Ad3

بخاری حدیث نمبر 540

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ،    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، فَذَكَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ ، فَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي الْبُكَاءِ ، وَأَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْخَيْرِ وَالشَّرِّ    .

 جب سورج ڈھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر تشریف لائے۔ اور قیامت کا ذکر فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں بڑے عظیم امور پیش آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ لے۔ کیونکہ جب تک میں اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے۔ میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ لوگ بہت زیادہ رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے جاتے تھے کہ جو کچھ پوچھنا ہو پوچھو۔ عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ حذافہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی برابر فرما رہے تھے کہ پوچھو کیا پوچھتے ہو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ ادب سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد  (  صلی اللہ علیہ وسلم  )  کے نبی ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔  ( پس اس گستاخی سے ہم باز آتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا اور بے جا سوالات کریں )  اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم اس دیوار کے کونے میں پیش کی گئی تھی۔ پس میں نے نہ ایسی کوئی عمدہ چیز دیکھی  ( جیسی جنت تھی )  اور نہ کوئی ایسی بری چیز دیکھی  ( جیسی دوزخ تھی ) ۔ 

Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle came out as the sun declined at midday and offered the Zuhr prayer. He then stood on the pulpit and spoke about the Hour (Day of Judgment) and said that in it there would be tremendous things. He then said,   Whoever likes to ask me about anything he can do so and I shall reply as long as I am at this place of mine. Most of the people wept and the Prophet said repeatedly,   Ask me.   `Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi stood up and said,   Who is my father?   The Prophet said,   Your father is Hudhafa.   The Prophet repeatedly said,   Ask me.   Then `Umar knelt before him and said,   We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as our Prophet.   The Prophet then became quiet and said,   Paradise and Hell-fire were displayed in front of me on this wall just now and I have never seen a better thing (than the former) and a worse thing (than the latter). 

بخاری حدیث نمبر 538

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ    ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ ، وَيَحْيَى ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ( کہ گرمی کے موسم میں )  ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حدیث کی متابعت سفیان ثوری، یحییٰ اور ابوعوانہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔
Narrated Abu Sa`id: that Allah's Apostle said,   Pray Zuhr prayer when it becomes (a bit) cooler as the severity of heat is from the raging of the Hell-fire.

سورة يونس آیاتِ نمبر 94

فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ  اَنۡزَلۡنَاۤ  اِلَیۡکَ فَسۡئَلِ الَّذِیۡنَ یَقۡرَءُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَقَدۡ جَآءَکَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ  مِنَ  الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾

پھر ( اے پیغمبر ! ) اگر ( بفرض۔محال ) تمہیں اس کلام میں ذرا بھی شک ہو جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے سے ( آسمانی ) کتاب پڑھتے ہیں ۔ یقین رکھو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہی آیا ہے ، لہذا تم کبھی بھی شک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا ۔ ( ٣٨ )

So if you are in doubt, [O Muhammad], about that which We have revealed to you, then ask those who have been reading the Scripture before you. The truth has certainly come to you from your Lord, so never be among the doubters. 

سورة يونس آیاتِ نمبر 93

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ  اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ  یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾

اور ہم نے بنو اسرائیل کو ایسی جگہ بسایا جو صحیح معنی میں بسنے کے لائق جگہ تھی ، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا ۔ پھر انہوں نے ( دین حق کے بارے میں ) اس وقت تک اختلاف نہیں کیا جب تک ان کے پاس علم نہیں آگیا ۔ ( ٣٧ ) یقین رکھو کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ، ان کا فیصلہ تمہارا پروردگار قیامت کے دن کرے گا ۔

And We had certainty settled the Children of Israel in an agreeable settlement and provided them with good things. And they did not differ until [after] knowledge had come to them. Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ 

جامع ترمذی حدیث نمبر 1415

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو عَمَّارٍ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ،‏‏‏‏ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا،‏‏‏‏ حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ،‏‏‏‏    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا   . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔

Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab:
that 'Umar would say:   The blood-money upon the tribe, and the wife does not inherit any of her husband's blood-money.   Until Ad-Dahhak bin Sufyan Al-Kulabi informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) wrote to me, that Ashaim Ad-Dibabi's wife inherited the blood-money of her husband. 

مسلم حدیث نمبر 2716

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: «وَاللهِ، إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ»

سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا رسول اللہ ﷺ رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! رمضان کے سوا آپ نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔ 

 Abdullah b. Shaqiq reported:
I said to'A'isha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fast for a full month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted throughout, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life. 

بخاری حدیث نمبر 536

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :    إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ .

جب گرمی تیز ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی آگ کی بھاپ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ 

 Narrated Abu Huraira: The Prophet said,   In very hot weather delay the Zuhr prayer till it becomes (a bit) cooler because the severity of heat is from the raging of the Hell-fire. 

بخاری حدیث نمبر 534

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ : حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ :    إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ    .

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی تیز ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔

Narrated Abu Huraira and `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said,   If it is very hot, then pray the Zuhr prayer when it becomes (a bit) cooler, as the severity of the heat is from the raging of the Hell-fire.

سورة يونس آیاتِ نمبر 92

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ  لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ  اٰیٰتِنَا  لَغٰفِلُوۡنَ ﴿۹۲﴾٪                    14

لہذا آج ہم تیرے ( صرف ) جسم کو بچائیں گے ، تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے ، ( ٣٦ ) ( کیونکہ ) بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل بنے ہوئے ہیں ۔ 
So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless


سورة يونس آیاتِ نمبر 91


آٰلۡئٰنَ  وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾

۔ ( جواب دیا گیا کہ : )   اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا ، اور مسلسل فساد ہی مچاتا رہا ۔

Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters? 


نویں لگدے درؔد مَریسنی مُنہ تے ودا رُوسیں کج کج مُنہ ایں

تیتھوں نکھڑ کے موت تاں کائی نئیں آ گئی محفوظ میری لُوں لُوں ایں
تینوں کے احساس غریب دا
 ہووے جداں بخت دا بیلی توں ایں
سِدھ نیتیاں نال وِگاڑن دی 
تینوں ٹَھہوہ پئے ویسی سُونہہ ایں
نویں لگدے درؔد مَریسنی مُنہ تے 
ودا رُوسیں کج کج مُنہ ایں

مسلم حدیث نمبر 2719

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ - قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ -، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:    كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا، مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ  

حماد نے ایوب اور ہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔۔۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔۔۔ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا : آپ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ روزے پہ روزے رکھتے جا رہے ہیں ۔ اور آپ افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کر دیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ مسلسل افطار کر رہے ہیں ، کہا : جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔

Abdullah b. Shaqiq reported. I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She said:
He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Medina, but that of Ramadan. 

جامع ترمذی حدیث نمبر 1412

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا مُطَرِّفٌ،‏‏‏‏ عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَلِيٍّ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ سَوْدَاءُ فِي بَيْضَاءَ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏    لَا،‏‏‏‏ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ،‏‏‏‏ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ،‏‏‏‏ مَا عَلِمْتُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ   ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    الْعَقْلُ،‏‏‏‏ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ،‏‏‏‏ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ   . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْمُعَاهِدِ،‏‏‏‏ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا کیا ۱؎: امیر المؤمنین! کیا آپ کے پاس کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی ایسی تحریر ہے جو قرآن میں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! میں سوائے اس فہم و بصیرت کے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کے سلسلہ میں آدمی کو نوازتا ہے اور اس صحیفہ میں موجود چیز کے کچھ نہیں جانتا، میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ کہا: اس میں دیت، قید یوں کے آزاد کرنے کا ذکر اور آپ کا یہ فرمان ہے: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: مومن کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: ذمی کے بدلے بطور قصاص مسلمان کو قتل کیا جائے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے

Abu Juhaifah said:
  I said to 'Ali: O Commander of the Believers! Do you have anything written that is not in Allah's Book?' He said: 'By the One Who splits the seed and creates the soul, I have not learned from it except what understanding of the Qur'an Allah gives to a man, and what is in this sheet of paper.' I said: 'What is in the paper?' He said: 'It is the 'Aql, the (ransom for) release of captives, and the judgement that no believer is killed for a disbeliever.' 

بخاری حدیث نمبر 532

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :    اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ ، وَإِذَا بَزَقَ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ    .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ کرنے میں اعتدال رکھو  ( سیدھی طرح پر کرو )  اور کوئی شخص تم میں سے اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ جب کسی کو تھوکنا ہی ہو تو سامنے یا داہنی طرف نہ تھوکے، کیونکہ وہ نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ باتیں کرتا رہتا ہے اور سعید نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ آگے یا سامنے نہ تھوکے البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے اور شعبہ نے کہا کہ اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ اور حمید نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ 

 Narrated Anas: The Prophet said,   Do the prostration properly and do not put your forearms flat with elbows touching the ground like a dog. And if you want to spit, do not spit in front, nor to the right for the person in prayer is speaking in private to his Lord. 


 



بخاری حدیث نمبر 530

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ :    دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقُلْتُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ ، فَقَالَ : لَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ ، وَهَذِهِ الصَّلَاةُ قَدْ ضُيِّعَتْ    ، وَقَالَ بَكْرُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ .

میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی 

Narrated Az-Zuhri that he visited Anas bin Malik at Damascus and found him weeping and asked him why he was weeping. He replied,   I do not know anything which I used to know during the life-time of Allah's Apostle except this prayer which is being lost (not offered as it should be).
۔ 



Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...