Ad3

Showing posts with label Vegetable. Show all posts
Showing posts with label Vegetable. Show all posts

سورة الأعراف آیات نمبر 149

 وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ  اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ  یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾


 اور جب نادم ہوئے  اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوجائیں گے ۔  


 And when regret overcame them and they saw that they had gone astray, they said, "If our Lord does not have mercy upon us and forgive us, we will surely be among the losers." 

سورة الأعراف آیات نمبر 96

 وَ لَوۡ اَنَّ  اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا  وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ  کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا  کَانُوۡا  یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۹۶﴾

 اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا ۔  

 And if only the people of the cities had believed and feared Allah , We would have opened upon them blessings from the heaven and the earth; but they denied [the messengers], so We seized them for what they were earning." 

گاجر

‏گاجر بینائی کو مضبوط بنانے کے لئے بہترین عناصر میں سے ایک ہے، ماہرین کے مطابق روزانہ ایک گلاس گاجر کے جوس کا استعمال آپ کو بینائی کی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے، گاجر میں وٹامن اے، پوٹاشیم،کارپورہائیڈریٹ اور ریشے پائے جاتے ہیں، جو بینائی کو تیز کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں

‏ٹنڈا

ٹنڈا مرغوب غذاہے،پتھری کی تکلیف دور کرتا ہے،بدن کی خشکی اور گرمی کو دور کرتا ہے،جسم سے تزابی مادہ اور دیگر فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے
تیز آنچ پر پکانے سے ٹنڈے کے غذائی اجزاء کافی ضائع ہو جاتے ہیں
جن کو قبض کی شکایت ہو وہ ٹنڈا بکثرت استعمال کریں

کدو کے فوائد

عراق پر امریکی حملے کے دوران بغداد کی ایک قدیم عمارت بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شہر کی صفائی شروع ہوئی تو اس عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے گہرائی سے ایک قدیم عمارت کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ کسی درس گاہ کے آثار تھے۔ وہاں سے ایک قدیم قلمی نسخہ مکمل حالت میں دستیاب ہوا جس کا نام "تحفۃ الاغانی" تھا۔ مصنف کا نام عبداللہ بن طاہر البغدادی رضوی تھا۔ کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالم دین اور صوفی تھے۔ یہ کتاب ان کے کشف پر مبنی پیشینگوئیوں پر مبنی ہے۔ اس میں ایک باب خاص طور پر ہند یعنی ہندوستان کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت لکھتے ہیں کہ ہند کے کچھ علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی لیکن ایک طویل عرصہ تک یہ ملک افراتفری اور بے چینی کا شکار رہے گا۔ اس کی جو وجہ اس کتاب میں بیان کی گئی وہ بہت ہولناک ہے۔ حضرت لکھتے ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان خنزیر نما خوراک کھانے کے عادی ہوں گے اور یہی سبب ہوگا کہ وہ بتدریج دین سے دور ہوتے جائیں گے۔ یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ پاکستان میں لوگ بظاہر ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ 2011 میں یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر سٹورٹ جونز جو ڈپارٹمنٹ آف بائیو ٹکنولوجی کےسربراہ ہیں، انہوں نے اپنی ریسرچ میں ثابت کیا کہ برائلر چکن اور خنزیر کے گوشت میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں۔ برائلر جس ٹکنالوجی سے پیدا کیا گیا اس میں خنزیر کے ماڈل کو ہی فالو کیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے سامنے آتے ہی اس پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹر جونز کو نفسیاتی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے ہسپتال میں ڈال دیا گیا۔ نومبر 2015 میں ڈاکٹر سٹورٹ جونز کا اسی ہسپتال میں پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ اگر یہ تحقیق منظر عام پر آجاتی تو مغرب کی ملٹی بلین ڈالر برائلر چکن انڈسٹری تباہ ہوجاتی۔ اس انڈسٹری کے بَل پر انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے ایجنٹس کو جیسے ارب پتی کیا، وہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان حرام گوشت کھا کے جن روحانی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اس سے نجات مل جاتی۔
انہی دنوں تل ابیب یونیورسٹی  میں کدّو کے خواص پر ایک ریسرچ پیش کی گئی۔ ڈاکٹر موشےڈیوڈ جو پولینڈ سے ہجرت کرکے اسرائیل میں آئے تھے، وہ پچھلے بائیس برس سے کدّو کے خواص پر تحقیق کررہے تھے۔ 2014  کے موسم گرما میں یہ تحقیق مکمل کرکے یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں پیش کی گئی۔ اس ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کدّو ایک ایسی مکمل غذا ہے جس کی مثال کسی اور غذا میں نہیں ملتی۔ اگر ایک انسان روزانہ دو وقت کدّو کھائے تو اس کی غذائی ضروریات بالکل پوری ہوجاتی ہیں۔ کدّو میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو انسان کو ہر قسم کی بیماری سے بچا لیتے ہیں۔ کینسر اور ایڈز کے مریضوں کو تجرباتی طور پر ایک مہینہ کدّو کھلائے گئے تو وہ بالکل بھلے چنگے ہوگئے۔ کدّو کے جوہر سے ہر قسم کی بیماری کے علاج کی ویکسین تیار کرنے کا تجربہ بھی کیا گیا اور نتائج حیران کن تھے۔ کسی بھی بیماری کے آخری سٹیج کے مریض کو بھی کدّو ویکسین لگائی گئی تو وہ ایک دن کے اندر پوری طرح صحت مند ہوگیا۔  
حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر موشے ڈیوڈ کو بھی اس کے بعد منظر عام سے غائب کردیا گیا۔ تل ابیب ٹائمز میں ڈاکٹر ڈیوڈ کی بیوی  مارشا ڈیوڈ کا انٹرویو بھی چھپا جس میں انہوں نے اپنے خاوند کی پراسرار گمشدگی پر سوالات اٹھائے اور اس کا تعلق ان کی ریسرچ سے جوڑتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔ یہ معاملہ بھی بعد میں وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ اس ریسرچ کو اگر آفیشلی طور پر سامنے لایا جاتا تو اسلام کی حقّانیت کھل کر پوری دنیا کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہود و ہنود کا کفر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا۔
درج بالا دو واقعات سے ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے کہ وہ اس تحریر کو  سبحان اللہ کہہ کے شئیر کرے  اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو حرام کھانے سے بچائے اور کدّو کے فوائد  سے رو شناس کرائے۔  جزاکم اللہ

شکر قندی کے فوائدوخصوصیات

آلو جیسی شکل اور غذائیت رکھنے والی شکر قندی ایک جڑ ہے جو پاکستان میں عام پائی جاتی ہے ۔ یہ سردیوں میں ٹھیلوں پر بڑی تعداد میں فروخت ہوتی ہے جس سے نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے اسے انگریزی میں sweet potatoeکہا جاتا ہے ۔ کم قیمت کی وجہ سے یہ امیر و غریب میں یکساں مشہور ہے ۔ خاص طور سے غریب طبقہ جو اکثر اناج کی کمی کی وجہ سے غذائی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، شکر قندی کی کرشماتی خصوصیات سے اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں ۔ شکر قندی کو بھون کر یا ابال کر کھا یا جاتا ہے۔ اس کا حلوہ بھی بے حد لذیز ہوتا ہے جو کہ جسم کو گرمی اور تقویت بخشتا ہے ۔ کالی مرچ اور نمک کے ساتھ اس کا استعمال اس کا مزا اور افادیت مزید بڑھا دیتا ہے ۔
سو گرام شکر قندی میں موجود غذائیت:
کیلریز: 86
فیٹس: 0.1گرام 0فی صد
سوڈیم : 55ملی گرام 2فی صد
پوٹاشیم : 337ملی گرام 9فی صد
کاربوہائیڈریٹس: 20گرام 6فی صد
پروٹین: 1.6گرام 3فی صد
وٹامن اے: 283فی صد وٹامن سی: 4فی صد
کیلشیم: 3فی صد آئرن: 3فی صد
وٹامنB6: 10فی صد میگنیشم: 66فی صد
شکر قندی کی خصوصیات
اس کی ان گنت خصوصیات کی وجہ سے اس سبزی کو سپر فوڈ کہا جاتا ہے ۔ یہ کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔ اس کے آٹھ حیران کن فوائد و خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شکر قندی میں وافر مقدار میں موجود وٹامن B6دل کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ ہوموسیسٹین لیول کو کم کرتا ہے جو زیادہ تر دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔ ہوموسیسٹین کی زیادتی سے دل کی شریانیں سخت ہونے لگتی ہیں ۔ وٹامن B6ان شریانوں کو لچکدار بناتا ہے ۔ شکر قندی میں موجود پوٹاشیم دل کی دھڑکنوں کو ترتیب دینے میں مدد کرتا ہے ۔البتہ جو لوگ امراض قلب کا شکار ہیں وہ بغیر معالج کے مشورے کے شکر قندی کا استعمال نہ کریں ۔
2۔ وٹامن اے سے بھرپور ہے
شکر قندی کا گہرا نارنجی رنگ اس میں موجود بیٹا کیروٹین یعنی وٹامن اے کی نشادہی کرتا ہے جو کہ ایک اہم اینٹی آکسیڈنٹ ہے ۔ ایک شکر قندی میں اتنا وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو آپ کے جسم کی ایک دن کی وٹامن اے کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے ۔ وٹامن اے کئی قسم کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ جلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاؤں سے بچاتا ہے ۔ شکر قندی میں پایا جانے والا بیٹا کیروٹین آنکھوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے اور اس سے آنکھوں کی بینائی اچھی ہوتی ہے ۔
3۔ بلڈ شوگر لیول متوازن رکھتی ہے
کیروٹینائڈ کپاؤنڈز جسم میں انسولین لیول درست رکھتے ہیں جس سے خون میں شوگر کا لیول بھی ٹھیک رہتا ہے ۔ شکر قندی سے حاصل ہونے والا وٹامن B6ذیابیطس کے مرض سے بچاتا ہے۔ البتہ جو لوگ پہلے ہی ذیابیطس کے مرض کا شکار ہوں وہ شکر قندی کا استعمال محدود رکھیں ۔
4۔ معدے کے السر کے لیے مفید
اگر کوئی معدے کے السر میں مبتلا ہو تو وہ شکر قندی کا استعمال ضرور کرے ۔ اس میں موجود فائبر معدہ صاف رکھتا ہے اور کھانا ہضم کرنے اور فاضل مادہ جسم سے خارج کرنے میں مدد کرتا ہے جس سے غذا کی نالی میں تیزابیت نہیں بنتی ۔ شکر قندی میں موجود کیلشیم ، پوٹاشیم، وٹامن بی ، وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین السر ہونے کے خطرات سے بھی محفوط رکھتا ہے ۔
5۔ گردوں کے لیے فائدے مند ہے
وٹامن اے سے پھیپڑے کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ شکر قندی کے استعمال سے پھیپڑوں کی کئی بیماریوں جیسے امفیسیماemphysema سے بچا جا سکتا ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں 124,000افراد پر ہونے والی ایک تحقیق سے ثابت ہوا کہ وہ لوگ جو باقائدگی سے ایسی غذا کا استعمال کرتے ہیں جس میں کیروٹینائیڈ موجود ہو ان میں پھیپڑوں کے کینسر کا خطرہ 33فیصد تک کم ہو جا تا ہے ۔
6۔ جلد اور بالوں کو صحت مند بناتی ہے
شکر قندی کو بیوٹی فوڈ بھی کہا جا تا ہے ۔ اس میں موجود غذائی اجزا جلد او ربالوں کے لیے بے حد مفید ہیں ۔ وٹامن سی ، وٹامن ای اور بیٹا کیروٹین کے اشتراک سے بننے والی شکر قندی جلد کو چمکدار بناتی ہے اور اس سے رنگ بھی صاف ہوتا ہے ۔ اس کے مستقل استعمال سے بال گھنے ہو جاتے ہیں اور ان کا جھڑنا بھی کم ہو جاتا ہے ۔
7۔ اعصابی قوت بڑھاتی ہے
شکر قندی کا استعمال دماغ میں موجود ٹشوز میں سوزش ہونے سے روکتا ہے ۔ اس سے فائبرونوجن لیول بھی کنٹرول میں رہتا ہے ۔ یہ جسم میں موجود ایک گلائیکو پروٹین ہے جس کی زیادتی سے انسان کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچتا ہے ۔ شکر قندی میں پایا جانے والا پوٹاشیم ذہن کو نارمل انداز میں کام کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
8۔ قوت مدافعت مضبوط بناتی ہے
ہر کوئی جانتا ہے کہ جسم کو قوت اور تقویت پہنچانے کے لیے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ معدنیاتی فولاد نا صرف جسم کو انرجی مہیا کرتا ہےہر کوئی جانتا ہے کہ جسم کو قوت اور تقویت پہنچانے کے لیے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ معدنیاتی فولاد نا صرف جسم کو انرجی مہیا کرتا ہے بلکہ اس سے جسم میں خون کے سفید اور سرخ خلیات تیزی سے بنتے ہیں ، ذہنی تناؤ دور ہوتا ہے اور قوت مدافعت مستحکم ہوتی ہے ۔ میگنیشیم کی وافر مقدار بھی اسے انرجی سے بھرپور بناتی ہے جس کے باعث ذہن پرسکون رہتا ہے۔
غرض یہ کہ اس سستی سی سبزی میں قدرت کے تمام غذائی خزانے موجود ہیں۔ یہ صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ ان سردیوں شکر قندی کا استعمال ضرورکریں اور جسم کو چست و توانا رکھیں ۔
شکر قندی کے نقصانات:
٭موٹے افرد استعمال نہ کریں کیونکہ یہ جسم کو موٹا کرتی ہے۔
٭اس کے کھانے سے پیٹ میں اپھارہ ہو تا ہے۔
٭کمزور معدے والے لوگ اس کو استعمال نہ کریں کیونکہ یہ قابض ہے۔
٭یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے اگر شہد ملا کر کھائی جائے تو بہتر رہتا ہے۔
٭کم مقدار میں شکر قندی کا استعمال کریں زیادہ کھانا نقصان کا باعث بنتا ہے۔






چنا



جدید تحقیق کے مطابق اناج میں سب سے زیادہ مقوی غذا چنا ہے
چنے کا پانی یا شوربا‘ پیشاب آور اور قبض کشا ہے۔ چنا خون کو صاف کرتا ہے اور اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھرتا ہے بدن کو گندے اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کیلئے مفید غذا ہے۔ گردے کے سدے کھولتا ہے اس کے کھانے سے بدن فربہ ہوجاتا ہے۔قدیم اطباءنے چنے کو بے حد مقوی قرار دیا ہے اس سے بدن میں صالح خون پیدا ہوتا ہے بدن میں خاص قوت کو بڑھاتا ہے۔
مغرب کی جدید تحقیقات نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔
یہ بادشاہوں کی غذا ہے۔ جب شاہ جہاں کو اسکے بیٹے اورنگ زیب نے قید کیا تو کہلوایا :۔ ’’جیل میں صرف ایک اناج اور ایک کام پسند کرلیں‘‘۔ باپ نے جواب بھیجا ’’اناج میں چنا اور کام میں بچوں کو قرآن پڑھانا‘‘۔
بیٹے نے کہا بادشاہت کی خوبو ابھی نہیں گئی۔
اب وہ طلبا پر حکومت کرینگے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن پڑھتا اور پڑھاتا ہے‘‘
(بخاری)

سلاد کےفوائد

مارے ہاں کھانے کی دعوت’ سلاد‘ کےبنا ادھوری ہے اور سلاد سے زیادہ اس کی سجاوٹ دیکھنے میں آنکھوں کو بھلی لگتی ہے۔ سلاد کے فوائد سے سبھی واقف ہیں اسی لیے اپنی صحت کےحوالےسے فکرمند لڑکے اور لڑکیاں آج کل سلاد پر زیادہ انحصار کررہے ہیں۔
سلاد ان تازہ سبزیوں سے بنتی ہے جو غذائیت اور وٹامنزسے بھرپور ہوتی ہیں۔ سبزیوں کو اگر سلاد کی شکل میں کھایاجائے تو زیادہ بہتر ہےکیونکہ پکی ہوئی سبزیوں کی نسبت کچی سبزیاں زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ سلاد کھانے سے آپ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ روزانہ سلاد ضرور کھائیں۔ سلاد کھانے سے وزن میں اضافہ نہیں ہوتا ۔ یہ جسم میںحیاتین کی کمی کو دور کرتا ہے۔ جو افراد اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں،ا نھیں چاہیے کہ وہ کھانا کم اور سلاد زیادہ کھائیں۔ جدید تحقیق کے مطابق کچی سبزیاں ، خاص طور پر بندگوبھی زیادہ کھانی چاہئے کیوں کہ اس میں صحت بخش اجزاء زیادہ پائے جاتے ہیں، اسی لیے سلاد میں بندگوبھی بھی ڈالنی چاہیے۔ سلاد کھانے سے کولیسٹرول قابو میں رہتا ہے۔ سلاد میں ریشہ، فولاد اور کیلشیم کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ تازہ سبزیوں سے بنا ہوا سلاد دل کی تکلیف کو کم کرتا اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے ۔ سلاد ایک ایسی ہلکی پھلکی غذا ہےجو جسم کو توانائی اور غذائیت فراہم کرتی ہے۔
غذا ئی ماہرین کہتے ہیں کہ سبزیوں میں گہرے رنگ کی سبزیاں صحت کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں روزانہ گہرے رنگ کی کوئی ایک سبزی ضرور کھانی چاہیے۔ ذیابطیس کے مریض گہرے رنگ کی سبزیوں کی مدد سے حرارے (کیلوریز)، بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی مقدار کو کم کرسکتے ہیں۔ ان سبزیوں میں ایسے اجزاء زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں جو بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ان سبزیوں کو کچا کھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ گاجر، کھیرا، ٹماٹر، ککڑی، مولی، شلجم اور اس کے پتے، کھانا زیادہ فائدہ مندہے۔
سلاد میں شامل کھیرے کے فوائد
سلاد کے طور پر استعمال کئے جانے والے کھیرے میں ارپسن نام کا ایک انزائم ہوتا ہے جو پروٹین کو ہضم کرنے میں مدد کرتاہے۔کھیرا پانی کا بہت اچھا ذریعہ ہے ، اس میں 95فی صد پانی ہوتا ہے۔کھیرے کے روز انہ استعمال سے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے۔کھیرے میں موجود عنصر کھانے کو جلد ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔کھیرے میں وٹامن اے بی 1، بی 6سی ، ڈی پوٹیشیم ، فاسفورس اور آئرن وغیرہ اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے جو صحت کے نظریہ سے بہت مفید ہے۔کھیرا قبض سے نجات دلانے کے ساتھ پیٹ کے کئی امراض کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔سینے میں مسلسل جلن کی صورت میں کھیرا کھانااچھا ہوتاہے۔کھیرے میں موجود رس پین کریز سرگرم ہونے پر جسم میںانسولین بنتی ہے ،جو ذیا بیطس سے لڑنے میں مدددیتی ہے۔کھیرا کھانے سے کولسٹرول کی سطح کنٹرول میں رہتی ہے۔ اس کے استعمال سے دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ کم رہتا ہے۔
امریکی تحقیق
امریکی مرکز برائے تدارک امراض اور تحفظ (سی ڈی سی) کے مطابق انہوں نے50پھلوں اورسبزیوں کا جائزہ لیا اور20اشیاء کو سب سے اوپر رکھا تو ان20میں سے 17ہرے پتوں والی سبزیاں مثلاً پالک، سلاد اور دیگر سبزیاں نمایاں رہیں۔ دنیا کے ممتاز غذائی ماہرین نے طاقتور ترین سلاد بنانے کا ایک طریقہ بتایا ہے۔ قلفے کا ساگ یعنی آروگیولا، گوبھی کے خاندان والی ایک سبزی کیل، رومین سلاد اور تیز پات یعنی واٹرکریس کو ملاکر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف کینسر، ڈیمنشیا، فالج، امراضِ قلب اور ذیابطیس سے بچاتی ہے بلکہ یہ جسم کے دفاعی نظام کو بھی مؤثر بناتی ہے۔
سلاد میں موجود چقندر کے فوائد
چقندرکے استعمال سے ہمارا میٹابولزم بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔اس میںوٹامن بی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ شریانوں اور وریدوں کی دیواروں کومضبوط کرتا ہے۔اس میں منرلز کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے۔پوٹاشیم اور فولیٹ دل کو اورمیگنیشیم ہڈیوں کومضبوط کرتا ہے،آئرن اور فاسفورس جسم کو توانائی دیتا ہے۔اس میں موجود آئیوڈین کی وجہ سے تھائیرائیڈہارمونز بہتر ہوتے ہیں۔ اس میں موجود فائبر کی وجہ سے نظام ہضم بہترطریقے سے کام کرتا ہے۔اس کے استعمال سے وٹامن ڈی کو ہضم کرنے میں آسانی ہوتی ہے جبکہ کولیسٹرول اوربلڈ پریشر اعتدال میں رہتا ہے۔
سلاد کے پتوں کا استعمال ، السر سے نجات
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سلاد کا پتہ کھانے سے السر کی بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیاہے کہ سلاد کا پتہ ایک ایسی سبزی ہے جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتی ہے۔ اس کے کھانے سے کولیسٹرول لیول کم کیا جاسکتا ہے۔


کے

پیاز

پیاز عضلاتی غدی مزاج کی حامل هے یعنی خشک گرم مزاج رکھتی هے
آج میں نے ایک ایسی چیز کو موضوع بنایا ہے جو تقریباً ہر گھر میں صبح و شام تک کئی مرتبہ مختلف ڈشوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ پیاز… جی ہاں! یہ میرا آج کا موضوع ہے۔ پیاز کے جسم انسانی پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں ہم اسے مصالحہ وغیرہ کی صورت میں سالن کا ذائقہ بڑھانے کی غرض سے استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے طبی خواص سے ناواقفیت کی بنا پر اس کے مکمل فوائد سے استفادہ نہیں کرپاتے۔
پیاز کو پکا کر کھلانے سے ‘ پرانی کھانسی‘ سینے کی جلن اور بلغم کے انجماد میں خاص طور پر فائدہ ہوتا ہے۔ اسے کھانے سے پیشاب بار بارآتا ہے۔ سرکہ میں اگر اس کا اچار بنا کر استعمال کیا جائے تو تلی کے درد میں فائدہ ہوتا ہے۔ متلی وغیرہ دور ہوتی ہے۔ آنکھ کی سوزش‘ سفیدی اور موتیا بند کی ابتداء میں پیاز کا عرق شہد میں ملا کر آنکھ میں لگانے سے اکثر فائدہ ہوتا ہے۔ پیاز کوکوٹ کر 4 سے ساڑھے چار تولہ مقدار میں دینے سے بچھو کے زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے۔
یہ عرق مقامی طور پر بھی زہریلے زخموں کا مداوا ثابت ہوتا ہے۔ سفید پیاز کے عرق کو دگنے شہد میں ملا کر پکا کر قوام بنائیں اور نو ماشہ روزانہ کھائیں۔ اس سے جسمانی کمزوری دور ہوجائے گی۔ پیاز کے آدھ پاؤ عرق میں 5 تولہ شکر ملا کر پکا کر بار بار کھلانے سے خونی بواسیر دور ہوجاتی ہے۔ پیاز کو سداب کے پتوں اور نمک کے ہمراہ کوٹ کر بواسیری مسوں پر لیپ کرنے سے ورم اور درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ ویدک طریقہ علاج میں پیاز کو دودھ میں خوب ابالنے کے بعد گائے کے گھی میں تلتے ہیں پھر اس میں شہد ملا کر جسمانی کمزوری کیلئے استعمال کرایا جاتا ہے۔ پیاز کو ابال کرجوشاندے کی صورت میں استعمال کرنے سے پیشاب کی جلن میں فائدہ ہوتا ہے۔ کھجلی اور خارش کیلئے یہ اکسیر ہے۔ اس کے عرق کو کان میں ڈالنے سے درد فوراً جاتا رہتا ہے۔ اس کا جوشاندہ پینے سے بلغم خارج ہوتا ہے۔ سرکہ میں ملا کر بار بار چٹانے سے گلے کی سوزش جاتی رہتی ہے۔ عرق پیاز کو رائی کے تیل میں ملا کر جوڑوں پرمالش کرنے سے گنٹھیا میں فائدہ ہوتا ہے۔ اگر پیاز باقاعدہ کھائی جائے تو دانتوں کی جڑوں میں تعفن پیدا نہیں ہوتا۔ ہسٹیریا اور مرگی کے مریضوں کو ہوش میں لانے کیلئے تیز چیزیں مثلاً ایمونیا وغیرہ سنگھانے کا رواج رہا ہے طب یونانی میں اس غرض کیلئے لخلخہ پیاز سنگھایا جاتا ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق پیاز کو کوٹ کر سنگھانا زیادہ مفید ہے۔ سونگھنے سے سردرد جاتا رہتا ہے اور زکام کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ پیاز کی بو اس کی سب سے بڑی خرابی ہے لیکن یہی چیز پیٹ میں پہنچ کر آنتوں کے جراثیم کے خاتمے کا باعث ہوتی ہے۔ اس کیلئے پیاز کو لیموں کے عرق‘ کالی مرچ اور نمک کے ساتھ بطور سلاد کھانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ دل اور گردوں کی بیماریوں میں جب سارے جسم میں سوجن آجاتی ہے تو اس کیفیت میں کچی پیاز کو بھوبھل میں رکھ کر پھر گرم گرم حالت میں ورم والی جگہ پر باندھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ عرق پیاز شہد میں ملا کر استعمال کرانے سے پرانی کھانسی دور ہوجاتی ہے۔ ہیضہ کے مرض میں آب جو اور چونے کے پانی میں عرق پیاز ملا کر پلانا مفید ہوتا ہے۔ آب پیاز‘ شہد اور گھی ہم وزن پکا کر گاڑھے ہونے پرمریض کو استعمال کرانے سے اعصابی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ پیاز کے ساتھ جائفل شہد اور انڈہ ملا کر دینے سے بچوں کی نشوونما اور صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ تو تھے پیاز کے مختصر فوائد جو ہم نے آپ تک پہنچائے۔
سفید پیاز کا عرق شہد خالص ہموزن ملا کر پکائیں جب پانی خشک ہوکر شہد کا قوام رہ جائے تو ڈھائی ٹی اسپون صبح و شام استعمال کریں۔ اس سے جسم انسانی میں تھکن زائل ہوکر اعصاب کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ ان نسخوں کے علاوہ پیاز کے اچار بنا کر محفوظ کریں۔ طریقہ یہ ہے کہ پیاز کو چھیل کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں پھر انہیں کسی شیشے کے مرتبان میں ڈال کر نمک‘ مرچ سیاہ‘ زیرہ سیاہ‘ رائی اور دیگر مصالحہ جات بقدر ضرورت ڈالیں اس کے اوپر سرکہ خالص اس قدر ڈالیں کہ پیاز کے ٹکڑوں کے اوپرآجائے۔ برتن کا منہ بند کرکے چند یوم دھوپ میں رکھیں یہ غذا کو ہضم کرتا ہے مقوی معدہ ہے اور تیزابیت کو دور کرکے بھوک بڑھاتا ہے



سبز دھنیا

سبز دھنیا کھانے میں ذائقے کے لیے معروف ہے لیکن اس کے حیران کن طبی فوائد بھی سوچ سے کہیں زیاد ہ ہیں آپ کو دھنیا کے چند اہم ترین فوائد سے روشناس کروائیں گے۔ ذیابیطس دھنیا اس ضمن میں آپ کی بھرپور مدد کر سکتا ہے۔ برطانوی جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دھنیا کے عرق میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو جب خون میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے انسولین میں اضافہ اور شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ کولیسٹرول اگر آپ اپنے جسم میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے سے پریشان رہتے ہیں تو اس مشکل کا حل قدرت نے آپ کے لئے دھنیے کے پتوں میں رکھ دیا ہے۔ دھنیا آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکے رکھتا ہے۔ بلڈ پریشر اگرآپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں تو دھنیااستعمال کریں، جو آپ کو نفع پہنچا سکتا ہے۔ دھنیا کے پتے کولنیرجک نامی مرکب اور کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ دونوں جزو خون کی گردش کو متناسب بنائے رکھتے ہیں۔ نظام انہضام اگر آپ بدہضمی کا شکار ہےں تو دھنیا آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ مختلف نیوٹرنٹس سے بھرپور دھنیا معدے کو تقویت پہنچا کر نظام انہضام کے کارکردگی کو بہتر بنا دیتا ہے۔ سوزش ایک ڈچ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دھنیا کے پتے قدرتی طور پر جسم کے کسی بھی حصہ کی انفلیمیشن کم کرنے کا ذریعہ ہے۔ دھنیا کے تیل، اومیگاتھری اور سکس کا ایک مکسچر بنا کر متاثرہ جگہ پر ملنے سے آپ کو فوری آرام مل سکتا ہے۔ اینٹی بیکٹریل دھنیا میں اینٹی بیکٹریل مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں، جو کسی بھی طرز کی انفیکشن کے علاج میں نہایت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کینسر کے علاج، قوت مدافعت میں اضافہ اور اچھی نیند لانے میں بھی دھنیا میں شامل اجزاءاہم کردار ادا کرتے ہیں۔


سرسوں کا ساگ

سرسوں کا ساگ فولاد اور وٹامن اے .بی.جی کیلسیم وفولاد ہیں. تاثیر اسکی گرم اور خشک ہے

سرسوں کا ساگ بھوک کو تیز کرتاہے اور جسم ومعدہ سے ریاح کو خارج کرتاہے خون میں حرارت پیدا کرتاہے اور یہ پیشاب آور ساگ ہے

سرسوں کا ساگ

نیا خون پیدا کرتاہے قبض کشا ہے اور خون کو صاف کرتاہے یہ ساگ کھانےسےچہرہ پر سرخی پیدا ہوجاتی ہے
سرسوں کا ساگ اگربچوں کوکھلایاجاےءتو انکی ظاہری شخصیت پربھی اثر پڑتا ہے انکا قد اور وزن بڑھجاتاہےاور دانتوں کو مضبوط بنانے میں لاجواب ہے
سرسوں کا ساگ 
معدہ .جگر اور انتڑیوں کو طاقتور بنانےمیں یہ ساگ لاثانی ہے جسم پر سوجن ہوتو اسے ختم کرنے کےلیے    سرسوں کا ساگ  استعمال کرے اس میں مکھن ڈال کر کھاےءتویہ جسم کی لاغری  و کمزوری کودور کرتاہے
🍶:

سرسوں کا ساگ
سرسوں کا ساگ قوت باہ میں اضافہ کا سبب ہےاور منی کو گاڑھا کرتاہے -------احتیاط سرسوں کے ساگ میں ادرک شامل کرلیناچاہیےاسلےء کہ دوسری صورت میں یہ ساگ ریح پیدا کرتاہے وہ لوگ جنکا معدہ کمزور ہے اورگردہ کے مریضوں کےلیے یہ ساگ بےحد مضر ہے

سرسوں کا ساگ 
معدہ .جگر اور انتڑیوں کو طاقتور بنانےمیں یہ ساگ لاثانی ہے جسم پر سوجن ہوتو اسے ختم کرنے کےلیے    سرسوں کا ساگ  استعمال کرے اس میں مکھن ڈال کر کھاےءتویہ جسم کی لاغری  و کمزوری کودور کرتاہے


بھنڈی کے فائدے

بھنڈی شمال مشرقی افریقہ کی سبزی ہے اور تمام گرم علاقوں میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ بھنڈی کو غذائیت سے بھرپور سبزی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سبزی میں بھرپور غذائیت موجود ہوتی ہے۔ اس میں 30 فیصد کیلوریز، 3 گرام ڈایٹری فائبر، 6 گرام کاربوہائیڈریٹس، 2 گرام پروٹین، 1 گرام فیٹ، 80 مائیکرو گرام فولیٹ اور 60 ملی لیٹر میگنیشم موجود ہوتا ہے۔ بھنڈی کو کچا پکا جیسا بھی کھایا جائے، اس سے آپ کو فائدہ ہی پہنچتا ہے۔ یہ سبزی آپ کی صحت کے لئے کسی بھی طرح سے نقصان دہ نہیں ہے۔ بھنڈی کے استعمال سے دمے کا علاج ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پانی سے آپ کا مدافعتی نظام بھی بہتر ہوتاہے اور آپ کے گردے بھی ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔اس  کا پانی آپ کا کولیسٹرول بھی کنٹرول رکھتا ہے۔ بھنڈی کا پانی شوگر کے مریضوں کے لئے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس کا پانی جسم میں موجود شوگر کو جذب کرلیتا ہے۔ بھنڈی کے پانی سے شوگر کو کنڑول کرنے کے لئے درج ذیل ٹوٹکہ اپنائیں۔ تازہ بھنڈیاں 4 عدد لے کر اس کا اوپری اور نچلا حصہ کاٹ دیں۔ بھنڈی پر چھوٹے کٹ لگادیں اور ان بھنڈیوں کو رات بھر پانی میں بھگو دیں۔ صبح اٹھنے کے بعد ناشتے سے 30 منٹ پہلے بھنڈی کا پانی پی لیں۔ اس سے آپ کی شوگر بالکل کنٹرول ہوجائے گی

۔

پالک

پالک ایک ایسی سبزی ہے جو دنیا کے ہر خطے میں آسانی سے سستے داموں میں دستیاب ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہے جس میں بے شمار غذائی اجزاء موجود ہیں۔ اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، میگنیشیم، فولیٹ، مینگینز، آہن کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن بی2 اور وٹامن بی موجود ہے۔ علاوہ ازیں یہ سبزی پروٹین، فاسفورس، وٹامن ای، جست، ریشہ اور تانبا کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسی سبزی ہے جو ہر موسم میں دستیاب ہوتی ہے اسے سلاد میں کچا بھی کھایا جاسکتاہے۔ اسے پکا کر بھی کھایاجاسکتا ہے یا اسے کسی اور غذا کے ساتھ ملا کر کھایا جاسکتاہے۔ 
پالک کے فائدے
غذا:
ایک پیالی پالک میں روزانہ درکار20فیصد غذائی ریشہ موجود ہوتا ہے۔ جو نظام ہاضمہ کا دوست ہے ، قبض سے نجات دلاتا ہے خون میں شوگر کی سطح کو اعتدال میں رکھتا ہے اور زیادہ کھانے سے روکتا ہے۔
سرطان:
پالک میں فلاوونائیڈ س (Flavonoids)وافر مقدار میں موجود ہیں، یہ ضد سرطان اجزاء ، سرطانی خلیات کو منقسم ہونے سے روکتے ہیں۔ پالک پروسٹیٹ کے سرطان سے بچانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔
ضدالہتاب:
نیوزینتھین(Neozenthin)اور ویالوزپنتھین (Violozenthin)دوانتہائی اہم ضدورم والتہاب اجزاء ہیں، جو پالک میں موجود ہیں۔
مانع تکسیدی اجزاء :
(انٹی آکسیڈنٹ) وٹامن سی، وٹامن ای، بیٹا کروٹین، مینگینز، جست(ZINC)سلینیم جیسے مانع تکسیدی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ جو خون کی نالیوں کو متورم ہونے سے بچانے کے علاوہ ہڈیوں کی بیماری اور سٹیوپوروسس اور ہائی بلڈ پریشر سے بچانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر:
پالک میں موجود پیپٹائیڈس ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
بینائی :
مانع تکسیدی اجزاء لیوٹن(LEUTIN) اور زیازیتھین(ZIAZINTHANE) پالک کے پتوں میں وافر مقدار میںموجود ہیں۔ یہ موتیا بند سے بچانے کے علاوہ آنکھوں کی بینائی پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
جلد:
وٹامن اے کی وافر مقدار جو پالک میں موجود ہے جسم کی جلد پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ جلد کو جُھریوں سے بچاتی ہے اور جلد کو نرم وتازہ رکھتی ہے۔
نظام دفاع:
ایک کپ پالک میں وٹامن اے کی روزانہ تعین شدہ مقدار 337%موجود ہے۔ یہ جسم کے داخلی دروازوں جیسے کہ منہ، نظام نفس، نظام ہاضمہ اور دستگاہ تناسلی وادرار کے اندرونی تہوں کو دشمنوں(جراثیموں، وائریسوں، کیڑوں) سے بچانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سفید خلیات (جو ہمیں عفونتوں سے بچاتے ہیں)کا ایک اہم جُز ہے۔
ہڈیاں:
ایک کپ پالک وٹامن کے (K)کے روزانہ تعین شدہ مقدار کا 1000%سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے جو ہڈیوں کے حجم اور مضبوطی کے لئے ضروری ہے۔
دماغ اور اعصابی نظام:
وٹامن کے کا پالک میں وافر مقدار میں موجود ہونا دماغ اور اعصابی نظام کے لئے ایک انتہائی ضروری جُز’’سفنگولیپڈس‘‘ بنانے میں مدد کرتا ہے، جو نسوں کے ارد گرد غلاف’’مایلین‘‘ (Myelin)بنانے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔



بیگن

بینگن انسانی صحت کے لئےانتہائی  مفید ہے۔ بینگن میں فاسفورس، فولاد، وٹامن اے، بی اور سی ہوتے ہیں۔ بینگن میں وٹامن  ای وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔اس کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے۔ یہ آئرن کی کمی میں کھانا فائدہ مند ہے۔
بینگن میں فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے لہذا اس کے استعمال سے آپ کا نظام انہضام بہتر طریقے سے کام کرے گا۔ اس میں موجود پوٹاشیم نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں کولیسٹرول یا چکنائی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے وزن کم ہونے لگتاہے۔
جسم میں موجود اضافی چربی کو ختم کرتا ہے جن لوگوں کو ہڈیوں کی کمزوری کا مسئلہ درپیش ہوانہیں چاہیے کہ باقاعدگی کے ساتھ اس سبزی کا استعمال کریں۔ بینگ
ن کا استعمال اینیمیا کا تدارک کرتا ہے ۔ دل کے امراض میں بینگن کا استعمال مفید ہوتا ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے۔ دمہ کے مریضوں کے لئے کھانا مفید ہے۔ بیگن کھانا دماغ کے لئے فائدہ مند ہے۔ جگر کو طاقت دیتا ہے اور جگر کی بیماریوں کو ختم کرتا ہے۔
بینگن کا زیادہ استعمال مضر صحت ہے مگر بلغمی مزاج والوں کیلئے ایسا نہیں۔ جن لوگوں کو جسم میں خشکی ہو، نیند کم آتی ہو اور بواسیر کی شکایت ہو انہیں بینگن ہرگز نہیں کھانا چاہیے۔ بینگن کا استعمال ہر قسم کے بخاروں میں کھانا منع ہے۔

چقندر

گھر میں چقندر اگانے کا طریقہ چقندر ایک بہت ہی فائدہ مند چیز ہے۔ یہ شلجم کی طرح کا ہوتا ہ
ے لیکن سائز میں اُس سے چھوٹا ہوتا ہے۔ چقندر کے بہت سے طبعی فوائد ہیں۔ ایک فائدہ اِس کا یہ بھی ہے کہ اِس کے پتوں کو بھی پکا کر کھایا جاتا ہے۔ اِس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اِس کی سرخ رنگ والی قسم پائی جاتی ہے۔ چقندر کی مختلف اقسام کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اِس کو موسم سرما کے شروع میں اگایا جاتا ہے۔ عام طور پر چقندر کو کیاریوں میں اگایا جاتا ہے لیکن کیوں کہ اِس کو اگنے کے لیے زیادہ جگہ درکار نہیں ہوتی اِس لیے ہم اِس کو کنٹینرز یا گملوں میں بھی لگا سکتے ہیں۔ چقندر کے بیج بونے سے پہلے ہم مٹی تیار کرتے ہیں۔ کیوں کہ چقندر کو مٹی میں ہی بڑا ہونا ہوتا ہے اِس لیے مٹی ریتلی اور نرم ہونی چاہیے۔ اگر چکنی مٹی ہو گی تو چقندر مٹی میں ذیادہ بڑا نہیں ہو سکے گا کیوں کے چکنی مٹی بہت سخت ہوتی ہے اور یہ آسانی سے اپنی جگہ سے نہیں ہٹتی۔ جبکہ ریتلی اور نرم مٹی آسانی سے اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے اور چقندر کا سائز بڑا ہوتا رہتا ہے۔ مٹی کو تیار ایسے کرنا ہے کہ آدھی مٹی لے لینی ہے اور آدھی ریت اور اورگینک کھاد اِن تینوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کر لیں۔ کوشش کریں کے اورگینک کھاد ذیادہ ڈالیں اگر آپ کے پاس اورگینک کھاد نہیں ہے تو آپ اِس کی جگہ گوبر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مٹی کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد اِس کو گملوں یا کنٹینرز میں بھر لیں اِس کے مٹی میں پانی ڈالیں۔ پانی اتنا ڈالنا ہے کہ گملے یا کنٹینر کی تمام مٹی اچھی طرح گیلی ہو جائے۔ اب آپ اِس گملے کو ایک دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیں۔ اگے دن آپ اُس گملے یا کنٹینر کی مٹی میں ترتیب کے ساتھ چار چار انچ کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے سوراخ کر لیں اِس کے بعد آپ کو چقندر کے بیج چاہیے ہوں گے۔ آپ چقندر کی کسی بھی قسم کے بیج لے لیں جو آپ کو پسند ہوں۔ بیج آپ کو آپ کی لوکل نرسری یا پھر بیج والی دوکان سے مل جائیں گے۔ اب آپ گملے کی مٹی میں کیے گے ہر سوراخ میں ایک ایک بیج ڈال دیں۔ بیج ڈالنے کے بعد سوراخ کو مٹی سے ڈھک دیں۔ اور پھر شاور کی مدد سے گملے آرام آرام سے پانی ڈالیں تاکہ مٹی بیجوں کے اوپر سے ہٹ نہ جائے۔ اب اسی طرح ہر روز گملے میں پانی ڈالتے رہیے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر بیجوں میں سے پودے پھوٹ پریں گے۔ ان شاء اللہ چقندر کے کچھ بیج ایسے ہوں کے جن میں سے ایک کی بجائے دو پودے نکلیں گے۔ آپ اُن پودوں کو بڑا ہونے دیں۔ جب وہ ایک یا دو اینچ کے ہو جائیں تو جن جن بیجوں میں سے دو دو پودے نکلے تھے اُن دو میں سے جو کمزور پودا ہو آپ اُس کو نکال کر کسی دوسری جگہ بھی لگا سکتے ہیں۔ اُس پودے کو نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے شاور کی مدد سے اُس پودے پر اچھی طرح پانی ڈالیں پھر کمزور والے پودے کو آرام سے پکڑ کر آہستہ آہستہ باہر نکالیں جب وہ باہر نکل آئے تو آپ اُن کو کسی دوسری جگہ مٹی میں سوراخ کر کے لگا لیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس جگہ کم ہو اور آپ اُس پودے کو کسی دوسری جگہ لگانا نہ چاہیں تو آپ اُس کو زمین سے باھر نہ نکالیں بلکہ اُس کے اوپر والے حصے کو اپنے ناخنوں کی مدد سے کاٹ دیں۔ یاد رہے کہ جو پودا آپ نے باہر نکالنا یا کاٹنا ہے وہ کمزور والا ہونا چاہیے تاکہ اگر وہ باہر نکالتے وقت ٹوٹ جائے تو آپ کے پودوں کا ذیادہ نقصان نہ ہو۔ اب آپ ہر روز اپنے پودوں کو پانی دیں۔ کچھ ہی عرصے بعد آپ کے پودے بڑے ہو جائیں گے اور اُن پر بہت سے پتے نکل آئیں گے۔ اگر آپ چاہیں تو ہر چقندر کے پودے سے کچھ پتے کاٹ کر پکا بھی سکتے ہیں لیکن کچھ پتے چقند کے پودے پر ہی رہنے دینے ہیں تمام پتے ہی نہیں اتار لینے۔ تقریبا چالیس دن بعد چقندر زمین سے باہر نکالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اُن کو باھر نکالنے سے پہلے ایک دفعہ اُن کو دیکھ لیں کہ وہ بڑے ہوئے بھی ہیں کہ نہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے آپ چقندر کے ایک پودے کے اوپر اور سائیڈوں سے مٹی ہٹا کر دیکھ لیں کہ چقند کا سائیز کتنا ہے اگر وہ بڑا ہو تو آپ چقندر مٹی سے باہر نکال سکتے ہیں اور اگر وہ چھوٹا ہو تو اُس کو کچھ دن اور زمین میں رہنے دیں۔ آپ چقندر کا معیاری سائیز اوپر دی گئی تصاویر میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ چقندر کے پودے کے بارے میں اختیاطی تدابیر چقندر کے پودوں کو اُس جگہ اگائیں جہاں دن میں ذیادہ سے ذیادہ دھوپ رہتی ہو اگر آپ نے کسی ایسی جگہ پر پودے اگائے جہاں دھوپ ذیادہ نہیں رہتی تو آپ کے پودے تو اگ آئیں گے لیکن اُن کے نیچے چقندر کا سائز بہت ہی چھوٹا یعنی نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ چقندر کے پودے کو ہر روز پانی دیں لیکن یاد رکھیں کے پانی آپ کے گملے یا کنٹینر میں کھڑا نہیں رہنا چاہیے اگر پانی کھڑا رہا تو نہ صرف چقندر کے پودوں پر مختلف کیڑے حملہ کر دیں گے بلکہ آپ کے چقندر بھی گل کر خراب ہو جائیں گے۔ اِس لیے کنٹینر یا گملے میں پانی کے اخراج کا اچھا انتظام ہونا چاہیے۔ اُمید ہے آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی ہو گی۔ اِس کو شعیر کریں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ اِس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اب میں آپ سے اجازت چاہوں گا پھر کبھی حاضر ہوں گا کچن گارڈنگ کے کسی اور موضوع کے ساتھ۔ اُس وقت کے لیے خدا حافظ ۔

کریلہ

 کریلوں کے فائدے پہلے چین اور انڈیا کے طبیبوں نے دریافت کئیے تھے۔ یہ مشاہدہ سب سے پہلے کس کا تھا وہ اس وقت طے کرنا تو مشکل ہے لیکن اس موضوع پر کافی ریسرچ ہوئی ہے جس کا لب لباب مندرجہ ذیل ہے۔
چین میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق، کریلے کا بالکل باریک پاؤڈر بنا کر اسے مریضوں کو پانچ ہفتے تک دیا گیا تو ان کی بلڈ شوگر 21 ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے کم ہوکر 12 گرام فی ڈیسی لٹر ہوگئی۔اور خون میں انسولین کا لیول بھی 40 سے گر کر 30 ہوگیا۔ اس کے علاوہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔1
انڈیا میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق جب چوہوں کی جلد پر کریلے سے تیار کئیے گئے چپکنے والے پلاسٹک کے پیس لگائے گئے تو دیکھا گیا کہ ان چوہوں کے خون میں شوگر کی مقدار کم ہو گئی۔2
کریلوں کے باقاعدہ استعمال سے بلڈ شوگر قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے ذیابیطس سے ہوجانے والی پیچیدگیوں سے بچت ملتی ہے۔ کریلے نہ صرف بلڈ شوگر کم کرتے ہیں بلکہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں جو ہمیں جسم میں بننے والے نقصان دہ کیمیکلز سے بچاتے ہیں۔
کریلوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر خطرناک حد تک کم بھی ہوسکتی ہے۔ اس لئیے ہر مریض کے لئیے ضرور ی ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی بلڈ شوگر چیک کریں اور دواؤں میں مناسب تبدیلی کرتے رہیں۔

ٹماٹر

ٹماٹر کے فوائد
ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﻀﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻗﺒﺾ ﮐﺸﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﭨﯿﮍﮬﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﻤﺎﭨﺮ
ﮐﺎ ﺭﺱ ﻣﺘﻮﺍﺗﺮ ﭘﻼﺗﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﺁﺭﺍﻡ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ۔
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﯾﺮﻗﺎﻥ، ﻭﺭﻡ ﮔﺮﺩﮦ، ﺫﯾﺎﺑﯿﻄﺲ ﺍﻭﺭ
ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﻧﮩﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺳﺮﺥ ﭨﻤﺎﭨﺮ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭨﻤﺎﭨﺮ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﺸﮑﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ
ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﭽﺎ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﺎﻧﯽ
ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﯿﺰﺍﺑﯽ
ﻣﺎﺩﮮ ﻣﻌﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺑﺨﻮﺑﯽ
ﺳﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﻮ ﻓﺮﺣﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮔﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﺭﺕ
ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻡ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭨﻤﺎﭨﺮ
ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺮﯾﺾ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺻﺒﺢ ﺍﯾﮏ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ
ﮐﮭﻼﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻥ ﻣﺎﺅﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻧﻔﻊ ﺑﺨﺶ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺷﯿﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﺍﯾﮏ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﺎ ﺟﻮﺱ
ﺑﮩﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﻟﯽ، ﭼﻘﻨﺪﺭ، ﺳﻼﺩ
ﺍﻭﺭ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﯾﮟ

ادرک

ادرک زمانہ قدیم سے خوراک کو لذیذ بنانے او ر علاج کیلئے استعمال میں ہے۔ ادرک جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے خوراک کو ہضم کرنے میں مدد گار ہے۔ پیٹ کو نرم کرتا ہے او ر قبض کو رفع کرتا ہے۔ پیٹ او رجگر سے پرانے سدے نکال دیتا ہے۔ ثقیل او ربادی اشیاءسے پیدا ہونے والی تبخیر کو دور کرتا ہے۔ آنتوں سے غلیظ مادے اور گندی ہوا نکالتا ہے۔ مقوی باہ ہے اگر آنکھوں میں سوزش ہو اس کی وجہ سے نظر میںفرق یا کمی آگئی ہو تو ادرک کے پانی میںسلائی ڈال کر آنکھ میںپھیری جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نزلہ، زکام ، دمہ ،بلغمی کھانسی، لقوہ، فالج وغیرہ میں بہت مفید ثابت ہوا ہے۔اگر معدہ مسلسل خرابی کی وجہ سے سست پڑ گیا ہو‘ بھوک کم او ردیر سے لگتی اور کھانا ہضم نہ ہوتا ہو تو ان سب کیلئے ادرک بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ادرک کے استعمال سے منہ او رسانس کی بدبو دور ہوتی ہے۔ اور منہ کا خراب ذائقہ ٹھیک ہوتاہے۔ مکھن کے ہمراہ ادرک کھانے سے بلغم ختم ہوجاتی ہے ادرک معدہ اور دماغ کے لئے مقوی ہے بھوک کو بڑھاتا ہے حافظہ کی خرابی کو دور کرتا ہے۔ ادرک جسم سے غلیظ رطوبتوں کو نکالتا ہے۔دمہ کے مریضوں کو اس کے استعمال سے راحت ہوتی ہے ادرک پیس کر تیل میں ملا کر مالش کرنے سے پٹھوں کے درد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ادرک خون کی نالیوں پر جمی ہوئی چربی کی تہیں اتاردیتا ہے۔ یہ دل کے فعل کو مضبوط کر کے دوران خون میں سستی کی وجہ سے پیروں یا دوسرے مقامات پر جمع ہونے والے پانی کو نکال دیتا ہے۔ ادرک کھانے سے بواسیر میں کمی آتی ہے ادرک چبانے سے گلا صاف ہوجاتا ہے۔ادرک کے پانی میں شہد ملا کر دن میںبار بار چٹانے سے ذیابیطس کے مرض میں فائدہ ہوتا ہے۔ ادرک کا مربہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر ادرک کو صحیح ضرورت اور فائدے کے لئے استعمال کیا جائے تو یقینا بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں لیکن ادرک روزانہ اور مقدار سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔

گاجر کا رس

گاجر کا رس موزی امراض میں مفید
گاجرکو غریبوں کا سیب کہا جاتا ہے کیونکہ غذائی اعتبار سے یہ مہنگے ترین پھلوں کے بھی ہم پلہ ہے اور آئے دن گاجر اور اس کے رس کے طبی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گاجر کا رس دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ مل کر ان کا ذائقہ اور افادیت بڑھا دیتا ہے۔ گاجر کے جوس کے فوائد سے پہلے یہ جان لیجئے کہ اس میں کونسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔
ایک کپ گاجر کے رس میں 94 کلوکیلوریز غذائیت ہوتی ہے، جس میں سے 2.24 گرام پروٹین، 0.35 گرام چکنائی، 21.90 گرام کاربوہائیڈریٹس، 1.90 گرام فائبر، 689 ملی گرام پوٹاشیم، 20 ملی گرام وٹامن سی، 0.217 ملی گرام تھایامین، 0.512 ملی گرام وٹامن بی 6، 2,256 مائیکروگرام وٹامن اے، 36.6 مائیکروگرام وٹامن کے علاوہ دیگر اجزا پائے جاتے ہیں۔
گاجر کا رس غذائیت سے بھرپور تو ہوتا ہے لیکن یہ کئی خوفناک امراض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
معدے کا کینسر
گاجر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جن کی سرطان روکنے کی صلاحیت سے سب واقف ہیں، ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ گاجر کا رس معدے کے کینسر کو دور رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اگر مسلسل گاجریں کھائی جائیں تو معدے کے سرطان کے امکانات 26 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔
لیوکیمیا کا تدارک
ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ گاجر کا رس لیوکیما کے خلیات (سیلز) کو ختم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ بسا اوقات گاجر کا رس لیوکیما کے خلیات کو ازخود تباہ کردیتا ہے اور ان کے پھیلاؤ کو روکتا ہے البتہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
چھاتی کے سرطان سے بچائے
گاجروں میں کیروٹینوئیڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو چھاتی کے کینسر کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے علاوہ سائنسدان پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی، بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔
اس کےلیے ایک چھوٹا سا مطالعہ کیا گیا کہ خواتین کو تین ہفتوں تک روزانہ 8 اونس گاجر کا رس پلایا گیا۔ اس کے بعد جب ان خواتین کے خون کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کے خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار زیادہ تھی جب کہ آکسیڈیٹیو اسٹریس کی علامات کم تھیں جو کینسر کی وجہ بن سکتی ہیں۔
سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مفید
گاجر کا رس وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ سانس کے ایک مرض کرونک اوبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز(سی او پی ڈی) کی شدت کم کرتا ہے۔ اس ضمن میں کوریا میں 40 سال سے زائد عمر کے افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں سی او پی ڈی کا مرض تھا وہ کیروٹین سمیت پوٹاشیم، وٹامن اے اور وٹامن سی کا استعمال کم کررہے تھے اور ان میں سے سگریٹ پینے والے وہ افراد جو وٹامن سی کی مناسب مقدار کھارہے تھے ان میں سی او پی ڈی کا مرض بہت کم تھا۔
دیگر فوائد
گاجروں میں موجود وٹامن اے آنکھوں کےلیے نہایت مفید ہے۔ اس میں موجود ریشے (فائبر) خون میں کولیسٹرول کم کرتے ہیں اور وزن کو بھی قابو میں رکھتے ہیں

شلجم کے فوائد

شلجم سبزیوں کی ایک قسم ہے۔ جسے پکا کر بھی کھایا جاتا ہے اور کچی بھی استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ اس کا اچار بھی ڈالا جاتاہے۔ اسے سادہ حالت یعنی اکیلے شلجم یاپھر گوشت کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ اس کا اچار بہت لذیذ ہوتا ہے۔ شلجم میں قدرت نے بہت سے فوائد رکھے ہیں۔اس کی تین اقسام ہیں۔ گلابی،زرد اور سفید۔ اگر ان کا کیمائی تجزیہ کیا جائے تو شلجم میں پروٹین ، فاسفورس، کیلشیم اور وٹامن ایچ، سی اور فولاد پایا جاتا ہے۔ شلجم میں وتامن سی اتنی ہوتی ہے کہ اگر شلجم کو وٹامن سی کا خزانہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔شلجم کے پتوں میں بھی غذائیت پائی جاتی ہے اور ان میںوٹامن اے پایا جاتا ہے۔یہ سبزی ہر عمر کے ہر فرد کے لیے مفید ہوتی ہے۔ شلجم کو سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ شلجم کا استعمال ( خصوصاً بغیر گوشت کے ) پیٹ کے متعدد امراض کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ قبض کشا ہے اور معدے سے غلاظتوں کو نکال دیتا ہے۔یہ جسم کو طاقتور بناتا ہے اور بدن کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ جگر کو بھی طاقت دیتا ہے بلکہ یونانی طب کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ قدرت نے شلجم میں جگر کی پتھری کو توڑنے کی صلاحیت رکھی ہے۔شلجمخشک کھانسی میں بے حد مفید ہے۔نہ صرف نیاخون پیدا کرتا ہے بلکہ مصفی خون بھی ہے۔شلجم کا استعمال بصارت کومضبوط کرتا ہے۔بھوک بڑھاتا ہے۔ جلدی امراض میں اس کا کھانا مفید ہے۔ یہ دوا اور غذادونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شلجم کے بیج شلجم سے اپنے افعال میں زیادہ فائدے مند ہوتے ہیں۔شلجم کھانے والوں کو کمر درد، درد گردہ اور کمر میں درد کبھی نہیں ہوتا۔

احتیاط: شلجم بلغم پیدا کرتاہے۔ مگر نمک لگا کر کھانے سے یہ عارضہ نہیں ہوتا۔

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...