02 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا دوسرا دن ہے۔سال ختم ہونے میں ابھی 363 دن باقی ہیں ۔
1492ء سقوط غرناطہ، بنو نصر کے آخری حکمران ابو عبد اللہ نے عیسائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ یوں اندلس (ہسپانیہ) سے عربوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
1502ء اسپین نے تمام مسلمانوں کو عیسائی مذہب اپنانے یا ملک چھوڑ کر چلے جانے کا شاہی فرمان جاری کیا۔
1757ء برطانوی گورنر جنرل رابرٹ کلائیو نے نواب سراج الدولہ سے کلکتہ کو واپس چھین لیا۔
1839ء فرانسیسی فوٹو گرافر لوئس اوگورے نے پہلی مرتبہ چاند کی تصویر اتاری۔
1871ء ایمڈیوس اسپین کے بادشاہ بنے۔
1915ء سری کامس کی لڑائی میں احمد پاشا کی زیر قیادت ترکی فوج کو روسی فوج نے بری طرح شکست دی۔ پانچ دنوں تک چلی اس لڑائی میں ترکی کے 95 ہزار فوجیوں میں سے 77 ہزار فوجی مارے گئے۔
1919ء آئرلیند میں برطانوی مخالف فسادات شروع ہوئے۔
1933ء امریکی فوج نکارا گوا سے واپس ہوئی۔
1942ء جنگ عظیم دوم میں فلپائن کے دارالحکومت منیلا پر جاپانی افواج کا قبضہ کر لیا۔
1942ء امریکہ کے وفاقی تفتیشی بیورو ایف بی آئی نے جاسوسی کے معاملے میں جرمنی کے 33 لوگوں کو سزا دی۔
1947ء مشرقی بنگال میں قیام امن کے لئے امن مارچ کی شروعات کی۔
1959ء کیوبا کے ڈکٹیٹر بتستا نے ملک چھوڑ دیا۔
1959ء سوویت یونین نے چاند پر پہلا خلائی سیٹیلائٹ بغیر پائلٹ والے لونا۔1 کو داغا، شمسی مدار میں داخل ہونے سے پہلے اس سیٹیلائٹ نے چاند کے آس پاس 4600 میل کا چکر لگایا۔
1965ء ایوب خاں پاکستان کے صدر بنے۔
1972ء ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اعلان کیا کہ ہر قسم کی صنعتوں کو قومیایا جائے گا۔
1974ء ارجنٹائن میں ہولناک آتشزدگی، ایک اعشاریہ دو ملین ایکٹر حصہ جل کر راکھ ہو گیا۔
1977ء پاکستان میں زرعی اصلاحات کا نفاذ عمل میں آیا۔
1984ء تیونسیا میں فساد بھڑکنے سے 100 افراد کی موت ہوئی۔
1991ء تیرو واننت پورم ہوائی اڈے کو بین الاقوامی سطح کا بنایا گیا۔
1992ء فیڈرل شریعت کورٹ نے رِبا کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔
1995ء سائنس دانوں نے کہکشاں کی کھوج کی جسے کیک ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تلاش کیا گیا۔
2001ء تائیوان کی کشتیوں کو چین تک کا براہ راست سفر کرنے کی اجازت ملی۔
2002ء امریکہ پر ہونے والے 11/9 کے دہشت گردانہ حملے کے پہلے ملزم ذکریا موسوی کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔
2006ء اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اپنا میعاد کار شروع ہونے کے پہلے دن سزائے موت کے بارے میں اس عالمی ادارے کی روایتی مخالفت سے ہٹ کر اس پر متعلقہ ملکوں کے اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی وکالت کی۔
2016ء سعودی شیعہ عالم، نمر باقر النمر اور دیگر 46 افراد کو مختلف الزامات کے تحت سعودی عرب میں سزائے موت دی گئی۔ نمر باقر کی اس سزائے موت پر ایران سمیت کئی دیگر عالمی اداروں کا اظہار افسوس اور شدید تنقید۔
2 جنوری 2016۔بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں دھماکا
فرنٹیئر کور کے 6 اہلکار زخمی
2016ء پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ، میں 5 مجاہد شہید اور 8 بھارتی فوجی و دیگر اہلکار ہلاک ۔
2 جنوری 2016 کو علیم ڈار نے 100 ویں ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کی۔وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اسٹیوبکنر اور روڈی کرٹنرن کے بعد تیسرے امپائر ہیں، جنھوں نے سو ٹیسٹ میچز میں فیصلے صادر کیے جب کہ ایشیا کے پہلے امپائر ہیں، جو اس بلندی تک پہنچا
2جنوری 1995ء کوورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کے قیام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت چار روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کی تصاویر چھپی تھیں اورانگریزی میں 20TH ANNIVERSARY OF WORLD TOURISM ORGANIZATION کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی ڈیزائنرنرگس منیرنے ڈیزائن کیا تھا۔
*ولادت*
1876ء۔۔احمد قوام ۔ ایک سیاست دان تھا، جس نے ایران کے وزیر اعظم کے طور پر پانچ بار کی خدمات انجام دیں
1931ء۔۔پروفیسر انجم اعظمی(وفات: 31 جنوری، 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والےاردو کے ممتاز شاعر اور نقاد تھے
1642ء محمد رابع، عثمانی سلطان (وفات: 1693ء)
1699ء عثمان ثالث، عثمانی سلطان (وفات: 1757ء)
1905ء جینندر کمار، ہندی ناول نگار
1909ء۔۔بیری مورس گولڈواٹر ۔ ایک امریکی سیاست دان، تاجر اور مصنف تھا
1920ء آئزک ایسیموو، امریکی کیمیادان اور مصنف (وفات: 1992ء)
1929ء لہری، پاکستانی مزاحیہ اداکار، متحدہ ہندوستان کے شہر کان پور میں پیدا ہوئے۔
1940ء سعود الفیصل، سعودی وزیر خارجہ (وفات: 2015ء)سعودی شاہی خاندان کے رکن اور سابق وزیر خارجہ انہوں نے 1975ء سے لے کر اگلے 40 سال تک سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے وزیر کی خدمات سرانجام دیں جو کسی بھی وزیر خارجہ کی سب سے لمبے عصہ تک رہنے والی وزارت خارجہ مانی جاتی ہے۔
1974ء۔۔عمر فاروق مائر۔رہنما پاکستان تحریک انصاف۔سیالکوٹ
1967ء ٹیا کریرا، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ
1983ء کیٹ بوسورتھ، امریکی اداکارہ، گلوکارہ، اور پروڈیوسر
1908ء۔۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی ٭ پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، سائنس دان اور دانش ور ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔
1987ء۔۔علی فضل ایک بھارتی اداکار اور ماڈل ہے۔ علی فضل نے 2017ء میں بننے والی فلم وکٹوریا اینڈ عبدل میں جوڈی ڈینچ (ملکہ وکٹوریہ) کے بالمقابل منشی عبد الکریم کا کردار ادا کیا ہے۔یہ فلم 2017ء میں وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی تھی۔
1983ء۔۔روپندر سنگھ گریوال المعروف گپی گریوال، ایک بھارتی اداکار، گلوکار , ہدایت کار اور پروڈیوسر ہیں جنھوں نے کئی پنجابی اور ہندی فلموں میں کام کیا ہے۔ ان کے پنجابی گانوں کے البم " پھلکاری" نے کامیابی کے کئی نئے ریکارڈ بنائے۔ انھوں نے فلم "میل کرادے ربا" سے اپنی اداکاری کا آغاز 2010 میں کیا ۔بعد ازاں کیری آن جٹا، لکی ڈی انلکی کہانی اور جٹ جیمز بانڈ میں اداکاری کے جلوے بکھیرے اور کامیابی کی بلندی کو چھویا۔ انہوں نے 2011 میں فلم "جننہے میرا دل لوٹیا" میں اپنی بہترین کارکردگی کے لیے "پی ٹی سی بہترین اداکار ایوارڈ" بھی حاصل کیا
1983ء۔۔سید غافر رضوی کا شمار ممتاز مفکرین، محققین، مصنفین، مترجمین، ادباء، اردو شعرا اورعلمائے شیعہ میں ہوتا ہے نیز آپ ہندوستان کےمسلم مذہبی رہنما ہیں۔ ادارہ پیام اسلام فاؤنڈیشن آپ ہی کی زیر نگرانی ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے۔ آپ ہندوستانی اسلامی اسکالر ہیں۔
*وفات*
1415ء۔۔۔ابو طاھر مجد الدين محمد بن يعقوب بن محمد بن ابراہيم شيرازی فيروز آبادی ہندوستان کے ممتاز لغوی، مشہور عربی لغت قاموس المحیط انہی کی تصنیف ہے۔ایران کے شہر شیراز کے پاس کارزون میں پیدا ہوئے اورشیراز، بغداد اور دمشق میں تعلیم حاصل کی۔فيروز آبادی دو بار ہندوستان آئے۔ ایک دفعہ فیروز شاہ تغلق کے عہد حکومت(1351ء۔1388ء) میں اور دوسری مرتبہ محمود شاہ تغلق کے دورِ حکومت میں
1949ء۔۔زاہد سہروردی ۔ایک ہندوستانی بنگالی قانون دان تھے۔ 1921ء سے 1931ء تک کلکتہ ہائی کورٹ کے جج بھی تھے۔پاکستان کے 5ویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے والد۔
2018ء۔
علی اکبر معین فر ۔ ایک ایرانی سیاست دان اور ایران کے پہلے وزیر پٹرولیم تھے، اس عہدے پر مختصر عرصے (1979ء سے 1980ء) تک خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں معین فر ایرانی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور 1980ء سے 1984ء تک رکن رہے
2018ء۔۔انور جلالپوری بھارت کے ایک مشہور اردو شاعر تھے۔ انفرادی شاعری سے کہیں زیادہ وہ مشاعروں کی نظامت کے لیے مشہور تھے۔ وہ کافی غور اور انہماک سے دیگر شعرا کا کلام سنتے اور کلام کے مرکزی خیال اور شاعری کے حسن کا کافی خوش اسلوبی سے تذکرہ کرتے۔ اسی وجہ سے وہ کئی قومی مشاعروں میں نظامت انجام دے چکے تھے۔
1955ء جوس انٹونیو رومین، صدر پانامہ کو قتل کر دیا گیا۔
1995ء محمد سعید برے، سابق صدر صومالیہ، کی جلاوطنی کے دوران موت ہو گئی۔
2008ء گلیانی بدھانا، تھائی لینڈ کی شہزادی
1998ء۔۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی ٭ پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، سائنس دان اور دانش ور ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ 1925ء میں انہوں نے جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا اور پھر 1928ء میں کیمبرج یونیورسٹی (برطانیہ) سے ریاضی میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا، 1931ء میں جرمنی کی لیپزگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آگئے اور اپنی مادر علمی، جامعہ عثمانیہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔1950ء میں وہ پاکستان آگئے۔ وہ پشاور یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان سائنس اکیڈمی کی سربراہی بھی کی۔ وہ ادب خصوصاً اقبالیات سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔ اقبالیات کے موضوع پر ان کی دو تصانیف اقبال کا تصور زمان و مکان اور کلام اقبال میں موت و حیات ان کے اسی شغف کا مظہر ہیں۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کو حکومت پاکستان نے نشان امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ ٭2 جنوری 1998ء کو ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے اسلام آباد میں وفات پائی۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
02 جنوری 1969ء۔۔۔علی بخش علامہ اقبال کے دیرینہ ملازم تھے جو کم عمری میں ہی علامہ اقبال کے یورپ جانے سے قبل ہی خدمت میں حاضر ہو گیا تھے۔علامہ اقبال کو اپنے اس ملازم سے بے حد محبت تھی جسے اُس نے بھی خوب نبھایا۔ علی بخش نے اپنی ساری زندگی علامہ اقبال کی خدمت میں کچھ ایسی گزاری کہ جب تک علامہ اقبال کا نام روشن رہے گا علی بخش کا نام بھی عزت و تکریم سے لیا جاتا رہے گا۔ علامہ اقبال کی روح نے جب پرواز کیا تھا تب آپ کا سر علی بخش کی ہی گود میں تھا۔ علامہ کی وفات کے بعد بھی تقریباً دو دہائیوں تک علی بخش جاوید منزل میں ہی علامہ اقبال کے بچوں کے ساتھ رہا۔ علی بخش کا انتقال 2 جنوری 1969 کو فیصل آباد کے نواحی گاوں چک جھمرہ میں ہوا۔
*تعطیلات و تہوار*
1919ء لتھووینیا کو آزادی حاصل ہوئی۔
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا دوسرا دن ہے۔سال ختم ہونے میں ابھی 363 دن باقی ہیں ۔
1492ء سقوط غرناطہ، بنو نصر کے آخری حکمران ابو عبد اللہ نے عیسائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ یوں اندلس (ہسپانیہ) سے عربوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
1502ء اسپین نے تمام مسلمانوں کو عیسائی مذہب اپنانے یا ملک چھوڑ کر چلے جانے کا شاہی فرمان جاری کیا۔
1757ء برطانوی گورنر جنرل رابرٹ کلائیو نے نواب سراج الدولہ سے کلکتہ کو واپس چھین لیا۔
1839ء فرانسیسی فوٹو گرافر لوئس اوگورے نے پہلی مرتبہ چاند کی تصویر اتاری۔
1871ء ایمڈیوس اسپین کے بادشاہ بنے۔
1915ء سری کامس کی لڑائی میں احمد پاشا کی زیر قیادت ترکی فوج کو روسی فوج نے بری طرح شکست دی۔ پانچ دنوں تک چلی اس لڑائی میں ترکی کے 95 ہزار فوجیوں میں سے 77 ہزار فوجی مارے گئے۔
1919ء آئرلیند میں برطانوی مخالف فسادات شروع ہوئے۔
1933ء امریکی فوج نکارا گوا سے واپس ہوئی۔
1942ء جنگ عظیم دوم میں فلپائن کے دارالحکومت منیلا پر جاپانی افواج کا قبضہ کر لیا۔
1942ء امریکہ کے وفاقی تفتیشی بیورو ایف بی آئی نے جاسوسی کے معاملے میں جرمنی کے 33 لوگوں کو سزا دی۔
1947ء مشرقی بنگال میں قیام امن کے لئے امن مارچ کی شروعات کی۔
1959ء کیوبا کے ڈکٹیٹر بتستا نے ملک چھوڑ دیا۔
1959ء سوویت یونین نے چاند پر پہلا خلائی سیٹیلائٹ بغیر پائلٹ والے لونا۔1 کو داغا، شمسی مدار میں داخل ہونے سے پہلے اس سیٹیلائٹ نے چاند کے آس پاس 4600 میل کا چکر لگایا۔
1965ء ایوب خاں پاکستان کے صدر بنے۔
1972ء ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اعلان کیا کہ ہر قسم کی صنعتوں کو قومیایا جائے گا۔
1974ء ارجنٹائن میں ہولناک آتشزدگی، ایک اعشاریہ دو ملین ایکٹر حصہ جل کر راکھ ہو گیا۔
1977ء پاکستان میں زرعی اصلاحات کا نفاذ عمل میں آیا۔
1984ء تیونسیا میں فساد بھڑکنے سے 100 افراد کی موت ہوئی۔
1991ء تیرو واننت پورم ہوائی اڈے کو بین الاقوامی سطح کا بنایا گیا۔
1992ء فیڈرل شریعت کورٹ نے رِبا کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔
1995ء سائنس دانوں نے کہکشاں کی کھوج کی جسے کیک ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تلاش کیا گیا۔
2001ء تائیوان کی کشتیوں کو چین تک کا براہ راست سفر کرنے کی اجازت ملی۔
2002ء امریکہ پر ہونے والے 11/9 کے دہشت گردانہ حملے کے پہلے ملزم ذکریا موسوی کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔
2006ء اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اپنا میعاد کار شروع ہونے کے پہلے دن سزائے موت کے بارے میں اس عالمی ادارے کی روایتی مخالفت سے ہٹ کر اس پر متعلقہ ملکوں کے اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی وکالت کی۔
2016ء سعودی شیعہ عالم، نمر باقر النمر اور دیگر 46 افراد کو مختلف الزامات کے تحت سعودی عرب میں سزائے موت دی گئی۔ نمر باقر کی اس سزائے موت پر ایران سمیت کئی دیگر عالمی اداروں کا اظہار افسوس اور شدید تنقید۔
2 جنوری 2016۔بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں دھماکا
فرنٹیئر کور کے 6 اہلکار زخمی
2016ء پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ، میں 5 مجاہد شہید اور 8 بھارتی فوجی و دیگر اہلکار ہلاک ۔
2 جنوری 2016 کو علیم ڈار نے 100 ویں ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کی۔وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اسٹیوبکنر اور روڈی کرٹنرن کے بعد تیسرے امپائر ہیں، جنھوں نے سو ٹیسٹ میچز میں فیصلے صادر کیے جب کہ ایشیا کے پہلے امپائر ہیں، جو اس بلندی تک پہنچا
2جنوری 1995ء کوورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کے قیام کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت چار روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کی تصاویر چھپی تھیں اورانگریزی میں 20TH ANNIVERSARY OF WORLD TOURISM ORGANIZATION کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی ڈیزائنرنرگس منیرنے ڈیزائن کیا تھا۔
*ولادت*
1876ء۔۔احمد قوام ۔ ایک سیاست دان تھا، جس نے ایران کے وزیر اعظم کے طور پر پانچ بار کی خدمات انجام دیں
1931ء۔۔پروفیسر انجم اعظمی(وفات: 31 جنوری، 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والےاردو کے ممتاز شاعر اور نقاد تھے
1642ء محمد رابع، عثمانی سلطان (وفات: 1693ء)
1699ء عثمان ثالث، عثمانی سلطان (وفات: 1757ء)
1905ء جینندر کمار، ہندی ناول نگار
1909ء۔۔بیری مورس گولڈواٹر ۔ ایک امریکی سیاست دان، تاجر اور مصنف تھا
1920ء آئزک ایسیموو، امریکی کیمیادان اور مصنف (وفات: 1992ء)
1929ء لہری، پاکستانی مزاحیہ اداکار، متحدہ ہندوستان کے شہر کان پور میں پیدا ہوئے۔
1940ء سعود الفیصل، سعودی وزیر خارجہ (وفات: 2015ء)سعودی شاہی خاندان کے رکن اور سابق وزیر خارجہ انہوں نے 1975ء سے لے کر اگلے 40 سال تک سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے وزیر کی خدمات سرانجام دیں جو کسی بھی وزیر خارجہ کی سب سے لمبے عصہ تک رہنے والی وزارت خارجہ مانی جاتی ہے۔
1974ء۔۔عمر فاروق مائر۔رہنما پاکستان تحریک انصاف۔سیالکوٹ
1967ء ٹیا کریرا، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ
1983ء کیٹ بوسورتھ، امریکی اداکارہ، گلوکارہ، اور پروڈیوسر
1908ء۔۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی ٭ پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، سائنس دان اور دانش ور ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔
1987ء۔۔علی فضل ایک بھارتی اداکار اور ماڈل ہے۔ علی فضل نے 2017ء میں بننے والی فلم وکٹوریا اینڈ عبدل میں جوڈی ڈینچ (ملکہ وکٹوریہ) کے بالمقابل منشی عبد الکریم کا کردار ادا کیا ہے۔یہ فلم 2017ء میں وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی تھی۔
1983ء۔۔روپندر سنگھ گریوال المعروف گپی گریوال، ایک بھارتی اداکار، گلوکار , ہدایت کار اور پروڈیوسر ہیں جنھوں نے کئی پنجابی اور ہندی فلموں میں کام کیا ہے۔ ان کے پنجابی گانوں کے البم " پھلکاری" نے کامیابی کے کئی نئے ریکارڈ بنائے۔ انھوں نے فلم "میل کرادے ربا" سے اپنی اداکاری کا آغاز 2010 میں کیا ۔بعد ازاں کیری آن جٹا، لکی ڈی انلکی کہانی اور جٹ جیمز بانڈ میں اداکاری کے جلوے بکھیرے اور کامیابی کی بلندی کو چھویا۔ انہوں نے 2011 میں فلم "جننہے میرا دل لوٹیا" میں اپنی بہترین کارکردگی کے لیے "پی ٹی سی بہترین اداکار ایوارڈ" بھی حاصل کیا
1983ء۔۔سید غافر رضوی کا شمار ممتاز مفکرین، محققین، مصنفین، مترجمین، ادباء، اردو شعرا اورعلمائے شیعہ میں ہوتا ہے نیز آپ ہندوستان کےمسلم مذہبی رہنما ہیں۔ ادارہ پیام اسلام فاؤنڈیشن آپ ہی کی زیر نگرانی ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے۔ آپ ہندوستانی اسلامی اسکالر ہیں۔
*وفات*
1415ء۔۔۔ابو طاھر مجد الدين محمد بن يعقوب بن محمد بن ابراہيم شيرازی فيروز آبادی ہندوستان کے ممتاز لغوی، مشہور عربی لغت قاموس المحیط انہی کی تصنیف ہے۔ایران کے شہر شیراز کے پاس کارزون میں پیدا ہوئے اورشیراز، بغداد اور دمشق میں تعلیم حاصل کی۔فيروز آبادی دو بار ہندوستان آئے۔ ایک دفعہ فیروز شاہ تغلق کے عہد حکومت(1351ء۔1388ء) میں اور دوسری مرتبہ محمود شاہ تغلق کے دورِ حکومت میں
1949ء۔۔زاہد سہروردی ۔ایک ہندوستانی بنگالی قانون دان تھے۔ 1921ء سے 1931ء تک کلکتہ ہائی کورٹ کے جج بھی تھے۔پاکستان کے 5ویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے والد۔
2018ء۔
علی اکبر معین فر ۔ ایک ایرانی سیاست دان اور ایران کے پہلے وزیر پٹرولیم تھے، اس عہدے پر مختصر عرصے (1979ء سے 1980ء) تک خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں معین فر ایرانی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور 1980ء سے 1984ء تک رکن رہے
2018ء۔۔انور جلالپوری بھارت کے ایک مشہور اردو شاعر تھے۔ انفرادی شاعری سے کہیں زیادہ وہ مشاعروں کی نظامت کے لیے مشہور تھے۔ وہ کافی غور اور انہماک سے دیگر شعرا کا کلام سنتے اور کلام کے مرکزی خیال اور شاعری کے حسن کا کافی خوش اسلوبی سے تذکرہ کرتے۔ اسی وجہ سے وہ کئی قومی مشاعروں میں نظامت انجام دے چکے تھے۔
1955ء جوس انٹونیو رومین، صدر پانامہ کو قتل کر دیا گیا۔
1995ء محمد سعید برے، سابق صدر صومالیہ، کی جلاوطنی کے دوران موت ہو گئی۔
2008ء گلیانی بدھانا، تھائی لینڈ کی شہزادی
1998ء۔۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی ٭ پاکستان کے نامور ماہر تعلیم، سائنس دان اور دانش ور ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ 1925ء میں انہوں نے جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا اور پھر 1928ء میں کیمبرج یونیورسٹی (برطانیہ) سے ریاضی میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا، 1931ء میں جرمنی کی لیپزگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آگئے اور اپنی مادر علمی، جامعہ عثمانیہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔1950ء میں وہ پاکستان آگئے۔ وہ پشاور یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور انہوں نے کچھ عرصہ پاکستان سائنس اکیڈمی کی سربراہی بھی کی۔ وہ ادب خصوصاً اقبالیات سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔ اقبالیات کے موضوع پر ان کی دو تصانیف اقبال کا تصور زمان و مکان اور کلام اقبال میں موت و حیات ان کے اسی شغف کا مظہر ہیں۔ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کو حکومت پاکستان نے نشان امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کئے تھے۔ ٭2 جنوری 1998ء کو ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے اسلام آباد میں وفات پائی۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
02 جنوری 1969ء۔۔۔علی بخش علامہ اقبال کے دیرینہ ملازم تھے جو کم عمری میں ہی علامہ اقبال کے یورپ جانے سے قبل ہی خدمت میں حاضر ہو گیا تھے۔علامہ اقبال کو اپنے اس ملازم سے بے حد محبت تھی جسے اُس نے بھی خوب نبھایا۔ علی بخش نے اپنی ساری زندگی علامہ اقبال کی خدمت میں کچھ ایسی گزاری کہ جب تک علامہ اقبال کا نام روشن رہے گا علی بخش کا نام بھی عزت و تکریم سے لیا جاتا رہے گا۔ علامہ اقبال کی روح نے جب پرواز کیا تھا تب آپ کا سر علی بخش کی ہی گود میں تھا۔ علامہ کی وفات کے بعد بھی تقریباً دو دہائیوں تک علی بخش جاوید منزل میں ہی علامہ اقبال کے بچوں کے ساتھ رہا۔ علی بخش کا انتقال 2 جنوری 1969 کو فیصل آباد کے نواحی گاوں چک جھمرہ میں ہوا۔
*تعطیلات و تہوار*
1919ء لتھووینیا کو آزادی حاصل ہوئی۔

No comments:
Post a Comment