Ad3

Showing posts with label Dry fruit. Show all posts
Showing posts with label Dry fruit. Show all posts

سحر کسے کیڑے کی کڈنے سانوں اپنے آپ دی پئی ہوئی اے

 پہلے اپنے دل نوں صاف کریے 

گڈی چار چوفریوں رہی ہوئی اے 

جو بیجناں سو ای وڈناایں گل

 سچ سیانیاں کہی ہوئی اے  

دن حشر دے کھچ کے لاہ چھوڑن

 چادر صاف جو تن تے لہی اے

سحر کسے کیڑے کی کڈنے 

سانوں اپنے آپ دی پئی ہوئی اے

چِھڑے سُر جدوں ٹھاٹھ دی ونجھلی دے آپے آندیاں چُوریاں ویکھیں

 دلا کملیا بخت تاں آونڑ دے

 آساں ہوندیاں پُوریاں ویکھیں 

تینوں ڈھوڈھ کے درد خُدائی ملسی

 مُڑ مکدیاں دُوریاں ویکھیں 

اکھیں نال سنگت مغرور دیاں 

مِنتاں مجبوریاں ویکھیں 

چِھڑے سُر جدوں ٹھاٹھ دی ونجھلی دے

 آپے آندیاں چُوریاں ویکھیں 

انجیر کے فائدے

Lانجیر کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے . قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین) .

یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے .ا نجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے . چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے . انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے . پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں . اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے . عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا . فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے . اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے . اسے خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو .
اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے . عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے . ہمارے ہاں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں . یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے . اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے . مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا . اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے . انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں . دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں . وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں . ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا . انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے . یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے . مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے . جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے . انجیر کی بہترین قسم سفید ہے . یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے . زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے . انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے . اس کو نہار منہ کھانا بہت فوائد کا حامل ہے .اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں . * انجیر کو دودھ میں پکا کر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں . * انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں . چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دوبار کھائیں ، دائمی قبض دور ہو جاتی ہے . * خشک انجیر کو رات بھر پا نی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا . اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے . * سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے . * انجیر زودہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے . * کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے .
* انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے . * کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے . * کھانسی ، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے . * انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے . * انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے . * انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں. ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے . * انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے . * تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص پر ملنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں . * انجیر پیاز کی شدت کو کم کرتا ہے . * جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو ، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے . * انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے . * جن لوگوں کی ضعف دماغ ( دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو ، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ، ایک اخروٹ کا مغز ، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں . * کمر میں درد ہوتو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے . * بواسیر کی شکایت ہوتو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے . اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے . * میتھی کے بیج اور انجیر کو پانی میں پکا کر شہد میں ملاکر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے . * انجیر تازہ اور نرم لینی چاہیے . کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں . ایسی انجیر بہت نقصان دہ وہوتی ہے .

خشک میوہ جات

‏موسمِ سرما کے شروع ہوتے ہی خشک میوہ جات کا استعمال بڑھ جاتا ہے جن میں خاص طور سے مونگ پھلی، اخروٹ پستہ، بادام، انجیر اور چلغوزے وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
تمام میوہ جات بالخصوص بادام ، مونگ پھلی میں وٹامن ای سے بھرپور غذائی عناصر پائے جاتے ہیں، جو آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں

مونگ پھلی

مونگ پھلی

مونگ پھلی تو سردیوں میں سب کا من بھاتا سستا میوہ ہے۔ اس میوے کی ایک خاصیت اس میں بہت زیادہ تیل کا ہونا ہے لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ مونگ پھلی میں موجود تیل یا چکناہٹ جسم کے کولسٹرول کو نہیں بڑھاتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سو گرام مونگ پھلی میں 37.8 فی صد نشاستہ اور 31.9 فی صد پروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن بی 1 کے علاوہ کیلشیم اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ غذائیت میں مونگ پھلی اخروٹ کی ہم پلہ ہے۔مونگ پھلی ہردل عزیز میوہ ہے۔ سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کا اپنا ہی مزا ہے تاہم اس کا باقاعدہ استعمال دبلے افراد اور باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش ثابت ہوتا ہے۔ مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسی ڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بل کہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کینیڈا میں کی جانے والے ایک تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسرے درجے کی ذیابطیس میں گرفتار افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا تیل بہت مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مونگ پھلی میں تیل کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن آپ خواہ کتنی بھی مونگ پھلی کھا جائیں اس کے تیل سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا




کشمش کے فوائد


کشمش کے فوائد.
خشک انگور یعنی کشمش میں تازہ انگور کی نسبت صحت بخش انٹی آکسیڈنٹس کی مقدار تقریباً تین گناہ زیادہ ہوتی ہے ایک ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ تمام غذاﺅں سے زیادہ انٹی آکسیڈنٹس کشمش میں پائے جاتے ہیں ۔ سرخ اور سبز انگور کی خشک شکل میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو عمل تکسید کے تباہ کن اثرات میں جسمانی خلیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ تازہ انگور کے مقابلے میں خشک انگور یا کشمش میں غذائیت بخش اجزاء کی زیادتی کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اس لئے کہ جب پھلوں کو خشک کیا جاتا ہے تو ان کے مرکبات زیادہ مقدار میں یکجا ہوتے ہیں ۔ دن بھر میں اگر 30 گرام کشمش کھائی جائے تو یہ 170 گرام انگور کھانے کے برابر ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انگور میں وٹامن سی اور فائٹو کیمیکلز کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور انہیں خشک میوے کی شکل د ینے سے ان غذائیت بخش اجزاءکی بڑی مقدار اگرچہ ضائع ہو جاتی ہے۔ کشمش سے ہمیں پوٹا شیم، فائبر اور بعض منرلز کی بھی قابل ذکر تعداد باقی رہتی ہے۔ ۔ خشک پھلوں میں شکر کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں حرارے بھی بڑھ جاتے ہیں کشمش ہلکے پھلکے ناشتے کے طور پر کھانے والی بہترین چیز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طبی ماہرین بچوں کو سویٹس اور ٹافی کی جگہ کشمش، خوبانی، آلو بخارا، منقہ، اور کھجور کی طرف رغبت دلاتے ہیں ۔ کشمش قبض کشا ہے کمزور لوگوں کا وزن بڑھاتی ہے کولیسٹرول میں اضافہ نہیں کرتی ۔ تیزا بیت اور گیس میں مفید ہے ۔ خون کی کمی دور کرتی ہے ۔ وائرس اور جراثیم سے ہونے والے بخار کو کم کرتی زہے ۔ ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔


چلغوزے

چلغوزےکو طب مفرد اعضاء نےگرم تر تسلیم کیاهے جوجسم میں گرمی بھرنےکیساتھ ساتھ تری کو بھی قائم کرتاهے اسی لئے گردوں کیلئے مفید ثابت هوا هے . اس کے خواص میں یه بھی شامل هے که جسم میں فربهی لانےکیساتھ قوت مردمی میں بھی اضافه کرتاهے بھوک کو اعتدال پر رکھتاهے.

چلغوزے گردہ‘مثانہ اور جگر کو طاقت دیتے ہیں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی اور فوری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ چلغوزہ کھانے سے میموری سیلز میں اضافہ ہو کر یادداشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ(فورٹ سنڈیمن)کی طرف جائیں تو تقریبا پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے یہی مسافت چار گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔یہ علاقہ 2500سے 3500میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ جبکہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے-یہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔یہ باغات تقریبا 1200مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔یہاں پیدا ہونے والا بیشتر چلغوزہ لاہور کی مارکیٹ میں سیل کیا جاتا ہے جہاں اسکی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اسکو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی‘انگلینڈ ‘ فرانس‘مسقط اور دیگر ممالک ہیں جہاں کےخریدار اس علاقے کے پاکستانی چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔بیرون ملک مہنگے داموں خریدے جانے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی چلغوزے انتہائی مہنگے داموں کم و بیش 6000روپے کلوبیچے جا رہے ہیں۔



بادام

اگر بے وقت بھوک لگے تو چپس یا بسکٹ کی بجائے مٹھی بھر بادام کھالیں، یہ وہ مثالی گری ہے جسے دن بھر کھایا جاسکتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متعدد طبی مسائل کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بادام متعدد اجزاءکے حصول کا قدرتی ذریعہ ہے جن میں پروٹین اور صحت بخش چربی قابل ذکر ہیں، روزانہ 30 گرام تک بادام کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
بادام وٹامن ای، غذائی فائبر، میگنیشم، کاپر، زنک، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیئم سمیت 15 غذائی اجزاءجسم کو فراہم کرتے ہیں۔
اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
طبی جریدے جرنل نیوٹریشنز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانا خون میں چربی کی سطح میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، یہ چربی امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
اسی طرح جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی جو لوگ گریاں جیسے بادام روزانہ کھانا پسند کرتے ہیں، ان میں کسی بھی مرض کے نتیجے میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے جو بادام کھانا پسند نہیں کرتے۔
اسی طرح پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ بادام کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
اسی طرح بادام میں وٹامن اور ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو بالوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، جیسے میگنیشم اور زنک بالوں کی نشوونما بہتر کرتے ہیں جبکہ وٹامن ای بالوں کو مضبوط اور وٹامن بی چمکدار بناتے ہیں۔
بادام میں مینگنیز نامی جز بھی موجود ہوتا ہے جو کہ کولیگن نامی ایک پروٹین کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ہمرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور قبل از وقت جھریاں نمودار نہیں ہوتیں۔
اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ باداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔
بادام کو دماغی غذا بھی کہا جاتا ہے جو کہ یاداشت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی وجہ وٹامن ای اور فیٹی ایسڈز کی موجودگی ہے، آسان الفاظ میں یہ میوہ بڑھتی عمر کے اثرات دماغ پر طاری نہیں ہونے دیتا

تل کے فائدے

سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے
ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے اور عمر بڑھانے کا بہترین غذائی ذریعہ ہیں ۔ پرانے زمانے میں پہلوان طاقت بڑھانے کے لیے تل کا استعمال کرتے تھے ۔ تل کے بیج مقوی تسلیم کیے گئے ہیں تل بے حد روغنی بیج ہے ۔ 
تل کی طبی افادیت : 
بطور دوا تل کا استعمال بہت مفید ہے تل میں بے حد فوائد پوشیدہ ہیں تلوں کی دیگر خوبیوں میں بہتر نشوونما کرنا، حیض جاری کرنا ، اجابت لانا، پیشا ب آور ہے مثانے کو قوت دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ بواسیر جلد، اینیمیا ، پیچش ، اسہال ، اسقاط حمل ، سانس کی بیماریوں اور بالوں کے لیے مفید ہے ۔ جسم کو فربہ کرتاہے جسم کے خراب خلیوں کی تعمیر اور مرمت میں تل حیرت انگیز کرشمے دکھاتا ہے ۔ یہ سرطان ، دق سل اور خون کی کمی کا بہترین علاج ہے جسمانی اور دماغی کام کرنے والوں کے تل کا استعمال بہت ضروری ہے ۔ 
بواسیر کا خون بند کرنے کا بہترین علاج تل میں موجود ہے ۔ تل کو پانی کے ساتھ پیس کر ہم وزن تازہ مکھن ملا لیں ۔ پھر دوگرام آمیزے کو مغز اخروٹ ایک گرم کے ساتھ صبح و شام چند دن کھلائیں ۔ 
جسم کو طاقتور ، سرخ و سفید فربہ بنانے کے لیے تلوں کے برابر وزن کے مغز بادام شیریں اور تخم خشخاس کے ساتھ کوٹ کر برابر مقدار میں چینی ملا کر ایک تولے سے دو تولے تک رات کو سوتے دودھ کے ساتھ کھائیے چند ہفتوں بعد ہی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ 
تِل مثانے کو بھی قوت دیتا ہے اسی لئے تلوں والی ریوڑی یا گجک کھانے سے پیشاب کے جملہ امراض ختم ہوجاتے ہیں ۔ 
ماہواری کے درد اور ٹھیک طرح سے نہ ہونے کی شکایت میں تل کھانے چاہئیں اس کے لیے دو چائے کے چمچ تل پیس کر ایک گلاس پانی میں اُبال کرلیں یہاں تک کے پانی ایک چوتھائی رہ جائے پھر یہ پانی پی لیں یہ حیض کی بے قاعدگی درست کرنے میں مفید ثابت ہوگا ۔ 
تلوں کے تیل کو اگرمنہ میں دس منٹ رکھ کر کلی کرلیں اور تیل پھینک دیں تو دانت مضبوط ہوں گے ۔
دانت کے درد میں ہینگ اور کلونجی کے ساتھ تل کا تیل ملا کر گرم کرکے کلی کرنے سے آرام ملتا ہے ۔ 
بند ناک کھولنے کے لیے یہ نسخہ کار آمد ہے۔
پسی کالی مرچ یا پسی اجوائن گرم کو گرم تل کے تیل میں ملا کر ناک میں ڈالیں یا سونگھیں اس سے بند ناک کھل جاتی ہے ۔ 
صحت و تندرست کے مستقل حصول کے لیے روز صبح سویرے ایک کھانے کا چمچ کالے تل تھوڑے تھوڑے کرکے باریک چبائیں ۔ جب رس کی طرح ہوجائے تو نگل لیں ۔اس طرح پورا ایک چمچ تل ختم کرلیں اور سادہ پانی پی لیں ، تل کھانے کے تین گھنٹے بعد تک کچھ نہ کھائیں اس طرح تل کھانے سے بڑھاپا دیر سے آتا ہے صحت اچھی رہتی ہے ۔ 
آرائش حسن کے لیے تل کا استعمال : 
تل اور تل کا تیل ہماری جلد اور بالوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ تل کا استعمال جلد کو نرم کرتاہے ان میں پایاجانے والا مادہ جلد کو تسکین دیتا ہے اور اندرونی و بیرونی پیداہونے والی خراش کو ختم کرکے سکون پہنچاتا ہے ۔ 
تل اور پودے اور پھول جن پر اوس پڑی ہوانہیں چہرے پر چند دن روزانہ ملنے سے چہرے کی جھائیاں اور مہاسے غائب ہوجاتے ہیں ۔ 
تل کا تیل بالوں کے لئے بہت مفید ہے جن لوگوں کے وقت سے پہلے بال سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں وہ تلوں کے تیل کے استعمال سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ جن کو یہ تیل موافق آجائے ان کے بال گرنا بند ہوجائیں گے اور مضبوط بھی ہوں گے ۔ 
تل کے پودے کے پتے مہند ی کے پتوں کے ساتھ پیس کر بالوں میں لگانے سے بال کالے اور چمکدار ہوتے ہیں ، سفید تلوں کا تیل بالوں کی نشوونما ، دلکشی اور چمک کے لیے بہت مفید ہیں تل کے چھوٹے دانوں میں بے شمار فوائد پوشیدہ ہیں ان سے ضرور فائدہ اُٹھائیں

پستہ

پستہ کے طبی فوائد
پستہ صحت کے لیے مفید عناصر سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ متعدد بیماریوں سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے، اس کے فوائد میں سے بعض کا تعلق جلد اور بالوں کی خوبصورتی سے ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں ریشہ، لحمیات، وٹامن سی، جست، تانبہ، فولاد اور کیلشیم پایا جاتا ہے،پستہ قدرتی حسن افروز مرکب ہے۔روزانہ منا سب مقدار میں پستے کھانے سے پھیپھڑوں اور کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
پستہ کا استعمال صدیوں سے مستعمل ہے ۔نمکین بھنا ہوا پستہ انتہائی لذت دار ہوتا ہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیا جا تا ہے۔جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دور رکھ سکتی ہے ۔ پستہ خون میں شامل ہو کر خون کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو کم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضر عنصر لیوٹین کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پھل اور پتے دار ہری سبزیاں کھانے سے
شریانوں میں جمے کولیسٹرول کو پگھلایا جاسکتاہے ۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پستہ عام خوراک کی طرح کھانا آسان بھی ہے اور ذائقے دار غذا بھی ‘ اگر ایک آدمی مکھن‘ تیل اور پینر سے بھرپور غذاوں کے بعد ہلکی غذاں کی طرف آنا چاہتا ہے تو اسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچاﺅ میں مددگار ثابتہ ہوتا ہے۔ ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ منا سب مقدار میں پستے کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطا بق پستوں میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہو تی ہے جو کینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پستوں میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دیگر کئی اقسام کے کینسرز سے لڑنے کے لیے مضبوط مدا فعتی نظام حاصل کیا جا سکتا ہے۔خواتین کو اپنی روز مرہ کی غذا میں پستے کو شامل کرنا چاہیے تاکہ وہ ان فوائد کو حاصل کر سکیں جو ان کی خوبصورتی نمایاں کرنے کے سلسلے میں شاندار طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔پستہ انتہائی مفید چربیلے تیزابوں (فیٹی ایسڈ)سے بھرپور ہوتا ہے جو مستقل طور پر صحت مند، نرم و ملائم اور دمکتی جلد کو برقرار رکھتے ہیں۔اس میں ایسے روغن پائے جاتے ہیں جو جلد کو نم کرتے ہیں اور اس سے جلد کو زبردست قسم کی ملائم حاصل ہوتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پستہ کھانے سے جلد کی ساخت نرم اور پرکشش ہوجاتی ہے۔پستہ اینٹی آکسیڈنٹس پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو جلد پر ڈھلتی عمر کی علامات ظاہر ہونے کو روکتا ہے لہٰذا روزانہ پستہ کھانے سے آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں گی اور یقینا ہر خاتون یہ ہی خواہش رکھتی ہے۔
اسی طرح روزانہ باقاعدگی کے ساتھ ایک مٹھی پستے کھانے سے سورج کی شعاں کے نقصان دہ اثرات سے جلد کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پستہ دھوپ کی جلن کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کے سرطان سے بھی حفاظت کرتا ہے۔ پستہ میں بھرپور طور پر بائیوٹن پایا جاتا ہے۔ لہذا روزانہ درمیانی مقدار میں پستے کھانا بالوں کے گرنے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ پستہ بال گرنے سے متعلق مسائل کا جادوئی اور فعال حل پیش کرتا ہے۔

انجیر

انجیر کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطا کرتا ہے۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے۔انجیر ایک چھوٹا سا خشک میوہ ہے، جس کے بے شمار فوائد اور متعدد خواص ہیں، جن میں سے چند اہم ترین کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔
نظام انہضام کی بہتری: انجیر کے تین ٹکڑے 5گرام ریشوں (فائبر) پر مشتمل ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا 20فیصد پورا کردیتا ہے۔ انجیر قدرتی طور پر قبض کشا خشک میوہ ہے، جو آپ کو قبض سے محفوظ رکھنے کے علاوہ نظام انہضام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔
وزن میں کمی: ریشوں سے بھرپور ہونے کے علاوہ انجیر میں کچھ خاص قسم کی کیلوریز بھی پائی جاتی ہیں۔ لہذا وہ لوگ جو اپنا وزن گھٹانا چاہتے ہیں انجیر کا ضرور استعمال کریں،کیوں کہ ایک انجیر میں صرف 47 کیلوریز ہوتی ہیں۔
بلڈ پریشر: خون کے دباﺅ کا شکار افراد کے جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح متناسب نہیں رہتی اور انجیر کا استعمال اس متناسب کو بحال کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور انجیر بلڈپریشر کو کم کر سکتی ہے۔
دل کے امراض: انجیر میں شامل اینٹی آکسائیڈینٹ کسی بھی دیگر پھل کی نسبت زیادہ معیاری ہوتے ہیں اور یہ مرکبات ایسے مادوں کو خارج کر دیتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسائیڈینٹ کینسر سے بچاﺅ کا بھی موجب ہیں۔
ہڈیوں کی مضبوطی: کیلشیم سے بھرپور دیگر غذاﺅںکے ساتھ انجیر کا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک خشک انجیر کیلشیم کی روزانہ کی ضرورت کا 3فیصد بنتی ہے۔
ذیابطیس: ذیابطیس کا شکار افراد اکثر اپنی خوراک کے بارے میں کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں لیکن انجیر کا استعمال آپ کے لئے نہایت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ انجیر میں قدرتی شوگر ہوتی ہے، جو مصنوعی شوگر کے استعمال کو کم کرکے فائدہ پہنچاتی ہے۔
خون کی کمی: ایک انجیر انسانی جسم کو روزانہ درکار آئرن کی 2 فیصد ضرورت کو پورا کرتی ہے اور آئرن کی متناسب مقدار نہ ملنے سے جسم خون کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔
نظام تولید: قدیم علوم کے مطابق یونانی قوت باہ کو بڑھانے کے لئے انجیر کا استعمال کیا کرتے تھے اور آج جدید میڈیکل سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انجیر تولیدی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے، کیوں کہ یہ زنک، میگنیشیم اور میگنیز جیسے منرلز سے بھرپور ہوتی ہے۔

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...