Ad3

Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

27 دسمبر 2007بےنظیر بھٹو کا آخری دن ۔آخری تقریر۔آخری جلسہ۔

بھٹو کی بیٹی جو دو بار اقتدار میں آئی لیکن عوام کے لئے کچھ نہیں کیا ۔کسی ایک ادارے کو بہتر نہیں بنایا۔

بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 2 دسمبر 1988ء کو پاکستان کی وزیراعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خاننے بےپناہ بدعنوانی کے باعث اپنے خصوصی اختیارت کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو ختم کرتے ہوئے نئے الیکشن کروائے۔

بےنظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بےنظیربھٹو21 جون، 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں

بےنظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم لیڈی جیننگز نرسری اسکول (Lady Jennings Nursery School) اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری (Convent of Jesus and Mary)کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال راولپنڈی پریزنٹیشن کونونٹ (Rawalpindi Presentation Convent) میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے جیسس اینڈ میری میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969ء میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے Radcliffe College میں داخلہ لیا۔ بے نظیر بھٹو نےہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University) سے 1973ء میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ اکسفورڈ یونیورسٹی میں دیگر طلبا کے درمیان کافی
 مقبول رہیں۔

بےنظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد حالات کی خرابی کی بنا پر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازع کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ 1981ء میں مارشل لاکے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف 14 اگست، 1983ء سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر 1983ء میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ 1984ء میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لا اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل 1986ء میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو 1987ء میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جِدوجُہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ 17 اگست، 1988ء میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست، 1990ءمیں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر،1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے5 نومبر  1996ء کو بدامنی اور بد عنوانی,کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب 14 مئی2006ء میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب 28 جولائی2007ء کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18 اکتوبر 2007  کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 250 کو موت کی نیند سو گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو بحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔

27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔
۔۔بے نظیر کی مبینہ وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔جب کہ حقیقت میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا قبضہ ہو گیا اور پھر جس پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک آمر نہیں ختم کر سکا تھا وہ 5 سال میں اندرون سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ۔

رہے نام مولا کا۔

دسمبر 20 1971 بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر

جب پاکستان کے پہلے اور اب تک کے آخری سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے سول حیثیت میں اپنا عہدہ سنبھالا جب کہ وہ 81 نشستوں پہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے والا ایک جمہوری سیاست دان تھا۔

ذولفقار علی بھٹو ۔
پاکستان کا چوتھا صدر اور پہلا سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا بانی اور چئیرمین ۔قائد عوام جو کبھی فوجی آمر کو ڈیڈی کہا کرتا تھا ۔

20 دسمبر 1971ء کو صبح پونے گیارہ بجے پی آئی اے کا ایک طیارہ اسلام آباد ایر پورٹ پر اترا۔ اس طیارے میں ذوالفقار علی بھٹو وطن واپس پہنچے۔ وہ ایرپورٹ سے سیدھے ایوان صدر پہنچے جہاں انہوں نے دو گھنٹے تک یحییٰ خان سے مذاکرات کیے‘ شام ساڑھے چار بجے وہ ایوان صدر سے واپس نکلے تو ان کی کار پر صدر پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یحییٰ‘ بھٹو مذاکرات کے بعد‘ یحییٰ خان عہدہ صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دونوں عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔

غلام اسحق خان نے انتقال اقتدار کی رسوم ادا کیں اور ذوالفقار علی بھٹو نے صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘ دونوں عہدے سنبھال لیے۔

حلف اٹھانے کے بعد رات دس بجے صدر بھٹو نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا ’’ہم اپنی زندگی کے بدترین بحران سے دوچار ہیں‘ ہمیں ٹکڑے جمع کرنے ہیں‘ بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے‘ ہم نیا پاکستان بنائیں گے‘ ایک ایسا پاکستان جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔‘‘ اپنے اس خطاب میں انہوں نے مشرقی پاکستان سے مصالحت‘ سماجی اور اقتصادی انصاف کی ضرورت‘ بیرونی ممالک سے پاکستانی سرمائے کی واپسی‘ عوامی اصلاحات اور نیشنل عوامی پارٹی پر سے پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اسی تقریر میں انہوں نے سابق صدر یحییٰ خان کے ساتھ ساتھ جنرل عبدالحمید خان‘ جنرل ایم ایم پیرزادہ‘ میجر جنرل عمر‘ میجر جنرل خداداد خان‘ میجر جنرل کیانی اور میجر جنرل مٹھا کو فوج سے سبکدوش کرنے اور لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو بری فوج کا قائم مقام کمانڈر انچیف مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

اسی تقریر میں انہوں نے شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے زمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

21 دسمبر 1971 کو بھٹو نے مختلف عہدوں پر تقرریاں کیں۔ انتقال اقتدار کے منتظم غلام اسحق خان‘ شاکر اللہ درانی کی جگہ اسٹیٹ بنک کے گورنر بنا دیے گئے۔ غلام مصطفی کھر کو پنجاب کا‘ ممتاز بھٹو کو سندھ کا، حیات محمد خان شیر پائو کو سرحد کا اور سردار غوث بخش رئیسانی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا اور نور الامین نائب صدر کے عہدے پر فائز کردئیے گئے۔

23 دسمبر 1971ء کو صدر ذوالفقار علی بھٹو کی 10 رکنی کابینہ کے وزرا نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے۔ ان وزرا میں جے اے رحیم‘ میاں محمود علی قصوری‘ جسٹس فیض اللہ کندی‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ غلام مصطفی جتوئی‘ ملک معراج خالد‘ شیخ محمد رشید‘ رانا محمد حنیف‘ عبدالحفیظ پیرزادہ اور راجہ تری دیو رائے شامل تھے۔

26 دسمبر 1971 کو بھٹو حکومت نے چیف جسٹس حمود الرحمان ، جسٹس انوار الحق ، جسٹس طفیل علی عبدالرحمان اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ الطاف قادر پر مشتمل حمود الرحمان کمیشن بنایا جس نے تین سو سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد پہلی رپورٹ 1972 میں اور دوسری رپورٹ 1974 میں پیش کی

29 دسمبر 1971کو غوث بخش رئیسانی صوبہ بلوچستان کے گورنر مقرر کردیے گئے۔

8 جنوری 1972 کو بھٹو حکومت نے جنرل یحییٰ خان( جو سقوطِ مشرقی پاکستان کے وقت بیک وقت صدر، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، وزیرِ دفاع و خارجہ تھے) کو گھر میں نظربند کر دیا ۔

نور الامین اور راجہ تری دیو رائے وہ دو ارکان اسمبلی تھے جو مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے رکن تھے اور عوامی لیگ کے ٹکٹ پر نہیں منتخب ہوئے تھے ورنہ مشرقی پاکستان کی 162 سیٹوں میں سے 160 پہ عوامی لیگ کامیاب ہوئی تھی ۔

ذولفقار علی بھٹو 21 اپریل 1972 تک سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر رہے۔14اپریل1972 کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ 17اپریل 1972 کو عبوری آئین کی منظوری کے ساتھ 21اپریل 1972 کوعبوری آئین کا نفاذ عمل میں آیا اور مارشل لا اٹھا لیا گیا۔

ذولفقار علی بھٹو 13 اگست 1973 تک پاکستان کے صدر مملکت رہے۔21اپریل1971 کو قومی اسمبلی نے 25ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی مقررکی ۔ اس نے یکم اگست 1972 تک آئین تیار کرنا تھا۔ پھر اس معیاد میں 31دسمبر 1972 تک توسیع کر دی گئی۔ اس کمیٹی نے 2 فروری1973 کو آئین کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ 19 اکتوبر1972 تک پارلیمانی رہنماﺅں میں اہم آئینی امور پر سمجھوتہ ہو گیا تھا مگر پھراختلافات پیدا ہو گئے۔ فروری سے مارچ 1973 تک کشیدگی اتنی بڑھی کہ حزبِ اختلاف نے 24مارچ 1973 سے آئین سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم ،اپریل 1973 میں حزبِ اختلاف کی ترمیمات منظور کر لی گئیں اور بائیکاٹ ختم ہوگیا۔ 10اپریل 1973 کو قومی اسمبلی نے اور 12 اپریل 1973 کو صدرمملکت ذولفقار علی بھٹو نے آئین کی منظوری دی۔ 14اگست1973 کو یہ پانچواں آئین نافذ ہو گیا۔اسی دن ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا ۔

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے۔۔

26 اکتوبر 1945قیام جمعیت علمائے اسلام

محمد علی پارک کلکتہ
آل انڈیا جمعیت علماء کانفرنس 
500 سے زائد علماء و مشائخ کی شرکت۔
مولانا ظفر احمد عثمانی کی قرارداد پر جمعیت علمائے ھند سے الگ سیاسی جماعت بنانے کا اعلان اور مولانا شبیر احمد عثمانی پہلے صدر مقرر ہوئے۔مولانا ظفر احمد عثمانی پہلے نائب صدر بنے۔

27 نومبر 1945 کو ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ الیکشن کے زریعے ہونا تھا۔جمعیت علماء ھند متحدہ ھندوستان کے نظریے کے ساتھ کانگریس کی حمایت میں سرگرم عمل تھی۔مفتی محمد شفیع کی حمایت کے ساتھ مولانا ظفر احمد عثمانی نے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے فتوے کی روشنی میں محمد علی پارک کلکتہ میں آل انڈیا جمعیت علماء کانفرنس کا فیصلہ کیا۔25 سے 28 اکتوبر 1945 تک چار روزہ کانفرنس میں جمعیت علمائے ھند کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے نہ صرف الگ جماعت بنانے کا اعلان کیا بلکہ کانگریس کو ووٹ دینے کے خلاف فتوی جاری کر دیا ۔
یہ زمانہ تحریک پاکستان کا سب سے نازک دور تھا۔نسلوں کا مستقبل داؤ پہ لگا تھا۔جمعیت علماء ھند۔احرار۔خدائی خدمت گار سب اپنی اپنی وجوہات کی بناء پہ کانگریس کے موقف کی تائید کر رہے تھے ۔جماعت اسلامی نے الکیشن میں عدم شمولیت سے ایک طرح سے کانگریس کی مدد کر دی تھی۔
پھر دنیا نے دیکھا کہ نہ مولانا حسین احمد مدنی کی سیادت کام آئی نہ مولانا ابوالکلام آزاد کی جادو بیانی نے اثر کیا ۔نہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر انگیز خطابت نے رنگ جمایا اور نہ ہی مفتی اعظم ھند مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کے فتووں کو کسی نے درخور اعتنا سمجھا۔
آل انڈیا مسلم لیگ ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کے طور پہ الیکشن میں فاتح قرار پائی۔
تاریخ تھی 27 نومبر 1945.

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو جمعیۃ علماء اسلام کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا جبکہ ان کے ساتھ مولانا راغب احسنؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا غلام مرشدؒ ، مولانا محمد شفیعؒ اور مولانا اطہر علیؒ آف ڈھاکہ جیسے سرکردہ علمائے کرام اس میں شامل تھے۔ حتیٰ کہ جب صوبہ سرحد اور سلہٹ کے علاقہ کو پاکستان میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر ریفرنڈم کا فیصلہ کیا گیا تو سرحد میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور پیر صاحبؒ آف مانکی شریف، جبکہ سلہٹ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے عوامی رابطہ کی منظم مہم چلا کر علماء اور عوام کو پاکستان کی حمایت کے لیے آمادہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں جگہ مسلم لیگ نے ریفرنڈم جیت لیا۔ اور انہی خدمات کے اعتراف کے طور پر قائد اعظم مرحوم نے کراچی میں قیام پاکستان کے موقع پر پہلا پرچم لہرانے کے لیے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کا انتخاب کیا۔

قیام پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر جمعیۃ علماء اسلام کے امیر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اسلامی دستور کی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں وہ قرارداد مقاصد منظور کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اورا س طرح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اقرار اور قرآن و سنت کی دستوری و قانونی عملداری کے اس عہد کے ساتھ پاکستان دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست کی حیثیت اختیار کر گیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام ایک فعال جماعت کے طور پر متحرک نہ رہی۔ البتہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ ، حضرت مولانا مفتی محمود حسن امرتسریؒ ، حضرت مولانا اطہر علیؒ ، حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ ، حضرت مولانا متین خطیبؒ ، اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ جیسے اکابر علماء نے وقتاً فوقتاً اس پلیٹ فارم سے دستور اسلامی کے نفاذ اور دیگر دینی مقاصد کے لیے سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

1956ء میں ملک کے پہلے دستور کے نفاذ کے بعد اس بات کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ جمعیۃ علماء اسلام کو ازسرنو منظم و فعال بنایا جائے اور عوامی سطح پر اس کی تنظیم نو کی جائے۔ چنانچہ 1957ء میں ملتان میں مغربی پاکستان کی سطح پر علماء کرام کا ایک قومی کنونشن طلب کر کے ’’جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان‘‘ کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو امیر منتخب کیا گیا جن کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ نائب امیر چنے گئے، جبکہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اس نئی ٹیم نے ملک بھر میں ازسرنو رابطے اور دورے کر کے ہر سطح پر جمعیۃ علماء اسلام کے حلقے اور شاخیں قائم کر دیں اور علماء کرام کو ملک کے ہر خطہ میں عملی سیاست میں سرگرم حصہ لینے کے لیے تیار کیا۔

1958ء کے مارشل لاء کے بعد صدر محمد ایوب خان مرحوم نے 1962ء میں پہلے عام انتخابات کرائے تو حضرت مولانا مفتی محمودؒ ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے مانسہرہ سے مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت کا الیکشن جیتا۔ اس طرح ان دو ایوانوں میں جمعیۃ علماء اسلام کی موثر نمائندگی کے باعث عوامی حلقوں میں جمعیۃ علماء اسلام مسلسل اپنے اثر و رسوخ اور تعارف میں اضافہ کرتی گئی۔ قومی اسمبلی کے ڈھاکہ میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کے دور میں مولانا مفتی محمودؒ کا مشرقی پاکستان کے علماء سے رابطہ قائم ہوا، اس کے بعد مشرقی پاکستان میں بھی جمعیۃ علماء اسلام قائم ہوگئی جس کا امیر پیر صاحب مرحوم کو چنا گیا۔ جبکہ دونوں صوبوں کو ملا کر مرکزی سطح پر جمعیۃ علماء اسلام قائم کی گئی جس کے امیر حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا مفتی محمودؒ چنے گئے۔ مغربی پاکستان میں جمعیۃ کا امیر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو منتخب کیا گیا۔

1970ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء اسلام نے بھرپور حصہ لیا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں 7، سرحد اسمبلی میں 6، بلوچستان میں 3 نشستیں جمعیۃ کے پاس تھیں۔ سرحد میں جمعیۃ نے نیشنل عوامی پارٹی کے تعاون سے صوبائی وزارت قائم کی جس کے سربراہ مولانا مفتی محمودؒ تھے جنہوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دس ماہ تک حکومت کی۔ بلوچستان میں بھی جمعیۃ سردار عطاء اللہ مینگل کی وزارت میں شریک تھی۔ جبکہ قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا جس کا سربراہ خان عبد الولی خان مرحوم کو منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بھٹو حکومت کے دور میں خان عبد الولی خان کی گرفتاری اور ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دینے پر مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور انہیں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کا قائد چن لیا گیا۔

اس مرحلہ پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اختلافات کی بناء پر جمعیۃ کا الگ دھڑا قائم کر لیا جو ان کی وفات تک موجود و متحرک رہا۔ جبکہ قومی اسمبلی میں جمعیۃ کے دونوں دھڑوں کے ارکان نے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے دوسری جماعتوں کے علماء کے ہمراہ سرگرم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں دستور میں اسلامی دفعات شامل ہوئیں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

1977ء میں بھٹو حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نام سے ایک متحدہ محاذ قائم کیا تو اس کا سربراہ مولانا مفتی محمودؒ کو منتخب کیا گیا جنہوں نے انتخابی مہم اور اس کے بعد احتجاجی تحریک کی قیادت کی اور ملکی و عالمی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ احتجاجی تحریک بعد میں ’’تحریک نظام مصطفیٰ‘‘ کا عنوان اختیار کر گئی تھی۔

تحریک نظام مصطفیٰ کے نتیجے میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے مارشل لاء نافذ کر کے اسلام کا نظام ملک میں رائج کرنے کا اعلان کیا تو مولانا مفتی محمودؒ نے تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور ملک بھر میں نفاذ اسلام کے اقدامات کی حمایت میں دورے کر کے جنرل ضیاء الحق مرحوم کو بتایا کہ عوام اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی محمودؒ نے ضیاء الحق کابینہ میں شمولیت بھی اختیار کر لی اور جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے میر صادق کھوسہ، حاجی محمد زمان خان اچکزئی اور حاجی فقیر احمد خان جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہوئے۔ لیکن جب اتنی بھرپور حمایت و تعاون کے باوجود مولانا مفتی محمودؒ جنرل ضیاء الحق کو ملک میں عملاً نفاذ اسلام کے لیے تیار نہ کر سکے اور بات زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھی تو مفتی صاحبؒ نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے خلاف عوامی جدوجہد منظم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر ابھی وہ اس کی ابتدائی تیاریوں میں تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ حج کے لیے جاتے ہوئے کراچی میں انتقال کر گئے، ۔
مفتی محمود کے انتقال کے بعد جمعیت علمائے اسلام دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔
مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں ایک گروپ نے ضیاء الحق کی حمایت کی اور مولانا سمیع الحق مارشل لاء کی مجلس شوریٰ کے رکن بنے۔جب کہ مولانا فضل الرحمن مارشل لا کی مخالفت میں جیل کاٹ رہے تھے ۔1984 میں ایم آر ڈی کی تحریک میں مولانا فضل الرحمن گروپ نے حصہ لیا تھا ۔

مولانا مفتی محمود ؒکے بعد 1984ء سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام تاحال اپنا کردار اداء کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے 1988ء سے آج تک پاکستان کی پارلیمنٹ میں اپنا جمہوری، آئینی، پارلیمانی کردار ادا کر رہی ہے۔ 1988ء سے آج تک جمعیت علماء اسلام پاکستان کی سیاسی منظر پر سب سے بڑی سیاسی، مذہبی جماعت ہے۔ 

2002 میں مولانا فضل الرحمن قائد حزب اختلاف تھے جب کہ خیبر پختونخواہ میں وہ حکومت میں تھے۔

2008 میں وہ وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے اتحادی تھے اور 2008 میں ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے اور مسلسل 10 سال تک چئیرمین رہے۔

2013 میں وفاق میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے اتحادی بنے جب کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی مولانا عطا الرحمان تھے۔جب کہ سینٹ میں نائب چیئرمین جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری تھے۔

2018 میں جمعیت علماء اسلام نے متحدہ مجلس عمل کے اتحاد تلے الیکشن میں حصہ لیا اور اس کے قائد فضل الرحمن اپنی آبائی شہر سے بھی دونوں سیٹ ہار گئے

جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی)  گروپ بلوچستان تک محدود سیاسی جماعت تھی جو جمعیت علماۓاسلام(فضل الرحمان) سے بعض اختلافات کے سبب علیحدہ ہواتھا جو افغان طالبان کی بھر پور حمایت اورپاکستان کے علاقے سوات ، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں طالبان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرتی تھا۔ یہ جماعت بلوچستان کے بعض علاقوں‌ میں فعال تھی۔
یہ جماعت 2008ء میں اس وقت وجود میں‌آئی جب عام انتخابات ہو رہے تھے۔ اس دوران جمعیت علمائے اسلام نظریاتی نے صوبے بھر میں جمعیت فضل الرحمن گروپ کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ ژوب سے قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت فضل الرحمن گروپ کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کو جمعیت نظریاتی کی قیادت کرنے والے عصمت اللہ نے شکست دی جبکہ ژوب ہی سے نظریاتی کے امیدوار عبد الخالق بشر دوست نے مخالف گروپ کے امیدوار کو شکست دی اور صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اور 2008 کی  بلوچستان کابینہ میں وزیر بلدیات کی حیثیت سے شامل تھے جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اہم رہنماؤں میں  عبدالقادر لونی، عبدالستار چشتی اور دیگر شامل تھے۔جمعرات 14 جنوری 2016ء کو جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) سے دوبارہ انضمام کی مشروط منظوری دی۔

جمعیت علماء اسلام کے اہداف ان کے منشور کے مطابق کچھ اس طرح سے ہیں ۔

1. مملکت پاکستان کی عوام کے ایمان اور عقیدے کا تحفظ۔ 

2. مسلمانوں کی منتشر قوت کو جمع کر کے علماء کرام کی رہنمائی میں اقامت دین اور اشاعت اسلام کے لئے پر امن جد و جہد کرنا۔

 3. شعائر اسلام اور مرکز اسلام یعنی حرمین شریفین کا تحفظ، پاکستان میں موجود مختلف اسلامی اداروں بشمول دینی مدارس، مسجد، دار الیتامی، مکتبات کی حفاظت کرنا۔

 4. قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں میں سیاسی، اقتصادی، معاشی، اور مذہبی اور ملکی انتظامات میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا، اور اس کے مطابق مثبت عملی جد و جہد کرنا۔

 5. پاکستان میں اسلامی عادلانہ نظام حکومت کے نفاذ کے لئے کوشش کرنا۔

 6. پاکستان میں جامع و عالمگیر نظام تعلیم کی ترویج و ترقی کے لئے کوشش کرنا، جو پاکستانی عوام کے ایمان اور عقیدے کے موافق ہو، دینی اقدار اور اسلامی نظام کا تحفظ کرنا۔

 7. پاکستان کے موجودہ آئین کو تحفظ دینا، اور خلاف اسلام قوانین کو اسلام کے موافق کرنا، اور کسی بھی غیر اسلامی قانون سازی کو بننے کے راستے میں رکاوٹ بننا۔

 8. پاکستان کی حدود میں تقریر و تحریر و دیگر آئینی ذرائع سے باطل فتنوں کی فتنہ انگیزی، مخرب اخلاق اور خلاف اسلام کاموں کی روک تھام کرنا۔ 

9. مسلمانان عالم خصوصا پڑوسی اور قریبی اسلامی ممالک کے ساتھ مستحکم اور برادرانہ روابط استوار کرنا۔

 10. تمام دنیا کے ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعقات قائم کرنا۔

23 اکتوبر 2011 بیگم نصرت بھٹو کی تاریخ وفات

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

ایک وقت تھا کہ نصرت بھٹو کی خوش لباسی اور قسمت کی مثالیں دی جاتی تھیں اور پھر قدرت نے  اسے  پہلے شوھر  کی پھانسی دیکھائی۔پھر چھوٹے بیٹے کی لاش ملی ۔پھر قدرت نے بڑی بیٹی کی حکومت میں بڑے بیٹے کا چھلنی بدن سامنے لا سجایا۔یہاں تک کہ اسے بڑی بیٹی کی لاش پہ ماتم کا موقع بھی دیا گیا۔
ایک عورت ایک ماں  پاگل نہ ہوجاتی تو اور کیا ہوتی۔یہ الگ بات ہے کہ لوگ اسے الزائمر کی بیماری کہتے ہیں ۔

بیگم نصرت بھٹو 23 مارچ 1929 ء کو ملک ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہو ئیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی کرد تھیں اور ان کا سلسلہ نسب عظیم مسلم ہیرو صلاح الدین ایوبی سے جا ملتا ہے۔ نصرت بھٹو بچپن ہی سے نڈر، بے باک اور جذبہ رحم دلی سے بھرپور رہی ہیں، جس نے انہیں ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔ بیگم بھٹو ایک دولت مند کاروباری، ایرانی خاندان میں پیدا ہوئیں جن کے آباؤ اجداد نے کراچی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ تقسیم ہند کے وقت ان کا کاروبار پورے برصغیر میں پھیلا ہوا تھا۔ کراچی ہی میں انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں شریک حیات ملا۔ 8 ستمبر  1951 ء کو وہ جناب ذوالفقار علی بھٹو سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں ۔ ان کے ہاں دو بیٹیاں بے نظیر بھٹو، صنم بھٹو اور دو بیٹے  مرتضی بھٹواور شاہنواز بھٹو پیدا ہوئے۔ 

پاکستان کے پہلے فعال وزیر خارجہ کی بیگم ہونے کے ناتے انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ دور دراز کا سفر کیا اور ان کے ساتھ کئی تقریبات کی میزبانی بھی کی۔جب ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم بنے تو بیگم نصرت بھٹونے ملک کی خاتون اول کا منصب بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی معزولی کے بعد جب انہیں قید و بند کی صعوبت برداشت کرنی پڑی  تو انہوں نے نصرت کو اپنی غیر موجودگی میں پارٹی کا چیئرپرسن نامزد کیا۔جناب ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد انہوں نے جنرل ضیاالحق کے ہاتھوں پیش آنے والی مشکلات کا بڑی استقامت اور حوصلے سے مقابلہ کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا۔ بیگم نصرت بھٹو 4 اپریل 1979 سے 10 جنوری 1984 تک پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئر پرسن رہیں۔

بیگم نصرت بھٹو  چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اس کے علاوہ وہ اپنی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر بھی رہیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز بھی حاصل کئے۔ 

23 اکتوبر 2011ء کو وہ ایک طویل علالت کے بعد دبئی میں وفات پاگئیں ا ور گڑھی خدا بخش میں اپنے عظیم شوہر کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئیں۔ حکومت پاکستان نے ملک اور جمہوریت کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ملک کا اعلیٰ شہری اعزاز ’’نشان امتیاز‘‘ اور مادر جمہوریت کے خطاب سے نوازا تھا۔

20 اکتوبر 2016 سے 20 اکتوبر 2018

کہنے کو صرف 730 دن لیکن بہت کچھ بدل گیا ہے 
20 اکتوبر 1972  کو نواز شریف پہلی مرتبہ باپ بنا تھا۔اس کے گھر پہلی اولاد ہوئی تھی لیکن 2016 کی 20 اکتوبر نواز شریف کے لئے جال کا پہلا پھندا ثابت ہوئی۔
20 اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ میں عمران خان کی پانامہ لیکس سے متعلق تحقیقات کے لئے دائر درخواست کی پہلی سماعت ہوئی تھی جس میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے تھے ۔اس سماعت کا خیر مقدم کیا تھا اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ۔
لیکن پھر اس کے بعد 6 ماہ کی جدوجہد کے بعد 20 اپریل 2017 کو پانامہ لیکس پر ابتدائی مٹھائی تقسیم کرنے والا انگریزی میں فیصلہ آیا جس کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنی جس میں پیشی پر مریم نواز شریف نے کہا تھا ۔
روک سکتے ہو تو روک لو۔

10 جولائی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی اور
28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے میاں محمد نواز شریف کو نااھل قرار دے دیا ۔

19 اکتوبر 2017 کو اس کیس کی پہلی سماعت کے ٹھیک ایک سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ریفرنسز میں میاں محمد نواز شریف ۔مریم صفدر پہ فرد جرم عائد کی گئی اور کیپٹن صفدر کو شریک جرم قرار دیا گیا ۔

میاں محمد شریف کے پوتے اور میاں محمد نواز شریف کے بیٹے  اشتہاری قرار دیے گئے۔۔

06 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کو 10 سال قید بمعہ جرمانہ سنائی گئی۔جب کہ مریم نواز شریف کو 7 سال اور صفدر اعوان کو ایک سال قید۔

13 جولائی 2018 کو نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈال دیا گیا البتہ بعد میں سزا معطل کر دی گئی۔

25  جولائی 2018 کو عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی قومی پارٹی بن کر سامنے آئی۔

17 اگست 2018 کو عمران خان 176 ووٹ لے کر پاکستان کا 22 واں وزیر اعظم بنا۔

11 ستمبر 2018 کو نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز کا انتقال ہوا جس کی تدفین میں اس کی اشتہاری اولاد بھی شریک نہ ہوئی۔

05 اکتوبر 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور نواز شریف کے بھائی کو نیب نے آشیانہ کیس میں گرفتار کر لیا جو اب ضمانت پر رہا ہے۔

آج لندن میں اشتہاری حسین نواز اس حال میں اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہا ہے کہ اس کا باپ جیل میں اور بہن نیب حراست میں ہے اور دونوں  پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ  کی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور وہ پاکستان کی زمین پہ قدم نہیں رکھ سکتا ہے۔

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے۔

رہے نام اللہ کا۔

19 اکتوبر 2012 اصغر خان کیس

19 اکتوبر 2012 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کا مختصر فیصلہ جاری کیا جس کو بعد میں تفصیلی فیصلے کا حصہ بنا دیا گیا ۔یہ فیصلہ آج بھی عملدرآمد کا منتظر اپنی قبر سے آواز بلند کر رہا ہے ۔

اصغر خان کیس داستان ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان ایک شرمناک سودے بازی کی جہاں ضمیروں کے سودے کیے جاتے ہیں ۔ایک ایسی داستان جس کے ہر صفحے پر لکھا ہے ۔
کوئی شرم۔کوئی حیا۔

سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2012 کو اصغر خان کیس کا پہلے مختصر اور پھر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا  جس کے تحت ایک مرتبہ پھر سابق صدر غلام اسحاق خان ،سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ ، سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے ایوان صدر میں سیاسی سیل کے قیام اور سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو رقوم دینے کی سرگرمیوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دونوں سابق جرنیلوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اس لئے ایوان صدر میں کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت کیلئے سرگرمیاں یا سیاسی سیل کا قیام غیر آئینی ہوتا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے 141صفحات پرمشتمل جاری کئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عہدوں اور اختیارات کا غلط ا ستعمال کیا اور حکم دیا کہ رقم دینے اور لینے والوں سے سود سمیت واپس لی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے سیاسی عمل کو آلودہ کیا گیا خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ ملکی سرحدود کا دفاع ہوتا ہے۔ صدر سربراہ مملکت ہوتا ہے اس لئے ایوان صدر میں کسی سیاسی سیل کا قیام غیر قانونی ہے اس حوالے سے افسران ایوان صدر کے غیر آئینی احکامات ماننے کے پابند نہیں ۔

فیصلے میں سابق وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ خان بابر کے بیانات، ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے جسٹس سجاد علی شاہ کو خط، جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور یونس حبیب کے بیانات بریگیڈئر ریٹائرڈ کمال عالم کی طرف سے رقوم کی تقسیم میں ملوث افسران کے ناموں اور بریگیڈئر ریٹائرڈ حامد سعید اصغر کے بیان اور ہاتھ سے تحریر کردہ ڈائری کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی نگرانی میں الیکشن سیل قائم کیا گیا جس کے لئے چودہ کروڑ روپے اکٹھے کئے گئے ایوان صدر کے سیاسی سیل نے امیدواروں کی مالی امداد کیلئے پالیسی مرتب کی اور چھ کروڑ روپے انتخابی مقاصد اور الیکشن انٹیلی جنس کے لئے استعمال کئے گئے جبکہ باقی آٹھ کروڑ روپے آئی ایس آئی کے خصوصی فنڈز کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔ فرینڈز اور اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے جمع کرانے کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں لیکن وزارت دفاع کے نمائندے کمانڈر حسین شہباز یہ نہیں بتا سکے کہ یہ رقم کہاں گئی؟ عدالت نے کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کو ختم کرکے لارجر بنچ تشکیل دینے کے بارے میں اٹارنی جنرل کے موقف کو مسترد کرنے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تاریخی طور پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ فوجی اور سول دونوں حکومتوں میں صدر کے عہدے کو سیاست میں ملوث کیا گیا جو آئین سے انحراف ہے اس سے پارلیمانی نظام کمزور ہوا اور ملک میں یہ نظام آئین کے مطابق پھل پھول نہ سکا۔ 1977ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک کو انارکی اور خون ریزی سے بچانے، ملکی سالمیت اور استحکام کے تحفظ اور متحارب گروپوں کو الگ کرنے کیلئے مداخلت کی یہ یقیناً ایک آئین سے ماوراء اقدام تھا لیکن اسے نظریۂ ضرورت اور عوام کی فلاح وبہبود کے طور پر قبول کیا گیا۔ عدالت نے جنرل پرویز مشرف کے اقدام کا بھی حوالہ دیا جسے سپریم کورٹ نے نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا جبکہ تین نومبر 2007ء کو لگائی گئی ایمرجنسی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جب آئینی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت کے سات رکنی بنچ نے اسی روز ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او لانے کیخلاف فیصلہ دیا تھا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فاضل اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ ایوان صدر میں آنے کے بعد صدر سروس آف پاکستان کا حصہ بن جاتا ہے لیکن صدر اور گورنروں کے عہدے اس فہرست میں نہیں آتے۔ 1956،1962 اور 1973ء کے دستوروں میں انہیں ملازمت کے مفہوم سے الگ رکھا گیا ہے کوئی بھی سرکاری ملازم سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا جبکہ صدر ایک مدت پوری کرنے کے بعد دوبارہ انتخاب لڑ سکتے ہیں صدر کے متعلقہ امور اور کردار کو آئین میں محدود کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو معافی کا اختیار حاصل ہے آرٹیکل 48 کے تحت وہ کابینہ کے مشورے کے تحت صدارتی اختیارات استعمال کرتا ہے آرٹیکل 56 کے تحت وہ پارلیمنٹ سے خطاب کرتا ہے اس طرح یہ بات اہم ہے کہ صدر کا آئینی عہدہ ملازمت کے عہدوں سے الگ ہے صدر سیاست میں ملوث نہیں ہوسکتا جیسا کہ اس کیس میں سابق صدر غلام اسحاق خان کے کردار کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ صدر کو سیاست سے نہیں روکا گیا ہم ان سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ وزیراعظم وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سروس آف پاکستان کی ذیل میں آتے ہیں صدر کا انتخاب بلاواسطہ جبکہ وزیراعظم اور دیگر کا براہ راست ہوتا ہے۔

فیصلے میں مسلح افواج کے کردار، آرمی ایکٹ، افواج پاکستان کے حلف اور دیگر امور پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ رقم لینے والوں کی فہرست بھی دی گئی ہے جو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنے حلف نامے کے ذریعے پیش کی تھی جس کے تحت: صوبہ سرحد سے میر افضل نے ایک کروڑ روپے، پنجاب سے نواز شریف نے 35لاکھ روپے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ رفاقت نے میڈیا کے لئے 56لاکھ روپے، جماعت اسلامی 50لاکھ روپے، عابدہ حسین 10لاکھ روپے، الطاف حسین قریشی اور مصطفی صادق 5 لاکھ روپے، سندھ سے غلام مصطفی جتوئی 50لاکھ روپے، جام صادق 50لاکھ روپے، محمد خان جونیجو 25لاکھ روپے، پیر پگاڑا 20لاکھ روپے، مولانا صلاح الدین 3لاکھ روپے جبکہ چھوٹے مختلف گروپوں نے 54 لاکھ روپے وصول کئے۔ بلوچستان سے ہمایوں مری نے 15لاکھ روپے، میر ظفر اللہ جمالی نے 40لاکھ روپے، کاکڑ نے 10لاکھ روپے، کے بلوچ نے 5لاکھ روپے، جام یوسف نے 7 لاکھ 50ہزار روپے،غوث بخش بزنجو نے 5لاکھ روپے، ندیم مینگل نے 10لاکھ روپے وصول کئے۔فیصلے کے مطابق: 67لاکھ 20ہزار روپے جی ایچ کیو ویلفیئر فنڈز میں منتقل کئے گئے،3کروڑ روپے جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر فرینڈز کو دیئے گئے،2کروڑ روپے پنجاب اور 2کروڑ روپے سرحد میں دیئے گئے، سندھ میں تمام ادائیگیاں لیفٹیننٹ کرنل میر اکبر علی خان کے ذریعے دی گئیں۔ جنرل بیگ کی ہدایت پر 6 سے 8 اکاؤنٹ کھولے گئے جن میں یونس حبیب نے 14کروڑ روپے جمع کرائے۔ یونس حبیب کے بیان کے مطابق: جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کو 14کروڑ روپے، جام صادق علی کو 7کروڑ روپے اور جاوید ہاشمی وغیرہ کیلئے یوسف میمن کو 5کروڑ روپے دیئے گئے ۔

عدالت نے کیس کا مختصر فیصلہ 19اکتوبر 2012کو سنایا تھا جسے اس تفصیلی فیصلے کا بھی حصہ بنایا گیاہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے کی تھی۔

15 اکتوبر 1999 جب اسحاق ڈار کو مشرف نے گرفتار کیا

15 اکتوبر 1999
جب اسحاق ڈار کو مشرف نے گرفتار کیا اور پھر مفاد پرستی کی ایک داستان رقم ہوئی۔

یہ داستان ہے موقع پرستی اور  مالی بدعنوانی کے اس سپر اسٹار کی جسے حسن نثار منی لانڈرنگ کا بڑے غلام علی کہتے ہیں ۔

اسحاق ڈار کو 15 اکتوبر 1999 میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ ایک سال سے زائد عرصہ فوج کی تحویل میں رہے۔

اس قید کے دوران  حدیبیہ پیپرز ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا جبکہ حتمی ریفرنس 16 نومبر  2000 کو بنایا گیا۔

اسحاق ڈار نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں بطور وعدہ معاف گواہ 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا جس میں اُنھوں نے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا۔اعترافی بیان 43 صفحات پہ مشتمل ہے جس کے 5 صفحات کی نقل ابتدائی کمنٹس، میں موجود ہے ۔

حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کیا ہے ۔چلیں بتاتے ہیں ۔

پانامہ کیس میں حدیبیہ پیپرز ملز کافی زیربحث رہا جبکہ مختلف اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں صرف وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان اور اس کیس کے شریف خاندان پر اثرات ہی موضوع بحث رہے مگر بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ حدیبیہ پیپرز ملز بنیادی طور پر ہے کیا.

حدیبیہ پیپرز ملز نامی کمپنی شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی ۔ اس کمپنی کے سات ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر ہیں ۔

مذکورہ کمپنی آرڈیننس کے تحت ملز کا 30 جون 1998 میں آڈٹ ہونا تھا ۔کمپنی کے دو ڈائریکٹرز میاں عباس شریف اور صبیحہ عباس کے دستخط کردہ سال 1998 کی بیلنس شیٹ آڈٹ کے لیے پیش کی گئی۔ بیلنس شیٹ میں 612.273ملین کی اضافی رقم شیئر ڈیپازٹ کی مد میں منکشف ہوئی جبکہ اس رقم سے قبل بھی 30.469 ملین روپے بیلنس شیٹ میں موجود تھی جس کی کوئی وضاحت شریف خاندان کے پاس نہیں تھی۔ دونوں رقوم کو ملا کر کل رقم 642.743 ملین روپے بنتی ہے ۔ اسی بیلنس شیٹ میں التوفیق سے سرمایہ کاری کے لیے قرضے اور پھر لندن میں مقدمے کا بھی انکشاف ہوا جس کی تفسیلات آڈیٹر کو فراہم نہیں کی گئیں۔

معاملہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجا گیا اور تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی زرائع سے حاصل کی جانے والی رقم کو فارن ایکوٹی انوسٹمنٹ کے لبادہ میں قانونی ظاہر کیا گیا۔ مذکورہ رقوم غیر ملکی اکاونٹس سے بھجوائی جاتی رہیں.وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے غیر ملکی جعلی اکاونٹس کهولے اور انہوں نے قاضی خاندان جس نے برطانیہ میں اسحاق ڈار کی تعلیم اور رہائش کے اخراجات برداشت کیے کو ہی دهوکہ دے کر خاندان کے افراد کے نام پر رقوم کی منتقلی کی۔غیر ملکی جعلی اکاونٹس صدیقہ سید، سکندرہ مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضیاور طلعت مسعود قاضی نام سے 1992 میں کھلوائے گئے تھے جبکہ مذکورہ خاندان کو ان اکاﺅنٹس کا علم ہی نہ تھا۔

اس کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اور نواز شریف کے دست راست اسحاق ڈار نے عدالت کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا اور نہ صرف مزکورہ بالا چار اکاونٹس کھلوائے بلکہ کئی دیگر اکاﺅنٹس بھی کھلوائے جن میں ڈار کے قریبی ساتھی، نواز شریف کے ملازمین اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں اور نیشنل بینک کے صدر کا منی لانڈرنگ میں تعاون رہا۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق ان اکاﺅنٹس کو کھلوانے کا مقصد Protection of Economic Reforms Act 1992 کے تحت کالا دھن سفید کرنا تھا۔ اسحاق ڈار نے 90 کی دہائی میں 1 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی تاہم وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ کالا دہن صرف 642.743 ملین روپے پر ہی نہیں رکتا۔ التوفیق نامی کمپنی نے 1998 میں لندن کی عدالت میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ کیا اور فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آیا مگر شریف خاندان نے التوفیق کمپنی کو 8.700 ملین ڈالرز دیکر آﺅٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی ۔حدیببیہ پیپرزملز سکینڈل میں 1242 .732 ملین روپے معلوم آمدنی کے زرائع سے غیر متناسب ہے ۔ مذکورہ ریفرنس اس بناء پر داخل دفتر ہوا تھا کہ شریف خاندان جنہیں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تھا بیرون ملک تھے۔

ملزمان نے 2011 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ ریفرنس ختم کیا جائے اور دوبارہ تحقیقات نہ کرائی جائیں

3 دسمبر 2012 کو اس ریفرنس کو لاھور ہائی کورٹ کے دو ججز نے ختم کیا اور دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا تو ریفری جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس دوبارہ تحقیقات کے لیے نہیں کهولا جا سکتا

10 جولائی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد عملدرآمد بینچ کے روبرو 21جولائی 2017 کو نیب حکام نے پیش ہو کر آگاہ کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر مشاورت کر رہے ہیں مگر نیب حکام نے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا.

شیخ رشید نے سپریم کورٹ میں نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی جسے پانچ رکنی بینچ نے شریف خاندان کی پانامہ فیصلے پر نظرثانی درخواست میں سنا تاہم اس سے ایک روز قبل ہی 14ستمبر2017کو نیب نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائےگی اور 20ستمبر 2017 کو نیب نے سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے ریفری جج کا دوبارہ تحقیقات نہ کرانے کا فیصلہ چیلنج کیا.

ڈیڑھ ماہ بعد یعنی 10 نومبر 2017ء کو اپیل کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔ 13 نومبر 2017 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ نے سماعت کی تو جسٹس کھوسہ نے بینچ کی سربراہی سے معذرت کرلی۔

11 دسمبر 2017 کو  جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بنچ نے نیب کی اپیل مسترد کر دی۔

اس فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جسے 29 اکتوبر 2018 کو  عدالت نے ایک بار پھر مسترد کر دیا جس کے بعد حدیبیہ پیپر ملز کیس ختم ہو گیا

14 اکتوبر 1980 جب جمعیت علماء اسلام دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی تھی۔

مولانا مفتی محمود جمعیت علما اسلام کے جنرل سیکرٹری تھے .جب کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی  تھے ....اس وقت ڈپٹی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمہ اللہ  تھے...

14 اکتوبر 1980 کو مفتی محمود  کی وفات کے بعد امیر مکرم مولانا عبداللہ درخواستی نے مخزن العلوم خانپور میں جمعیت علما اسلام کا اجلاس طلب کیا اور مولانا عبیداللہ انور کو ناظم عمومی بنادیا کیونکہ وہ پہلے سے ڈپٹی سیرٹری جنرل تھے جبکہ جمعیت کے دستور کا بھی یہی تقاضا تھا...

اس کے ساتھ مفتی محمود کے جواں سال بیٹے مولانا فضل الرحمن کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنا دیا اور فرمایا کہ بیٹا...تم ابھی کم عمر ہو ...وقت آئے گا آپ کو جماعت کا بڑا عہدہ دیا جائے گا ابھی آپ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کرو....

یہ سن کر مولانا فضل الرحمن کی نتھنے پھولنے لگے وہ اٹھا اور مدرسے کے دوسرے کمرے میں اپنے چند ہمخیال رفقا کو لےکر الگ سے اجلاس کرنے لگا...جس میں اس نے مولانا عبدالکریم بیر شریف کو امیر بنادیا اور خود جنرل سیکرٹری بن گئے..

اس دوران مولانا زاہد الراشدی سمیت سینئر ساتھیوں نے بے حد کوشش کی اور انہیں اس حرکت سے باز رکھنے کے بہت جتن کیئے مگر مولانا فضل الرحمن نہیں مان رہا تھے ...

اور یوں جمعیت  علماء اسلام کی متحدہ قوت کو دولخت کردیا..... نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی تحریک چلانے کا اعلان اس نے اپنا دھڑا الگ کرنے کے بعد کیا....

آج بھی آپ دیکھ لیں۔جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے کلیدی عہدوں پر آل مفتی محمود فائز ہے۔

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...