Ad3

Showing posts with label Fruit. Show all posts
Showing posts with label Fruit. Show all posts

تربوز

تربوز میں 90فیصدپانی اور 10فیصدفو لاد، پوٹاشیم،سوڈیم ،کیلشیم،فاسفورس، نشاستہ اور روغنی اجزاء شامل ہیں ۔جسم میں موجود پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے تربوز ایک بہترین پھل تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ سرخ خلیوں یا ہیموگلوبن کا لیول بڑھاتا ہے۔

ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ

ﭘﭙﯿﺘﺎ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﭙﺎﯾﺎ ‏( Papaya ‏) ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭼﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﭙﺎﺋﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﮔﺮﻡ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﺍﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﻦ ﮔﺎﺭﮈﻧﺰ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﮔﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻮ ﮔﺮﺍﻡ ﭘﭙﯿﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ 39 ﮐﯿﻠﻮﺭﯾﺰ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮧ ﮐﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﯾﺪﺍﺭ ، ﺭﺱ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺯﺭﺩ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﭘﮭﻞ ﮔﺮﻡ ﻣﺰﺍﺝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺗﻠﺦ ﮨﮯ۔ ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﻼﺩ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺱ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﭽﺎ ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﮔﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﭘﮭﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﮮ ، ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ، ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﯼ ، ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮐﮯ ، ﺳﻮﮈﯾﻢ ، ﮐﯿﻠﺸﯿﻢ ، ﺁﺋﺮﻥ ، ﻣﯿﮕﻨﯿﺸﯿﻢ ، ﺯﻧﮏ ، ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮨﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﺳﮯ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺴﺘﺎ ﭘﮭﻞ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﭘﮭﻞ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﻧﮏ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺑﻌﺾ ﺑﯿﻮﭨﯽ ﮐﻤﭙﻨﯿﺎﮞ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﻭﮈﮐﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﮧ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ﻧﮩﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﻓﺎﻟﺘﻮ ﭼﺮﺑﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭨﺎﻧﮏ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺾ ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺭﺍﻡ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﮏ ﯾﺎ ﺍﻣﻠﯽ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﻃﺒﯽ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﻓﻮﺍﺋﺪ
ﯾﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻈﺎﻡ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺪﮨﻀﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﻠﺐ ﮐﻮ ﻓﺮﺣﺖ ﺑﺨﺸﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮐﻮ ﭼﻤﮑﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺴﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺁﻧﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﮐﮯ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﭼﺮﺑﯽ ﮔﮭﻼﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﮐﯿﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺭﻧﮓ ﻭﺍﺭﻣﺰ ﮐﻮ !
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺑﺨﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻨﮕﯽ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﻟﻮﺗﮭﮍﮮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﺟﻤﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﻔﺎﯾﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
٭ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﺟﮕﺮ ‏( Cirrhosis ‏) ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ۔ﭘﺎﻧﭻ ﺳﮯ ﭼﮫ ﺑﯿﺞ ﮔﺮﯾﻨﮉ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺗﯿﺲ ﺩﻥ ﺗﮏ ﻟﺌﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮐﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻮﻣﺮ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﭘﮭﯿﭙﮭﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﺳﭩﯿﭧ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻟﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺮﺟﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﮐﺮ ﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺗﯿﺰ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﻭﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﮍﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺟﻠﺪ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﭼﻤﮑﺪﺍﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﭘﭙﯿﺘﺎ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﺼﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﺧﻢ ﺟﻠﺪ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔.

بیل گری

ایک پھل ہے اس کا اصل نام بیل ہے۔ اس کے گودے کو نکال کر خشک کر لیتے ہیں جو کہ دوا کے طور ہوتا ہے۔ اسے بیلگری کہتے ہیں یعنی بیل کی گری یا اندرونی حصّہ لیکن غلط العوام میں عام پھل بیل کو ہی بیلگری کہتے ہیں
پہچان _ اس کا درخت جہلم سے آسام، بنگلہ دیش، میانمار (برما) میں پایا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی 35؍فٹ تک ہوتی ہے جبکہ اس کے تنے کی گولائی 7؍فٹ تک ہوتی ہے۔ اس میں تھوڑی شاخیں لگتی ہیں۔ شاخوں کے آخری سرے زمین کی جانب جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے تنے کی چھال اور بڑی شاخوں کی چھال آدھا انچ سے پون انچ تک موٹی ہوتی ہے۔ اس کے موٹے تنے میں ایک انچ تک لمبے تیز کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کی ڈالی کی ایک ایک شاخ میں چار اور پانچ پتّے تک ہوتے ہیں۔ اس کے پھولوں میں سے شہد کی جیسی خوشبو آتی ہے اس کا پھل خام حالت میں سبز رنگ کا ہوتا ہے لیکن جوں جوں پھل پکتا جاتا ہے اس کا رنگ پیلا ہوتا جاتا ہے۔ اس کا چھلکا بہت سخت ہوتا ہے اور توڑنے سے اندر سے پیلے رنگ کا نہایت لذیذ اور خوشبودار گودا نکلتا ہے۔ سائز میں بڑے سے بڑا پھل بڑے خربوزے کے برابر ہوتا ہے۔ ایک کلو وزن اس کی حد ہے۔ اس کا گودا حلوے کی طرح نرم اور شیریں ہوتا ہے۔ پھل جتنا بڑا اور عمدہ ہو گا اس میں بیج اتنے ہی کم ہوں گے۔ بیج ایک طرح کے غلاف میں ملفوف ہوتے ہیں۔ ایک پھل کے اندر کئی غلاف ہوتے ہیں اور ہر غلاف میں 5یا 6بیج ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور خراب پھل میں زیادہ بیج ہوتے ہیں اور مزے میں ہیک آتی ہے۔ بیل کے چھلکے سے باریک باریک تاروں سے ریشے نکل کر گودے میں آتے ہیں۔ جنگلی بیل انار اور سیب کے جتنا بڑا ہوتا ہے اور اس میں بیج بھی زیادہ ہوتے ہیں اور ذائقہ میں بکساپن ہوتا ہے بہتر وہ بیل سمجھا جاتا ہے جو سائز میں بڑا ہو، جس میں بیج کم ہوں، چھلکا نرم ہو، گودا میٹھا اور مزیدار ہو اور جب اس کے گودے کو پانی میں مل کر چھانیں تو قریب قریب پورا گودا چھن جائے اس میں ریشے کم نکلیں اور شربت اس کا اتنا میٹھا ہو کہ چینی ملانے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس کے کچّے مغز کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے سکھا لیتے ہیں جو کہ پنساریوں کے ہاں سے بیلگری کے نام سے دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے درخت میں ایک قسم کا گوندھ بھی لگتا ہے
مزاج _ پکا ہوا پہلے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں خشک ہے جبکہ کچا پہلے درجہ میں سرد اور دوسرے درجہ میں خشک ہے
فوائد_  پکے ہوئے بیل کا گودا دل، جگر اور معدے کو قوّت دیتا ہے، قابض ہے، پرانے دستوں کو بند کرتا ہے رطوبت کو رفع کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، ہاضم ہے ریاح پیدا کرتا ہے، زیادہ کھانے سے پیٹ پھلاتا ہے بالخاصہ رافع قبض ہے۔ اس کا لیپ جلد میں دانہ پیدا کرتا ہے، ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا گودا کھانے کے بعد اسی کے چھلکے میں پانی پی لیا جائے تو اس سے آنے والے دستوں میں عفونت نہیں ہوتی۔ نروجیت (لیس) کو آنتوں میں سے ختم کرتا ہے۔ کچے بیل پھل کے اوپر ملتانی مٹّی کا لیپ کرنے کے بعد اسے اگر آگ یا تندور میں دبا دیں، جب بھلبھلا جائے تو اس کا گودا ڈیڑھ تولہ سے لے کر تین تولہ تک کھانڈ کے ساتھ ملا کر نہار منہ کھانے سے پرانے سے پرانے دست بند ہو جاتے ہیں۔ بعض طبی کتب میں لکھا ہے کہ کیونکہ یہ معدہ پر گراں ہوتا ہے اس لئے امراض کہنہ (پرانے امراض) میں اور تپ کہنہ (پرانے بخاروں) میں نہیں دینا چاہئے۔
طب ہندی (آیورویدک) میں بھی بیل کو کئی طریقوں سے مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔
’’ان بھوت جکتسا ساگر‘‘ میں لکھا ہے کہ اگر بیل کے کچّے پھل کا جوشاندہ دستوں کے مریض کو پلا دیا جائے تو بہت فائدہ مند ہے اور اگر اس میں تھوڑی سی افیون بھی ملا دی جائے تو فائدہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے پکے ہوئے پھل کا شربت مزیدار ہوتا ہے لیکن زیادہ مقدار میں پینے سے طبیعت کو بھاری کر دیتا ہے اور قبض پیدا کرتا ہے۔ اس سے صفراء بگڑ کر کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں اور دل پر گرمی چھا جاتی ہے۔ بیلگری کا مربہ بنایا جاتا ہے اور اس سے صفراوی دست بند ہو جاتے ہیں۔ بیل کا گودا زیادہ عرصہ کھانے سے بواسیر کا مرض ہو جاتا ہے لیکن کھانڈ کے ساتھ کھانے سے یہ مرض پیدا نہیں ہوتا۔ حاد امراض میں اس کا سفوف فائدہ پہنچاتا ہے اور مزمن امراض میں اس کے شربت سے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آنوں والے دست بہ کثرت آ رہے ہوں تو اس کا سفوف زیادہ مقدار میں دیا جاتا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خون بند ہو جاتا ہے۔
جاڑے کا بخار، زخموں کے بخار اور ایسے بخاروں میں جس کا سبب سمجھ میں نہ آ رہا ہو، اس میں بیلگری کا سفوف دینے سے ان بخاروں کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ بیلگری کا سفوف اراروٹ کے ساتھ بچّوں کے پیٹ کی شکایتوں میں بہت نافع ہے۔ سنگرہنی یا دستوں کے عارضے، مسوڑھوں کے امراض میں بیلگری کا لعوق اور شربت بہت فائدہ دیتا ہے۔ کچے پھل کے گودے کو دھوپ میں سکھا کر پیس کر مصری کے ساتھ ملا کر دینے سے دستوں اور پیٹ کے مروڑ میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے پکے ہوئے پھل کا شربت ہلکا ٹھنڈا اور ملین شکم (پیٹ کو نرم کرنے والا) ہوتا ہے اور اس میں تھوڑا سا دہی یا املی ملانے سے اس کا ملین پن اور ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تازہ پھل کے گودے کو دودھ میں پیس کر سیتل مرچ کا سفوف ملا کر پلانے سے سوزاک کا مرض رفع ہوتا ہے اور پیشاب بہ کثرت آتا ہے۔ اس کے کچے پھل کے گودے کا مربہ اور اچار بناتے ہیں جو کہ دست آنے اور آنوں میں فائدہ دیتے ہیں

آڑو

ایک لذید اور کھٹا میٹھا پھل ہے جو موسم گرما کے وسطہ سے شروع ہوکر موسم کے آغاز تک رہتا ہے۔ اس کو عربی میں خوخ سندھی میں شفتالو انگریزی میں پیچ کہتے ہیں. یہ میدانی علاقوں اور پہاڑوں میں دس ہزار فٹ کی بلندی تک پایا جاتا ہے.

اس کامزاج سرد اور تر دوسرے درجے میں ہے.

یہ ملین مقوی معدہ و جگر. جوش خون کا مسکن ہے. زیابیطس صفراوی اور خونی بخار میں مفید ہے. اس کی گٹھلی کا روغن بواسیر کان درد میں مفید ہے اس کے پتوں کو کوٹ کر پینے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں اور چرنوں کے لیے بچوں کے مقعد پر لگاتے ہیں.

اس میں کاربو ہائیڈریٹس پروٹین وٹامن اے وٹامن سی کیلشئم آئرن اور فاسفورس پایا جاتا ہے.

یہ آنکھوں کی صحت کیلئے بہترین ہے جو آنکھوں کو مخصوص غذائی اجزاء فراہم کرنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔تاکہ نقصان دہ عناصر سے بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکے۔اچھی آنکھوں کی شناخت اور قدرتی اجزاء کے طور پر گاجر کو ترجیحی دی ہے لیکن مضبوط سے مضبوط آنکھوں کیلئے ماہرین نے آڑو کی افادیت کوبھی تسلیم کیا ہے۔آڑو بیٹاکیروٹین کے مجموعہ کے ساتھ جسم کے تمام حصوں میں خون کی گردش کو بڑھانے کے علاوہ آنکھوں کے پٹھوں کی فعالیت کو بہتر بنانے کے قابل بناتاہے۔

آڑو جسم میں موجود زہریلے مادے کے خاتمہ کیلئے بہترین پھل ہے۔ہمارے جسم کوروزانہ کی بنیاد پر کئی ایجنٹوں اور زہریلے مادوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ٹاکسن کاکام گردوں میں اضافی دباو ڈالنا اور نظام کوروکنا ہے۔آڑو میں موجود غذائی ریشہ کے ساتھ گردوں کو بہتر کام کرنے کی کمک حاصل ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ آڑو کے غذائی اجزاء دردناک السر کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔اگر آپ اپنے گردوں کی روائتی صفائی کرنا چاہتے ہیں تو اپ کو چاہئیے کہ آپ آڑو کو اپنی روزمریہ کی غذاء میں شامل کرلیں۔آڑو چمکدار جلدد کیلئے بہترین پھل ہے۔یہ مزیدار پھل مدافعاتی نظام کے کام کاج کیلئے ایک بوسٹر کے طور پرکام کرتا ہے جس میں بہت زیادہ مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔اصل میں آڑو بھی جلد کی حفاظت کرتا ہے اور ان وجوہات کوروکتا ہے جن سے چہرے کونقصان پہنچتا ہے۔

آڑو خاص طور پر آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اورجھریوں کے خاتمہ کیلئے بیرونی طور پر خوبصورتی کی دیکھ بھال معمولات کے ایک جُزکے طور پر بھی کرتا ہے۔

آپ وزن میں کمی یاوزن کو کنٹرول کرنے کے بارے میں فکر مند ہیں توآپ کو چاہیے کہ آپ روزانہ کھانے کی منصوبہ بندی میں آڑو کو بھی شامل کرلیں۔ایک آڑو میں اگرکیلوریز کو شمار کیاجائے تو یہ 68کیلوریز شمار ہوتی ہے۔کم کیلوریز شمار کے علاوہ آڑو میں چربی کی مقدار صفرکے قریب ہے۔آڑو میں وٹامن اے وٹامن سی، وٹامن ای، ائرن زنک، میگنشیئم اور کیلشیئم کا بہت بڑاذخیرہ موجود ہے۔آپ آڑو کو اپنی سلاد اور میٹھا بنانے کی ترکیبوں میں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

انگور

انگور کے نسل در نسل منتقل خاندانی نسخہ جات

18 سال سے چالیس سال کے مرد اور عورتیں روزانہ دوسوگرام انگور کھائیں‘ صحت مند نظر آئیں‘ چہرے کے داغ دھبے دور کرتا ہے‘ دل کی بیماریوں کیلئے شافی علاج ہے۔ چہرے کا رنگ گورا کرتا ہے‘ ہڈیاں مضبوط بناتا ہے۔

انگور کے پھل کا زمانہ قدیم سے تعلق ہے‘ اس کے بے شمار فوائد ہیں‘ زمانہ قدیم کے بادشاہ اور امراء اس پھل کو کثرت سے کھایا کرتے تھے‘ انگور پر لاتعداد حکماء نے تحقیق کی ہے اور اسے انتہائی مفید اور قوت بخش پھل قرار دیا ہے۔  چند خاندانی نسخہ جات نسل در نسل منتقل ہورہے ہیں افادہ عام کی خاطر پیش کررہا ہوں۔ قارئین نوٹ فرمالیں! فائدہ نمبر1: انگور اگر اٹھارہ سال سے کم عمر بچے بچیاں ایک چھٹانک روزانہ کھائیں‘ چہرے کا رنگ سفید وسرخ کرتا ہے‘ قد میں اضافہ کرتا ہے۔ فائدہ نمبر2: 18 سال سے چالیس سال کے مرد اور عورتیں روزانہ دوسوگرام انگور کھائیں‘ صحت مند نظر آئیں‘ چہرے کے داغ دھبے دور کرتا ہے‘ دل کی بیماریوں کیلئے شافی علاج ہے۔ چہرے کا رنگ گورا کرتا ہے‘ ہڈیاں مضبوط بناتا ہے۔ فائدہ نمبر3: صفرا کے مریض بغیر دوائی کے چھ ماہ مسلسل انگور استعمال کریں‘ صفرا بالکل ختم ہوجائے گا۔ فائدہ نمبر4: انگور گردہ‘ پتہ اور مثانہ کی پتھری کو خارج کرتا ہے‘ پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ فائدہ نمبر 5: فالج‘ لقوہ‘ رعشہ‘ کمردرد کے مریض انگور کی جملہ اقسام میں سے کوئی بھی قسم کھائیں بھرپور فائدہ دے گا۔ فائدہ نمبر6: محقق حکماء کے نزدیک پھلوں میں سے انجیر کے بعد سب سے زیادہ صحت مند خون پیدا کرنے والا پھل انگور ہے۔ فائدہ نمبر7: بوڑھے مرد‘ بوڑھی عورتیں روزانہ اڑھائی سو گرام انگورکھائیں‘ جوان نظر آئیں گے۔
نسخہ نمبر1: مرگی کیلئے: ھوالشافی: عقرقرحا سوگرام‘ مویز منقیٰ دوسوپچاس گرام۔ عقر قرحا کو باریک پیس لیں اور مویز منقیٰ میں ملائیں‘ معجون تیار کرلیں‘ صبح و شام آدھ چمچ مریض کو کھلائیں۔ دوسرے مہینے سے معجون ایک چمچ صبح و شام کھلائیں‘ ان شاء اللہ تین سے چار ماہ کے استعمال کے بعد زندگی بھر مرگی کا دورہ نہیں ہوگا۔ مجرب ہے۔ نوٹ: منقیٰ بڑا انگور ہوتا ہے جس کے اندر بیج ہوتا ہے اور اسے خشک کیا جاتا ہے۔ نسخہ نمبر2: پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کیلئے: ھوالشافی: ورق قلعی ایک چھٹانک مویز منقیٰ تین چھٹانک۔ دونوں کو ملا کر کوٹ لیں‘ معجون تیار ہوجائے گی‘ صبح و شام تازہ پانی کے ساتھ ایک چمچ مریض کوکھلائیں جب یہ نسخہ ختم ہوجائے تو کمیلہ شستہ چھ ماشہ گائے کے دہی میں حسب ضرورت مصری یا چینی ملا کر مریض کو پلادیں۔ ہر قسم کے کیڑے مرجائیں گے۔ پیٹ کے اندر کیڑے بالکل نہیں رہیں گے۔ پیشاب کے قطروں کیلئے: جس مریض کے پیشاب کے قطرے بار بار گرتے ہوں اور کپڑے ناپاک ہوجاتے ہوں وہ مریض روزانہ صبح و شام چار عدد مویز منقیٰ‘ منقیٰ کے دانے نکال لیں‘ ان دانوں کی جگہ ہر منقیٰ کے دانے کے اندر ایک عدد سیاہ مرچ ڈال کر کھائیں‘ دو ماہ کے استعمال کے بعد پیشاب کے قطرے بالکل ختم ہوجائیں گے۔ مجرب ہے۔ نوٹ: جریان اور احتلام کے مریض اس نسخہ کو ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں‘ ایسے مریض معالج سے رجوع کریں۔
کثرت حیض کیلئے: منقیٰ کے دانے پانچ عدد‘ سپاری ایک عدد‘ مازو دو عدد۔ اگرزیادہ دوائی بنانی ہو تو اس ترتیب سے حساب لگا کر تعداد بڑھا سکتے ہیں۔ تینوں چیزوں کو باریک پیس کر چنے کے برابر گولیاں بنالیں۔ ایک گولی صبح ایک گولی شام استعمال کریں چند یوم کے بعد بفضلہ تعالیٰ حیض کی زیادتی ختم ہوجائے گی۔نسخہ نمبر5 :حصول طاقت اور گرمی سے یقینی نجات: چھوٹا دیسی خشک انگور جسے‘ کشمش کہتے ہیں‘ سوگرام اور تین عدد چھوہارے ایک گلاس پانی لیں۔ مٹی کے پیالے میں بھگو کر رکھیں۔ دو گھنٹے بعد کشمش اور چھوہارے کھالیں اور ساتھ بھگویا ہوا پانی بھی پی لیں۔نوٹ: یہ نسخہ گرمی کے ایام میں استعمال کریں‘ ہاتھ پاؤں‘ سینے کی جلن‘ جسمانی و دماغی کمزوری‘ ٹانگوں کا درد‘ دماغ کا سن ہوجانا‘ دل کا درد‘  وجود کی گرمی‘ ذہنی ڈیپریشن‘ ان تمام بیماریوں کیلئے شافی علاج ہے اور یہ نسخہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے‘ نہایت مجرب ہے‘ ایک مرتبہ حضرت محمد ﷺ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاں تشریف لے گئے‘ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا جس کے اندر چھوہارے اور کشمش پانی کے اندر بھگوئے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے چھوہارے اور کشمش کو کھایا اور پانی پیا پھر فرمایا اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما) آپ نے اچھا انتظام فرمایا ہوا ہے ایسے ہی کرتے رہنا۔

تربوز کے چھلکوں کا سالن

تربوز کے چھلکوں کا سالن
آج ہم آپ کو تربوز کے چھلکے جو شہروں میں  عام طور پر پھینک دئیے جاتے ھیں اور دیہات وغیرہ میں جانوروں کو کھانے کے لئے ڈال  دئیے جاتے ھیں اس کا سالن بنانا بتائیں گے جو بہت ہی مفید ھے اور کئی بیماریوں میں فائدہ مند ھے
اجزاء :
تربوز _ایک عدد گودہ نکلا ہوا
پیاز۔ایک عدد
ہری مرچ۔دو عدد
میتھی دانہ،رائی ،کلونجی اور سونف۔دوچمچ(مکس کر کے)
نمک_ایک چٹکی
ترکیب۔
تربوز کے چھلکے ہلکا کدوکش کرلیں کہ اسکا گہرا سبز رنگ ختم ہوجائے۔   تھوڑے سے پانی کے ساتھ گلا لیں۔پیاز ہلکی گلابی کر کے  اور ہری مرچ کاٹ کر ڈال دیں۔ میتھی دانہ،رائی ،کلونجی ، سونف اور ایک چٹکی نمک شامل کر کے تربوز کے چھلکے ڈال کر پانچ منٹ بھون لیں۔سالن سرو کرنے کے لیے تیار ہے۔اسکو عام نارمل روٹی کے ساتھ کھا سکتے ھیں
فوائد :
یہ سالن گردوں ، جوڑوں کے درد،
یو ٹی آئی یعنی گردوں ، پیشاب کی  نالیوں کی  بیماریوں ، گرمی میں لو اور لو سے ہونے والے سردرد ، یورک ایسڈ اور اس سے ہونے والی سوجن کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔پیشاب آور ھے۔

موسم گرما کا اہم پھل، جامن کے فوائد

موسم گرما میں آنے والا پھل جامن صحت کے حوالے سے انتہائی مفید اور اہم پھل ہے اور دیگر پھلوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے۔ جامن کے ساتھ ساتھ جامن کی گھٹلیاں اور پتے بھی بہت ساری بیماریوں کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ عموماً جامن کھا کر گھٹلیاں پھینک دی جاتی ہیں حالانکہ جامن کی گھٹلیاں مجموعی امراض میں بے انتہا فائدہ پہنچاتی ہیں۔ آپ ان گھٹلیوں کو سکھا کر رکھ سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال کریں۔
جامن کینسر، دل کی بیماریوں، ذیابیطس، دمہ، معدہ اور جلد کے مختلف مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل ہے۔ جامن میں اہم غذائی اجزاء جیسے کیلشیئم، آئرن، میگنیشیئم، فاسفورس، سوڈیم، وٹامن، تھیامن، ربوفلیون، نیاسن، کاربوہائیڈریٹ، کیروٹین، فولک ایسڈ، فائبر، فیٹ، پروٹین اور پانی موجود ہوتے ہیں۔ جو صحت کیلئے بے انتہا مفید ہیں۔ لیکن جو بھی کھائیں اعتدال میں رہتے ہوئے کھائیں۔
ذیل میں جامن کے فوائد بیان ہیں جن سے آپ آسانی سے اپنے روزمرہ مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔
۱۔ جامن معدہ ،آنتوں کی جلن، خراش اور کمزوری دور کرنے والی بے مثل غذا ہے۔
۲۔ جامن اسٹارچ کو انرجی میں تبدیل کرکے بلڈ شوگرکی سطح کو نارمل رکھنے میں مدد کرتاہے۔ شوگر کے مریضوں کو روزانہ جامن کھانا چاہئے۔
۳۔ بھوک بڑھاتا ہے اور صفراء کا زور توڑ کر معدہ کو طاقت دیتا ہے اور کھانے کو ہضم کرتا ہے۔
۴۔ جامن میں پیاس کی شدت اور خون کی گرمی کم کرنے کی قدرتی تاثیر موجود ہے۔
۵۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے جامن کا استعمال انتہائی مفید ہے یہ خون میں شکر کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتا۔
۶۔ بڑھی ہوئی تلی کو کم کرنے اور جگر کی صحت کیلئے بہت فائد ہ مند ہے نیا خون پیدا کرتا ہے۔
۷۔ گرمی سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن جامن کھانے کے بعد پانی نہ پیئیں۔
۸۔ پیشاب کی زیادتی کو کم کرتاہے مثانہ کی کمزوری دور کرتاہے۔
۹۔ دانتوں کی صحت کیلئے بھی مفید پھل ہے۔
۱۰۔ جامن کی گھٹلیاں سکھا کر پیس کر رکھ لیں اور روزانہ تین ماشہ سادہ پانی سے کھالیں ذیابیطس ہو جائیگی۔
۱۱۔ کمر اور پیروں کے درد سے نجات کے لئے جامن کی گھٹلی سمیت پیسٹ بنا کر کھائیں۔
۱۲۔ گرتے ہوئے بالوں کو روکتا ہے۔
۱۳۔ بڑھی ہوئی تلی کیلئے خالی جامن، جامن کا سرکہ یا جامن کا شربت بنا کر پینا بہت مفید ہے۔
۱۴۔ جامن کی چھال کا جوشاندہ اسہال اور پیچش میں فائدہ دیتاہے۔
۱۵۔ جامن کی چھال کو پانی میں پکا کر غرارے اور کلیاں کرنے سے پھولے ہوئے مسوڑھوں اور گلے آنے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
۱۶۔ جنکا معدہ کمزور ہو انکے لئے جامن اور جامن کا سرکہ بہترین دوا کا کام کرتے ہیں۔
۱۷۔ آنکھوں سے پانی نکلتا ہو یا موتیا آرہا ہو تو جامن کی گھٹلی سکھا کر باریک پیس لیں اور صبح و شام تین تین ماشہ سادہ پانی کے ساتھ لیں ۔
۱۸۔ جن لوگوں کو رات میں برے خواب آتے ہوں انکو جامن کی گھٹلی کا پاؤڈر صبح و شام کھانا چاہئے۔
۱۹۔ بیٹھے ہوئے گلے اور آواز کیلئے جامن کی گھٹلیوں کو پیس کر چھوٹی چھوٹی گولیاں بناکر رکھ لیں اور شہد لگا کر چوس لیں۔
۲۰۔ کیسے بھی دستوں میں جامن کے درخت کے ڈھائی پتے جو نہ زیادہ سخت ہوں نہ زیادہ نرم پیس کر تھوڑا سا نمک ملا کر اسکی گولیاں بنالیں اور ایک گولی صبح و شام لینے سے دست فوراً رک جائیں گے۔
۲۱۔ جامن کے پتے السر میں مفید ہیں۔
۲۲۔ جامن کا جوس مدافعتی نظام کو فروغ دیتا ہے۔
۲۳۔ اینیمیا کے شکار افراد جامن ضرور کھائیں۔
۲۴۔ سو گرام جامن میں ۵۵ ملی گرام پوٹاشیم ہوتا ہے جو دل کے مریضوں کے لئے اچھا ہے۔
۲۵۔ جامن کے روزانہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر اور اسٹروک کے خطرے سے بچا جاسکتاہے۔
۲۶۔ جامن میں موجود وٹامن سی جلد کے لئے بہترین ہے۔
۲۷۔ ایکنی کے لئے روزانہ رات کو جامن کی گھٹلی پیس کر دودھ میں ملا کر لگانے سے ایکنی ختم ہوجاتی ہے۔
۲۸۔ داغ دھبوں سے نجات کے لئے جامن کی گھٹلی کا پاؤڈر، لیموں کا رس، بیسن، بادام کا تیل اور عرق گلاب چند قطرے ملا کر چہرے پر لگائیں جب سوکھ جائے تو دھولیں۔
۲۹۔ اوئلی اسکن کیلئے جامن کا پلپ، جو کا آٹا، آملہ کا رس اور عرق گلاب ملا کر فیس ماسک کے طور پر استعمال کریں جب سوکھ جائے تو دھو لیں۔
۳۰۔ جامن کا مزاج خشک سرد ہے گرم مزاج رکھنے والوں کے لئے مفید ہے۔

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...