پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون جب اپنی سر زمین سے دور ہوتی ہے تو اس کو اپنی جنم بھومی سے کھانے پینے کی اشیاﺀ یا کسی اور قسم کی فرمائش کے بجائے صرف اور صرف دنداسہ منگوانا ہی کیوں یاد رہتا ہے.آئیے آج ہم آپکو دنداسے کے بارے میں بتاتے ہیں. دنداسہ دراصل اخروٹ کے درخت کی چھال ہوتی ہے جو کہ صوبہ کے پی کے کے علاوہ کسی اور علاقے میں اتنی بڑی مقدار میں نہیں اگتی ہے اس چھال سے عام طور پر یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ اسے صرف دانتوں کی صفائی کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے دانتوں کی صفائ کرنے کے علاوہ دیگر استعمال بھی ہیں جو درج ذیل ہیں
1) دنداسے کا ہونٹوں کی سرخی کے طور پر استعمال
دنداسے کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ جب وہ گیلا ہوتا ہے تو اس کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے اور اس کا یہ رنگ ہر اس چیز کو سرخ کر دیتا ہے جس کے ساتھ یہ مس ہوتا ہے اس لیے خواتین اس کو جب دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کرتی ہیں تو ان کے ہونٹ اس سے مستقل طور پر سرخ ہو جاتے ہیں جو آرٹیفیشل لپ اسٹک کے مقابلے میں نہ صرف دیر پا ہوتا ہے بلکہ اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہوتے ہیں.
2) ہاتھوں اور پیروں پر سرخ رنگ کے لیے
ویسے تو خواتین ہاتھوں پیروں کو رنگنے کے لیے مہندی کا استعمال کرتی ہیں مگر کے پی کے میں اکثر خواتین مہندی کی جگہ پر دنداسے کا استعمال بھی کرتی رہی ہیں اس کے لیے دنداسے کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کو جب ہاتھوں پیروں پر لگایا جاتا ہے تو اس کا سرخ رنگ ہاتھوں پیروں کو مہندی کی طرح ہی سرخ کر دیتا ہے جو کہ ایک سہاگن کی نشانی تصور کی جاتی ہے.
3) دنداسہ بطور نیل پالش
دنداسے کا استعمال خواتین نیل پالش کے طور پر بھی کرتی ہیں اس کے لیے وہ دنداسے کو رات بھر بھگو کر رکھتی ہیں اس کی سرخ رنگت ناخنوں پر آجاتی ہے اور ناخون نیل پالش کی طرح ہی نظر آتے ہیں نماز کی ادائیگی کے لیے نیل پالش کو اتارنا پڑتا ہے مگر دنداسے کی خاص بات یہ ہے کہ دنداسے کے رنگ کے سبب ناخنوں پر ایک تہہ نہیں چڑھتی ہے اس لیے اس سے وضو پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ہے-
4) کپڑوں کی رنگائی کے لیے
خواتین اپنے بےرنگ دوپٹوں کی رنگائی کے لیے بھی دنداسے کے پانی کا استعمال کرتی ہیں جس سے ان کے سفید کپڑے اور خصوصاً دوپٹے سرخ رنگ میں گھر بیٹھے رنگے جا سکتے ہیں-
5) دانتوں کی صفائی کے لیے
دنداسہ مسواک کی طرح خواتین دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کرتی ہیں اس سے نہ صرف دانتوں پر سے داغ دھبے دور ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں-
No comments:
Post a Comment