Ad3
15 جنوری 1875یوم پیدائش عبد العزيز بن عبد الرحمن
21 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں October 21 In the mirror of history
16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ
16 اکتوبر 1952
16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ ہے۔ اس روز دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان کے ٹیسٹ سفر کی ابتدا ہوئی۔( اب فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کا نام ارون جیٹلی اسٹیڈیم رکھا جاچکا ہے)
ٹیسٹ کرکٹ کا استحقاق ملنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلے سرکاری دورے کے لئے پڑوسی ملک بھارت کا انتخاب کیا۔ عبدالحفیظ کاردار کو پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
ان کی قیادت میں بھارت کے دورے کے لئے منتخب کی جانے والی 17 رکنی ٹیم میں نذر محمد، حنیف محمد، وزیر محمد، وقار حسن، امتیاز احمد، مقصود احمد، انورحسین، امیر الٰہی، محمود حسین، خان محمد، فضل محمود، اسرار علی، خورشید شیخ، خالد قریشی، ذوالفقار احمد اور روسی ڈنشا شامل تھے۔
بعد ازاں خان محمد کے ان فٹ ہوجانے کے نتیجے میں نوجوان خالد عباداللہ کو بھارت طلب کیا گیا تاہم انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع 12 سال بعد ملا۔
انہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔ پاکستان ٹیم میں شامل عبدالحفیظ کاردار اور امیرالٰہی ٹیسٹ کرکٹ میں غیرمنقسم ہندوستان کی نمائندگی کر چکے تھے۔
حنیف محمد ٹیم کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے اور اسوقت وہ 18 سال کے بھی نہیں ہوئے تھے۔ جبکہ 44 سالہ امیر الٰہی سب سے سینئر کھلاڑی تھے۔
عام خیال یہ تھا کہ پاکستانی کھلاڑی اپنی ناتجربہ کاری کے سبب بھارتی ٹیم کے لئے ترنوالہ ثابت ہوں گے لیکن ’بے بی آف ٹیسٹ کرکٹ‘ نے شائقین اور مبصرین کے اندازے غلط ثابت کردیئے۔ سات ہفتے کے اس دورے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو اگرچہ ٹیسٹ سیریز میں دو ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستانی کھلاڑیوں خصوصاً حنیف محمد، فضل محمود، نذر محمد، وقار حسن، عبدالحفیظ کاردار، امتیاز احمد اور محمود حسین سخت جاں حریف کے طور پر سامنے آئے۔
پاکستان نے دورے کی ابتدا امرتسر میں نارتھ زون کے خلاف حنیف محمد کی دونوں اننگز کی سنچریوں کے ساتھ کی۔
16 اکتوبر1952 پاکستان کرکٹ کی یادگار تاریخ ہے۔ اس روز دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان کے ٹیسٹ سفر کی ابتدا ہوئی۔
خان محمد نے پنکج رائے کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ نذر محمد پاکستان کی جانب سے پہلی گیند کھیلنے، پہلا رن بنانے اور پہلا کیچ لینے والے کرکٹر بنے۔ حنیف محمد نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پہلی نصف سنچری بنائی۔ وہ 17 سال اور 300 دن کی عمر میں اسوقت ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے کم عمر کرکٹر تھے۔
تاہم چند انفرادی اعزازات کے باوجود پاکستان کو اپنے اولین ٹیسٹ میں اننگز اور 70 رنز سے شکست سے دوچار ہونا پڑا جس کا بڑا سبب لیفٹ آرم اسپنر ونومنکڈ کی تباہ کن بولنگ تھی جس نے لالہ امرناتھ کی بھارتی ٹیم کو سرخرو کردیا۔
ونومنکڈ نے پہلی اننگز میں صرف 52 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری اننگز میں 79 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے صرف تین روز بعد 23 اکتوبر 1952 کو لکھنؤ میں شروع ہونے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میں اننگز اور 43 رنز سے حساب بے باق کر کے دنیائے کرکٹ کو حیران کردیا۔
ایسی ٹیم کی طرف سے کہ جس کا یہ محض دوسرا ٹیسٹ تھا یہ ایک شاندار کارکردگی تھی۔ لکھنؤ کی یونیورسٹی گراؤنڈ میں پاکستان کی اس یادگار جیت کے مرکزی کردار فضل محمود اور نذر محمد تھے۔
نذر محمد نے بیٹنگ میں اپنی ثابت قدمی سے جیت کی بنیاد رکھی تو فضل محمود نے اپنی خطرناک سوئنگ بولنگ سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ نذر محمد نے پاکستان کی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی جو اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ وہ اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے۔ ایک اوراعزاز نذر محمد نے یہ بھی حاصل کیا کہ وہ بیٹنگ اور فیلڈنگ کر کے ٹیسٹ میچ کے تمام دن میدان میں موجود رہنے والے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے۔
بھارتی بلے بازوں کو پہلی مرتبہ فضل محمود کے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے یونیورسٹی گراؤنڈ پر بچھی میٹنگ وکٹ پر اپنی سوئنگ بولنگ کا ایسا جادو جگایا کہ پہلی اننگز میں 52 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور دوسری اننگز میں 42 رنز کے عوض 7 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے پاکستان کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔
تماشائی بھارت کی شکست پر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ انہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ پاکستانی بیٹسمین سینٹرل زون، ویسٹ زون اور ممبئی کے خلاف سائیڈ میچز میں عمدہ پرفارمنس کے بعد برابورن اسٹیڈیم ممبئی میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں حیران کن طور پر ایک بار پھر ونومنکڈ اور سبھاش گپتے کی مؤثر اسپن بولنگ کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے۔
وقار حسن اور حنیف محمد کے علاوہ کوئی بھی بیٹسمین انہیں اعتماد سے نہ کھیل سکا۔ حنیف محمد صرف چار رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے اور وقارحسن نے پہلی اننگز میں 81 اور دوسری اننگز میں 65 رنز کی خوبصورت بیٹنگ سے قابل اعتماد بیٹسمین ہونے کا بھرپور ثبوت دیا۔
پاکستانی بولنگ وجے ہزارے اور پولی امریگر کی سنچریوں تلے دب کر رہ گئی۔ بھارت نے 10 وکٹوں کی جیت سے سیریز میں دو ایک کی برتری حاصل کر لی جو فیصلہ کن ثابت ہوئی کیونکہ مدراس اور کلکتہ میں کھیلے گئے ٹیسٹ برابری پر ختم ہوگئے تھے۔
مدراس میں بارش نے پاکستان کی جیت کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ کپتان کاردار، ذوالفقار احمد اور وقار حسن کی عمدہ بیٹنگ کے بل پر پاکستان نے 344 بنائے تھے جس کے جواب میں بھارت کی پوزیشن 30 رنز پر 3 وکٹیں گرجانے سے بہت خراب ہو گئی تھی، جسے پولی امریگر اور ایم ایل آپٹے نے ذمہ دارانہ بیٹنگ سے بہتر بنایا۔
175 رنز 6 وکٹ کے اسکور پر بارش میزبان ٹیم کی مدد کو آگئی۔ کلکتہ ٹیسٹ وقارحسن کی 97 رنز کی عمدہ اننگز اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے دیپک شودھن کی سنچری کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔
دوسری اننگز میں وقارحسن اور فضل محمود کی پارٹنرشپ نے پاکستان کو مشکل سے نکالا جو صرف 12 رنز کی سبقت کے ساتھ 6 وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔
سیریز ہارنے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے بہت عمدہ پرفارمنس دی جس نے مستقبل کے لئے پاکستان کی امیدوں اور حوصلوں کو بڑھا دیا۔ اس سیریز میں وقار حسن نے 3 نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ یعنی 357 رنز بنائے۔
بولنگ میں فضل محمود صرف 60ء25 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔ دورے کے تمام فرسٹ کلاس میچوں میں حنیف محمد نے 4 سنچریوں اور 3 نصف سنچریوں کی مدد سے 917 رنز بنا کر یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ کوتاہ قامت لیکن قد آور کھلاڑی ہیں۔ فضل محمود نے 25 اور محمود حسین نے 26 وکٹوں کے ساتھ اپنی دھاک بٹھائی۔
حنیف محمد کو اسی دورے میں وکٹ پر انہماک اور ثابت قدمی سے متاثر ہو کر مشہور کرکٹ کمنٹیٹرز ڈاکٹر وجے آنند ( مہاراج کمار آف وزیانگرم ) اور طالع یار خان نے ’لٹل ماسٹر‘ کے خطاب سے پکارا جو ان کی زندگی کا حصہ بن گیا۔
16 اکتوبر 1951 یوم شہادت قائد ملت خان لیاقت علی خان
کہیں نہیں ہے، کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
16 اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔
مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ فضا میں مائیکرو فون کی گونج لحظہ بھر کو معلق رہی۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ’دا چا ڈزے او کڑے؟ اولہ۔‘ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ ’گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!‘
نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلےپندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔
وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔
لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پُراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ذیل میں ہم اسی سازش سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سید اکبر نے ہزاروں کے مجمعے میں لیاقت علی پر گولی چلائی۔ اس کی گرفتاری سے ساری سازش کا تانا بانا سامنے آ جاتا۔ قاتل کے اردگرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر کے اس کا پستول چھین لیا تھا لیکن اسے پولیس نے موقع ہی پر مار دیا۔ دنیا بھر میں سیاسی قتل چھپانے کا یہ معروف طریقہ ہے کہ کسی شخص کو لالچ اور ترغیب کی مدد سے قتل پر آمادہ کیا جائے اور پھر جائے واردات کی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قاتل کو ختم کر دیا جائے تا کہ اصل سازش کا سراغ نہ مل سکے۔
وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے اس قتل کی تفتیش انسپکٹر جنرل پولیس اعتزاز الدین کے سپرد کی۔ اعتزاز الدین نے بیگم لیاقت علی کو بتایا تھا کہ وہ اصل مجرموں کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ 26 اگست 1952ء کو وہ لیاقت علی کیس کی تحقیقات کے لیے پاکستان ائیر فورس کے طیارے میں پشاور جا رہے تھے کہ جہلم کے قریب جہاز کو آگ لگ گئی۔ اعتزاز الدین سمیت تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے مقدمہ کے متعلق اہم کاغذات نذر آتش ہو گئے۔
پاکستان کے سابق کنٹرولر جنرل مشتاق احمد وجدی کے مطابق ’اعتزاز الدین سے جب بھی بات ہوئی تو صرف اتنا کہا کہ میاں، موت سر پر کھیل رہی ہے۔ آخر وہ ہوائی جہاز کے حادثے کا شکار ہو گئے۔‘
لیاقت علی خاں کے قاتل سید اکبر کو جائے واردات پر سرکاری پستول سے ہلاک کرنے والے انسپکٹر محمد شاہ اچانک بہت مالدار ہو گئے۔ انہوں نے پولیس کی ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد لائل پور میں کپڑے کا کارخانہ لگا لیا۔ کچھ عرصے بعد ایک روز محمد شاہ کو نامعلوم افراد نے ضلع گجرات کے گاؤں مدینہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔انسپکٹر محمد شاہ کے قتل کی خبر میں سید اکبر پر گولی چلانے کا تناظر بیان کرنے پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کو دھمکیاں دیں۔
غلام نبی پٹھان نے مغربی پاکستان کے وزیر کی حیثیت میں چیف سیکرٹری سید فدا حسن کو فون کیا کہ آپ لیاقت علی قتل کیس کی فائل میرے پاس بھیج دیں۔ فدا حسین نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ غلام نبی پٹھان کے اصرار پر جب انہیں فائل بھیجی گئی تو اس میں کوئی کاغذ نہیں تھا۔ فدا حسن کے مطابق غلام محمد کے زمانے میں مشتاق گورمانی (گورنر مغربی پاکستان) نے یہ فائل منگوائی تھی۔ واپس آئی تو خالی تھی۔
فروری 1958ء میں ازالہ حیثیت عرفی کا مشہور مقدمہ گورمانی بنام زیڈ اے سلہری لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ ایک نکتے کی تصدیق کے لیے عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو حکم دیا کہ لیاقت علی کے قتل کے متعلق پولیس کی تفتیشی فائل عدالت کو مہیا کی جائے۔آٹھ مارچ کو سی آئی ڈی نے عدالت کو مطلع کیا کہ تلاش کے باوجود اس فائل کا کوئی پتہ نہیں چل سکا لہٰذا حکومت اسے پیش کرنے سے معذور ہے۔
16 اکتوبر1951ء کی شام ریڈیو پاکستان نے کمپنی باغ راولپنڈی سے وزیر اعظم لیاقت علی کی تقریر براہِ راست نشر کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ریڈیو کے نشریاتی آلات سٹیج پر رکھے ایک میز پر نصب تھے۔ وزیرِ اعظم کے قتل کے بعد یہ میز الٹ گئی مگر ریکارڈنگ کا عمل جاری رہا۔ ایک منٹ اور تینتالیس سیکنڈ کی اس ریکارڈنگ میں مختلف گولیوں کی آواز اور بھگڈر کا احوال محفوظ ہو گیا۔ یہ ریکارڈنگ انکوائری کمیشن میں متعدد مواقع پر پیش کی گئی۔ ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں لیاقت علی کی بہت سی تقاریر محفوظ ہیں مگر پاکستان کے کسی ریڈیو سٹیشن پر پونے دو منٹ کی یہ اہم ریکارڈنگ موجود نہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس اعتزاز الدین کے بعد لیاقت علی کے قتل کی تفتیش ڈی آئی جی سرحد اے بی اعوان کے سپرد کی گئی۔ اے بی اعوان کے مطابق جب اس تفتیش کی مکمل رپورٹ محمد علی بوگرہ کو پیش کی گئی تو انہوں نے اس پر کوئی توجہ دیے بغیر نہایت بے رخی سے صرف اتنا کہا کہ حکومت اس ضمن میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
محمد علی بوگرہ نے برطانوی سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک افسر مسٹر یورین کو لیاقت قتل کیس کی تفتیش کے لیے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کا عہدہ دے کر افسر بکار خاص مقرر کیا۔ انہوں نے سات ماہ تک تحقیقات کرنے کے بعد 6 جون 1955ء کو وزیر داخلہ جنرل اسکندر مرزا کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ یہ رپورٹ کبھی منظرِ عام پر نہ آ سکی ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ریکارڈز آفیسر کے مطابق نیو سکارٹ لینڈ یارڈ کے ریکارڈ میں لیاقت علی قتل کی انکوائری سے متعلق کوئی مواد موجود نہیں۔
13 اکتوبر 1240 یوم وفات رضیہ سلطان
رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ جن کا شاہی نام جلالۃ الدین رضیہ تھا، جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی واحد خاتون تھیں۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور13 اکتوبر 1240ء کو قتل کر دیا گیا۔۔ وہ ترک سلجوق نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔
سلطنت دہلی کے خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین التتمش ان کے والد تھے جنہوں نے اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے رضیہ کو اپنا جانشیں قرار دیا۔ تاہم التتمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے تخت پر قبضہ کر لیا اور 7 ماہ تک حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطانہ نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔
رضیہ کے مخالفین نے جب دیکھا کہ دہلی کے عوام رضیہ کے جاں نثار ہیں تو انہوں نے دیگر علاقوں میں سازشوں کے ذریعے بغاوتیں پھیلائیں۔ سلطنت کی اہم شخصیات نےبھٹنڈہ کے صوبے دار ملک التونیہ کی قیادت میں رضیہ کے خلاف بغاوت کی۔ رضیہ سلطان ان کی بغاوت کچلنے کے لیے دہلی سے فوج لے کر نکلی مگر اس کی فوج نے رضیہ کے خلاف باغیوں کا ساتھ دیا۔ رضیہ کا وفادار جرنیل امیر جمال الدین یاقوت مارا گیا رضیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ باغیوں نے رضیہ کے بھائی معز الدین بہرام کو بادشاہ بنا ڈالا۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لیے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لیے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔ رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لیے کیتھل یا کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کے ترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو “رجی سجی “کی درگاہ کہاجاتا ہے۔ یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے۔ لوگ منتیں مانتے ہیں۔
واضح رہے کہ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔
رضیہ سلطانہ کی سوانح کی بنیاد بالی وڈ میں دو فلمیں بنیں۔
1961 – رضیہ سلطانہ - ہدایتکار، اداکار جئے راج، نروپا رائے اور کَرن تھے۔
1983 – رضیہ سلطان - ہدایتکار کمال امروہی، اداکاردھرمیندر اور ہیما مالنی تھے
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...