1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔
1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔
1780ء مریکی آرٹ و سائنس اکادمی کا قیا م عمل میں آیا۔
1818ء نیدر لینڈ اور برطانیہ نے ٖغیر قانونی غلاموں کی تجارت روکنے کے لئے سمجھوتہ کیا۔
1846ء امریکی صوبہ مشی گن میں سرائے موت ختم کر دی گئی۔
1854ء ہندوستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ باقاعدہ طور سے جاری کیا گیا۔
1896ء لندن میں ڈیلی میل اخبار پہلی مرتبہ شائع ہوا۔
1904ء پاناما نہر کی تعمیر کا کام شروغ ہو گیا۔
1910ء موجودہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی بنیاد رکھی گئی۔
1924ء فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آٹھویں اولمپک کھیلوں کا آغاز ہوا۔
1931ء اتاترک مصطفی کمال پاشا ترکی کے صدر بنے۔
1979ء مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔
1990ء پاکستان نے آسٹریلیا کو چھتیس رنز سے ہرا کر آسٹریلیا ایشیا کپ جیتا۔
1994ء مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات نے فلسطین کی مشروط خود مختاری کے معاہدے پردستخط کئے۔
4 مئی 1995ء کو وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نئی عمارت کا باضابطہ افتتاح کیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس عمارت میں دو برس پہلے منتقل ہوچکی تھی اور تب سے اب تک وہیں کام کررہی تھی۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہی اپنے پہلے دور حکومت میں 25 اکتوبر 1989ء کو رکھا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی خوب صورت اور پرشکوہ عمارت کا ڈیزائن جاپان کی مشہور آرکیٹیکچرل فرم میسرز کنیزو ٹانگے ایسوسی ایٹس نے تیار کیا تھا اور اسے پی پیک (پاکستان انوائرمینٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹس) کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس عمارت کا کل کورڈ ایریا 3,39,861 مربع فٹ ہے
1996ء ہوزے مریا ازنار ہسپانیہ کے وزیر اعظم بن گئے۔
2005ء صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ القاعدہ کے رہنما ابو فراج ال لبّی کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔
2008ء تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں گلوبل وارننگ پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
5مئی 2015ء کو وزیر اعظم پاکستان جناب محمد نواز شریف نے بہاولپور میں شمسی توانائی سے چلنے والے سومیگاواٹ کے کے قائداعظم سولر انرجی پارک کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر4مئی 2015ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ سو میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنے والا یہ پارک اپنی نوعیت کادنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور حکومت چین کی مدد سے پندرہ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ٓآٹھ روپے مالیت کے اس ڈاک ٹکٹ پر شمسی توانائی کے پینل کی ایک خوب صورت تصویر بنی تھی۔ یہ ڈاک ٹکٹ لیاقت علی نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میںFIRST 100 MW SOLAR PLANT کے الفاظ تحریر تھے۔
پیدائش :
۔"""""
1008ء خواجہ عبداللہ انصاری، شاعر و صوفی، شیخ ہرات
1649ء راجہ چھترسال، ہندوستانی جنگجو
1928ء حسنی مبارک، مصر کے سابق صدر
1922ء۔۔ اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کا اصل نام فاروق احمد تھا اور وہ 4 مئی 1922ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بدایوں سے ہی تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کے جریدے آہنگ سے منسلک ہوگئے۔ محشر بدایونی کا شمار پاکستان کے ممتاز شعرا میں ہوتا تھا۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ان کی تصانیف میں شہر نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصل فردا، چراغ ہم نوا، حرف ثنا، شاعر نامہ، سائنس نامہ اور بین باجے کے نام شامل ہیں۔ ٭9 نومبر 1994ء کو اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
1905ء۔۔ اردو کے معروف شاعر جناب اختر شیرانی 4 مئی1905ء کو ریاست ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔ اختر شیرانی اردو کے نامور محقق حافظ محمود خان شیرانی کے فرزند تھے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں بسر ہوا۔ وہ اردو کے کئی ادبی جرائد کے مدیر رہے۔ انہیں شاعر رومان بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں اخترستان، شعرستان، شہناز، جہاں ریحانہ رہتی ہے، صبح بہار، طیور آوارہ اور لالۂ طور کے نام سرفہرست ہیں۔ ٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔ اختر شیرانی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ان کی قبر کا کتبہ پاکستان کے مشہور خطاط صوفی خورشید عالم خورشید رقم کی خطاطی کا شاہکار ہے۔
وفات :
۔""""
1799ء ٹیپو سلطان والئ میسور سرنگا پٹنم کی لڑائی میں شہید ہو گئے ۔٭ ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کا اصل نام فتح علی خان تھا اور وہ 20 نومبر 1750ء کو پیدا ہوئے تھے ۔ان کے والد حیدر علی نے18 ویں صدی کے اوائل میں جنوبی ہند میں سلطنت میسور کے نام سے ایک بڑی سلطنت قائم کی تھی جس کا صدر مقام سرنگا پٹم تھا۔ حیدر علی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ وہ اپنی وفات کے بعد اپنے فرزند ٹیپو سلطان کے لیے دو ورثے چھوڑ کر رخصت ہوئے، ایک تاج و تخت اور دوسرا انگریزوں کے خطرے کا انسداد۔ ٹیپو سلطان نے دونوں ورثے جوانمردی سے سنبھالے۔ انہوں نے انگریزوں سے دو زبردست لڑائیاں لڑیں مگر اپنوں کی غداری اور مرہٹوں کی امداد سے انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے خلاف کامیابی حاصل کرلی۔ 4 مئی 1799ء کو یہ بہادر شخص میدان جنگ میں لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریز رفتہ رفتہ پورے ہندوستان پر قابض ہوگئے تاہم ٹیپو سلطان نے آزادی کی جس آگ کو روشن کیا تھا وہ برابر سلگتی رہی اور ڈیڑھ سو سال بعد انگریزوں کو ہندوستان سے رخصت ہونا پڑا۔ ٹیپو سلطان کا مشہور قول تھا: گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے اپنے اس قول کو سچ کر دکھایا۔ 4 مئی 1799ء ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کی تاریخ شہادت ہے۔
1938ء کارل فان اوسیتزکی، نوبل انعام یافتہ جرمن صحافی (پیدائش: 1889)
1963ء شوکت تھانوی، ممتاز مزاح نگار
شوکت تھانوی کی وفات۔پاکستان کے اردو کے نامور مزاح نگار‘ شاعر اور صحافی جناب شوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء ہے۔ جناب شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ بندرابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے تھے۔آبائی وطن تھانہ بھون ضلع مظفر نگر تھا اور اسی نسبت سے تھانوی کہلاتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک لکھنو میں مقیم رہے جہاں انہوں نے مزاح نگاری‘ شاعری اور صحافت کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ 1930ء میں نیرنگ خیال کے سالنامے میں ان کا مشہور مزاحیہ افسانہ ‘‘ سودیشی ریل‘‘ شائع ہوا جس کے بعد ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا۔ قیام پاکستان کے بعد جناب شوکت تھانوی پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے جہاں وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدیر مقرر ہوئے تھے۔روزنامہ جنگ میں ان کے کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ اور پہاڑ تلے بھی قارئین میں بے حد مقبول تھے۔ جناب شوکت تھانوی کی تصانیف میں موج تبسم‘ بحر تبسم‘ دنیائے تبسم‘برق تبسم، سیلاب تبسم‘ سودیشی ریل‘ قاعدہ بے قاعدہ‘ نیلوفر‘ جوڑ توڑ‘ سنی سنائی‘ خدانخواستہ‘ بارخاطر ، ان کی خودنوشت سوانح ’’مابدولت‘‘ اور خاکوں کا مجموعہ شیش محل شامل ہیں۔ شوکت تھانوی4 مئی 1963ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے
1972ء اڈوارڈ کیلون کینڈل، نوبل انعام یافتہ امریکی کیمیا دان (پیدائش: 1886)
1980ء مارشل ٹیٹو، یوگوسلاوی فیلڈ مارشل و پہلے صدر (پیدائش: 1892)
2009ء ڈی لوئی، امریکی اداکار (پیدائش: 1933)
2013ء کرسچن ڈی دووی، انگریز بلجیئن نوبل انعام یافتہ (پیدائش: 1917ء)
تعطیلات و تہوار :
۔""""""""""""""
● فائرفائٹرز کا عالمی دن
No comments:
Post a Comment