Ad3

دنداسہ

پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون جب اپنی سر زمین سے دور ہوتی ہے تو اس کو اپنی جنم بھومی سے کھانے پینے کی اشیاﺀ یا کسی اور قسم کی فرمائش کے بجائے صرف اور صرف دنداسہ منگوانا ہی کیوں یاد رہتا ہے.آئیے آج ہم آپکو دنداسے کے بارے میں بتاتے ہیں. دنداسہ دراصل اخروٹ کے درخت کی چھال ہوتی ہے جو کہ صوبہ کے پی کے کے علاوہ کسی اور علاقے میں اتنی بڑی مقدار میں نہیں اگتی ہے اس چھال سے عام طور پر یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ اسے صرف دانتوں کی صفائی کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے دانتوں کی صفائ کرنے کے علاوہ دیگر استعمال بھی ہیں جو درج ذیل ہیں

1) دنداسے کا ہونٹوں کی سرخی کے طور پر استعمال

دنداسے کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ جب وہ گیلا ہوتا ہے تو اس کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے اور اس کا یہ رنگ ہر اس چیز کو سرخ کر دیتا ہے جس کے ساتھ یہ مس ہوتا ہے اس لیے خواتین اس کو جب دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کرتی ہیں تو ان کے ہونٹ اس سے مستقل طور پر سرخ ہو جاتے ہیں جو آرٹیفیشل لپ اسٹک کے مقابلے میں نہ صرف دیر پا ہوتا ہے بلکہ اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہوتے ہیں.

2)  ہاتھوں اور پیروں پر سرخ رنگ کے لیے 

ویسے تو خواتین ہاتھوں پیروں کو رنگنے کے لیے مہندی کا استعمال کرتی ہیں مگر کے پی کے میں اکثر خواتین مہندی کی جگہ پر دنداسے کا استعمال بھی کرتی رہی ہیں اس کے لیے دنداسے کو رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کو جب ہاتھوں پیروں پر لگایا جاتا ہے تو اس کا سرخ رنگ ہاتھوں پیروں کو مہندی کی طرح ہی سرخ کر دیتا ہے جو کہ ایک سہاگن کی نشانی تصور کی جاتی ہے.

3)  دنداسہ بطور نیل پالش 

دنداسے کا استعمال خواتین نیل پالش کے طور پر بھی کرتی ہیں اس کے لیے وہ دنداسے کو رات بھر بھگو کر رکھتی ہیں اس کی سرخ رنگت ناخنوں پر آجاتی ہے اور ناخون نیل پالش کی طرح ہی نظر آتے ہیں نماز کی ادائیگی کے لیے نیل پالش کو اتارنا پڑتا ہے مگر دنداسے کی خاص بات یہ ہے کہ دنداسے کے رنگ کے سبب ناخنوں پر ایک تہہ نہیں چڑھتی ہے اس لیے اس سے وضو پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ہے-

4)  کپڑوں کی رنگائی کے لیے 

خواتین اپنے بےرنگ دوپٹوں کی رنگائی کے لیے بھی دنداسے کے پانی کا استعمال کرتی ہیں جس سے ان کے سفید کپڑے اور خصوصاً دوپٹے سرخ رنگ میں گھر بیٹھے رنگے جا سکتے ہیں-

5) دانتوں کی صفائی کے لیے 

دنداسہ مسواک کی طرح خواتین دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کرتی ہیں اس سے نہ صرف دانتوں پر سے داغ دھبے دور ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں-

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...