Ad3

Showing posts with label History. Show all posts
Showing posts with label History. Show all posts

15 جنوری 1875یوم پیدائش عبد العزيز بن عبد الرحمن

15 جنوری 1875
یوم پیدائش عبد العزيز بن عبد الرحمن بن فيصل بن تركي بن عبد الله بن محمد ابن سعود

سعودی عرب کا بانی

نجد کا سعودی خاندان انیسویں صدی کے آغاز میں جزیرہ نمائے عرب کے بہت بڑے حصے پر قابض ہو گیا تھا لیکن مصری حکمران محمد علی پاشا نے آل سعود کی ان حکومت کو 1818ء میں ختم کر دیا تھا۔ سعودی خاندان کے افراد اس کے بعد تقریباً 80 سال پریشان پھرتے رہے یہاں تک کہ 15 جنوری 1875 کو  اسی خاندان میں ایک اور زبردست شخصیت پیدا ہوئی جس کا نام عبد العزیز بن عبد الرحمن تھا جو عام طور پر سلطان ابن سعود کے نام سے مشہور ہیں۔

ابن سعود انیسویں صدی کے آخر میں اپنے باپ کے ساتھ عرب کے ایک ساحلی شہر کویت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ بڑے با حوصلہ انسان تھے اور اس دھن میں رہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آبا و اجداد کی کھوئی ہوئی حکومت دوبارہ حاصل کر لیں۔ آخر کار 1902ء میں جبکہ ان کی عمر تیس سال تھی، انہوں نے صرف 25 ساتھیوں کی مدد سے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی نجد بھی فتح کر لیا۔ 1913ء میں ابن سعود نے خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء پر جو عثمانی ترکوں کے زیر اثر تھا، قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یورپ میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے دوستانہ تعلقات قائم رکھے اور ترکوں کے خلاف کارروائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد شریف حسین نے خلیفہ بننے کا اعلان کر دیا تو ابن سعود نے حجاز پر بھرپور حملہ کر دیا اور چار ماہ کے اندر پورے حجاز پر قبضہ کر لیا اور 8 جنوری، 1926ء کو ابن سعود نے حجاز کا بادشاہ بننے کا اعلان کر دیا۔ سب سے پہلے جس ملک نے ابن سعود کی بادشاہت کو تسلیم کیا وہ روس تھا۔ روس نے 11 فروری، 1926ء کو حجاز و نجد پر سعودی حکومت کو تسلیم کیا لیکن برطانیہ نے تاخیر سے کام لیا اور معاہدہ جدہ کے بعد تسلیم کیا۔ اس طرح سعودی مملکت اپنے زوال کے ایک سو سال بعد ایک بار پھر پوری قوت سے ابھر آئی اور عرب کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔

مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر قبضے کے بعد ابن سعود نے خلیفہ بننے کی کوشش نہیں کی بلکہ حجاز کا انتظام سنبھالنے اور جدید دور کے مسائل کو حل کرنے کے لیے انہوں نے 13 تا 19 مئی 1926ء کے درمیان ساری دنیا کے مسلمان رہنماؤں پر مشتمل ایک موتمر اسلامی طلب کی جس میں تیرہ اسلامی ملکوں نے شرکت کی۔ موتمر میں اسلامی ہند کے ایک وفد نے بھی شرکت کی جس کی سب سے ممتاز شخصیت مولانا محمد علی جوہر تھے۔ اگرچہ یہ موتمر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن اتحادِ اسلامی کی تحریک میں اس کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کا پہلا بین الاقوامی اجتماع تھا جسے ایک سربراہ مملکت نے طلب کیا تھا۔

1930ء میں ابن سعود نے عسیر اور نجران کے علاقوں کو بھی سعودی مملکت میں شامل کر لیا۔ یہ دونوں علاقے چونکہ یمن کی سرحد پر واقع تھے اور ان پر یمن کا بھی دعویٰ تھا اس لیے سعودی عرب کا یمن سے تصادم ہو گیا۔ سعودی عرب کی فوجوں نے جو یمن کی فوجوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور دینی جذبے سے سرشار تھیں، یمن کو بھی شکست دے دی اور 1934ء میں یمن کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا لیکن اسی سال بعض ممتاز مسلمانوں کی کوششوں سے جن میں امیر شکیب ارسلان کا نام قابل ذکر ہے، طائف میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان 20 مئی 1934ء کو ایک معاہدہ ہو گیا اور سعودی فوجوں کو یمن سے واپس بلا لیا گیا۔ سعودی افواج نے اس سے پہلے اردن کو بھی اپنے دائرۂ اقتدار میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انگریزوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اگر ابن سعود اردن اور یمن کی مہمات میں کامیاب ہوجاتے تو پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے تحت آجاتا لیکن اس وقت بھی ابن سعود کی حکومت رقبے کے لحاظ سے ایشیا میں سب سے بڑی عرب حکومت تھی اور یمن، عمان اور بعض ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر پورے جزیرہ نمائے عرب پر سعودی بالادستی قائم تھی۔

22 ستمبر 1932ء کو نجد و حجاز کی اس نئی حکومت کو سعودی عرب (عربی نام : المملكة العربیة السعودیة) کا نام دیا گیا۔

ابن سعود کا 51 سالہ دور حکومت 09 نومبر 1953ء  کو ان کے انتقال کے ساتھ ختم ہوا۔ وہ سعودی حکومت کے بانی تھے اور انہوں نے ایک پسماندہ اور بے وسائل ملک کو جس طرح ترقی کے راستے پر ڈالا۔

عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد میں سلمان بن عبدالعزیز آج بھی سعودی عرب میں بادشاہ ہے۔اس کی اولاد کی تعداد کم و بیش 89 تھی۔جن کے نام درج ذیل ہیں۔

بیٹے

سعود بن عبدالعزیز،  و فیصل بن عبدالعزیز آل سعود،  و خالد بن عبد العزیز،  وفہد بن عبدالعزیز،  وعبداللہ بن عبدالعزیز،  وسلمان بن عبدالعزیز،  وترکی اول بن عبدالعزیز آل سعود،  ومحمد بن عبدالعزیز آل سعود،  وناصر بن عبدالعزیز آل سعود،  وسعد بن عبدالعزیز آل سعود،  ومنصور بن عبدالعزیز آل سعود،  ونائف بن عبدالعزیز آل سعود،  ولطیفہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وبندربن عبدالعزیز آل سعود،  ومشعل بن عبد العزیز آل سعود،  وصیتہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وممدوح بن عبدالعزیز آل سعود،  والجوہرہ بنت عبد العزیز آل سعود،  والبندری بنت عبد العزیز آل سعود،  وعبد الالہ بن عبدالعزیز آل سعود،  ومشہور بن عبدالعزیز آل سعود،  وفواز بن عبدالعزیز آل سعود،  وبدر بن عبدالعزیز آل سعود،  وہذلول بن عبدالعزیز آل سعود،  وعبدالمجید بن عبدالعزیز آل سعود،  وترکی ثانی بن عبدالعزیز آل سعود،  وطلال بن عبدالعزیز آل سعود،  واحمد بن عبدالعزیز آل سعود،  وسلطان بن عبدالعزیز،  وعبدالرحمان بن عبدالعزیز آل سعود،  ومتعب بن عبدالعزیز آل سعود،  ومقرن بن عبدالعزیز آل سعود،  وسطام بن عبدالعزیز آل سعود،  ونواف بن عبدالعزیز آل سعود،  ومساعد بن عبدالعزیز آل سعود،  وثامر بن عبدالعزیز آل سعود،  وحمود بن عبدالعزیز آل سعود،  وعبد المحسن بن عبدالعزیز آل سعود،  وماجد بن عبدالعزیز آل سعود،  و مشاری بن عبدالعزیز آل سعود، 

بیٹیاں۔
 وھیا بنت عبد العزیز آل سعود،  ولؤلؤہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وسلطانہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وخالد بن فیصل،  وانود بنت عبد العزیز۔

21 اکتوبر  تاریخ کے آئینے میں October 21 In the mirror of history

21 اکتوبر 
تاریخ کے آئینے میں 
 1296ء علاؤالدین خلجی نے دہلی کا تخت سنبھالنے کے بعد سلطان ہونے کا اعلان کیا۔
 1805ء ٹریفلگیر کے جنگ میں فرانس اور اسپین کی شکست ہوئی۔
 1918ء میں مارگریٹ اوون نے ایک منٹ میں 170 الفاظ ٹائپ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
 1934ء جے پرکاش نارائن نے کانگریس سوشلسٹ پارٹی قائم کی۔
 1492ء کرسٹوفر کولمبس نے سر زمین امریکہ پر قدم رکھا۔
 1943ء نیتا جی سبھاش چندر بوس نے سنگاپور میں آزاد ہند سرکار قائم کی۔
 1944ء دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی افواج نے جرمن شہر اچین پر قبضہ کیا۔ 
 1945ء فرانس میں پہلی مرتبہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا۔
 1947ء جموں کی تحصیل رنبیر سنگھ پورا میں ڈوگرہ فوجوں نے چار ہزار افراد کو ہلاک کر دیا اور کتھرا سے سُچیت گڑھ تک سیکڑوں مسلمانوں کے دیہاتوں کو آگ لگا دی۔
 1948ء اقوامِ متحدہ نے ایٹمی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لئے روسی تجویز کو رد کر دیا۔
 1950ء چینی افواج نے تبت پر قبضہ کر لیا۔
 1958ء برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں عورتوں کو شمولیت دی گئی۔
 1966ء جنوبی ویلس میں ایک اسکول میں ہوئے حادثہ میں 144 افراد مارے گئے۔
1976۔ کرکٹر قاسم عمر نے دو سو چھ رنز اور جاوید میانداد نے دو سو تین رنز کے ساتھ سری لنکا کے خلاف تین سو ستانوے رنز کا اسٹینڈ لیا۔یہ میانداد کا دوسرا ٹیسٹ میچ تھا۔جاوید میانداد نے 9 اکتوبر 1976 کو اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
 1967ء واشنگٹن ڈی سی میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے ویتنام کی جنگ کے خلاف امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے خلاف مظاہرہ کیا۔
 1969ء صومالیہ میں محمد سعید برّے کی قیادت والی سپریم ریولیوشنری کونسل نے بغاوت کی۔
 1986ء ماسکو سے پانچ امریکی سفارتکاروں کے اخراج کے ردعمل میں امریکہ نے 55 سوویت سفارتکاروں کو امریکہ سے نکالا۔
٭21اکتوبر 1987ء کو برمنگھم میں پاکستان کے کھلاڑی جان شیر خان نے آسٹریلیا کے کرس ڈٹمار کو شکست دے کر پہلی مرتبہ اسکواش کی عالمی چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان سے پہلے پاکستان کے جہانگیر خان یہ اعزاز پانچ مرتبہ جیت چکے تھے۔ جان شیر خان نے اپنی فتوحات کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رکھا اور اسکواش کی یہ عالمی چیمپیئن شپ آٹھ مرتبہ اور برٹش اوپن اسکواش چیمپیئن شپ چھ مرتبہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا
 1994ء امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین تاریخی سمجھوتے کے تحت شمالی کوریا نیوکلیائی پروگرام روکنے پر تیار ہوا۔
 2001ء دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال کئے جانے والے نیوکلیائی، جراثیمی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے پر امریکہ اور روس میں اتفاق ہوا۔
2014ء۔۔طاہر القادری نے ڈی چوک پر 14 اگست 2014 سے جاری دھرنا ختم کر دیا۔
2016ء۔۔سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی پہلی سماعت تاریخ یکم نومبر 2016 مقرر کی۔
ولادت۔
الفونسے دی لامارتین (پیدائش: 21 اکتوبر 1790 – وفات: 28 فروری 1869ء) فرانسیسی مؤرخ، محقق، شاعراور سیاست دان تھا۔
1887.کرشنا سنگھ۔بھارتی وکیل اور سیاست دان ۔ریاست بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ ۔
1931ء۔۔شمی کپور (Shammi Kapoor) پیدائشی نام شمشیر راج کپور (Shamsher Raj Kapoor) ایک بھارتی فلمی اداکار اور ڈائریکٹر تھا۔ وہ 1950ء کی دہائی سے 1970ء کی دہائی تک بھارتی سنیما میں ایک اہم اداکار تھا۔
1949ء۔۔بنيامين نتنياهو۔ ایک اسرائیلی سیاست دان اور اسرائیل کے  وزیر اعظم 
1943.طارق علی۔پاکستانی نژاد برطانوی مصنف اور تاریخ دان۔تهے
ڈرامہ نگار اور شاعرمنشی جوالا پرشاد برق 21 اکتوبر 1863 کو سیتاپور(اُترپردیش) ، بھارت میں پیدا ہوئے تهے
1960ء۔۔سید صدر الدین شاہ راشدی۔۔حروں کے روحانی پیشوا سید شاہ مردان شاہ (ثانی)المعروف سید سکندر علی شاہ راشدی کے فرزند ہیں۔ آپ پاکستانی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں اور قومی اسمبلی پاکستان کے رکن تھے۔آپ نے تین دفعہ 2002ء2008ءاور2013ء میں حلقہ NA-216 (خیر پور) سے الیکشن میں حصہ لیا اور تینوں دفعہ جیتے۔ آپ کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ف) سے ہے۔ اور آپ اس جماعت کے موجودہ سربراہ ہیں۔
1833ء۔۔الفریڈ نوبل سویڈن کا کیمیادان ، انجینیئر ، نئے خیالات سے روشناش کروانے والا ، فوجی جنگی ساز و سامان تیار اور ڈیزائن کرنے والا اور ڈائنامائیٹ کا موجد تھا ۔ اس نے "بوفوس" سٹیل مل کو خرید کر اسے سویڈن کی فوجی جنگی سامان تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی میں تبدیل کر دیا ۔ اپنی وصیت میں اس نے اپنے بے شمار دولت کا ایک بڑا حصہ نوبل انعام دینے کے لئے وقف کر دیا ۔ مصنوعی تیار کئے گئے عنصر " نوبلیئم" کا نام بھی اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔الفریڈ نوبل، عمانوئیل نوبل اور آندریتے اہیلسل نوبل کا تیسرا بیٹا تھا اور 21 اکتوبر 1833ء ميں سٹاک ہوم،سویڈن میں پیدا ہوا ۔ بعد میں یہ اپنے خاندان کے ساتھسینٹ پیٹرز برگ ، روس چلا گیا ۔ یہاں اس کے والد نےتارپیڈو بنانے کا کام شروع کیا ، پلائی وڈ بھی اس کے والد کی ایجاد تھی ۔ الفریڈ نوبل نے پروفیسر نکولائی نکولائیوچ زینن سے کیمسٹری پڑھی اور 18 سال کی عمر میں 4 سال کے لئے کیمسٹری پڑھنے امریکا چلا گیا ۔ یہاں اس نے کچھ عرصے کے لئے جان ایریکسن کے پاس بھی کام کیا ۔ 1859ء میں اسکے والد کی فیکٹری اس کے دوسرے بھائی لودویک نوبل کی نگرانی میں چلی گئی ، جس نے اس فیکٹری کو بہت وسعت دی ۔ اپنے خاندانی کاروبار کے دیوالیہ ہونے کے بعد الفرید اپنے والد کے ساتھ سویڈن واپس چلا گیا اور خود کو دھماکا خیز مواد کے مطالعے کے لئے وقف کر دیا ، خاص طور پر اس کی محفوظ تیاری کے لئے ۔ 3 ستمبر 1864ء میں ان کی فیکٹری میں بہت بڑا دھماکا ہوا جس میں اس کے چھوٹے بھائی ایمل سمیت 5 لوگ مارے گئے ۔ الفرید نوبل نے 1895ء میں نوبل انعام کی بنیاد رکھی اپنی وصیت لکھتے وقت رکھی اور اس انعام کو چلانے کے لئے اپنی دولت کا بڑا حصہ وقف کیا ۔ نوبل انعام 1901ء سے فزکس، کیمسٹری، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں نمایاں خدمات دینے والے مردوں اور عورتوں کو دیا جانا شروع ہوا ۔اگرچہ الفریڈ ساری عمر غیر شادی شدہ رہا لیکن اس کے سوانح نگار کم از کم اس کے تین معاشقے لکھتے ہیں ۔ الفرید کا پہلا معاشقہ روس میں ایک روسی لڑکی الیکزینڈرا کے ساتھ تھا ، جس نے اس کے شادی کے پیغام کو رد کر دیا ۔ 1876ء میں بیروتھا کنسکی اس کی سیکٹری بنی، لیکن کچھ عرصے بعد اسنے ، اس کو چھوڑ کر "بارن آرتھر گونڈاکار شٹنز" کے ساتھ شادی کر لی۔ اگرچہ اس کا الفریڈ کے ساتھ تعلق بہت کم عرصے رہا لیکن اسنے الفریڈ کے ساتد خط و کتابت 1896ء میں اسکی موت تک رکھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی وصیت میں امن کا نوبل انعام رکھنے کا فیصلہ بھی اسنے بیروتھا کے مشورے سے کیا تھا۔ 1906ء کا امن نوبل انعام بیروتھا وان شٹنز کو اسکی امن کے لئے کوششوں پر دیا گیا ۔الفریڈ نوبل کی تیسری اور سب سے زیادہ عرصے تک 18 سال تک قائم رہنے والی محبت ویانا کی ایک پھول بیچنے والی لڑکی صوفیہ کے ساتھ تھی ۔ اپنے بہت سارے خطوط میں الفرید نے اس کو "میڈم صوفیہ نوبل"بھی لکھا ہے ۔
1937ء۔۔فاروق عبد اللہ ۔ کشمیری سیاست دان ہیں۔ انہوں نے 1982 سے کئی مواقع پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کام کیا اور 2009 اور 2014 کے درمیان میں نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ وہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کے والد ہیں۔ فاروق عبد اللہ مجوزہ سیاست دان اور قومی کانفرنس کے سربراہ شیخ عبد اللہ اور بیگم اکبر جہان کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ٹینڈیل بسکوئے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ایم بی بی ایس کی ڈگری ایس ایم ایس میڈیکل کالج، جے پور سے حاصل کی۔ اس کے بعد طب کی پریکٹس کے لیے انہوں نے برطانیہ کا سفر کیا۔انہوں نے مولی سے شادی شدہ کی جو برطانوی نژاد کی نرس تھی۔ ان کا ایک بیٹا عمر اور تین بیٹیاں صفیہ، حنا اور سارہ ہیں۔ ان کے بیٹے عمر عبد اللہ لوک سبھا کے رکن تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے، اس طرح ریاست اور قومی سیاست میں بھی شامل ہیں۔ سارہ کی شادی کانگریس کے سیاست دان سچن پائلٹ سے ہوئی۔ عبد اللہ 1980ء کے عام انتخابات میں سرینگر لوک سبھا کے انتخابی حلقے سے بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ جب عبد اللہ نے جموں و کشمیر کے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو انہیں اگست 1981 میں نیشنل کانفرنس کا صدر مقرر کیا گیا۔ ان کی اہم قابلیت یہ تھی کہ وہ شیخ عبد اللہ کے بیٹے اور وارث تھے۔ 1982 میں اپنے والد کی وفات کے بعد فاروق عبد اللہ ریاست کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ 1984ء میں نیشنل کانفرنس کا ایک گروہ جو ان کے سالے غلام محمد شاہ کے زیر صدارت تھا، ٹکڑوں میں بٹ گیا جس سے اس کی حکومت ختم ہوئی اور وہ برطرف ہو گیا۔ بعد میں شاہ صاحب کانگریس کی مسلسل حمایت کی وجہ سے وزیر اعلیٰ بن گئے۔1986 میں، جی ایم شاہ کی حکومت جنوبی کشمیر میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد برطرف ہو گئی اور ایک نئی قومی کانفرنس میں، کانگریس حکومت کے عبد اللہ نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ 1987 ء میں نئے انتخابات ہوئے اور قومی کانفرنس کانگریس اتحاد نے دھوکا دہی کے ذریعے انتخابات جیت لیے
وفات۔
2002ء۔۔ ھربجن سنگھ ۔پنجابی شاعر، دانشور، ادیب، نقاد، ثقافتی مبصر اور مترجم۔ہربجن سنگھ نے امرتا پریتم کی مشاورت میں پنجابی شاعری میں انقلابی لہجے کو نیا اسلوب عطا کیا اس کے علاوہ انھوں نے ارسطو، نوجنز، سوفیکلز، رابندناتھ ٹیگور اور رگ وید پر تفصیل سے لکھا۔ ھربجن سنگھ نے دہلی یونیورسٹی سے ہندی اور انگریزی سے ڈگری حاصل کی ،بعد میں انھوں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے "ہندی شاعری" کا انتخاب کیا۔ انھوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ گرمکہی رسم الخط میں لکھا۔ بھر ان کی علمی اور ادبی دلچسپیاں انگریزی، پنجابی اور ہندی میں منتقل ہو گئی۔ 1984 میں بحثیت مہمان پروفیسر سبکدوش ہوئے بھر بعد میں بحثیت مہمان پروفیسر کے انڈین انسیی ٹیوٹ، آف ٹیکنالوجی، گرونانک دیو یونیورسٹی، جمون یونیورسٹی اور گوہاٹی یونیورسٹی میں درس و تدریس سے متعلق رہے۔ ہربجن سنگھ جدید ہندوستانی زبانون کے بورڈ برائے بشریات اور لسانیات میں پروفیسر ہربچن سنگھ کے ساتھ کام کیا۔ وہ اپنے اساتذہ رحمان دین، لالہ سروج بھان، ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ اور ڈاکٹر نیگندرا سے تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے اور ان کی علمی قابلیت سے متاثر رہے۔ اس کے علاوہ وہ کئی مذھبی، علمی اور ادبی شخصیات مثلا گرونانک، گرو ارجن دیو، شاہ حسین مادہو لال، وارث شاہ، بلہے شاہ، میر تقی میر، لورکا، رابند ناتھ ٹیگور، ن۔ م راشد، فیض احمد فیض اور پورن سنگھ سے متاثر رہے ۔۔۔ عطار سنگھ، ترلوک سنگھ کنور، اتما جیت سنگھ، منوہرکور گل اور سیندر سنگھ نے ان کی نگرانی ان کی نگرانی میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالات مکمل کیے۔ ہربجن سنگ نے انیس (19) تصانیف ادبی تاریخ پر اور ان چودہ (14)کتابیں دیگر موضوعات اور تراجم پر ہیں۔ ان کے سترہ (17) شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ان کی پنجابی تخلیق "ریگستان وچ لکڑ ہارا" (ریگستان میں لکڑہارا) نے بہت شہرت پائی۔ ہربجن سنگھ بہت دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ نہایت ہی سادہ طبعیت اور علم دوستی ان کی شخصیت کا خاصہ تہی۔ اردو دان طبقہ ان کے فکری، ادبی اور شعری کمالات سے بہت کم واقف ہے۔
2012...یش چوپڑا(تاریخ پیدائش27 ستمبر 1932)۔ہندی فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار، فلمساز، سلسلہ، کبھی کبھی، چاندنی اوردل تو پاگل ہے، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، لمحے، دھوم2، نیویارک اور رب نے بنادی جوڑی، جیسی سپرہٹ فلمیں ان کی سرپرستی میں بنیں۔ اپنی فلموں میں ہمیشہ عورتوں کے کردار کو مرکزی حیثیت دینے والے یش چوپڑا کو دادا صاحب پھالکے سمیت کئی اہم اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ماضی میں فرانس، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کی حکومت نے بھی یش چوپڑا کی فلمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کی عزت افزائی کی ہے۔ 2009 میں کوریا میں ہونے والے فیسٹول میں انہیں بہترین فلمساز کے اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔
1931ء۔۔مشہورناول 'امرائو جان ادا' کے مصنّف مرزا ہادی رسوا کا انتقال 21 اکتوبر1931 کو ہوا۔مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء) ایک اردو شاعر اور فکشن کے مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ، اور فلکیات کے موضوعات پر) گرفت رکھتے تھےانہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، اور یونانی زبان میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972)، اور دو بھارتی فلموں، امراو جان (1981) اور امراو جان (2006) کے لئے بنیاد بنا۔ 2003ء میں نشر کئے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بھی بنیاد یہی ناول تھا۔
٭21 اکتوبر 1957ء کو نامور ماہر موسیقار اور گلوکار استاد مبارک علی خان کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ استاد علی بخش خان کے فرزند اور استاد برکت علی خان اور استاد بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ استاد مبارک علی خان 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1938ء میں وہ فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بطور ہیرو اور گلوکار فلم مہارانی اور سوہنی کمہارن میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعدانہوں نے دو فلموں دو آنسو اور شالیمار کی موسیقی بھی ترتیب دی۔ وہ موسیقی میں اپنے والد استاد علی بخش خان، بڑے بھائی استاد بڑے غلام علی خان اور استاد سردار خان دہلی والے کے شاگرد تھے۔ استاد مبارک علی خان نے سینکڑوں افراد کوموسیقی کی تعلیم سے آراستہ کیا۔ وہ لاہورمیں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں


October 21 In the mirror of history
 In 1296, Alauddin Khilji declared the sultan after taking the throne of Delhi.
 France and Spain were defeated in the Battle of Trafalgar in 1805.
 In 1918, Margaret Owen set the world record for typing 170 words in a minute.
 In 1934, Jay Prakash Narayan formed the Congress Socialist Party.
 In 1492 Christopher Columbus stepped on the United States.
 In 1943, Nitaji Subhash Chandra Bose established the Independent Indian Government in Singapore.
 During World War II, 1944, American forces occupy the German city of Aachen.
 In 1945, for the first time in France, women got the right to vote.
 In 1947, Dogra troops killed 4,000 people in Ranbir Singh Pura tehsil of Jammu and set fire to hundreds of Muslim villages from Kathra to Sachetgarh.
 In 1948, the United Nations rejected the Russian proposal to destroy nuclear weapons.
 1950, Chinese forces occupy Tibet.
 Women were inducted into the UK House of Lords in 1958.
 In a 1966 accident in a school in South Wales, 144 people were killed.
 1976.  Cricketer Qasim Omar scored two hundred sixes and Javed Miandad took two hundred three-run stand against Sri Lanka. This was Mindad's second Test match. Jawed Mindad started his Test career on October 9, 1976.  What was
 In Washington DC in 1967, more than one million people protested against the US Ministry of Defense (Pentagon) against the Vietnam War.
 In 1969, the Supreme Revolutionary Council led by Mohammed Saeed Bera revolted in Somalia.
 The United States expelled 55 Soviet diplomats from the United States in response to the expulsion of five US diplomats from Moscow in 1986.
 On October 21, 1987, Birmingham, Pakistan's player Jan Sher Khan defeated Australia's Chris Dittmar and won the Squash World Championship for the first time.  Earlier, Jahangir Khan of Pakistan had won this award five times.  Jan Sher Khan continued his victories and won the squash world championship eight times and the British Open Squash Championship six times.
 In 1994, under a historic agreement between the United States and North Korea, North Korea agreed to halt the nuclear program.
 In 2001, the United States and Russia agreed to stop the spread of nuclear, chemical and chemical weapons used in terrorist activities.
 2014 - Al-Qadri ends its sit-in at D Chowk on August 14, 2014.
 2016 - The Supreme Court sets the first hearing date for the Panama case on November 1, 2016.
 Birth.
 Alfonse de Lamartine (born 21 October 1790 - died 28 February 1869) is a French historian, researcher, poet and politician.
 1887. Krishna Singh - Indian Lawyer and Politician - First Chief Minister of State of Bihar.
 1931 - Shammi Kapoor (born Shammi Kapoor) Shamsher Raj Kapoor was an Indian film actor and director.  He was a major actor in Indian cinema from the 1950s to the 1970s.
 1949 - Benjamin Netanyahu.  An Israeli politician and Prime Minister of Israel
 1943. Tariq Ali - British author and historian of Pakistani origin
 Dramatist and poet Joala Prasad Barak was born on 21 October 1863 in Sitapur (Uttar Pradesh), India.
 1960s - Syed President Uddin Shah Rashdi - The spiritual leader of the Syrians is the son of Syed Shah Mardan Shah (Secondary) Syed Sikander Ali Shah Rashdi  You are active in Pakistani politics and were a member of the National Assembly of Pakistan. You participated in the elections from the constituency NA-216 (Khairpur) three times in 2002 and 2008 and won three times.  You belong to Pakistan Muslim League (F).  And you are the current head of this party.
 1833 - Alfred Nobel is a Swedish chemist, engineer, innovator, military war equipment manufacturer, and inventor of dynamite.  He bought the "Buffos" steel mill and turned it into a major Swedish military warfare manufacturing company.  In his will he devoted much of his wealth to the Nobel Prize.  Also named after the synthetic element "Nobelium". Alfred Noble was the third son of Emmanuel Noble and Andrea Ehlesel Noble and was born on October 21, 1833 in Stockholm, Sweden.  Later he moved to St. Petersburg, Russia with his family.  Here his father started making torpedoes, plywood was also his father's invention.  Alfred Noble studied chemistry with Professor Nikolai Nikolaevich Zinn and moved to the United States to study chemistry at the age of 18 for 4 years.  Here he also worked for a while with John Erickson.  In 1859 his father's factory moved under the supervision of his other brother, Ludwick Noble, who greatly expanded the factory.  After bankruptcy of his family business, Alfred returned to Sweden with his father and devoted himself to the study of explosives, especially for its safe preparation.  On September 3, 1864, a huge explosion occurred in his factory, killing five people, including his younger brother, Emel.  Alfred Nobel founded the Nobel Prize in 1895 while writing his will and devoted a large part of his wealth to running the award.  Since 1901 the Nobel Prize has begun to be given to men and women of outstanding service in the fields of physics, chemistry, medicine, literature and peace. Although Alfred remained unmarried all his life, his biographer wrote at least three of his associates.  Are.  Alfred's first relationship was with a Russian girl Alexandra in Russia, who rejected her marriage message.  In 1876, Beirutha Kinsky became its secretary, but shortly after that, he abandoned her and married "Barth Arthur Gundakar Shuttens".  Although his relationship with Alfred was short lived, he kept Alfred's correspondence up until his death in 1896.  It is also said that he had decided to keep the Nobel Prize for peace in his will.  The Peace Nobel Prize of 1906 was given to Beirutha von Schutten on her efforts to make peace. Along with Sofia, a flower girl from Vienna, who was married to Fred Nobel's third and longest 18 years.  In many of his letters, Alfred also called it "Madame Sofia Noble."
 1937 - Farooq Abdullah  Kashmiris are politicians.  He served as the Chief Minister of Jammu and Kashmir on several occasions since 1982 and served as the Minister of New and Renewable Energy between 2009 and 2014.  He is the father of former Jammu and Kashmir Chief Minister Omar Abdullah.  Farooq Abdullah was born in the house of Shaykh Abdullah and Begum Akbar Jahan, the proposed politician and head of the National Conference.  He attended Tandel Buscoe School and later received his MBBS degree from SMS Medical College, Jaipur.  He then traveled to the UK for a medical practice. He married Molly, a British-born nurse.  They have one son, Omar and three daughters Safia, Hina and Sara.  His son Omar Abdullah was a member of the Lok Sabha and was the Chief Minister of Jammu and Kashmir, thus involved in state and national politics.  Sara was married to Congress politician Sachin Pilot.  Abdullah was elected unopposed from the Lok Sabha constituency in Srinagar in the 1980 general elections.  When Abdullah stepped into the political arena of Jammu and Kashmir, he was appointed the president of the National Conference in August 1981.  His main qualification was that he was the son and heir of Sheikh Abdullah.  After the death of his father in 1982, Farooq Abdullah became the Chief Minister of the state.  In 1984, a group of the National Conference, chaired by his brother-in-law Ghulam Mohammad Shah, split into pieces that ruled his government and he was fired.  Later, Shah Sahib became the Chief Minister with the continued support of the Congress. In 1986, GM Shah's government was ousted after communal riots in South Kashmir and at a new national conference, the Congress government's Abdullah became the Chief Minister.  Sworn in as  New elections were held in 1987 and the National Conference Congress Alliance won by fraud.
 Died.
 2002 -  Harbhajan Singh - Punjabi poet, scholar, writer, critic, cultural commentator and translator.  Written in detail on the Vedas.  Harbhajan Singh holds a degree in Hindi and English from the University of Delhi, after which he chose "Hindi Poetry" for his doctorate degree.  He wrote his PhD dissertation in a warm script.  His academic and literary interests shifted to English, Punjabi and Hindi.  In 1984, the visiting guest professor was outgoing. Later, the guest guest was associated with the professor's teaching at the Indian Institute of Technology, University of Technology, Grunanak Deo University, Jamun University and Guwahati University.  Harbhajan Singh worked with Professor Harbachan Singh on the Board of Anthropology and Linguistics of Modern Indian Languages.  He continued to study and train with his teachers Rehman Din, Lala Saroj Bhavan, Dr. Mohan Singh Deewana and Dr. Nigandra and was impressed by his academic ability.  Apart from this, he is also known for his many religious, literary and literary personalities such as Gronank, Guru Arjun Dev, Shah Hussain Madhu Lal, Heirs Shah, Bulahe Shah, Mir Taqi Mir, Lorca, Rabindath Tagore, Nr.  M Rashid, Faiz Ahmed Faiz and Purna Singh remained impressed.  Atar Singh, Tarlok Singh Kanwar, Atma Jit Singh, Manohar Kur Gul and Sinder Singh completed their doctoral dissertations under his supervision.  Harbhajan Singh authored nineteen (19) books on literary history and fourteen (14) books on other topics and translations.  His seventeen (17) poetry collections have been published.  In particular, his Punjabi creation "The Wood Lost in the Desert" (Wooden Desert in the Desert) gained a lot of fame.  Harbhajan Singh was a very slow-tempered man.  The very simple nature and the friendliness of his personality was the highlight of his personality.  The Urdu-speaking class is less familiar with their intellectual, literary and poetic accomplishments.
 2012 ... Yash Chopra (born 27 September 1932). Famous director of Hindi film industry, filmmaker, series, sometimes, moonlight and heart is crazy, bride will take heart, moment, Dhoom 2, New York and Lord made.  Couples, like superhero films, patronize them.  Yash Chopra, who has always been central to the role of women in his films, has been honored with many important honors, including grandfathering Phalke.  In the past, the government of France, Switzerland and the United Kingdom have also honored Yash Chopra by acknowledging his film services.  He was nominated for the Best Filmmaker honor at the 2009 Korea Festival.
 1931 - Mirza Hadi Raswas, author of the 'Amaro Jan Jan Ada', died on October 21, 1931. Mirza Mohammad Hadi Riswa (1857 to October 21, 1931) is an Urdu poet and author of fiction (mainly religion, philosophy, and astronomy).  On topics that he specializes in Urdu, Persian, Arabic, Hebrew, English, Latin, and Greek.  His most famous novel, Amaro Jan Jan, was published in 1905, which is considered to be his first.  This novel revolves around the life of a well-known prostitute and poet, Amrau Jan, later a Pakistani film, Amrau Jan (1972), and became the basis for two Indian films, Amrao Jan (1981) and Amrao Jan (2006).  ۔  The novel was also based on a Pakistani TV serial that was aired in 2003.
 On October 21, 1957, renowned musician and singer teacher Mubarak Ali Khan died in Karachi.  He was the son of teacher Ali Bakhsh Khan and younger brother of teacher Barkat Ali Khan and teacher elder Ghulam Ali Khan.  Mubarak Ali Khan was born in Lahore in 1917.  In 1938, he became associated with the film world and worked as a hero and singer in the films Empress and Sohni Kumaran.  After the establishment of Pakistan, he also composed music for two films Du Tears and Shalimar.  He was a student of his father Ustad Ali Bakhsh Khan, older brother Ustad Bhai Ghulam Ali Khan and teacher Sardar Khan in Delhi.  Teacher Mubarak Ali Khan introduced hundreds of people to Komosaki education.  He is buried in Miani Sahib Cemetery in Lahore

16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ

16 اکتوبر 1952

16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ ہے۔ اس روز دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان کے ٹیسٹ سفر کی ابتدا ہوئی۔( اب فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کا نام ارون جیٹلی اسٹیڈیم رکھا جاچکا ہے)

ٹیسٹ کرکٹ کا استحقاق ملنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلے سرکاری دورے کے لئے پڑوسی ملک بھارت کا انتخاب کیا۔ عبدالحفیظ کاردار کو پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ان کی قیادت میں بھارت کے دورے کے لئے منتخب کی جانے والی 17 رکنی ٹیم میں نذر محمد، حنیف محمد، وزیر محمد، وقار حسن، امتیاز احمد، مقصود احمد، انورحسین، امیر الٰہی، محمود حسین، خان محمد، فضل محمود، اسرار علی، خورشید شیخ، خالد قریشی، ذوالفقار احمد اور روسی ڈنشا شامل تھے۔

بعد ازاں خان محمد کے ان فٹ ہوجانے کے نتیجے میں نوجوان خالد عباداللہ کو بھارت طلب کیا گیا تاہم انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع 12 سال بعد ملا۔

انہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔ پاکستان ٹیم میں شامل عبدالحفیظ کاردار اور امیرالٰہی ٹیسٹ کرکٹ میں غیرمنقسم ہندوستان کی نمائندگی کر چکے تھے۔

حنیف محمد ٹیم کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے اور اسوقت وہ 18 سال کے بھی نہیں ہوئے تھے۔ جبکہ 44 سالہ امیر الٰہی سب سے سینئر کھلاڑی تھے۔

عام خیال یہ تھا کہ پاکستانی کھلاڑی اپنی ناتجربہ کاری کے سبب بھارتی ٹیم کے لئے ترنوالہ ثابت ہوں گے لیکن ’بے بی آف ٹیسٹ کرکٹ‘ نے شائقین اور مبصرین کے اندازے غلط ثابت کردیئے۔ سات ہفتے کے اس دورے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو اگرچہ ٹیسٹ سیریز میں دو ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی کھلاڑیوں خصوصاً حنیف محمد، فضل محمود، نذر محمد، وقار حسن، عبدالحفیظ کاردار، امتیاز احمد اور محمود حسین سخت جاں حریف کے طور پر سامنے آئے۔

پاکستان نے دورے کی ابتدا امرتسر میں نارتھ زون کے خلاف حنیف محمد کی دونوں اننگز کی سنچریوں کے ساتھ کی۔

16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ ہے۔ اس روز دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان کے ٹیسٹ سفر کی ابتدا ہوئی۔

خان محمد نے پنکج رائے کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ نذر محمد پاکستان کی جانب سے پہلی گیند کھیلنے، پہلا رن بنانے اور پہلا کیچ لینے والے کرکٹر بنے۔ حنیف محمد نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پہلی نصف سنچری بنائی۔ وہ 17 سال اور 300 دن کی عمر میں اسوقت ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے کم عمر کرکٹر تھے۔

تاہم چند انفرادی اعزازات کے باوجود پاکستان کو اپنے اولین ٹیسٹ میں اننگز اور 70 رنز سے شکست سے دوچار ہونا پڑا جس کا بڑا سبب لیفٹ آرم اسپنر ونومنکڈ کی تباہ کن بولنگ تھی جس نے لالہ امرناتھ کی بھارتی ٹیم کو سرخرو کردیا۔

ونومنکڈ نے پہلی اننگز میں صرف 52 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری اننگز میں 79 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے صرف تین روز بعد 23 اکتوبر 1952 کو لکھنؤ میں شروع ہونے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میں اننگز اور 43 رنز سے حساب بے باق کر کے دنیائے کرکٹ کو حیران کردیا۔

ایسی ٹیم کی طرف سے کہ جس کا یہ محض دوسرا ٹیسٹ تھا یہ ایک شاندار کارکردگی تھی۔ لکھنؤ کی یونیورسٹی گراؤنڈ میں پاکستان کی اس یادگار جیت کے مرکزی کردار فضل محمود اور نذر محمد تھے۔

نذر محمد نے بیٹنگ میں اپنی ثابت قدمی سے جیت کی بنیاد رکھی تو فضل محمود نے اپنی خطرناک سوئنگ بولنگ سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ نذر محمد نے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی جو اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ وہ اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے۔ ایک اوراعزاز نذر محمد نے یہ بھی حاصل کیا کہ وہ بیٹنگ اور فیلڈنگ کر کے ٹیسٹ میچ کے تمام دن میدان میں موجود رہنے والے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے۔

بھارتی بلے بازوں کو پہلی مرتبہ فضل محمود کے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے یونیورسٹی گراؤنڈ پر بچھی میٹنگ وکٹ پر اپنی سوئنگ بولنگ کا ایسا جادو جگایا کہ پہلی اننگز میں 52 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری اننگز میں 42 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے پاکستان کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔

تماشائی بھارت کی شکست پر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ انہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ پاکستانی بیٹسمین سینٹرل زون، ویسٹ زون اور ممبئی کے خلاف سائیڈ میچز میں عمدہ پرفارمنس کے بعد برابورن اسٹیڈیم ممبئی میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں حیران کن طور پر ایک بار پھر ونومنکڈ اور سبھاش گپتے کی مؤثر اسپن بولنگ کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے۔

وقار حسن اور حنیف محمد کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین انہیں اعتماد سے نہ کھیل سکا۔ حنیف محمد صرف چار رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے اور وقارحسن نے پہلی اننگز میں 81 اور دوسری اننگز میں 65 رنز کی خوبصورت بیٹنگ سے قابل اعتماد بیٹسمین ہونے کا بھرپور ثبوت دیا۔

پاکستانی بولنگ وجے ہزارے اور پولی امریگر کی سنچریوں تلے دب کر رہ گئی۔ بھارت نے 10 وکٹوں کی جیت سے سیریز میں دو ایک کی برتری حاصل کر لی جو فیصلہ کن ثابت ہوئی کیونکہ مدراس اور کلکتہ میں کھیلے گئے ٹیسٹ برابری پر ختم ہوگئے تھے۔

مدراس میں بارش نے پاکستان کی جیت کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ کپتان کاردار، ذوالفقار احمد اور وقار حسن کی عمدہ بیٹنگ کے بل پر پاکستان نے 344 بنائے تھے جس کے جواب میں بھارت کی پوزیشن 30 رنز پر 3 وکٹیں گرجانے سے بہت خراب ہو گئی تھی، جسے پولی امریگر اور ایم ایل آپٹے نے ذمہ دارانہ بیٹنگ سے بہتر بنایا۔

175 رنز 6 وکٹ کے اسکور پر بارش میزبان ٹیم کی مدد کو آگئی۔ کلکتہ ٹیسٹ وقارحسن کی 97 رنز کی عمدہ اننگز اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے دیپک شودھن کی سنچری کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔

دوسری اننگز میں وقارحسن اور فضل محمود کی پارٹنرشپ نے پاکستان کو مشکل سے نکالا جو صرف 12 رنز کی سبقت کے ساتھ 6 وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

سیریز ہارنے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے بہت عمدہ پرفارمنس دی جس نے مستقبل کے لئے پاکستان کی امیدوں اور حوصلوں کو بڑھا دیا۔ اس سیریز میں وقار حسن نے 3 نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ یعنی 357 رنز بنائے۔

بولنگ میں فضل محمود صرف 60ء25 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔ دورے کے تمام فرسٹ کلاس میچوں میں حنیف محمد نے 4 سنچریوں اور 3 نصف سنچریوں کی مدد سے 917 رنز بنا کر یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ کوتاہ قامت لیکن قد آور کھلاڑی ہیں۔ فضل محمود نے 25 اور محمود حسین نے 26 وکٹوں کے ساتھ اپنی دھاک بٹھائی۔

حنیف محمد کو اسی دورے میں وکٹ پر انہماک اور ثابت قدمی سے متاثر ہو کر مشہور کرکٹ کمنٹیٹرز ڈاکٹر وجے آنند ( مہاراج کمار آف وزیانگرم ) اور طالع یار خان نے ’لٹل ماسٹر‘ کے خطاب سے پکارا جو ان کی زندگی کا حصہ بن گیا۔

16 اکتوبر 1951 یوم شہادت قائد ملت خان لیاقت علی خان

کہیں نہیں ہے، کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

16  اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔

مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ فضا میں مائیکرو فون کی گونج لحظہ بھر کو معلق رہی۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ’دا چا ڈزے او کڑے؟ اولہ۔‘ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ ’گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!‘

نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلےپندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔

وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔

لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پُراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ذیل میں ہم اسی سازش سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سید اکبر نے ہزاروں کے مجمعے میں لیاقت علی پر گولی چلائی۔ اس کی گرفتاری سے ساری سازش کا تانا بانا سامنے آ جاتا۔ قاتل کے اردگرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر کے اس کا پستول چھین لیا تھا لیکن اسے پولیس نے موقع ہی پر مار دیا۔ دنیا بھر میں سیاسی قتل چھپانے کا یہ معروف طریقہ ہے کہ کسی شخص کو لالچ اور ترغیب کی مدد سے قتل پر آمادہ کیا جائے اور پھر جائے واردات کی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قاتل کو ختم کر دیا جائے تا کہ اصل سازش کا سراغ نہ مل سکے۔

وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے اس قتل کی تفتیش انسپکٹر جنرل پولیس اعتزاز الدین کے سپرد کی۔ اعتزاز الدین نے بیگم لیاقت علی کو بتایا تھا کہ وہ اصل مجرموں کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ 26 اگست 1952ء کو وہ لیاقت علی کیس کی تحقیقات کے لیے پاکستان ائیر فورس کے طیارے میں پشاور جا رہے تھے کہ جہلم کے قریب جہاز کو آگ لگ گئی۔ اعتزاز الدین سمیت تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے مقدمہ کے متعلق اہم کاغذات نذر آتش ہو گئے۔

پاکستان کے سابق کنٹرولر جنرل مشتاق احمد وجدی کے مطابق ’اعتزاز الدین سے جب بھی بات ہوئی تو صرف اتنا کہا کہ میاں، موت سر پر کھیل رہی ہے۔ آخر وہ ہوائی جہاز کے حادثے کا شکار ہو گئے۔‘

لیاقت علی خاں کے قاتل سید اکبر کو جائے واردات پر سرکاری پستول سے ہلاک کرنے والے انسپکٹر محمد شاہ اچانک بہت مالدار ہو گئے۔ انہوں نے پولیس کی ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد لائل پور میں کپڑے کا کارخانہ لگا لیا۔ کچھ عرصے بعد ایک روز محمد شاہ کو نامعلوم افراد نے ضلع گجرات کے گاؤں مدینہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔انسپکٹر محمد شاہ کے قتل کی خبر میں سید اکبر پر گولی چلانے کا تناظر بیان کرنے پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کو دھمکیاں دیں۔

غلام نبی پٹھان نے مغربی پاکستان کے وزیر کی حیثیت میں چیف سیکرٹری سید فدا حسن کو فون کیا کہ آپ لیاقت علی قتل کیس کی فائل میرے پاس بھیج دیں۔ فدا حسین نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ غلام نبی پٹھان کے اصرار پر جب انہیں فائل بھیجی گئی تو اس میں کوئی کاغذ نہیں تھا۔ فدا حسن کے مطابق غلام محمد کے زمانے میں مشتاق گورمانی (گورنر مغربی پاکستان) نے یہ فائل منگوائی تھی۔ واپس آئی تو خالی تھی۔

فروری 1958ء میں ازالہ حیثیت عرفی کا مشہور مقدمہ گورمانی بنام زیڈ اے سلہری لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ ایک نکتے کی تصدیق کے لیے عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو حکم دیا کہ لیاقت علی کے قتل کے متعلق پولیس کی تفتیشی فائل عدالت کو مہیا کی جائے۔آٹھ مارچ کو سی آئی ڈی نے عدالت کو مطلع کیا کہ تلاش کے باوجود اس فائل کا کوئی پتہ نہیں چل سکا لہٰذا حکومت اسے پیش کرنے سے معذور ہے۔

16 اکتوبر1951ء کی شام ریڈیو پاکستان نے کمپنی باغ راولپنڈی سے وزیر اعظم لیاقت علی کی تقریر براہِ راست نشر کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ریڈیو کے نشریاتی آلات سٹیج پر رکھے ایک میز پر نصب تھے۔ وزیرِ اعظم کے قتل کے بعد یہ میز الٹ گئی مگر ریکارڈنگ کا عمل جاری رہا۔ ایک منٹ اور تینتالیس سیکنڈ کی اس ریکارڈنگ میں مختلف گولیوں کی آواز اور بھگڈر کا احوال محفوظ ہو گیا۔ یہ ریکارڈنگ انکوائری کمیشن میں متعدد مواقع پر پیش کی گئی۔ ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں لیاقت علی کی بہت سی تقاریر محفوظ ہیں مگر پاکستان کے کسی ریڈیو سٹیشن پر پونے دو منٹ کی یہ اہم ریکارڈنگ موجود نہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس اعتزاز الدین کے بعد لیاقت علی کے قتل کی تفتیش ڈی آئی جی سرحد اے بی اعوان کے سپرد کی گئی۔ اے بی اعوان کے مطابق جب اس تفتیش کی مکمل رپورٹ محمد علی بوگرہ کو پیش کی گئی تو انہوں نے اس پر کوئی توجہ دیے بغیر نہایت بے رخی سے صرف اتنا کہا کہ حکومت اس ضمن میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

محمد علی بوگرہ نے برطانوی سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک افسر مسٹر یورین کو لیاقت قتل کیس کی تفتیش کے لیے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کا عہدہ دے کر افسر بکار خاص مقرر کیا۔ انہوں نے سات ماہ تک تحقیقات کرنے کے بعد 6 جون 1955ء کو وزیر داخلہ جنرل اسکندر مرزا کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ یہ رپورٹ کبھی منظرِ عام پر نہ آ سکی ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ریکارڈز آفیسر کے مطابق نیو سکارٹ لینڈ یارڈ کے ریکارڈ میں لیاقت علی قتل کی انکوائری سے متعلق کوئی مواد موجود نہیں۔

13 اکتوبر 1240 یوم وفات رضیہ سلطان

رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ جن کا شاہی نام جلالۃ الدین رضیہ تھا، جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی واحد خاتون تھیں۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور13 اکتوبر  1240ء کو  قتل کر دیا گیا۔۔ وہ ترک سلجوق نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔

سلطنت دہلی کے خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین التتمش ان کے والد تھے جنہوں نے اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے رضیہ کو اپنا جانشیں قرار دیا۔ تاہم التتمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے تخت پر قبضہ کر لیا اور 7 ماہ تک حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطانہ نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔

رضیہ کے مخالفین نے جب دیکھا کہ دہلی کے عوام رضیہ کے جاں نثار ہیں تو انہوں نے دیگر علاقوں میں سازشوں کے ذریعے بغاوتیں پھیلائیں۔ سلطنت کی اہم شخصیات نےبھٹنڈہ کے صوبے دار ملک التونیہ کی قیادت میں رضیہ کے خلاف بغاوت کی۔ رضیہ سلطان ان کی بغاوت کچلنے کے لیے دہلی سے فوج لے کر نکلی مگر اس کی فوج نے رضیہ کے خلاف باغیوں کا ساتھ دیا۔ رضیہ کا وفادار جرنیل امیر جمال الدین یاقوت مارا گیا رضیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ باغیوں نے رضیہ کے بھائی معز الدین بہرام کو بادشاہ بنا ڈالا۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لیے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لیے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔ رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لیے کیتھل یا کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کے ترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو “رجی سجی “کی درگاہ کہاجاتا ہے۔ یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے۔ لوگ منتیں مانتے ہیں۔

واضح رہے کہ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔

رضیہ سلطانہ کی سوانح کی بنیاد بالی وڈ میں دو فلمیں بنیں۔

1961 – رضیہ سلطانہ - ہدایتکار، اداکار جئے راج، نروپا رائے اور کَرن تھے۔

1983 – رضیہ سلطان - ہدایتکار کمال امروہی، اداکاردھرمیندر اور ہیما مالنی تھے

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...