موسم ابر آلود نہ ہو تو سطح سمندر سے تین ہزار فٹ کی بلندی پر واقع قلعہ ملوٹ سے دریائے جہلم، چناب اور راوی کا الگ الگ منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ چکوال کے قصبہ ملوٹ میں واقع یہ قلعہ کٹاس راج کے معروف منادر سے بھی قدیم ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق ملوٹ راجدھانی کی بنیاد جنجوعہ قوم کے جد امجد راجہ مَل نے رکھی تھی اور یہ قلعہ بھی اسی نے تعمیر کروایا تھا۔ راجہ مَل 980ء میں ہندوستان کے شہر متھرا سے اس علاقے میں آیا جسے اُس وقت راج گڑھ، بعد میں ملکوٹ اور اب ملوٹ کہا جاتا ہے۔

راجہ مَل راٹھور، راجپوت اور پانڈوں کی اولاد میں سے تھا۔ 1017ء میں جب سلطان محمود غزنوی نے دریائے جہلم کے اس علاقے پر حملہ کیا تو راجہ مَل شکست کھا کر گرفتار ہو گیا۔

کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے سلوک سے متاثر ہو کر اُس نے اپنے گلے میں پہنا مذہبی نشان زناّ رجنجو (زنجیر) توڑ ڈالا اور اپنے قبیلے سمیت مسلمان ہو گیا اور اُس کا اسلامی نام حطیم الدین رکھا گیا۔ راجہ مَل کے چھ لڑکوں میں سے بیر اور جودھ کی اولاد اب بھی چکوال میں آباد ہے۔

راجہ بیر نے راجہ مَل کے بعد اقتدار سنبھالا جبکہ راجہ جودھ نے مکھیالہ راجدھانی کی بنیاد رکھی۔ 1185ء میں کابل کے حاکم معیز الدین نے ملوٹ پر حملہ کیا۔ 1398ء میں تیمور شاہ نے اور 1526ء میں ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو جنجوعوں نے ان کا ساتھ دیا۔ ظہیر الدین بابر نے تزک بابری میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ بابر جب یہاں آیا تو اُس وقت ملک ہست خان یہاں کا والی تھا۔

لگ بھگ ایک ہزار سال پُرانے قلعہِ ملوٹ کو ہندو شاہیا طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔ سرخ پتھروں کے استعمال اور اس کی دیواروں پر بنے نقش و نگار اور مورتیاں اس کے حسن کو جلا بخشتے ہیں۔ علاقے کے بلند ترین مقام پر واقع ہونے کے باعث یہاں ہمہ وقت تیز ہوائیں چلتی ہیں۔

اردگرد میں چونے کے پتھر کی بہتات ہے سو اس مقام کا درجہ حرارت ہمیشہ کم رہتا ہے۔ راجہ مَل کے دار الحکومت ملوٹ کے اس قلعے میں پہلے پہل مندر بنایا گیا تھا۔ تاریخی کتابوں کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد نے اس مندر کے اردگرد قلعہ بھی تعمیر کرایا تھا۔

تاریخی مقامات پر توجہ نہ دئیے جانے کے باعث ان کے نقوش مٹ رہے ہیں

قیام پاکستان تک قلعہ ملوٹ کی دیکھ بھال بالی ذات کے ہندو براہمن کرتے تھے مگر ہندوؤں کی علاقے سے ہجرت کے بعد اس کا کوئی پُرسان حال نہ ہے۔ تاریخ کے اس اہم ورق پر اب مقامی لوگوں کے مویشی چرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح نصف میل پر پھیلے قلعہ کسک کی حالت قلعہ ملوٹ سے بھی بدتر ہے۔

اس قلعے کو بھی راجہ مَل کی اولاد نے تعمیر کرایا تھا تاہم اس کا سن تعمیر صحیح طور پر معلوم نہیں ہے۔ سکھوں کے عہد میں اس کا والی جنجوعہ سردار سلطان فتح محمد خان کسک تھا۔ یہ قلعہ ایک بہت بڑی پہاڑی چٹان پر بنا ہوا ہے اور اس پر پہنچنا آسان نہیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق جنجوعہ فطرتاً بہادر اور جنگ جُو قوم تھے چنانچہ خالصہ راج کے دوران 1810ء میں جب سکھوں نے قلعے پر حملہ کیا تو اُنہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اورپھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے خود آکر اس قلعے کا محاصرہ کیا۔

جنجوعہ سپاہی بلندی پر واقع قلعے میں محصور ہوئے تو پانی کی کمی واقع ہو گئی جس کی وجہ سے انہیں ہتھیار ڈالنا پڑے۔ سلسلہ کوہستان نمک کی کانیں اس وقت جنجوعہ خاندان کے قبضے میں تھیں جن پر اب سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انہیں کچھ جاگیر، چار ہزار روپے سالانہ اور پچاس من نمک دینا منظور کیا، یہ خاندان 45 سال تک ہرن پور میں جلاوطنی کی زندگی گزارتا رہا اور پھر پنجاب میں انگریز قابض ہو گئے اور یوں قلعہ کسک اس کے بعد کبھی آباد نہ ہوا۔

اب بھی اس قلعے کی بیشتر دیواریں سلامت ہیں۔ پانی کا حوض اور ایک چبوترے پر بنی ہشت پہلو عمارت بھی کسی حد تک سلامت ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ضلع چکوال میں 70 کے قریب ایسے مقامات موجود ہیں جن کی تاریخ پانچ سو سال سے کئی سو سال تک پُرانی ہے۔ ان مقامات میں قدیم و جدید 14 قلعے اب تک معلوم ہوئے ہیں۔

ان قلعوں میں کٹاس، ملوٹ، نندنہ، کسک، ثمر قند، ہسولہ، ڈہلی، ہالہ، کرنگل، مکھیالہ، شاہ کوٹ، برالی اور گٹھانوالہ شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر قلعے قیام پاکستان کے بعد معدوم ہوئے ہیں۔

مشہور مورخ البیرونی جو یہاں کٹاس کی شکنتلا یونیورسٹی سے سنسکرت کی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا نے کتاب الہند میں بھی کچھ مقامات کا ذکر کیا ہے۔ البیرونی یہاں 1017ء سے 1031ء تک موجود رہا۔

دیگر نامور مورخین نے بھی اسی علاقے میں موجود آثار قدیمہ کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔

تاریخی اہمیت کے حامل ان قلعوں کے ساتھ ساتھ چکوال میں درجنوں دیگر تاریخی مقامات بھی موجود ہیں لیکن ان تمام مقامات کی حالت نہایت خستہ ہے اور اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ تاریخی ورثہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا۔