Ad3
سنگھاڑامفید پھل ہی نہیں دوا بھی
دہی کے فوائد
دہی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مقبول ترین غذاﺅں میں سے ایک ہے۔
بیشتر افراد اسے اصل شکل یعنی کچھ تیکھے ذائقے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، جبکہ یہ فروٹ فلیورز کی شکل میں میٹھا بھی دستیاب ہوتا ہے۔
دہی کو میٹھی یا نمکین لسی کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ بہت مقبول، صحت مند اور جسم ٹھنڈا کرنے والا مشروب ہے، اسی طرح کھانوں کے ساتھ رائتے کی شکل میں بھی کھایا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں فروزن دہی بھی کافی پسند کیا جارہا ہے۔
اگر آپ جسمانی طور پر پتلے اور اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں اور جِم جانے کے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے یا کسی مخصوص غذا تک محدود رہنا چاہتے ہیں تو دہی کو کھانا معمول بنالینے سے مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یہ وٹامنز، پروٹین، کیلشیئم، پوٹاشیم، فاسفورس اور زنک سے بھرپور ہوتا ہے۔
مگر بہت کم افراد کو ہی دہی کے متعدد چھپے ہوئے فوائد کا علم ہوتا ہے، درحقیقت یہ ایسی چیز ہے جو ہماری غذا کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔
تو اس کے فوائد کیا ہیں؟
بلڈ پریشر کو مستحکم رکھے
کیا آپ بلڈ پریشر کے اوپر نیچے جانے سے فکر مند ہیں جو صحت مند زندگی کو متاثر کررہا ہے؟ اگر ہاں تو ڈاکٹروں اور محققین کا آزمودہ نسخہ دہی بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نمک کا زیادہ استعمال اکثر اوقات ہمارے جسم کو امراض قلب، گردوں کے مسائل یا فشار خون کے لیے آسان شکار بنا دیتا ہے۔ جسم میں موجود اضافی نمک میں کمی لانے کے لیے مناسب مقدار میں پوٹاشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ 8 اونس دہی میں لگ بھگ 600 ملی گرام پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے مختلف امراض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
ہڈیاں مضوط بنائے
وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے جسم کو متعدد اجزاء کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، ان سب میں کمزور ہڈیاں تمام درمیانی عمر کے مردوں اور خواتین کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس سنگین عارضے کی روک تھام اور اپنی بڑھتی عمر میں بھی چاق و چوبند رہنے کے لیے دہی زبردست کام کرتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل وٹامن ڈی اور کیلشیئم ہے۔ نیویارک کے ہیلن ہیز ہاسٹل کے ڈائریکٹر جیری نیویز کے مطابق اگر آپ کو جوڑوں میں درد یا اکڑن کا سامنا ہو تو دہی کو اپنی روزمرہ کی غذا کا حصہ بنانے کی کوشش کریں، آپ خود ہی فرق محسوس کریں گے۔
نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرے
دہی کا ایک اور فائدہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانا ہے۔ دہی میں ایک خاص جز 'پروبائیوٹک' شامل ہوتا ہے جس کے بارے میں ہوسکتا ہے آپ نے کسی نیوٹریشن سے سنا بھی ہو۔ ایک نیوٹریشن ایکسپرٹ روبن پلاٹکن کے مطابق دہی میں شامل یہ جز غذا کو زیادہ بہتر طریقے سے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے اور ہم صحت مند رہتے ہیں۔
جلد صاف کرے
ہموار جلد کے لیے مختلف کریموں اور لوشن استعمال کرکے بیزار ہوچکے ہیں؟ تو آپ کو حیرت ہوگی کہ دہی بھی شفاف اور ہموار جلد کے لیے زبردست نسخہ ثابت ہوسکتا ہے اور مہنگی کاسمیٹکس سے آپ کی جان بھی چھوٹ جائے گی۔
آپ کو چار چمچ دہی کی ضرورت ہوگی جس میں دو سے تین قطرے بادام یا زیتون کے تیل اور ایک چائے کے چمچ شہد کو شامل کرنا ہوگا۔ ان چیزوں کو اچھی طرح ملائیں اور چہرے پر پندرہ منٹ کے لیے لگارہنے دیں۔ اپنے چہرے کو دھونے کے بعد آپ خود شفاف جلد کو محسوس کریں گے جو جھریوں اور تیل سے پاک ہوگی۔
بڑھتی بھوک پر قابو پانے میں مدد
واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دہی ہمارے اندر زیادہ کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ یہ ہمارے اندر توانائی کا احساس بھی بڑھاتا ہے۔
جسمانی دفاعی نظام بہتر بنائے
ویانا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ دہی ہمارے جسمانی دفاعی نظام کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یہ خواتین کے ٹی سیلز کو مضبوط بناتا ہے، ٹی سیلز خون کے سفید خلیات کا حصہ ہوتے ہیں اور انفیکشن یا امراض کے خلاف دفاع کرتے ہیں۔
نرم بال
بالوں کی نگہداشت کے لیے دہی زبردست ہے، یہ خشکی، سر کی خارش وغیرہ کا خاتمہ کرتا ہے، اس کے نتیجے میں بال نرم اور چمکدار ہوجاتے ہیں۔ دہی کا بہترین ماسکے بنانے کے لیے آپ کو چار چمچ دہی، ایک چائے کا چمچ مسٹرڈ یا ناریل کا تیل اور آدھے انڈے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سب چیزوں کو ملائیں اور بالوں پر لگائیں۔ اس مکسچر کو بالوں پر 30 منٹ تک کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر دھو لیں۔ آپ کے بال نرم اور چمکدار ہوجائیں گے۔
وزن میں کمی کیلئے زیرے کا جادوئی اثر
انسان کتنا ہی خوش شکل کیوں نہ ہو لیکن اگر اس پر موٹاپا غالب آجائے تو اس کی شخصیت کو گرہن لگ جاتا ہے، آج کل کا دور میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے، جس نے ہر مرد اور عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔
آپ موٹاپے سے پریشان ہیں تو اس سے نجات کے لیے تصور کیا جاتا ہے کہ ڈائٹنگ یا ورزش کرکے وزن کم کیا جاسکتا ہے لیکن زیرہ قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جس کا اگر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ 15 سے 20 روز میں وزن کم کرنے خصوصی بڑھے ہوئے پیٹ سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صرف ایک کھانے کا چمچہ زیرہ پاؤڈر روزمرہ غذا میں شامل کرلیا جائے تو دوسرے طریقوں کی نسبت تین گنا تیزی کے ساتھ وزن میں کمی کی جاسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرے میں” فائٹو اسٹیرول “نامی کیمیائی مادّے بکثرت پائے جاتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول کو جمع ہونے سے روکتے ہیں۔
وزن کی کمی کیلئے زیرہ استعمال کے طریقے
ہ ذیل 4 طریقوں سے زیرے کا استعمال وزن کو کم کرنے اور پیٹ کی چربی سے جان چھڑانے کے لیے مؤثر ثابت ہوتا ہے :
دہی کے ساتھ پسا ہوا زیرہ
دہی ویسے تو وزن میں کمی معاون ہے ، کیونکہ اس کے استعمال سے بھوک کم لگتی ہے اور اس کے استعمال سے جسم میں چربی بننے کی رفتار بھی کم ہو جاتی ہے لیکن اگر دہی کے ساتھ ایک چمچہ پسا ہوا زیرہ ملا کر روزانہ کھایا جائے تو اس سے نہ صرف وزن میں تیزی سے کمی ہوگی بلکہ بڑھے ہوئے پیٹ سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔
پانی کے ساتھ زیرے کا استعمال
ایک گلاس پانی میں دو چمچے زیرہ ڈال کر رات بھر کے لیے بھگو دیں، صبح اس کو اُبال کر چھان لیں اور اس میں آدھا لیموں کا رس شامل کرکے نہار منہ استعمال کریں۔
شہد کے ساتھ زیرے کا استعمال
پانی پسا ہوا زیرہ شامل کرکے اس میں چند قطرے شہد ملا کر پیئیں۔
ادرک اورلیموں کے ساتھ زیرے کا استعمال
لیموں وزن کم کرنے کے لیے بہترین ہے لیکن اگر رات کے کھانے میں لیموں اور ادرک کے ساتھ زیرے کا استعمال کیا جائے تو اس سے تیزی سے وزن میں کمی لائی جاسکتی ہے کیونکہ لیموں اور ادرک حراروں کو جلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
رنگ گورا کرنا
رنگ گور ا کرنا ہر لڑکی خواہش ہوتی ہے اور اس کے لئے اکثر کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کم خرچ میں فائدے زیادہ ہوں تو آج ہم یہاں ایک ایسا نسخہ بتا رہے ہیں جس کی تیاری میں خرچ بالکل نہ ہونے کے برابر ہوگا اور فائدے دیکھ کر آپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے ۔
اجزاء:
کیمیکل سے پاک کوئی بھی کریم ۔۔۔۔۔۔۔۔(تبت استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کیمکل سے پاک ہوتی ہے )
لیموں کا رس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کھانے کا چمچ
عرق گلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کھانے کا چمچ
بنانے کا طریقہ :
ایک کپ میں لیموں کارس اور عرق گلاب شامل کریں اور ساتھ تبت کریم کی بوتل سے ساری کریم نکال کر اس میں شامل کرکے اچھی طرح مکس کریں ۔
لگانے کا طریقہ :
۱۔ رات کو سونے سے پہلے کسی اچھے صابن سے چہر ہ دھوئیں ۔
۲۔ چہرے کو سکھا لیں ۔
۳۔ حسب ضرورت کریم سے چہرے کا مساج کر یں ۔
۴۔ صبح اُٹھ کر نیم گرم پانی سے چہر ہ دھولیں ۔
۵۔ دس سے پندرہ دن میں آپ کی رنگت میں وہ نکھار آئے گا کہ آپ یقین نہ کریں گی ۔
غذائی کمی کے شکار لوگ
غذائی کمی کے شکار لوگ
ایسے افراد کھجور بادام کا ملک شیک روزانہ استعمال کریں
کھجور 3 عدد بادام 5عدد دودھ حسب ضرورت
گثھلی نکال کر رات کے وقت دونوں اجزاء ابلے دودھ میں بھگو دیں صبح شیک کر کے نہار پی لیں جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور موسمی تبدیلی کے دنوں وبائی امراض سے تحفظ کے لیے بے مثال ھے
زعفران کے فوائد ہی فوائد
زعفران، کیسر کو انگریزی میں Saffron بھی کہتے ہیں ۔زعفران میں وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، سلینیم اور زنک پایا جاتا ہے۔ زعفران کے پودے وادی کشمیر میں لگائے جاتے ہیں ۔اس پر نہایت خوبصورت پھول اگتے ہیں جن کو توڑ کر زعفران حاصل کیا جاتا ہے، زیادہ تر لوگ اس کو کاروبار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اس کا پودا پنتالیس سینٹی میٹر ہوتا ہے اور یہ پیاز سے ملتا جلتا ہے۔زعفران کی کاشت اونچے اونچے ٹیلوں پر کی جاتی ہے تاکہ وہاں پانی کا ٹھہراؤ نہ ہو- زعفران کا استعمال ہربل ادویات میں کیا جاتا ہے اور اس سے تیار شدہ ادویات نہایت قیمتی ہوتی ہیں کیونکہ یہ بیش قیمت بوٹی ہے۔ زعفران نہ صرف کشمیر بلکہ مصر، ایران، سپین، شام اور اٹلی میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔
زعفران کے پودے میں پھولوں سے زعفران حاصل کیا جاتا ہے یہ چھوٹی چھوٹی کونپل نما جو ریشے کی مانند مالٹا رنگ کی ہوتی ہیں۔ بعد میں ان کونپلوں یا ریشوں کو خشک کر لیا جاتا ہے۔ بس زعفران تیار ہے۔
زعفران کی تیاری یا کاشت ان علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں نہ زیادہ سردی پڑے اور نہ زیادہ گرمی پڑتی ہو۔ہمارے کسان اس کو نہایت کم قیمت پر کاشت کر سکتے ہیں لیکن اس پودے کا خیال بہت زیادہ رکھنا پڑتا ہے۔ زعفران کو اگر کھانوں میں استعمال کیا جائے تو بہت لذیز کھانے تیار ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے زمانوں میں زعفران کو کپڑے رنگنے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ اور کم قیمت میں صرف ایرانی زعفران ملتا ہے۔ اور یہ ایران میں ہی سب سے زیادہ مقدار میں کاشت بھی کیا جاتا ہے۔ ایک سو پچاس پتیوں سے صرف ایک گرام زعفران حاصل کیا جاتا ہے۔اس کی فصل کو کم پانی دیا جاتا ہے صرف سال میں دو دفعہ ہی پانی دیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ فصل تیار ہونے سے پہلے اور ایک بار فصل کو کاٹنے سے پہلے دیا جاتا ہے۔
زعفران کے فوائد:
٭زعفران گردے، مثانے اور جگر کو قوت دیتا ہے۔
٭زعفران بخار کی حالت میں دن میں دو بار پانی میں ملا کر کھلایا جائے تو بخار اتر جاتا ہے۔
٭زعفران گردے کے درد میں آرام پہنچاتا ہے۔
٭زعفران خارش ہونے کی صورت میں فائدہ مند ہے۔
٭زعفران بوجھل طبیعت میں تقویت دیتا ہے۔
٭زعفران کے استعمال سے بلغم کا اخراج بآسانی ہو جاتا ہے۔
٭زعفران کا استعمال اگر آنکھوں میں کیا جائے تو سرخی اور درد سے نجات مل جاتے ہے۔
٭زعفران عورتوں میں اگر حیض رک رک کر آتے ہوں تو دینا مفید ہے۔
٭زعفران پیشاب کی رکاوٹ میں دینا فائدہ مند ہے۔
٭زعفران شوگر کے مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔
٭زعفران کا شربت بنا کر حاملہ خواتین کو پلایا جائے تو فائدہ مند ہوگا۔
٭زعفران بھوک کی کمی کو دور کرتا ہے اور ہاضمہ بھی درست رکھتا ہے۔
٭زعفران تشنج میں بھی مفید ہوتا ہے۔
٭زعفران ڈپریشن میں بھی مفید پایا گیا ہے۔
٭زعفران الزائمر میں فائدہ مند ہے۔
٭زعفران ہماری یاداشت کو بڑھاتا ہے۔
٭زعفران وزن کم کرنے میں بھی ہمارا مددگار ہے۔
زعفران اپنے اندر سیکڑوں طبی فوائد بھی رکھتا ہے ، سرسام کی شکایت میں اس کا استعمال انتہائی مفید و مجرب ہے،یہ پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرتا ہے،جلن دور کرتا ہے۔
زعفران کی معمولی مقدار جو دو سے تین چاول کے دانوں کے برابر ہو اس کا استعمال وزن کم کرنے میں مددگار بنتا ہے، یاداشت کوبہتر بناتاہے،ذہنی تنائو اوردبائو، بھولنے کی بیماری کو دور کرتا ہے۔زعفران بھوک کی کمی کو دور اور ہاضمہ درست رکھتا ہے
زعفران کا استعمال شوگر کے مریضوں کیلئے بھی فائدہ مند ہے، مثانے اور جگر کو قوت بخشتا ہے، بوجھل طبیعت میں تقویت دیتا ہے، بلغم کے اخراج میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
تشنج میں زعفران کا استعمال غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے اور تشنج کے نتیجہ میں متاثرہ کونہ صرف بیکٹیریا کے حملوں سے روکتا ہے بلکہ ان کے حملوں سے اعصاب کو پہنچنے والے نقصان کو ختم کرتا ہے اور گردن اور جبڑے کے پٹھوں کو تقویت دیتا ہے۔
آنکھوں کی جملہ تکالیف بشمول سرخی اور درد سے نجات کا باعث بنتا ہے۔ حیض میں رکاوٹ کو دور کرتا ہے، حاملہ خواتین کو زعفران کا استعمال زچگی میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
ﺍﻟﺴﯽ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﯿﮑﺲ ﺳﯿﮉ Flax seed
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﺴﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﺍﯾﮏ ﮔﺰ
ﺗﮏ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺴﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﮐﮯ
ﺍٓﺧﺮ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮﻣﻮﺳﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ
ﺗﮏ ﻧﯿﻠﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﻟﮕﺘﮯ ﺟﻮ ﮈﻭﮈﯼ
ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﮈﻭﮈﺍ
ﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭼﻤﮑﺪﺍﺭ
ﻧﻮﮐﯿﻠﮯ ﺑﯿﺠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ
ﺍﻟﺴﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺑﯿﺠﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻞ
ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﻡ
ﮐﯽ ﻓﺼﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﯿﻞ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻟﺴﯽ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ، ﻧﯿﻮﺯﯼ ﻟﯿﻨﮉ، ﮨﺎﻟﯿﻨﮉ،
ﺍﻧﮕﻠﺴﺘﺎﻥ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ، ﻣﺼﺮ ﺍﻭﺭ
ﺭﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﮐﺎﺷﺖ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﺎﺕ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﯽ
ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﭘﺎﺭﭼﮧ ﺑﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻧﺎﺋﻠﻮﻥ
ﺑﺎﻓﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﺰﯾﺪ
ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﻮﺍﺋﺪ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻣﯿﮕﺎ ۳ ﻓﯿﭩﯽ ﺍﯾﺴﮉ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺴﯽ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ
ﮐﻮﻟﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﻧﺠﺎﺋﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺋﯽ
ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺴﯽ
ﺩﻣﺎﻍ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﮍﮪ ﮐﯽ ﮨﮉﯼ ﮐﮯ
ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ
ﺧﺎﻃﺮﺧﻮﺍﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻟﺴﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ
ﺑﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺳﻮﺯﺵ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﯽ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﮨﻀﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ
ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺴﯽ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ ﭘﺘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﮭﺮﯼ ﮐﻮ ﺣﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ
ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻟﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺭﺣﻢ )ﺑﭽﮧ
ﺩﺍﻧﯽ ( ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮔﻠﭩﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ
ﻓﺎﺋﺒﺮﺍﺋﮉ ﮐﺎ ﻣﺴﻠﮧ ﮨﻮ ﺍﻥ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﮯ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﮑﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﻧﯿﻢ
ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﻔﯿﺪ ﭘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮔﻠﭩﯿﺎﮞ ﯾﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﺑﮭﺎﺭ
ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ
ﭼﭩﮑﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ
ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮬﮯ
ﺍﻟﺴﯽ ﺟﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻠﻐﻢ ﮐﻮ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﺮﺗﯽ
ﮬﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﻗﮩﻮﮦ ﺩﻣﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ
ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻠﻐﻢ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﺗﺎ
ﮬﮯ
ﺍﻟﺴﯽ ﺳﮑﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ
ﺟﻠﺪ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻠﺪﯼ
ﺩﺍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﭖ ﺳﮯ ﺟﻠﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺳﮑﻦ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﺴﯽ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﻣﻀﺒﻮﻁ، ﻟﻤﺒﮯ
ﺍﻭﺭ ﭼﻤﮑﺪﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﺰﯾﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﻟﺴﯽ ﺳﮯ ﭘﻨﯿﺎﮞ )ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ (ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯽ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ
ﺳﻮﻏﺎﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﺴﯽ ﮐﯽ ﭘﻨﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﯾﺴﭙﯽ
" ﺍﻟﺴﯽ ﮐﯽ ﭘﻨﯿﺎﺍﮞ )ﻟﮉﻭ"(
ﺍﻟﺴﯽ-: 1/2 ﮐﻠﻮ
ﺩﯾﺴﯽ ﮔﮭﯽ-: 1/2 ﮐﻠﻮ
ﮔﻨﺪﻡ ﮐﺎ ﺁﭨﺎ-: ﮈﯾﮍﮪ ﮐﻠﻮ
ﮔﮍ-: ﮈﯾﮍﮪ ﮐﻠﻮ
ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻦ ﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﮔﺮﺍﺋﻨﮉ ﮐﺮﻟﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺁﭨﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻥ ﻟﯿﮟ۔ ﺍﺏ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﮑﺲ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﻮﻥ ﻟﯿﮟ۔ ﮔﮍ ﮐﯽ 1/2 ﮐﻠﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ
ﭼﺎﺷﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮟ۔ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺑﺎﻻ ﺳﻔﻮﻑ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺣﺴﺐ ﻣﻨﺸﺎ ﻟﮉﻭ
(ﭘﯿﻨﯿﺎﮞ )ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮟ۔
ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﮟ ﺳﻮﻏﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ
ﻋﻮﺭﺕ ﺑﭽﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﺩﻝ
ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﮐﯽ
ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮐﺎﺭ ﺁﺭﺁﻣﺪ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺐ ﻣﻨﺸﯽ ﮐﻤﺸﻤﺶ
ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ ﻭﮦ
ﺍﻟﺴﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﻔﯿﺪ ﺗﻞ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﻟﮯ،
ﺍﻟﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ
ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ (۔ ﺟﻮ ﺑﭽﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺑﺎﺭ
ﺑﺎﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ، ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ
ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ)
ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ
ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﺮﺑﻞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﺰﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ۔
ادرک کے فوائد
-1 یہ مقوی باہ کا سرریاح ہاضم ہے اس کو امراض معدہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔مقوی باہ معجونوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
-2 مقوی حافظہ اور ذہن ہے۔خاص طور پر بلغمی مزاج والوں کے لیے بہترین دوا ہے۔
-3 ادرک ادرک ملین بھی ہے اور قا تل کر م شکم یعنی پیٹ کے کیڑوں کو مارتی ہے۔
-4 نفخ شکم ،درد شکم ،ضعف اشتہار وغیرہ میں مفید ہے۔
-5 سنامکی تر بد اور دیگر مروڑ پید ا کرنے والی ادویہ کی اصلاح کرتی ہے۔
-6 اس کا مربہ اصلاح معدہ کے لیے مفید ہے اور خاص طور پر پیٹ درد میں تو بے حد مفید ہے۔
-7 آنتوں اور معد ہ کی رطوبت کی وجہ سے دست آتے ہوں تو یہ قبض پیدا کر کے دست بند کرتی ہے۔
-8ریاحی دردوں مثلاً گنٹھیا ،فالج ،دردپشت ،درد کمر میں بیرونی طور پر تیل میں جلا کر یا دیگر ادویہ کے ہمراہ تیل بناکر مالش کی جائے تو فوری فائدہوتا ہے ۔
-9بطور سرمہ آنکھوں میں لگانے سے جالا ، پھولا ، دھند صاف ہوجاتے ہیں اس کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ اس کا پانی نکال کر چھان کر آنکھ میں لگایا جائے ۔
-10بادی دور کر نے کے لیے ادرک کا استعمال تیر بہدف ہے۔ اس لیے سمجھ دار لوگ گوبھی یا پھر بادی سبزیوں میں ادرک کا استعمال زیادہ کر تے ہیں۔
-11سردی کی کھانسی میں ادرک کوشہد میں ملا کر استعمال کرنے سے آرام ملتاہے ۔
12۔فالج کامریض اگرادرک کا مربہ اور جائفل چوستا رہے توفالج سے جلدی صحت ہوجاتی ہے ۔
13۔کان کے درد کے لئے کان میں ادرک کے پانی کے چند قطرے ٹپکانے سے فوری آرام ہوتا ہے ۔
14۔ادرک گردوں اور مثانہ کو طاقت دیتاہے ۔خلوے کی درد یعنی Hatescerniaمیں کچا ادرک آدھ تولہ کھانے کے بعد کھانا مفید ہے ۔
15۔دمہ اور کھانسی میں ادرک کا استعمال بے حد مفید ہے ۔
16۔دانتوں کی ترشی دور کرنے کے لئے ادرک ایک تولہ گھی میں بھون کر تین ماشہ نمک ملاکردانتوں پر ملنا بے حد مفید ہوتا ہے ۔
17۔سنگر ہنی کے مرض میں خشک ادرک (یعنی سونٹھ)کوبریاں کر کے چھا چھ کے ہمراہ دن میں دوتین مرتبہ پلانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے ۔
18۔عورتوں کے مرض سیلان الرحم میں جوارش زنجیل یا پھرمعجون زنجیل ایک چمچہ چائے والا ہمراہ پانی صبح وشام کھلانافائدہ مند ہوتا ہے ۔
19۔کھاناکھانے سے پہلے ادرک کھانے سے حلق اور زبان صاف ہوجاتی ہے ۔
20۔پیٹ کے دردمیں ادرک کو کوٹ کر آٹے میں ملاکر روٹی بنا کر کھلانے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے ۔اور مرض اعادہ نہیں کرتا ۔
21۔سردی سے زکام ہونے کی صورت میں ادرک کی چائے پینا فوری آرام کا باعث ہوتا ہے ۔
22۔ادرک کا رس اور دودھ ملا کر سونگھنے سے سردرددورہوجاتا ہے ۔
23۔ادرک کا رس تلسی کے پتوں کا رس شہد اور مورکے پرون کے چاندوں کی راکھ ملاکرچاٹنا قے کوروکتا ہے ۔
24۔صفرا کی وجہ سے پیدا ہونے والاضعف ہضم ادرک کے رس میں لیموں کارس ملاکرپینے سے دورہوجاتا ہے ۔
25۔ادرک ترپھلا (یعنی مساوی الوزن ہریڑ ۔بھیڑہ،آملہ)اورگڑملاکر کھانا یرقان کودور کردیتاہے ۔
26۔درد ریح کو دورکرنے کے لئے اگرادرک کا رس اجوائن خراسانی میں گھوٹ کر متاثرہ حصے پر لگایاجائے توبہت فائدہ ہوتا ہے ۔
27۔مسوڑھوں کے مرض میں خاص طورپرپھول جانے کی صورت میں دانت کے نیچے ادرک کا ٹکڑادباکر رکھتے ہیں اوراندرونی رخسار کی طرف دبانے سے فوری آرام ہوتاہے ۔بادی کا پانی خارج ہوجاتا ہے ۔اور دردوغیرہ ٹھیک ہوجاتی ہے ۔
28۔بلغم دورکرنے کے لئے ادرک بطور غذا اور دوادونوں صورتوں میں بے حد مفید ہے ۔
29۔بچوں کی کھانسی کی صورت میں انہیں ادرک کا عرق شہد میں ملاکر دینے سے کھانسی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔
30۔جسمانی طاقت کے لئے ادرک کو گھی میں بھون کر چینی ملاکر ایک چمچہ چائے والا اس کا سونف بنا کر روزانہ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
31۔اس کا استعمال غضب کی بھوک لگا تاہے ۔
32۔ادرک کا مربہ بے شماربیماریوں کا علاج ہے ۔مربہ بنانے کی ترکیب درج ذیل ہے ۔بغیر ریشے کی موٹی ادرک آدھ کلو کو چھیل کرلمبی قاشوں کی صورت میں کاٹ لیں ۔پھرنمک ملے پانی میں ان کو جوش دیں جب قدرے گل جائیں توپانی علیحدہ کر دیں ۔اور آدھ کلو چینی کی الگ سے بنی ہوئی گرم گرم چاشنی میں ڈال دیں پھرجوش اس وقت تک دیں کہ وۂ گاڑھی ہوجائے بس مربہ تیا رہے ۔اس کو چینی کے مرتبان یا پھر شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اور حسب ضرورت استعمال میں لائیں ۔خیال رہے کہ مربہ نکالتے وقت گیلے چمچے کا استعمال نہ کریں ۔ورنہ مربے کے خراب ہوجانے کا احتمال ہوتا ہے ۔
33۔کیل اورمہاسے دورکرنے کے لئے سونٹھ تین تولہ زیرہ سیا ہ تین تولہ کالی مرچ ڈیڑھ تولہ خشک پودینہ تین تولہ ان تمام ادویہ کو کوٹ کر سفوف بنا لیں پھر یہ سفوف ہمراہ پانی دن میں دوباراستعمال کریں شفا ہوگی ۔
34۔ادرک کے خولنجاں اور پستہ ہم وزن کے ہمراہ استعمال کرنے سے قوت باہ میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے ۔
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...