Ad3

Showing posts with label Hadees Sahih Muslim. Show all posts
Showing posts with label Hadees Sahih Muslim. Show all posts

مسلم حدیث نمبر 2714

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاتَ يَوْمٍ «يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ قَالَ: «فَإِنِّي صَائِمٌ» قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ - أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ - وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: «هَاتِيهِ» فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: «ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا»

 عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحیی نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحہ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا : ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اے عائشہ ! کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ؟‘‘ کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجا گیا ۔۔۔ یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آ گئے ۔۔۔ کہا : جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔۔۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔۔۔ اور میں نے آپ کے لئے کچھ محفوظ کر کے رکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ وہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اور پنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ اسے لایئے ۔‘‘ تو میں اسے لے آئی اور آپ نے کھا لیا ، پھر آپ نے فرمایا :’’ میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔‘‘ 
 طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔ 

A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that one day the Messenger of Allah may peace be upon him) said to me:
'A'isha, have you anything (to eat)? I said: 'Messenger of Allah, there is nothing with us. Thereupon he said: I am observing fast. She said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out, and there was a present, for us and (at the same time) some visitors dropped in. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came back, I said to him: Messenger of Allah, a present was given to us, (and in the meanwhile) there came to us visitors (a major Portion of it has been spent on them), but I have saved something for you. He said: What is it? I said: It is hais (a compound of dates and clarified butter). He said: Bring that. So I brought it to him and he ate it and then said: I woke up in the morning observing fast. Talha said: I narrated this hadith to Mujahid and he said: This (observing of voluntary fast) is like a person who sets apart Sadaqa out of his wealth. He may spend it if he likes, or he may retain it if he so likes. 

مسلم حدیث نمبر 2716

وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ»

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا ، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔‘‘ 

Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying:
If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink. 

مسلم حدیث نمبر 2718

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: «مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

 
 کہمس نے عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے سوا کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے تاآنکہ آپ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیتے ، یہاں تک کہ آپ اپنی ( دائمی منزل کی ) راہ پر تشریف لے گئے ۔ 

Abdullah b. Shaqiq reported:
I said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him. 

مسلم حدیث نمبر 2716

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: «وَاللهِ، إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ»

سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا رسول اللہ ﷺ رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! رمضان کے سوا آپ نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔ 

 Abdullah b. Shaqiq reported:
I said to'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fast for a full month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted throughout, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life. 

مسلم حدیث نمبر 2719

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ - قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ -، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:    كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ  

حماد نے ایوب اور ہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔۔۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔۔۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں ۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں ، کہا : جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔

Abdullah b. Shaqiq reported. I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said:
He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Medina, but that of Ramadan. 

مسلم حدیث نمبر 2721

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:    كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ  

عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن ( بن عوف ) سے اور انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے : آپ روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے نہیں رکھیں گے ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ( اور ) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے ۔

A'isha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to fast (so continuously) that we said that he would not break, and did not fast at all till we said that he would not fast. And I did not see the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Sha'ban.



مسلم حدیث نمبر 2723

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:    كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ، أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا  

ابن ابی لبید نے ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا : آپ مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے ہی رکھتے جا رہے ہیں اور روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ نے روزے بند کر دیے ہیں ۔ اور میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں شعبان کے روزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ ( گویا ) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔


Abu Salama reported:
I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Sha'ban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Sha'ban except a few (days). 

مسلم حدیث نمبر 2724

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:    مَا صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ، غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ، إِذَا أَفْطَرَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا، وَاللهِ، لَا يَصُومُ

ابوعوانہ نے ابوبشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے ۔ جب آپ روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ روزے چھوڑتے تو ( مسلسل ) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ روزے نہیں رکھیں گے ۔ 

 Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:
The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not fast throughout any month except during ramadan. And when he observed fast (he fasted so continuously) that one would say that he would not break (them) and when he Abandoned, he abandoned (so continuously) that one would say: By Allah, perhaps he would never fast. 

مسلم حدیث نمبر 2726

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:    كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ   


عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ، اور ہم ان دنوں رجب ہی میں تھے ، تو انھوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے نہیں رکھیں گے ۔ 


 Uthman b. Hakim al-Ansari said:
I asked Sa'id b. Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) as saying: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so conti- nuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast. 



مسلم حدیث نمبر 2728

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،    كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ  
زہیر بن حرب اور ابوبکر بن نافع نے ۔۔۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔۔۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ نے روزے شروع کر دیے ، آپ نے روزے شروع کر دیے ، اور آپ روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ، آپ نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔


Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it).

مسلم حدیث نمبر 2730

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا، أَنْ تَدْخُلُوا، وَإِنْ تَشَاءُوا، أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ فَقُلْنَا: لَا، بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ؟» فَقُلْتُ: بَلَى، يَا نَبِيَّ اللهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: «فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ «فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟ قَالَ: «كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا» قَالَ: «وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ» قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» قَالَ: فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ. قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ» قَالَ: «فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»


عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحیی نے حدیث سنائی ، کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہو جاؤ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ تشریف لائے ) یا آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا :’’ کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہر روز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کا حق ہے اور تم پر تمھارے جسم کا حق ہے ۔‘‘ ( آخر میں ) آپ نے فرمایا :’’ اللہ کے نبی داود ﷺ کے روزوں کی طرح روزے رکھو ، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔‘‘ فرمایا :’’ قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے زیادہ بہتر ( عمل ) کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اسے ہر دس دن میں پڑھا کرو ۔‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سے بہتر کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو ہر سات دن میں پڑھا کرو ، اس سے زیادہ نہ کرو کیونکہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے ، تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے اور تمھارے جسم کا تم پر حق ہے ۔‘‘ کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔‘‘
کہا : میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی ﷺ کی رخصت قبول کر لی ہوتی ۔
Yahya reported:
I and 'Abdullah b. Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that 'Abdullah b Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Qur'an every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Qur'an every night) was mentioned to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) or he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Qur'an) every night. I said: Apostle of Allah, it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Messenger of Allah (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah, what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Qur'an during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He ('Amr b. 'As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had told me: 'You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).


مسلم حدیث نمبر 2732

حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: - وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» قَالَ قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً» قَالَ قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ»

شیبان نے یحیی سے ، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی ۔ ( یحیی نے کہا : ) ۔۔۔ میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابوسلمہ سے سنی ۔۔۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیا کرو ۔‘‘ میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔‘‘ میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ سات دنوں میں پڑھ لیا کرو اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا ۔‘‘ 

 Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported:
The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: Recite the whole of the Qur'An during every month. I said: I find power (to recite it) in a shorter period. He said: Then recite it in twenty nights. I said: I find power (to recite it in a shorter period even than this), whereupon he said: Then recite it in seven (nights) and do not exceed beyond it. 

 

مسلم حدیث نمبر 2734

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ؟ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ» قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: «فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ؟ يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: «كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى» قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ؟ يَا نَبِيَّ اللهِ، - قَالَ عَطَاءٌ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ»

عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ ابوعباس نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم ﷺ کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتا ہوں ، آپ نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا :’’ کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہو اور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو ؟ تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ، لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو اور ہر دس دن میں سے ایک دن کا روزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو پھر داود علیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا :’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اور جب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔‘‘ کہا : اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! مجھے اس کی ضمانت کون دے گا ( کہ میری زندگی کا ہر دن روزے سے شمار ہو گا ؟ ) ۔۔۔ عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔۔۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔‘‘

Abdu'llah b. 'Amr b. 'As (Allah be pleased with them) reported:
It was conveyed to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Don't do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah, I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He ('Amr) said: Apostle of Allah, how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah, who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? 'Ata', the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all.



مسلم حدیث نمبر 2736

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ» قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى»

شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوعباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اے عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روزانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جاگ جاگ کر ) کمزور ہو جائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔‘‘ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔‘‘




Abdullah b. Amr (Allah be pleased with both of them) reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: 'Abdullah b. Amr, you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter.

مسلم حدیث نمبر 2738

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟» قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَإِنَّكَ، إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ»

سفیان بن عیینہ نے عمرو سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا :’’ کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور تمھاری جان کمزور ہو جائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا حق ہے ، قیام کرو اور نیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔‘‘ 

 Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported:
The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: I have been informed that you stand for prayer the whole of night and fast during the day. I said: I do that, whereupon he said: If you did that you in fact strained heavily your eyes and made yourself weak. There is a right of your eyes (upon you) and a right of your self (upon you) and a right of your family (upon you). Stand for prayer and sleep. observe fasts and break (them). 






مسلم حدیث نمبر 2740

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ، يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ» قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ: يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ

ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے ، پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعد رات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔‘‘
میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینار سے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے :’’ وہ آدھی رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے ؟‘‘ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔

Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying:
The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked 'Amr b. Dinar whether 'Amr b. Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes. 

مسلم حدیث نمبر 2743

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا    فَكَانَ يَقُولُ: «يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ»

سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اے عبداللہ بن عمرو ! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پر تمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ) ہے اور تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا بھی ضروری ) ہے ، روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔‘‘

وہ کہا کرتے تھے : کاش ! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔


Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me! 'Abdullah b. 'Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Don't do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a prepetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said:

Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he ('Abdullah b. 'Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession.

مسلم حدیث نمبر 2745

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟» قَالَتْ: «نَعَمْ»، فَقُلْتُ لَهَا: «مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟» قَالَتْ: «لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ»

معاذہ عدویہ نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی اکرم ﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ میں نے پوچھا : آپ مہینے کے کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : آپ اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ مہینے کے کن ایام کا روزہ رکھ رہے ہیں ۔ یعنی وسط مہینہ کے حوالے سے دن متعین نہ تھے ۔ 


 Mu'adha al-'Adawiyya reported that she asked 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), whether the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed fasts for three days during every month. She said:
Yes I said to her: Which were (the particular) days of the month on which he observed fast? She said: He was not particular about the days of the month on which to observe fast. 




مسلم حدیث نمبر 2746

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً. قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ؟ فَقَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ - أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ -» قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؟ قَالَ: «وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: «لَيْتَ أَنَّ اللهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؟ قَالَ: «ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَام -» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ - أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ -» قَالَ: فَقَالَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ، صَوْمُ الدَّهْرِ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: «يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ» قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: «يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ» وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؟ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ ناراض ہو گئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد ﷺ کے رسول ہونے اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ( جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے کی ۔ ) 
 کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔‘‘ اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟‘‘ کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا ۔ فرمایا :’’ کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔‘‘ کہا : اور آپ ﷺ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔‘‘ کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔۔۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔۔۔‘‘ کہا : اس کے بعد آپ نے فرمایا :’’ ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔‘‘ کہا : آپ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا ، آپ نے فرمایا :’’ یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔‘‘ کہا : اور آپ سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :’’ وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔‘‘ 
 امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔ 

 Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked about his fasting. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said:
We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. (Imam Muslim said that in this hadith there is a) narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting). 


مسلم حدیث نمبر 2751

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ - وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ - أَوْ لِآخَرَ -: «أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ»

ثابت نے مطرف سے انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ۔۔۔ یا کسی اور آدمی سے ۔۔۔ فرمایا :’’ کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزے رکھے ہیں ؟‘‘ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم روزے ختم کر لو تو دو دن کے روزے رکھنا ۔‘‘ 
 Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) having said to him or to someone else:
Did you fast in the middle of Sha'ban? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you did not observe fast, then you should observe fast for two days. 

 


Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...