Ad3
مسلم حدیث نمبر 2714
مسلم حدیث نمبر 2716
مسلم حدیث نمبر 2718
مسلم حدیث نمبر 2716
مسلم حدیث نمبر 2719
حماد نے ایوب اور ہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔۔۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔۔۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں ۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں ، کہا : جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔
Abdullah b. Shaqiq reported. I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She said:
He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Medina, but that of Ramadan.
مسلم حدیث نمبر 2721
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن ( بن عوف ) سے اور انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے نہیں رکھیں گے ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ( اور ) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے ۔
A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to fast (so continuously) that we said that he would not break, and did not fast at all till we said that he would not fast. And I did not see the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Sha'ban.
مسلم حدیث نمبر 2723
ابن ابی لبید نے ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا : آپ مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے ہی رکھتے جا رہے ہیں اور روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ نے روزے بند کر دیے ہیں ۔ اور میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں شعبان کے روزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ ( گویا ) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔
Abu Salama reported:
I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Sha'ban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Sha'ban except a few (days).
مسلم حدیث نمبر 2724
مسلم حدیث نمبر 2726
مسلم حدیث نمبر 2728
زہیر بن حرب اور ابوبکر بن نافع نے ۔۔۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔۔۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ نے روزے شروع کر دیے ، آپ نے روزے شروع کر دیے ، اور آپ روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ، آپ نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it).
مسلم حدیث نمبر 2730
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحیی نے حدیث سنائی ، کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہو جاؤ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ تشریف لائے ) یا آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا :’’ کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہر روز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کا حق ہے اور تم پر تمھارے جسم کا حق ہے ۔‘‘ ( آخر میں ) آپ نے فرمایا :’’ اللہ کے نبی داود ﷺ کے روزوں کی طرح روزے رکھو ، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔‘‘ فرمایا :’’ قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے زیادہ بہتر ( عمل ) کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اسے ہر دس دن میں پڑھا کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے بہتر کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو ہر سات دن میں پڑھا کرو ، اس سے زیادہ نہ کرو کیونکہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے ، تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے اور تمھارے جسم کا تم پر حق ہے ۔‘‘ کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔‘‘
کہا : میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی ﷺ کی رخصت قبول کر لی ہوتی ۔
Yahya reported:
I and 'Abdullah b. Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that 'Abdullah b Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Qur'an every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Qur'an every night) was mentioned to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) or he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Qur'an) every night. I said: Apostle of Allah, it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Messenger of Allah (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah, what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Qur'an during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He ('Amr b. 'As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had told me: 'You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مسلم حدیث نمبر 2732
مسلم حدیث نمبر 2734
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ ابوعباس نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم ﷺ کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتا ہوں ، آپ نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا :’’ کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہو اور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو ؟ تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ، لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو اور ہر دس دن میں سے ایک دن کا روزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو پھر داود علیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اور جب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! مجھے اس کی ضمانت کون دے گا ( کہ میری زندگی کا ہر دن روزے سے شمار ہو گا ؟ ) ۔۔۔ عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔۔۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔‘‘
Abdu'llah b. 'Amr b. 'As (Allah be pleased with them) reported:
It was conveyed to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Don't do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah, I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He ('Amr) said: Apostle of Allah, how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah, who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? 'Ata', the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all.
مسلم حدیث نمبر 2736
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ» قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى»
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوعباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اے عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روزانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جاگ جاگ کر ) کمزور ہو جائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔‘‘ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔‘‘
Abdullah b. Amr (Allah be pleased with both of them) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: 'Abdullah b. Amr, you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter.
مسلم حدیث نمبر 2738
مسلم حدیث نمبر 2740
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے ، پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعد رات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔‘‘
میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینار سے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے :’’ وہ آدھی رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے ؟‘‘ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying:
The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked 'Amr b. Dinar whether 'Amr b. Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes.
مسلم حدیث نمبر 2743
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَكَانَ يَقُولُ: «يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ»
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اے عبداللہ بن عمرو ! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پر تمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ) ہے اور تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا بھی ضروری ) ہے ، روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔‘‘
وہ کہا کرتے تھے : کاش ! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me! 'Abdullah b. 'Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Don't do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a prepetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said:
Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he ('Abdullah b. 'Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession.
مسلم حدیث نمبر 2745
مسلم حدیث نمبر 2746
مسلم حدیث نمبر 2751
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...