپ حامی حق دار قرار پائیں گے۔ میں آپ لوگوں کی رائے اور مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا پس آپ لوگ کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں یا آپ لوگوں میں سے کسی کو میرے عامل کے ظلم کا حال معلوم ہو تو میں خدا کی قسم دلا کر کہتا ہوں کہ وہ مجھے تک اس معاملہ کو ضرور پہنچائے“

تمام اخلاقی خوبیوں کے باوجود طبیعت ابھی تک شاہانہ وقار اور اطوار سے برقرار رکھے ہوئے تھی۔ چنانچہ جب مدینہ آئے تو آپ کا ذاتی سامان 30 اونٹوں پر لد کر آیا۔707ء سے 713ء تک مدینہ کے گورنر رہے اس دوران آپ نے عدل و انصاف سے حکومت کی اور اہل حجاز کے دل جیت لیے۔ مسجد نبوی کی تعمیر آپ کے زمانہ گورنری کا شاندار کارنامہ ہے۔ 713ء میں ولید نے انہیں مدینہ کی گورنری سے علیحدہ کر دیا۔ سلیمان آپ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھا چنانچہ اس نے وفات سے پہلے آپ کو خلافت کے لیے نامزد کر دیا۔

718ء میں وابق کے مقام پر ( جو فوج کی اجتماع گاہ تھی ) سلیمان بن عبد الملک بیمار ہوا جب زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو اپنے وزیر رجاء بن حیوہ کو بلا کر اپنے جانشین کے بارے میں رائے لی۔ سلیمان نے رجاء کے مشورہ کے مطابق عمر بن عبد العزیز اور یزید بن عبد الملک کو علی الترتیب اپنا جانشین مقرر کرکے ایک وصیت نامہ لکھا اور مہر بند کرکے کعب بن جابر افسر پولیس کے حوالہ کیا کہ وہ اس وصیت نامہ پر بنو امیہ سے بیعت لے چنانچہ سلیمان کی زندگی ہی میں رجاء بن حیوۃ نے اس پر بیعت لی لیکن چونکہ سلیمان کو بنو امیہ کی طرف سے خطرہ لاحق تھا س لیے مرنے پہلے رجاء کو دوبارہ بیعت کی تاکید کی۔ اس دوران خیلفہ کی موت واقع ہو گئی رجاء کو خدشہ تھا کہ بنو امیہ آسانی سے عمر بن عبد العزیز کی خلافت قبول نہ کریں گے اس لیے کچھ دیر کے لیے سلیمان کی موت کو چھپائے رکھا تاکہ آنکہ وابق کی جامع مسجدمیں افراد بنو امیہ کو جمع کرکے دوبارہ بیعت لے لی اس کے بعد وصیت نامہ کھول کر پڑھا گیا۔ جب اعلان خلافت ہو رہا تھا تو اس وقت ’’انا اللہ ‘‘ کی دو آوازیں بیک وقت سنی گئیں۔ ایک ہشام کے منہ سے جسے حکومت کھو جانے کا غم تھا، دوسرے عمر بن عبد العزیز جنہیں حکومت مل جانے کا افسوس تھا۔ ہشام نے بیعت سے انکار کیا تو رجاء نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا اٹھو بیعت کرو وگرنہ تمہارا سر قلم کر دوں گا۔ یہ کہہ کر عمر بن عبد العزیز کو پکڑ کر منبر پر کھڑا کر دیا۔

اس کے بعد عمر بن عبد العزیز اس عظیم ذمہ داری کے اٹھانے سے لرزاں تھے۔ خلیفہ مقرر ہونے کے بعد آپ پر گھبراہٹ کا عالم طاری تھا آپ خود اس کے خواہش مند نہ تھے۔ ان کے نزدیک خلافت موروثی نہیں بلکہ ایک جمہوری ادارہ تھی لہذا سلیمان کے دفن کرنے کے بعد مسجد میں آئے، منبر پر چڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
”لوگو ! میری خواہش اور عام مسلمانوں کی رائے لیے بغیر مجھے خلافت کی ذمہ داری میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے میری بیعت کا جو طوق تمہاری گردن میں ہے خود اسے اتارے دیتا ہوں، تم جسے چاہو اپنا خلیفہ بنا لو“

یہ تقریر سن کر سب نے بلند آواز سے کہا ہم نے آپ کو اپنے لیے پسند کیا اور آپ سے راضی ہو گئے اس کے بعد آپ نے خدا اور اس کے رسول کے احکامات کے منشا کے بیان کرنے کے لیے لوگوں سے کہا:

”اے لوگو! جس نے خدا کی اطاعت کی ،اس کی اطاعت انسان پر واجب ہے جس نے خدا کی نافرمانی کی، اس کی نافرمانی لوگوں پر ضروری نہیں۔میں اگر اللہ تعالٰیٰ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت ضروری جانو اور اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو میری بات نہ مانو“

لوگوں نے ایک بار پھر آپ کی تائید کی اور اس طرح بیعت عامہ حاصل کرنے کے بعد آپ نے خلیفہ اسلام کی حیثیت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جب آپ عوام کے سامنے آئے تو لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ عمر نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

”اے لوگو! اگر تم ہمارے اعزاز میں کھڑے ہو گئے تو ہم بھی کھڑے ہو جایا کریں گے۔ اگر تم بیٹھو گے تو ہم بیٹھیں گے۔ لوگ خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰیٰ نے کچھ باتیں انسانوں پر فرض کیں اور کچھ سنن قرار دیں۔ جنہوں نے ان کی پابندی کی وہ کامیاب ہوئے اور جس نے ان کا لحاظ نہ رکھا وہ تباہ ہوا“

اس کے بعد فرمایا:
”تم میں سے جو کوئی میرے پاس آئے وہ ان باتوں کا خیال رکھے۔مجھ تک ایسی حاجت پہنچائے جس کا مجھے علم نہ ہو۔
مجھے ایسے عدل و انصاف کی طرف توجہ دلائے جو مجھ سے نہ ہو سکا ہو۔
سچائی میں میرا ساتھ دے۔
مسلمانوں کی امانت کا نگہبان اور محافظ ہو۔عمیرے پاس کسی کی غیبت نہ کرے

خلافت کا بار گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے احساس نے آپ کی زندگی بالکل بدل کر رکھ دی۔ وہی عمر جو نفاست پسندی اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جو خوشبو کے دلدادہ تھے، جن کی چال امیرانہ آن بان کی آئینہ دار تھی، جن لباس فاخرا تھا اب سراپا عجز و نیاز تھے۔ سلیمان کی تجہیز و تکفین کے بعد پلٹے تو سواری کے لیے اعلٰی ترین گھوڑے پیش کیے گئے مگر حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا ’’میرے لیے میر خچر کافی ہے‘‘ اور انہیں واپس بیت المالمیں داخل کرنے کا حکم دیا۔ جب افسر پولیس نیزہ لے کر آگے آگے روانہ ہوا تو اسے ہٹا دیا اور کہا کہ ’’ میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں‘‘ پھر جب سلیمان کے اثاثہ کو ورثا میں تقسیم کرنے کی تجویز کی تو آپ نے سارے سامان کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ واپسی کے وقت دستور کے مطابق خیال تھا کہ وہ قصر خلافت میں ضرور داخل ہوں گے لیکن عمر اس کی بجائے یہ کہہ کر کہ ’’ میرے لیے میرا خیمہ کافی ہے‘‘ اندر داخل ہو گئے۔ آپ کی ملازمہ نے چہرہ بشرہ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ آپ پریشان ہیں۔ پوچھا تو کہا:

”یہ تشویشناک ناک بات ہی تو ہے کہ مشرق سے مغرب میں امت محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس کا مجھ پر حق نہ ہو اور بغیر مطالبہ و اطلاع اس کے ادا کرنا مجھ پر فرض نہ ہو“

ہر وقت امت مسلمہ کے حقوق کی نگہداشت اور اللہ تعالٰی کے احکامات کی تعمیل اور نفاذ کی فکر دامن گیر رہتی جس کی وجہ سے ہمیشہ چہرے پر پریشانی اور ملال کے آثار دکھائی دیتے۔ اپنی بیوی فاطمہ کو حکم دیا کہ تمام زرو جواہر بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ وفا شعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازمہ مقرر نہ تھی تمام کام ان کی بیوی خود کرتیں۔ الغرض آپ کی زندگی درویشی اور فقر و استغنا کا نمونہ کر رہ گئی۔ آپ کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس امر پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ ایک بار پھر سنت فاروقی اور عہد فاروقی کی یاد تازہ کر دیں۔ آپ اس پاکیزہ زندگی اور کا رہائے نمایاں کی بدولت ہی چھٹے خلیفہ راشد قرار پائے۔ ان کی ضبط کی ہوئی جائیدایں ان کو واپس کر دی گئیں۔ احیائے شریعت کے لیے کام کیا۔ بیت المال کو خلیفہ کی بجائے عوام کی ملکیت قرار دیا۔ اس میں سے تحفے تحائف اور انعامات دینے کا طریقہ موقوف کر دیا۔ ذمیوں سے حسن سلوک کی روایت اختیار کی۔ اس کے علاوہ معاشی اور سیاسی نظام میں اور بھی اصلاحات کیں۔

آپ نے بارِ خلافت سنبھالنے کے بعد منادی کروادی کہ لوگ اپنے مال و جائداد کے بارے میں اپنی شکایتیں پیش کر دیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے زبردستی ہتھیالیا گیا ہے۔

یہ کام بہت خطرناک اور نازک تھا، خود آپ کے پاس بڑی موروثی جاگیر تھی۔ بعض افراد نے آکر آپ سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی جاگیر واپس کردی تو اولاد کی کفالت کیسے کریں گے؟ آپ نے فرمایا ان کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

آپ نے اعلان عام کروایا کہ اموی خلفاء نے جس کے مال، جاگیر یا جائداد پر ناجائز قبضہ جمالیا ہے وہ ان کے حقداروں کو واپس کی جا رہی ہیں۔ اس اعلان کے بعد جاگیروں کی دستاویزات منگوائیں اور آپ کے ایک ماتحت ان دستاویزات کو نکال کر پڑھتے جاتے تھے اور حضرت عمر بن عبد العزیز اسے پھاڑ پھاڑ کر پھینکتے جاتے تھے۔ آپ نے اپنی اور اہل خاندان کی ایک ایک جاگیر ان کے حقداروں کو واپس کردی اور اس میں کسی کے ساتھ کسی قسم کی رعایت سے کام نہ لیا۔

خلیفہ بننے سے قبل حضرت عمر بن عبد العزیز کی نفاست پسندی کا یہ حال تھا کہ نہایت بیش قیمت لباس زیب تن کرتے تھے اور تھوڑی دیر میں اسے اتار کر دوسرا قیمتی لباس پہنتے تھے۔ وہ اپنے زمانے کے سب سے خوش لباس اور جامہ زیب شخص مانے جاتے تھے لیکن عہدۂ خلافت سنبھالتے ہی ان کی زندگی میں بڑا تغیر آگیا۔ انہوں نے گھر کا ایک ایک نگینہ بیت المال میں داخل کروادیا، خاندان کے تمام وظائف بند کر دیے اور اپنی تمام سواریاں فروخت کرکے رقم بیت المال میں داخل کروادی۔ انہوں نے خلفاء کے ساتھ نقیبوں اور علمبرداروں کے چلنے کا سلسلہ بھی بند کروادیا۔

بنی امیہ کی حکومت کے 92 سالہ دور میں حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت کے ڈھائی سال تاریکی میں روشنی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کا زمانۂ خلافت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرح بہت ہی مختصر تھا۔ لیکن جس طرح عہد صدیقی بہت اہم زمانہ تھا اسی طرح حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت کا زمانہ بھی عالم اسلام کے لیے قیمتی زمانہ تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ خلافت اسلامیہ کو خلافت راشدہ کے نمونے پر قائم کرکے عہد صدیقی اورعہد فاروقی کو دنیا میں پھر واپس لے آئے تھے۔

رجب 101ھ بمطابق جنوری 720ء میں آپ بیمار پڑ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ بنو امیہ نے آپ کے ایک خادم کو ایک ہزار اشرفیاں دے کر آپ کو زہر دلوادیا تھا۔ آپ کو علالت کے دوران ہی اس کا علم ہو گیا تھا لیکن آپ نے غلام سے کوئی انتقام نہ لیا بلکہ اشرفیاں اس سے لے کر بیت المال میں داخل کروا دیں اور غلام کو آزاد کر دیا۔ زہر دینے کی وجوہات میں ایک تو یہ بات شامل تھی کہ آپ خلفائے راشدین کی مانند خلافت کے امور چلاتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کی وجہ سے بنو امیہ اپنی مخصوص مالی لوٹ مار نہیں کر سکے۔ کیونکہ حضرت عمر بن عبد العزیز بیت المال کو مسلمانوں کی امانت سمجھتے تھے۔

طبیعت بہت خراب ہو گئی تو آپ نے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ یزید بن عبد الملک کے نام وصیت لکھوائی جس میں انہیں تقویٰ کی تلقین کی۔ 25 رجب 101ھ بمطابق 04 فروری 720ء کو آپ نے اپنا سفر حیات مکمل کر لیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 39 سال تھی۔ آپ کو حلب کے قریب دیر سمعان میں سپرد خاک کیا گیا جو شام میں ہے۔۔

آپ نے اپنے مختصر دور خلافت میں رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے بھی وسیع پیمانے پر اقدامات کیے۔ خلیفہ بننے سے قبل نومسلموں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا، آپ نے اسے ظلم قرار دیتے ہوئے اس کی ممانعت کردی۔ اس پر صرف مصر میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے کہ جزیہ کی آمدنی گھٹ گئی اور وہاں کے حاکم سے آپ سے شکایت کی کہ آمدنی کم ہونے کی وجہ سے قرض لے کر مسلمانوں کے وظیفے ادا کرنے پڑ رہے ہیں جس پر آپ نے لکھا کہ "جزیہ بہرحال ختم کردو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے، محصل بنا کر نہیں"۔

آپ نے بیت المال کی حفاظت کا نہایت سخت انتظام کیا، دفتری اخراجات میں تخفیف کردی۔ ملک کے تمام معذورین اور شیر خوار بچوں کے لیے وظیفے مقرر کیے۔ نو مسلموں پر جزیہ معاف کردینے سے آمدنی گھٹنے کے باوجود سرکاری خزانے سے حاجت مندوں کے وظائف مقرر کیے لیکن ناجائز آمدنیوں کی روک تھام، ظلم کے سدباب اور مال کی دیانتدارانہ تقسیم کے نتیجے میں صرف ایک سال بعد یہ نوبت آگئی کہ لوگ صدقہ لے کر آتے تھے اور صدقہ لینے والے نہ ملتے تھے۔

آپ نے جگہ جگہ سرائیں بنوائیں جن میں مسافروں کی ایک دن اور بیمار مسافروں کی دو دن میزبانی کا حکم دیا، شراب کی دکانوں کو بند کروادیا اور حکم دیا کہ کوئی ذمی مسلمانوں کے شہروں میں شراب نہ لانے پائے۔

آپ نے اپنے دور میں علم کی اشاعت پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے تدریس و اشاعت میں مشغول علمائے کرام کے لیے بیت المال سے بھاری وظیفے مقرر کرکے ان کو فکرِ معاش سے آزاد کر دیا۔ آپ کا سب سے بڑا تعلیمی کارنامہ احادیثِ نبوی کی حفاظت و اشاعت ہے۔

آپ کے دور میں بڑے پیمانے پر تبلیغ اسلام کے باعث ہزاروں لوگ مسلمان ہوئے جن میں سندھ کے راجہ داہر کا بیٹا جے سنگھ بھی شامل تھا۔

عنان حکومت جب بنو امیہ کے ہاتھ میں آئی تو انہوں نے خلافت کو موروثی بنا کر ملوکیت میں تبدیل کر دیا حالانکہ اسلامی نظریات کے مطابق خلافت جمہوری ادارہ تھی۔ خلافت راشدہ کا نظام عوام کی رائے اور مشورہ اور اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر قائم تھا۔ ان میں نہ کوئی بادشاہ تھا اور نہ غلام۔ خلیفہ اپنے اعمال کے لیے خدا اورخلق دونوں کے سامنے جواب دہ تھا۔ عمر بن عبد العزیز کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے زمانے کی باگ پھیر کر اس کا ناتا ایک بار پھر خلافت راشدہ سے جوڑدیا۔ خلیفہ مقرر ہونے کے بعد آپ نے عوام کے سامنے جاکر اپنی دست برداری کا اعلان کیا۔ اور جب تک عوام نے ان کو خلیفہ نہ چنا آپ اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکاری رہے۔ آپ نے ہر معاملہ میں حضرت عمر فاروق کی مثال کو سامنے رکھا اور اپنے فکروعمل سے ایک بار پھر عہد فاروقی کی یاد تازہ کردی۔ آپ سے پہلے مختلف حکمران اسلام کے دیے ہوئے نظام مذہب و اخلاق اور سیاست و حکومت میں طرح طرح کی رنگ آمیزیاں کر رہے تھے۔ آپ نے ان سب خرابیوں سے حکومت و معاشرہ کو پاک کرنے کی کوششیں کیں۔ ملوکیت کی امتیازی خصوصیات مٹانے کی پوری کوشش کی۔ آپ نے بیت المال کو پھر قومی امانت کا درجہ دیا۔ چھوٹے بڑے کے امتیازات، جبر و اسبتداد کے نشانات اور حکمرانوں کے ظلم و ستم کو ختم کرکے آپ نے خلافت راشدہ کے نقش قدم پر چل کر اسلام کا نظام عدل دوبارہ قائم کیا۔ آپ نے خلافت کی موروثی حیثیت ختم کرنے کے کی کوشش کی لیکن بنو امیہ کی ریشہ دوانیوں نے انہیں یہ تبدیلی لانے کی مہلت نہ دی۔ تجدید و اصلاح کے اس کارنامہ کی بدولت آپ کا زمانہ خلافت راشدہ میں شمار کیا جاتا ہے اور آپ کو پانچواں خلیفہ راشد مانا جاتا ہے

10 صفر المظفر 50 ھجری یوم وصال امّ المؤمنین سیدتناجویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا

10 صفر المظفر 50 ھجری
یوم وصال امّ المؤمنین سیدتناجویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا

نام ونسب:
اسمِ گرامی:برّہ ،
آپ قبیلہ خزاعہ کے خاندان مُصطَلِق سے تھیں۔
نسب نامہ یہ ہے:برّہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائد بن مالک بن جذیمہ۔
بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ سرکارِ دوعالم ﷺ نے  آپ کا نام برہ سے بدل کرجویریہ رکھا۔

یہ چند لفظ ہیں سیرت ام المومنین سیدہ جویرہ پہ کہ جن کے صدقے رب العالمین سے اہل بیت اطہار کی محبت پہ موت مانگتا ہوں۔

بعثت سے دو سال پہلے حارث بن ابی ضرار کے ہاں ایک بیٹی نے جنم لیا، باپ نے اس کا نام برہ رکھا۔ بچی چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھی جو ایک بار دیکھ لیتا پھر چہرہ سے نظر نہ ہٹاتا لہذا اس کی پرورش بڑے نازو نعم میں ہونے لگی۔ بنی مصطلق کے سردار کی یہ بیٹی جوں جوں بڑی ہورہی تھی اس کے حسن و خوب صورتی میں اور نکھار آتا جارہا تھا، باپ بھی اس کی ہر خواہش کو مقدم رکھتا تھا اور جو کہتی تھی، اسے پورا کرتا تھا۔

وقت بڑی تیزی سے برہ کو بلوغت کی سرحدوں کے قریب لے جارہا تھا اور پھر ایک دن بلوغت کی سرحد پر پہنچ کر اس کو عبور کرگئی تو اس کے بیاہ کی فکر دامن گیر ہوگئی۔

برہ اب اس قابل ہے کہ اس کی شادی کردی جائے۔ بیوی نے ایک دن بات چھیڑی۔ مجھے احساس ہے۔ میاں بیوی بیٹھے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں صفوان آگیا جو ان کے اپنے قبیلے کا ہی مشہور شخص تھا۔ کیا باتیں ہورہی تھیں؟ اس نے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ برہ کی شادی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ حارث بن ابی ضرار نے کہا۔ اس میں سوچنے کی کیا بات ہے، میں اپنے لڑکے مسافع کے لئے آیا ہوں۔

صفوان نے کہا تو دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے جیسے انہوں نے صفوان کی اس تجویز کو پسند کیا ہو اور پھر رشتہ طے ہوگیا اور جلد ہی مسافع اور برہ کی آپس میں شادی ہوگئی۔

مسافع اور برہ بڑی خوش گوار زندگی بسر کررہے تھے ایک دن برہ اپنی خواب گاہ میں آرام کررہی تھیں، چاند آسمان کی پہنائیوں میں محو خرام تھا، ہر سو خاموشی محیط تھی، عالم خواب میں کیا دیکھتی ہیں کہ یثرب کی طرف سے چاند چلتا آرہا ہے یہاں تک کہ وہ میری آغوش میں اتر آیا ہے۔ خواب دیکھنے کے بعد فوراً آنکھ کھل گئی اور اس پر غور کرنے لگیں۔ اس کی کیا تعبیر ہوسکتی ہے؟

آپ سوچنے لگیں اور پھر ان کے کانوںمیں قبیلے کے کئی لوگوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین روز افزوں پھیلتا جارہا ہے جو ایک بار حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے پھر اس پر مرمٹتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں اور عاشقوں کی مثل دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

اور پھر انہوں نے خود ہی خواب کی تعبیر لی اور مسکرا دیں۔ صبح جب وہ اٹھیں تو انہوں نے رات کے خواب کا کسی سے ذکر نہیں کیا، چہرے پر عجیب طرح کی بشاشت تھی جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ مسافع نے اس غیر معمولی بشاشت کی وجہ بھی دریافت کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

حارث بن ابی ضرار اور مسافع اسلام کے سخت مخالف تھے، ان کو اسلام کا پھیلنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ لہذا حارث بن ابی ضرار نے مدینہ پر یلغار کی نیت سے تیاریاں شروع کردیں۔

2 شعبان 5 ہجری کو اسلامی لشکر بنی مصطلق کی طرف سے روانہ ہوا جو مدینہ منورہ سے نو منزل پر ہے اس لشکر میں ایک ہزار مجاہدین تھے، مہاجرین کا جھنڈا حضرت صدیق اکبر اور انصار کا علم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ اس غزوہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ امہات المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا و حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ ادھر حارث بن ابی ضرار کو بھی اطلاع مل گئی تھی کہ اسلامی لشکر چل پڑا ہے اور یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس کا جاسوس قتل کردیا گیا تھا جسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا۔

وہ لوگ جو اسلام دشمنی سے مغلوب ہوکر حارث بن ابی ضرار کے پاس جمع ہوئے تھے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان ان کے سر پر پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے راہ فرار اختیار کی۔ حارث نے بھی اسی میں عافیت سمجھی کہ بھاگ جائے لیکن باقی اہل قبیلہ نے صف بندی کرلی اور مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کردیئے۔ تھوڑی ہی دیر میں مشرکین کے کس بل نکل گئے، ان کے دس لوگ جنگ میں مارے گئے جن میں مسافع بن صفوان، برہ کا خاوند بھی شامل تھا، مسلمانوں میں سے صرف ایک صبابہ حضرت ہشام بن صباحہ رضی اللہ عنہ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔

اس غزوہ میں جو تاریخ میں غزوہ بنی مصطلق یا مریسیع مشہور ہے، دو ہزار اونٹ، پانچ ہزار بکریاں مال غنیمت میں ملیں اور دو سو گھروں کے چھ سو مرد، عورتیں اور بچے اسیر ہوئے جن میں رئیس قبیلہ کی بیٹی برہ بھی شامل تھیں۔ مال غنیمت کو مجاہدین میں بانٹ دیا گیا اور قیدیوں کو لوگوں میں تقسیم کردیا گیا۔ برہ بنت حارث (رضی اللہ عنہا)، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں۔

میں آپ کی مکاتبہ بننے کے لئے تیار ہوں۔ برہ بنت حارث نے حضرت ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ٹھیک ہے آپ مجھے نو اوقیہ سونا دے دیں میں آپ کو آزاد کردوں گا۔ وہ سوچنے لگیں: مجھے لوگوں سے مکاتب کی رقم مانگ کر ادا کردینی چاہئے۔ مجھے سب سے پہلے رحمت مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در اقدس پر دستک دینا چاہئے جہاں سے کبھی کوئی نامراد نہیں لوٹا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کہاں ملیں گے۔ برہ بنت حارث نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔

حارث بن ابی ضرار جو غزوہ بنی مصطلق کے وقت بھاگ گیا تھا اسے جب پتہ چلا کہ اس کی بیٹی کو کنیز بناکر لے گئے ہیں تو اپنی بیٹی کے فدیہ میں چند اونٹ لے کر مدینے کی طرف چل پڑا جب وہ اونٹ لے کر چلا تھا، ان میں سے دو اونٹ اسے بہت پسند تھے لہذا وہ اس نے وادی عقیق کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں چھپادیئے اور باقی اونٹ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا۔

جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو اس سے پہلے ان کی بیٹی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد کی درخواست کرچکی تھیں۔ آپ باہر تشریف لائے تو حارث بن ابی ضرار نے عرض کی:

میری بیٹی کنیز نہیں بن سکتی، میری شان اس سے بالا تر ہے، میں اپنے قبیلے کا سردار اور رئیس عرب ہوں، آپ اس کو آزاد کردیں اور زر فدیہ لے لیں۔ وہ دو اونٹ کہاں ہیں جو تم راستے میں چھپا آئے ہو؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا اور اس گھاٹی کا نام بھی بتادیا جہاں انہیں چھپایا تھا۔ آپ کو کس نے اطلاع دی؟ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حارث بن ضرار نے کہا اور مسلمان ہوگیا۔

برہ بنت حارث جب آزاد ہوگئیں تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں ہی رہنے کو فوقیت دی اور والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہ کو برہ سے نکاح کا پیغام بھیجا جو انہوں نے بصد خوشی قبول کرلیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت برہ رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے چالیس غلام بھی آزاد کردیئے۔ آپ نے برہ کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا اور اس طرح حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا وہ خواب سچا ثابت ہوا جو انہوں نے کئی سال پہلے دیکھا تھا کہ یثرب سے چلتا ہوا چاند ان کی آغوش میں آگیا ہے اور جو تعبیر انہوں نے اس وقت نکالی تھی، وہی نکلی۔

برہ کا مطلب نیکی و احسان ہے لیکن اس لفظ کے استعمال سے منفی معنی بھی نکلتے ہیں۔ بقول حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نام کو مکروہ جانتے تھے اور اسی بناء پر برہ کا نام بدل کر جویریہ رضی اللہ عنہا رکھ دیا تھا۔

جب لوگوں کو علم ہوا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کرلی ہے تو لوگ بولے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال والے غلام بنائے جائیں، ہرگز نہیں یہ محبت کے منافی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، میں نے کسی عورت کو جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر اپنی قوم کے حق میں مبارک نہیں دیکھا، ان کے سبب بنو مصطلق کے تمام گھرانے آزاد کردیئے گئے۔

ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے تمام بہن بھائی اور والد دولت اسلام سے مالا مال ہوگئے تھے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے لئے مسجد نبوی کے قریب ہی امہات المومنین کے دوسرے حجرات سے متصل ایک حجرہ تعمیر کرادیا گیا تھا۔ بقول ابن سعد اس کی دیواریں کچی اینٹوں کی اور چھت کھجوروں کی شاخوں سے بنائی گئی تھی جسے گارے سے لیپ دیا گیا تھا، دروازے پر اونی ٹاٹ کا پردہ تھا جس کا طول تین ہاتھ اور عرض ایک ہاتھ تھا۔ ایک دن رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں موجود تھے تو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی دوسری عورتیں مجھ پر فخر کرتی ہیں۔ کیا؟ جب انہوں نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے مہر میں بڑی رقم ادا نہیں کی؟ کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس غلام آزاد نہیں کئے؟

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جویریہ رضی اللہ عنہا بڑی شیریں، موزوں اندام، ملیح اور صاحب حسن و جمال عورت تھیں جو کوئی دیکھتا فریفۃ ہوجاتا تھا، ظاہری حسن و جمال کے علاوہ آپ باطنی حسن سے بھی مالا مال تھیں، بڑی زاہدہ، متقیہ، راست باز، عبادت گزار، قناعت پسند، مجسمہ صبرو رضا، برد بار و حلیم جودو سخا، عجز و انکساری، ایثار و اخلاص اور ذکر و تلاوت میں یکتا تھیں۔ یہ سب خوبیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت اور تعلق سے نکھر کر ابھری تھیں۔

اہل سیر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے بعد سیدھے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے باہر تشریف لائے تو اس وقت وہ اپنے مصلے پر بیٹھی مشغول عبادت تھیں، نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو ان کو مصلے پر بیٹھے پایا تو فرمایا:

جب سے باہر گیا ہوں اس وقت سے تم اسی جگہ یونہی بیٹھی ہو؟ عرض کی: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! زوجہ محترمہ کی بات سنی تو ارشاد فرمایا: جس وقت سے میں تمہارے پاس سے گیا ہوں اب تک چار کلمے میں نے پڑھے ہیں اگر ان کو ان کے ساتھ موازنہ کیا جائے جو تم نے اب تک پڑھے ہیں تو یقینا وہ چار کلمے وزنی ہوں گے۔

میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، وہ کون سے کلمات ہیں؟ اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اور ہمہ تن گوش ہوگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کلمات یہ ہیں:

سبحان الله عدد ما خلقه سبحان الله رضا نفسه
سبحان الله زنته عرشه سبحان الله مداد کلماته

بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اپنے ذکر میں ان کلمات کو بھی شامل کرلیں جو بظاہر کم ہیں لیکن مدلول زیادہ ہے۔ ام المومنین سیدہ حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا روحانی بالیدگی اور تزکیہ نفس کی خاطر نفلی روزے کا خاص اہتمام فرماتی تھیں، خاص طور پر جمعۃ المبارک کو روزہ رکھتی تھیں۔ ایک مرتبہ جمعۃ المبارک کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے اس دن ان کا روزہ تھا، پوچھا:

گذشتہ کل روزہ رکھا تھا؟ نہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہوں نے جواب دیا۔ کیا آنے والے کل کو روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا۔ جی ارادہ تو نہیں ہے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، سنا تو فرمایا: افطار کردو۔ حکم کی دیر تھی کہ انہوں نے روزہ افطار کرلیا۔

اس سے امت کی تعلیم مقصود تھی کہ کسی خاص دن کو نفلی روزے کے لئے مخصوص نہیں کرلینا چاہئے تاکہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ مشابہت کا موجب نہ ہوجائے کیونکہ وہ معین دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ معین دن ہفتہ اور اتوار ہیں۔ نیز روز جمعہ روز عید ہے جیسا کہ حدیث پاک میں وار دہوا ہے لہذا اس دن روزہ رکھنا مناسب نہ ہوگا۔

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا، وہی رکھا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے عرض کیا تو فرمایا: اسے اٹھا لاؤ کیونکہ صدقہ جس کو دیا گیا تھا اس کو پہنچ چکا۔

ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت کے نورو نکہت سے بھرپور فضاؤں میں بے مثل زندگی گزار رہی تھیں، وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہ حسین و خوش گوار زندگی صرف چھ سالوں پر محیط ہے اور اس کے بعد وہ بیوگی و جدائی کا داغ دے کر اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس تشریف لے جائیں گے جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تو دنیا اندھیر ہوگئی۔ یقین نہیں آتا تھا کہ آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں، وہ حقیقت ہے، دل میں ہول اٹھتا تھا، آنکھوں سے اشک رواں تھے لیکن لبوں پہ یہ الفاظ تھے: اے باری تعالیٰ! تو جس حال میں مجھے رکھے، میں ویسے ہی راضی ہوں، مجھے حوصلہ عطا فرما۔

اس وقت ان کی عمر مبارک چھبیس سال کی تھی، زندگی کی طویل راہیں سامنے پھیلی ہوئی تھیں، تھوڑے ہی فاصلے پر حجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں محبت کرنے والا شوہر، اللہ کا محبوب، رحمۃ للعالمین اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابدی آرام فرمارہے تھے جب فراق و جدائی کی کسک بہت بے تاب کردیتی اور ملاقات کو دل چاہتا تو ام المومنین سیدہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے سے نکل کر حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں تشریف لے جاتیں۔ سلام عرض کرتیں، قدموں میں بیٹھ جاتیں، بے اختیار آنکھوں میں آنسوؤں کے ستارے جھلملانے لگتے، دل میں باتیں کرنے لگتیں۔ یوں احساس ہوتا جیسے محبوب رب ودود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب بیٹھے باتیں سن رہے ہوں، دل تو نہیں چاہتا تھا کہ وہاں سے اٹھیں لیکن بادل نخواستہ اٹھنا پڑتا اور پھر اپنے حجرے میں تشریف لے جاتیں اور یاد الہٰی میں مصروف ہوجاتیں۔

حالات کچھ بھی تھے لیکن امہات المومنین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو موجود تھیں، ان کی بدرجہ اولیٰ عزت و تکریم کی گئی، ان کی ضروریات کا دھیان رکھا گیا، ان سے رہنمائی حاصل کی گئی اور ہر خلیفہ کی یہ کوشش رہی کہ ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو امہات المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت باعث افتخار و سعادت سمجھتے تھے۔ انہوں نے حضرت سیدنا جویریہ رضی اللہ عنہا کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار مقرر کررکھا تھا اس کے علاوہ بھی تحائف ارسال کرتے رہتے تھے۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 65 سال کی عمر میں10 صفر المظفر 50 ھ میں وفات پائی۔ان دنوں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ میں مروان بن الحکم حاکم تھا، انہوں نے ام المومنین سیدہ حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آسودہ خواب ہوگئیں۔

کتب معتبرہ میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سات حدیثیں مروی ہیں ، بخاری میں دو مسلم میں دو اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں ۔جن کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل ہیں
آپ رضی اللہ عنہا کے بہن بھائی بھی مسلمان ہوگئے تھے، ان کے بھائی حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث پاک مروی ہے، کہتے ہیں:

اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال کے وقت نہ دینار چھوڑا نہ درہم، نہ غلام نہ لونڈی نہ اور کوئی چیز صرف ایک سفید خچر تھا یا ہتھیار تھے یا کچھ زمین تھی جسے آپ نے صدقہ فرمادیا۔ حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ کی بہن سے بھی درج ذیل حدیث مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا بظاہر بڑی شاداب اور شیریں معلوم ہوتی ہے۔

یوم وصال شیخ بہا الدین زکریا ملتانی

07 صفر المظفر 661 ھجری
21 دسمبر 1261
یوم وصال شیخ بہا الدین زکریا ملتانی

شیخ الاسلام بہاؤ الحق و الدین زکریا ملتانی سُہروردی علیہ الرحمۃ سلسلہ سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گزرے ہیں۔سلسلہ سہروردیہ کے صاحبِ کمال بزرگ جن کا پورا نام الشیخ الکبیر شیخ الاسلام بہاؤالدین ابو محمد زکریا الاسدی الہاشمی ہے۔ حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی  تھے‘ ۔ شیخ الشیوخ ابوحفص شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ تھے۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار تھے ، اسلام کے عظیم مبلغ تھے۔ آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے ، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔

ملتان کے ضلع لیہ کے ایک قصبہ کوٹ کروڑ ضلع لیّہ میں 27 رمضان المبارک 578 ھجری بمطابق 1183 ء شب جمعہ آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کے جد امجد شاہ کمال الدین علی مکہ مکرمہ سے خوارزم ہوتے ہوئے ملتان میں مقیم ہوئے۔یہ عہد خسرو ملک غزنوی کا عہد تھا۔

حضرت بہاؤالدین زکریا بن محمد غوث المعروف وجہی الدین بن شاہ کمال الدین علی بن سلطان علی قدسی المعروف سلطان جلال الدین بن سلطان محمد شاہ بن سلطان حسین شاہ سلطان عبداللہ شاہ المعروف شمس الدین بن سلطان حسن شاہ بن سلطان متعارفہ شاہ بن سلطان حزیم شاہ بن سلطان خادم شاہ بن امیر محمد تاج الدین شاہ بن امیر عبد الرحیم بن امیر عبد الرحمان بن امیر ایاز

آپ چھوٹی ہی عمر میں یتیم ہو گئے۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا پھر بخارا میں تحصیلِ علم کی۔ بعد ازاں حرمین شریفین پہنچے، حج و زیارت سے فارغ ہو کر بیت المقدس میں بھی علم حاصل کیا اور علم حدیث کی خاطر یمن بھی گئے۔ والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ نے محض حصول علم و فن کے لیے پیادہ پا خراسان کا سفر کیا۔ اس کے بعد بلخ، بخارا ،بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال تک مدینہ منورہ میں رہے جہاں حدیث پڑھی بھی اور پڑھائی بھی۔ غرض پندرہ سال اسلام کے مشہور مدارس و جامعات میں رہ کر معقولات و منقولات کی تکمیل کی۔ مدینہ منورہ ہی میں حضرت کمال الدین محمد یمنی محدث رحمة اللہ علیہ سے احادیث کی تصحیح کرتے رہے۔ جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا تو آپ مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور یہاںسے بیت المقدس پہنچ کر انبیاءکرام علیہم السلام کے مزارات کی زیارات کیں۔ اس عرصہ میں آپ نہ صرف علوم ظاہر کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم باطنی کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ بڑے بڑے مشائخ سے ملے۔ 15 سال کی عمر میں حفظِ قرآن ، حسنِ قرأت، علومِ عقلیہ و نقلیہ اور ظاہری و باطنی علوم سے مرصع ہوگئے تھے ۔ آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ قرآن مجید کی ساتوں قرأت (سبعہ قرأت) پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ آپ نے حصول علم کے لیے خراسان ، بخارا ، یمن،مدینة المنورة ، مکة المکرمة ، حلب، دمشق، بغداد، بصرہ،فلسطین اور موصل کے سفر کر کے مختلف ماہرین علومِ شرعیہ سے اکتساب فیض کیا۔

یمن سے آپ بغداد تشریف لائے اور ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی کی خانقاہ پہنچے۔ آپ نے صرف 17 دنوں میں بیعت و خلافت عطا فرما دی

15 سال تک مختلف علاقوں میں تبلیغ اسلام کرتے آخر کار1222ء میں واپس ملتان تشریف لائے۔ آپ کی مساعی جمیلہ سے سہروردی سلسلہ پاک و ہند میں خوب جاری ہوا۔

ملتان میں ہی آپ کا وصال ہوا اور اسی شہر میں آپ کا مزار پُر انوار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ مزار بہاؤالدین زکریا ملتانی فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔آپ کی وفات ِحسرت آیات 7 صفر 661 ھ/21دسمبر 1261ء کو ہوئی۔ آپ کا مزار شریف قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں مرجع خلائق ہے، مزار کی عمارت پرنقاشی کا کام قابل دید ہے اور سینکڑوں اشعار یاد رکھنے کے لائق ہیں۔

ہاؤالدین زکریا ملتانی کے سات بیٹے تھے جنہوں نے بطور صوفیاء شہرت حاصل کی۔

شیخ صدرالدین عارف
شیخ برہان الدین
شیخ ضیاؤالدین
شیخ علاؤالدین
شیخ قدرت الدین
شیخ شہاب الدین
شیخ شمس الدین

شیخ صدرالدین عارف کے بیٹے شیخ عبد الفتح رکن الدین المعروف شاہ رکن عالم مشہور بزرگ ہوئے ہیں

آپ ہی کی نسبت سے ملتان یونیورسٹی کا نام بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی رکھا گیا۔

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...