Ad3
27 دسمبر 2007بےنظیر بھٹو کا آخری دن ۔آخری تقریر۔آخری جلسہ۔
دسمبر 20 1971 بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر
26 اکتوبر 1945قیام جمعیت علمائے اسلام
23 اکتوبر 2011 بیگم نصرت بھٹو کی تاریخ وفات
20 اکتوبر 2016 سے 20 اکتوبر 2018
کہنے کو صرف 730 دن لیکن بہت کچھ بدل گیا ہے
20 اکتوبر 1972 کو نواز شریف پہلی مرتبہ باپ بنا تھا۔اس کے گھر پہلی اولاد ہوئی تھی لیکن 2016 کی 20 اکتوبر نواز شریف کے لئے جال کا پہلا پھندا ثابت ہوئی۔
20 اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ میں عمران خان کی پانامہ لیکس سے متعلق تحقیقات کے لئے دائر درخواست کی پہلی سماعت ہوئی تھی جس میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے تھے ۔اس سماعت کا خیر مقدم کیا تھا اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ۔
لیکن پھر اس کے بعد 6 ماہ کی جدوجہد کے بعد 20 اپریل 2017 کو پانامہ لیکس پر ابتدائی مٹھائی تقسیم کرنے والا انگریزی میں فیصلہ آیا جس کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنی جس میں پیشی پر مریم نواز شریف نے کہا تھا ۔
روک سکتے ہو تو روک لو۔
10 جولائی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی اور
28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے میاں محمد نواز شریف کو نااھل قرار دے دیا ۔
19 اکتوبر 2017 کو اس کیس کی پہلی سماعت کے ٹھیک ایک سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ریفرنسز میں میاں محمد نواز شریف ۔مریم صفدر پہ فرد جرم عائد کی گئی اور کیپٹن صفدر کو شریک جرم قرار دیا گیا ۔
میاں محمد شریف کے پوتے اور میاں محمد نواز شریف کے بیٹے اشتہاری قرار دیے گئے۔۔
06 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کو 10 سال قید بمعہ جرمانہ سنائی گئی۔جب کہ مریم نواز شریف کو 7 سال اور صفدر اعوان کو ایک سال قید۔
13 جولائی 2018 کو نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈال دیا گیا البتہ بعد میں سزا معطل کر دی گئی۔
25 جولائی 2018 کو عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی قومی پارٹی بن کر سامنے آئی۔
17 اگست 2018 کو عمران خان 176 ووٹ لے کر پاکستان کا 22 واں وزیر اعظم بنا۔
11 ستمبر 2018 کو نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز کا انتقال ہوا جس کی تدفین میں اس کی اشتہاری اولاد بھی شریک نہ ہوئی۔
05 اکتوبر 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور نواز شریف کے بھائی کو نیب نے آشیانہ کیس میں گرفتار کر لیا جو اب ضمانت پر رہا ہے۔
آج لندن میں اشتہاری حسین نواز اس حال میں اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہا ہے کہ اس کا باپ جیل میں اور بہن نیب حراست میں ہے اور دونوں پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور وہ پاکستان کی زمین پہ قدم نہیں رکھ سکتا ہے۔
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے۔
رہے نام اللہ کا۔
19 اکتوبر 2012 اصغر خان کیس
19 اکتوبر 2012 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کا مختصر فیصلہ جاری کیا جس کو بعد میں تفصیلی فیصلے کا حصہ بنا دیا گیا ۔یہ فیصلہ آج بھی عملدرآمد کا منتظر اپنی قبر سے آواز بلند کر رہا ہے ۔
اصغر خان کیس داستان ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان ایک شرمناک سودے بازی کی جہاں ضمیروں کے سودے کیے جاتے ہیں ۔ایک ایسی داستان جس کے ہر صفحے پر لکھا ہے ۔
کوئی شرم۔کوئی حیا۔
سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2012 کو اصغر خان کیس کا پہلے مختصر اور پھر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس کے تحت ایک مرتبہ پھر سابق صدر غلام اسحاق خان ،سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ ، سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے ایوان صدر میں سیاسی سیل کے قیام اور سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو رقوم دینے کی سرگرمیوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دونوں سابق جرنیلوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اس لئے ایوان صدر میں کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت کیلئے سرگرمیاں یا سیاسی سیل کا قیام غیر آئینی ہوتا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے 141صفحات پرمشتمل جاری کئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عہدوں اور اختیارات کا غلط ا ستعمال کیا اور حکم دیا کہ رقم دینے اور لینے والوں سے سود سمیت واپس لی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے سیاسی عمل کو آلودہ کیا گیا خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ ملکی سرحدود کا دفاع ہوتا ہے۔ صدر سربراہ مملکت ہوتا ہے اس لئے ایوان صدر میں کسی سیاسی سیل کا قیام غیر قانونی ہے اس حوالے سے افسران ایوان صدر کے غیر آئینی احکامات ماننے کے پابند نہیں ۔
فیصلے میں سابق وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ خان بابر کے بیانات، ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے جسٹس سجاد علی شاہ کو خط، جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور یونس حبیب کے بیانات بریگیڈئر ریٹائرڈ کمال عالم کی طرف سے رقوم کی تقسیم میں ملوث افسران کے ناموں اور بریگیڈئر ریٹائرڈ حامد سعید اصغر کے بیان اور ہاتھ سے تحریر کردہ ڈائری کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی نگرانی میں الیکشن سیل قائم کیا گیا جس کے لئے چودہ کروڑ روپے اکٹھے کئے گئے ایوان صدر کے سیاسی سیل نے امیدواروں کی مالی امداد کیلئے پالیسی مرتب کی اور چھ کروڑ روپے انتخابی مقاصد اور الیکشن انٹیلی جنس کے لئے استعمال کئے گئے جبکہ باقی آٹھ کروڑ روپے آئی ایس آئی کے خصوصی فنڈز کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔ فرینڈز اور اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے جمع کرانے کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں لیکن وزارت دفاع کے نمائندے کمانڈر حسین شہباز یہ نہیں بتا سکے کہ یہ رقم کہاں گئی؟ عدالت نے کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کو ختم کرکے لارجر بنچ تشکیل دینے کے بارے میں اٹارنی جنرل کے موقف کو مسترد کرنے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تاریخی طور پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ فوجی اور سول دونوں حکومتوں میں صدر کے عہدے کو سیاست میں ملوث کیا گیا جو آئین سے انحراف ہے اس سے پارلیمانی نظام کمزور ہوا اور ملک میں یہ نظام آئین کے مطابق پھل پھول نہ سکا۔ 1977ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک کو انارکی اور خون ریزی سے بچانے، ملکی سالمیت اور استحکام کے تحفظ اور متحارب گروپوں کو الگ کرنے کیلئے مداخلت کی یہ یقیناً ایک آئین سے ماوراء اقدام تھا لیکن اسے نظریۂ ضرورت اور عوام کی فلاح وبہبود کے طور پر قبول کیا گیا۔ عدالت نے جنرل پرویز مشرف کے اقدام کا بھی حوالہ دیا جسے سپریم کورٹ نے نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا جبکہ تین نومبر 2007ء کو لگائی گئی ایمرجنسی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جب آئینی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت کے سات رکنی بنچ نے اسی روز ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او لانے کیخلاف فیصلہ دیا تھا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فاضل اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ ایوان صدر میں آنے کے بعد صدر سروس آف پاکستان کا حصہ بن جاتا ہے لیکن صدر اور گورنروں کے عہدے اس فہرست میں نہیں آتے۔ 1956،1962 اور 1973ء کے دستوروں میں انہیں ملازمت کے مفہوم سے الگ رکھا گیا ہے کوئی بھی سرکاری ملازم سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا جبکہ صدر ایک مدت پوری کرنے کے بعد دوبارہ انتخاب لڑ سکتے ہیں صدر کے متعلقہ امور اور کردار کو آئین میں محدود کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو معافی کا اختیار حاصل ہے آرٹیکل 48 کے تحت وہ کابینہ کے مشورے کے تحت صدارتی اختیارات استعمال کرتا ہے آرٹیکل 56 کے تحت وہ پارلیمنٹ سے خطاب کرتا ہے اس طرح یہ بات اہم ہے کہ صدر کا آئینی عہدہ ملازمت کے عہدوں سے الگ ہے صدر سیاست میں ملوث نہیں ہوسکتا جیسا کہ اس کیس میں سابق صدر غلام اسحاق خان کے کردار کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ صدر کو سیاست سے نہیں روکا گیا ہم ان سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ وزیراعظم وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سروس آف پاکستان کی ذیل میں آتے ہیں صدر کا انتخاب بلاواسطہ جبکہ وزیراعظم اور دیگر کا براہ راست ہوتا ہے۔
فیصلے میں مسلح افواج کے کردار، آرمی ایکٹ، افواج پاکستان کے حلف اور دیگر امور پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ رقم لینے والوں کی فہرست بھی دی گئی ہے جو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنے حلف نامے کے ذریعے پیش کی تھی جس کے تحت: صوبہ سرحد سے میر افضل نے ایک کروڑ روپے، پنجاب سے نواز شریف نے 35لاکھ روپے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ رفاقت نے میڈیا کے لئے 56لاکھ روپے، جماعت اسلامی 50لاکھ روپے، عابدہ حسین 10لاکھ روپے، الطاف حسین قریشی اور مصطفی صادق 5 لاکھ روپے، سندھ سے غلام مصطفی جتوئی 50لاکھ روپے، جام صادق 50لاکھ روپے، محمد خان جونیجو 25لاکھ روپے، پیر پگاڑا 20لاکھ روپے، مولانا صلاح الدین 3لاکھ روپے جبکہ چھوٹے مختلف گروپوں نے 54 لاکھ روپے وصول کئے۔ بلوچستان سے ہمایوں مری نے 15لاکھ روپے، میر ظفر اللہ جمالی نے 40لاکھ روپے، کاکڑ نے 10لاکھ روپے، کے بلوچ نے 5لاکھ روپے، جام یوسف نے 7 لاکھ 50ہزار روپے،غوث بخش بزنجو نے 5لاکھ روپے، ندیم مینگل نے 10لاکھ روپے وصول کئے۔فیصلے کے مطابق: 67لاکھ 20ہزار روپے جی ایچ کیو ویلفیئر فنڈز میں منتقل کئے گئے،3کروڑ روپے جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر فرینڈز کو دیئے گئے،2کروڑ روپے پنجاب اور 2کروڑ روپے سرحد میں دیئے گئے، سندھ میں تمام ادائیگیاں لیفٹیننٹ کرنل میر اکبر علی خان کے ذریعے دی گئیں۔ جنرل بیگ کی ہدایت پر 6 سے 8 اکاؤنٹ کھولے گئے جن میں یونس حبیب نے 14کروڑ روپے جمع کرائے۔ یونس حبیب کے بیان کے مطابق: جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کو 14کروڑ روپے، جام صادق علی کو 7کروڑ روپے اور جاوید ہاشمی وغیرہ کیلئے یوسف میمن کو 5کروڑ روپے دیئے گئے ۔
عدالت نے کیس کا مختصر فیصلہ 19اکتوبر 2012کو سنایا تھا جسے اس تفصیلی فیصلے کا بھی حصہ بنایا گیاہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے کی تھی۔
15 اکتوبر 1999 جب اسحاق ڈار کو مشرف نے گرفتار کیا
15 اکتوبر 1999
جب اسحاق ڈار کو مشرف نے گرفتار کیا اور پھر مفاد پرستی کی ایک داستان رقم ہوئی۔
یہ داستان ہے موقع پرستی اور مالی بدعنوانی کے اس سپر اسٹار کی جسے حسن نثار منی لانڈرنگ کا بڑے غلام علی کہتے ہیں ۔
اسحاق ڈار کو 15 اکتوبر 1999 میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ ایک سال سے زائد عرصہ فوج کی تحویل میں رہے۔
اس قید کے دوران حدیبیہ پیپرز ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا جبکہ حتمی ریفرنس 16 نومبر 2000 کو بنایا گیا۔
اسحاق ڈار نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں بطور وعدہ معاف گواہ 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا جس میں اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا۔اعترافی بیان 43 صفحات پہ مشتمل ہے جس کے 5 صفحات کی نقل ابتدائی کمنٹس، میں موجود ہے ۔
حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کیا ہے ۔چلیں بتاتے ہیں ۔
پانامہ کیس میں حدیبیہ پیپرز ملز کافی زیربحث رہا جبکہ مختلف اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں صرف وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان اور اس کیس کے شریف خاندان پر اثرات ہی موضوع بحث رہے مگر بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ حدیبیہ پیپرز ملز بنیادی طور پر ہے کیا.
حدیبیہ پیپرز ملز نامی کمپنی شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی ۔ اس کمپنی کے سات ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر ہیں ۔
مذکورہ کمپنی آرڈیننس کے تحت ملز کا 30 جون 1998 میں آڈٹ ہونا تھا ۔کمپنی کے دو ڈائریکٹرز میاں عباس شریف اور صبیحہ عباس کے دستخط کردہ سال 1998 کی بیلنس شیٹ آڈٹ کے لیے پیش کی گئی۔ بیلنس شیٹ میں 612.273ملین کی اضافی رقم شیئر ڈیپازٹ کی مد میں منکشف ہوئی جبکہ اس رقم سے قبل بھی 30.469 ملین روپے بیلنس شیٹ میں موجود تھی جس کی کوئی وضاحت شریف خاندان کے پاس نہیں تھی۔ دونوں رقوم کو ملا کر کل رقم 642.743 ملین روپے بنتی ہے ۔ اسی بیلنس شیٹ میں التوفیق سے سرمایہ کاری کے لیے قرضے اور پھر لندن میں مقدمے کا بھی انکشاف ہوا جس کی تفسیلات آڈیٹر کو فراہم نہیں کی گئیں۔
معاملہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجا گیا اور تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی زرائع سے حاصل کی جانے والی رقم کو فارن ایکوٹی انوسٹمنٹ کے لبادہ میں قانونی ظاہر کیا گیا۔ مذکورہ رقوم غیر ملکی اکاونٹس سے بھجوائی جاتی رہیں.وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے غیر ملکی جعلی اکاونٹس کهولے اور انہوں نے قاضی خاندان جس نے برطانیہ میں اسحاق ڈار کی تعلیم اور رہائش کے اخراجات برداشت کیے کو ہی دهوکہ دے کر خاندان کے افراد کے نام پر رقوم کی منتقلی کی۔غیر ملکی جعلی اکاونٹس صدیقہ سید، سکندرہ مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضیاور طلعت مسعود قاضی نام سے 1992 میں کھلوائے گئے تھے جبکہ مذکورہ خاندان کو ان اکاﺅنٹس کا علم ہی نہ تھا۔
اس کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اور نواز شریف کے دست راست اسحاق ڈار نے عدالت کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا اور نہ صرف مزکورہ بالا چار اکاونٹس کھلوائے بلکہ کئی دیگر اکاﺅنٹس بھی کھلوائے جن میں ڈار کے قریبی ساتھی، نواز شریف کے ملازمین اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں اور نیشنل بینک کے صدر کا منی لانڈرنگ میں تعاون رہا۔
نیب کے ریفرنس کے مطابق ان اکاﺅنٹس کو کھلوانے کا مقصد Protection of Economic Reforms Act 1992 کے تحت کالا دھن سفید کرنا تھا۔ اسحاق ڈار نے 90 کی دہائی میں 1 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی تاہم وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ کالا دہن صرف 642.743 ملین روپے پر ہی نہیں رکتا۔ التوفیق نامی کمپنی نے 1998 میں لندن کی عدالت میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ کیا اور فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آیا مگر شریف خاندان نے التوفیق کمپنی کو 8.700 ملین ڈالرز دیکر آﺅٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی ۔حدیببیہ پیپرزملز سکینڈل میں 1242 .732 ملین روپے معلوم آمدنی کے زرائع سے غیر متناسب ہے ۔ مذکورہ ریفرنس اس بناء پر داخل دفتر ہوا تھا کہ شریف خاندان جنہیں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تھا بیرون ملک تھے۔
ملزمان نے 2011 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ ریفرنس ختم کیا جائے اور دوبارہ تحقیقات نہ کرائی جائیں
3 دسمبر 2012 کو اس ریفرنس کو لاھور ہائی کورٹ کے دو ججز نے ختم کیا اور دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا تو ریفری جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس دوبارہ تحقیقات کے لیے نہیں کهولا جا سکتا
10 جولائی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد عملدرآمد بینچ کے روبرو 21جولائی 2017 کو نیب حکام نے پیش ہو کر آگاہ کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر مشاورت کر رہے ہیں مگر نیب حکام نے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا.
شیخ رشید نے سپریم کورٹ میں نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی جسے پانچ رکنی بینچ نے شریف خاندان کی پانامہ فیصلے پر نظرثانی درخواست میں سنا تاہم اس سے ایک روز قبل ہی 14ستمبر2017کو نیب نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائےگی اور 20ستمبر 2017 کو نیب نے سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے ریفری جج کا دوبارہ تحقیقات نہ کرانے کا فیصلہ چیلنج کیا.
ڈیڑھ ماہ بعد یعنی 10 نومبر 2017ء کو اپیل کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔ 13 نومبر 2017 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ نے سماعت کی تو جسٹس کھوسہ نے بینچ کی سربراہی سے معذرت کرلی۔
11 دسمبر 2017 کو جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ نے نیب کی اپیل مسترد کر دی۔
اس فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جسے 29 اکتوبر 2018 کو عدالت نے ایک بار پھر مسترد کر دیا جس کے بعد حدیبیہ پیپر ملز کیس ختم ہو گیا
14 اکتوبر 1980 جب جمعیت علماء اسلام دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی تھی۔
مولانا مفتی محمود جمعیت علما اسلام کے جنرل سیکرٹری تھے .جب کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی تھے ....اس وقت ڈپٹی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمہ اللہ تھے...
14 اکتوبر 1980 کو مفتی محمود کی وفات کے بعد امیر مکرم مولانا عبداللہ درخواستی نے مخزن العلوم خانپور میں جمعیت علما اسلام کا اجلاس طلب کیا اور مولانا عبیداللہ انور کو ناظم عمومی بنادیا کیونکہ وہ پہلے سے ڈپٹی سیرٹری جنرل تھے جبکہ جمعیت کے دستور کا بھی یہی تقاضا تھا...
اس کے ساتھ مفتی محمود کے جواں سال بیٹے مولانا فضل الرحمن کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنا دیا اور فرمایا کہ بیٹا...تم ابھی کم عمر ہو ...وقت آئے گا آپ کو جماعت کا بڑا عہدہ دیا جائے گا ابھی آپ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کرو....
یہ سن کر مولانا فضل الرحمن کی نتھنے پھولنے لگے وہ اٹھا اور مدرسے کے دوسرے کمرے میں اپنے چند ہمخیال رفقا کو لےکر الگ سے اجلاس کرنے لگا...جس میں اس نے مولانا عبدالکریم بیر شریف کو امیر بنادیا اور خود جنرل سیکرٹری بن گئے..
اس دوران مولانا زاہد الراشدی سمیت سینئر ساتھیوں نے بے حد کوشش کی اور انہیں اس حرکت سے باز رکھنے کے بہت جتن کیئے مگر مولانا فضل الرحمن نہیں مان رہا تھے ...
اور یوں جمعیت علماء اسلام کی متحدہ قوت کو دولخت کردیا..... نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی تحریک چلانے کا اعلان اس نے اپنا دھڑا الگ کرنے کے بعد کیا....
آج بھی آپ دیکھ لیں۔جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے کلیدی عہدوں پر آل مفتی محمود فائز ہے۔
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...