03 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا تیسرا دن ہے اور سال ختم ہونے ابھی 362 دن باقی ہیں ۔
1496ء لیونارڈو دی ڈاونچی نے فلائنگ مشین کا ناکام تجربہ کیا۔
1777ء واشنگٹن کی افواج نے پرنسٹن کی لڑائی میں برطانیہ کو ہرایا۔
1815ء آسٹریا، برطانیہ اور فرانس نے پرسیا اور روس کے خلاف ایک خفیہ دفاعی معاہدہ کیا۔
1846ء جوزف جینکس رابرٹ آزاد افریقی جمہوریہ لائبیریا کے پہلے صدر بنے۔
1870ء امریکہ میں بروکلین پل کی تعمیر شروع ہوئی۔
1880ء ہفت روزہ اخبار الیسٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا کے پہلا شمارہ ممبئی سے شائع ہوا۔
1910ء برطانیہ کے کان مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے لئے ہڑتال شروع کی۔
1921ء ترکی اور آرمینیا کے ساتھ امن معاہدہ پر رضامند ہوا۔
1921ء ترکی کا آرمینیا کے ساتھ امن بات چیت کا آغاز ہوا۔
1924ء برطانوی شہری ہارورڈ کریٹ نے لکسر کے نزدیک فرعون توتن خامن کا تابوت تلاش کیا۔
1925ء میسولینی نے اٹلی کی پارلیمنٹ تحلیل کر کے عنان حکومت سنبھال لی۔
1945ء دوسری عالمی جنگ میں جاپان حامی ملکوں کی فوج برما کے مغربی علاقے میں پہنچی۔
1946ء جنرل کلاوَڈ اچنلیک نے آزاد ہند فوج کے تین اعلی افسران کو رہا کیا۔
1947ء امریکی کانگریس کی کارروائی پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی۔
1953ء گورنر جنرل غلام محمد نے نیشنل میوزیم کراچی کا افتتاح کیا۔
1955ء بلوچستان، مغربی پاکستان پر مشتمل ون یونٹ میں شا مل ہوا۔
1956ء دنیا بھر میں مشہور فرانس کے ایفل ٹاور کے بالائی حصہ کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔
1957ء ہیملٹن واچ کمپنی نے الیکٹرانک گھڑی بنائی۔
1958ء ایڈمنڈ ہیلیری جنوبی قطب پر پہنچے۔
1958ء ویسٹ انڈیز فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء الاسکا امریکہ میں 49 ریاست کے طور پر شامل ہوا۔
1961ء امریکہ نے کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے۔
1962ء گلشن آرا عالم، نوٹری پبلک کے لئے نامزد ہونے والی۔ پہلی پاکستانی خاتون بنیں
1966ء ایوب خان، لال بہادر شاستری کے ساتھ بات چیت کے لیے گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے تاشقند روانہ ہوئے۔
1970ء کانگو میں مارکس نوازوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔
1974ء برما میں آئین نافذ کیا گیا۔
1977ء ایپل کمپیوٹر کا قیام عمل میں آیا۔
1988ء برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی خاتون بنیں۔
1993ء دو تہائی نیوکلیائی اسلحہ میں تخفیف کے لئے روسی صدر بورس یلتسین اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسٹارٹ دوئم معائدہ پر دستخط کئے۔
1993ء 70 لاکھ لوگوں نے جنوبی افریقہ کی شہریت حاصل کی۔
1994ء وینیزویلا کی جیل میں آپسی جھگڑے میں سو قیدیوں کی موت ہو گئی۔
1994ء سائبیریا میں ٹوپالوف 154 ایم طیارہ کے حادثے میں 122 افراد ہلاک ہو گئے۔
1999ء امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) نے مریخ میں پانی کی موجودگی کے امکانات کا پتہ لگانے کے لئے دوسرا بغیر پائلٹ کی خلائی گاڑی بھیجی۔
2004ء مریخ پر زندگی کی تلاش میں ’دی اسپریٹ روور‘ نامی خلائی شٹل سات ماہ تک خلائی سفر کے بعد کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس آ گیا۔
3 جنوری 2005ء کو وزیراعظم شوکت عزیز نے کراچی کی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح کیا۔ ایم اسی بی ٹاور کی کل بلندی 116 میٹر ہے اور یہ 3 بیسمنٹ اور 29 منزلوں پر مشتمل ہے۔ ایم سی بی ٹاور کا پلاٹ ایریا2500 مربع گز ہے جبکہ اس کا کورڈ ایریا 21285 مربع میٹر ہے۔ایم سی بی ٹاور کی تعمیر کا آغاز 2000ء میں ہوا تھا اور اس کے آرکیٹیکٹ ارشد شاہد عبداللہ تھے۔ایم سی بی ٹاور کی تعمیر سے قبل پاکستان کی بلند ترین عمارت ہونے کا اعزاز حبیب بنک پلازہ کے پاس تھا جس کی تعمیر 1971ء میں مکمل ہوئی تھی۔
2007ء سابقہ صدر پاکستان و جنرل پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کر دیا۔
2008ء۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی۔
3جنوری 2008ء کو کراچی میں اپریل پاکستان کے اہتمام میں دنیا کے سب سے بڑے کرتے کی نمائش کا آغاز ہوا۔ اس کُرتے کی لمبائی 101فٹ اور چوڑائی 59فٹ 3انچ تھی جبکہ آستین کی طوالت 57فٹ تھی۔ اس کُرتے کو دیپک پروانی نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کی سلائی کے لیے گل احمد فیبرکس نے 800گز کپڑا فراہم کیا تھا۔ 4فروری 2008ء کو گنیز بک نے اسے دنیا کا سب سے بڑا کرتا تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
*ولادت*
1624ء۔۔سید شاہ علم اللہ کی پیدائش 12 ربیع الاول 1033ھ میں ہوئی۔ بچپن میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اس لیے ماموں سید ابو محمد نے پرورش کی۔ جوانی میں ماموں نے فوجی ملازمت کے لیے کوشش کی، لیکن شاہ صاحب دنیا سے دل برداشتہ ہو کر حضرت مجدد الف ثانیکے خلیفہ سید آدم بنوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اوربیعت کے بعد بہت جلد ہی خلافت و نیابت سے سر فراز ہوئے۔ سید آدم بنوری نے رخصت کرتے وقت اپنا عمامہ بھی عطا کیا۔رخصت ہونے کے بعد اپنے اہل و عیال کے پاس رائے بریلی پہنچے اور ایک بزرگ شاہ عبد الشکور مجذوب کے اصرار پرقصبہ دائرہ شاہ علم اللہ کی بنیاد رکھی۔پوری زندگی رسوم و بدعات اور خلاف شریعت رواج کی مخالفت میں کمر بستہ رہے، اصلاح نفس و خدمت خلق میں اپنے آپ کو مشغول رکھا اور بڑے کمالات سے سرفراز ہوئے۔1096ھ عہد عالمگیری میں 63 سال کی عمر میں وفات پائی
1753ء۔۔۔پژاشی راجا بھارت کی تحریک آزادی کے سب سے پہلے مجاہدوں میں سے تھے۔ وہ برطانیہ راج کے خلاف میدانِ کارزار میں اٹل رہا، اس لیے انھیں تاریخِ ہند میں ویرا کیرالا سِمہم یعنی بہادر شیرِ کیرالا کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔
1836ء منشی نول کشور، سب سے بڑے اردو مطبع کے علم دوست مالک علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔
1883ء کلیمنٹ ایٹلی, انگریزی سپاہی، وکیل، اور سیاستدان، (وفات: 08 اکتوبر 1967ء)کلیمنٹ اٹلی سابق برطانوی وزیر اعظم تھے۔ آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ تین سال وکالت کی۔ پھر لندن اسکول آف اکنامکس میں پروفیسر ہو گئے۔ 1922ء میں پارلیمنٹ کے رکن اور 1935ء میں لیبر پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران میں لارڈ پریوی کونسل کی حیثیت سے چرچل کابینہ میں رہے۔ 1945ء کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی ہوئی تو وزیر اعظم مقرر ہوئے اور 1951ء تک اسی حیثیت سے کام کیا۔ 1955ء میں سیاست سے الگ ہو گئے۔ اسی سال ارل کا خطاب ملا۔ ان کے عہد حکومت میں برصغیر پاک و ہند آزاد ہوا
1892ء جان رونالڈ روئل ٹولکین، انگریزی زبان دان اور مصنف (وفات: 1973ء)
1930ء مارا کورڈے، امریکی ماڈل اور اداکارہ
1950ء وکٹوریہ پرنسپل، امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر
1953ء محمد وحید حسن، مالدیپ کے صدر
1956ء میل گبسن، امریکی اداکار و فلمساز
1926ء۔۔۔تن عبد اللہ بن ایوب ( 13 دسمبر 2018) ایک وظیفہ یاب ملیشیائی سیول ملازم تھے جو ملیشیائی حکومت کے 6 ویں چیف سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیے تھے۔ آپ نے یکم جنوری 1979ء سے30 نومبر 1982ء تک چیف سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیے ہیں
1982ء۔سلمان اکبر ۔ ایک پاکستانی فیلڈ ہاکی کھلاڑی ہے۔ ٹیم میں یہ گول کیپر رہ چکے ہیں۔ 230 مقابلوں میۂ شرکت کر چکے ہیں
1938ء۔۔جسونت سنگھ۔ بھارت کے ایک ریٹائر فوجی افسر اور سابق وزیر ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور پارلیمان میں سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ارکان میں شامل ہیں۔ جسونت سنگھ 1980ء سے 2014ء تک تقریباً تمام عرصہ کسی ایک پارلیمان کے رکن رہے۔ انہوں نے پانچ دفعہ راجیہ سبھا کا انتخاب 1980، 1986، 1998، 1999 اور 2004 اور چار دفعہ لوک سبھا کا انتخاب 1990، 1991، 1996 اور 2009 میں جیتا ہے۔جب 2009ء میں مسلسل دوسری دفعہ اُن کی جماعت کو انتخابات میں شکست ہوئی تو اُنہوں نے جماعت کے لوگوں کو مباحثہ کی دعوت دی جو اُن کی جماعت کے ارکان کو پسند نہیں آئی۔ایک ہفتے بعد اُن کی لکھی ہوئی کتاب منظر عام پر آئی جس میں اُنہوں نے جناح کے بارے میں ہمدردانہ رائے لکھی تھِی۔ 2014ء میں اُن کی جماعت نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کہیں سے انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے بحثیت آزاد اُمیدوار لڑنے کا فیصلہ کیا اس طرح وہ اپنی ہی جماعت کے اُمیدوار کے مقابل آگئے۔ اِس کی وجہ سے اُنہیں 2014 میں جماعت سے نکال دیا گیا اور وہ اس انتخاب میں ناکام بھی رہے۔
1993ء۔۔بیلم کونڈا سرینیواس ایک بھارتی تیلگو اداکار ہیں۔ آپ نے تیلگو سنیما میں اپنے فنی سفر کا آغاز 2014ء میں فلماللوڈو سینو سے کیا، اس فلم میں آپ نے اداکارہ سامنتھا اکنینی کے ساتھ کام کیا۔ آپ تیلگو فلم ساز بیلم کونڈا سریش کے بیٹے ہیں۔آپ کی آخری فلم کووچم تھی، اس فلم میں آپ کاجل اگروال اور مہرین پیرزادہ کے ساتھ نظر آئے۔ یہ فلم دسمبر 2018ء میں جاری کی گئی
1937ء۔۔جنرل آصف نواز جنجوعہ
پاکستانی جنرل۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ جہلم کے ایک فوجی گھرانے سے تعلق تھا۔ والد بھی کرنل کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے پورے فوجی ڈسپلن کے ساتھ بیٹے کی تربیت تھی۔ اور 1954ء میں پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول میں داخل کرایا۔ تعلیم، کھیل اور فوجی تربیت میں اعلی پوزیشن حاصل کرنے پر سندھرسٹ اکیڈیمی انگلینڈ میں داخل ہوئے جہاں موجودہ وزیر خارجہ گوہر ایوب اور ان کے بعد آنے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ بھی زیر تربیت تھے۔ تکمیل اعلی تعلیم کے بعد پنجاب رجمنٹ سے وابستہ ہوئے اور اعلیٰ تربیت اور تجربے کے ساتھ ساتھ مختلف اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ جس وقت وہ کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے وہاں لسانی فسادات اور دہشت گردی کے واقعات پوری شدت سے جاری تھے یہاں تک کہ فریقین ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغوا کرکے سخت غیر انسانی اور بہیمانہ جسمانی تشدد روا رکھتے۔ 16 اگست 1991 کو جنرل مرزا اسلم بیگ کی سبکدوشی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف بنے۔ سندھ میں آپریشن شروع کیا اور وہاں پر شر پسند عناصر خصوصی طور پر مہاجر قومی مومنٹ کے خلاف سخت کارروائی کی۔
*وفات*
1903ء الوئس ہٹلر، آسٹرین سول سرونٹ (پیدائش: 1837ء)
1904ء۔۔مظفر الدین شاہ قاجار ۔فارس کے قاجار خاندان کا پانچواں شاہ تھا۔
1931ء جوزف جوفری، فرانسیسی جنرل (پیدائش: 1852ء)
1967ء جیک روبی، امریکی قاتل (پیدائش: 1911ء)
1972ء موہن راکیش، بھارتی قلم کار
1975ء للت نارائن مشرا، بھارتی وزیر ریلوے، جو بہار میں داناپور کے اسپتال میں بم حملے میں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔
1987ء ہرے کرشن مہتاب، بھارتی ریاست اڑیسہ کے سابق وزیراعلٰی اور مہاراشٹر کے سابق گورنر
2005ء جے این دیکشت، بھارتی قومی سلامتی مشیر (پیدائش: 1936ء)
٭3 جنوری 1981ء کو پاکستان کے معروف فلمی موسیقار شوکت علی ناشاد لاہور میں وفات پاگئے اور سمن آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ شوکت علی ناشاد دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے فلمی کیریئر کا آغاز 1947ء میں بمبئی میں بننے والی فلم دلدار سے ہوا تھا۔ابتدا میں وہ شوکت دہلوی کے نام سے موسیقی ترتیب دیتے تھے۔ 1953ء میں نخشب جارچوی نے موسیقار نوشاد سے اختلافات کے باعث انہیں ناشاد کا فلمی نام دے کر ان سے اپنی فلم نغمہ کی موسیقی مرتب کروائی۔ شوکت علی ناشاد نے ہندوستان کی 30 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ 1963ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہیں مزید 60 فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا۔ ان کی مشہور پاکستانی فلموں میں مے خانہ، جلوہ، ہم دونوں، تم ملے پیار ملا، سالگرہ، سزا ، افسانہ، چاند سورج، رم جھم، بندگی، بہارو پھول برسائو ،ساجن رنگ رنگیلا، زینت اور شکوہ کے نام سرفہرست ہیں۔مشہور موسیقار واجد علی ناشاد ان کے فرزندتھے۔
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا تیسرا دن ہے اور سال ختم ہونے ابھی 362 دن باقی ہیں ۔
1496ء لیونارڈو دی ڈاونچی نے فلائنگ مشین کا ناکام تجربہ کیا۔
1777ء واشنگٹن کی افواج نے پرنسٹن کی لڑائی میں برطانیہ کو ہرایا۔
1815ء آسٹریا، برطانیہ اور فرانس نے پرسیا اور روس کے خلاف ایک خفیہ دفاعی معاہدہ کیا۔
1846ء جوزف جینکس رابرٹ آزاد افریقی جمہوریہ لائبیریا کے پہلے صدر بنے۔
1870ء امریکہ میں بروکلین پل کی تعمیر شروع ہوئی۔
1880ء ہفت روزہ اخبار الیسٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا کے پہلا شمارہ ممبئی سے شائع ہوا۔
1910ء برطانیہ کے کان مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے لئے ہڑتال شروع کی۔
1921ء ترکی اور آرمینیا کے ساتھ امن معاہدہ پر رضامند ہوا۔
1921ء ترکی کا آرمینیا کے ساتھ امن بات چیت کا آغاز ہوا۔
1924ء برطانوی شہری ہارورڈ کریٹ نے لکسر کے نزدیک فرعون توتن خامن کا تابوت تلاش کیا۔
1925ء میسولینی نے اٹلی کی پارلیمنٹ تحلیل کر کے عنان حکومت سنبھال لی۔
1945ء دوسری عالمی جنگ میں جاپان حامی ملکوں کی فوج برما کے مغربی علاقے میں پہنچی۔
1946ء جنرل کلاوَڈ اچنلیک نے آزاد ہند فوج کے تین اعلی افسران کو رہا کیا۔
1947ء امریکی کانگریس کی کارروائی پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی۔
1953ء گورنر جنرل غلام محمد نے نیشنل میوزیم کراچی کا افتتاح کیا۔
1955ء بلوچستان، مغربی پاکستان پر مشتمل ون یونٹ میں شا مل ہوا۔
1956ء دنیا بھر میں مشہور فرانس کے ایفل ٹاور کے بالائی حصہ کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔
1957ء ہیملٹن واچ کمپنی نے الیکٹرانک گھڑی بنائی۔
1958ء ایڈمنڈ ہیلیری جنوبی قطب پر پہنچے۔
1958ء ویسٹ انڈیز فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء الاسکا امریکہ میں 49 ریاست کے طور پر شامل ہوا۔
1961ء امریکہ نے کیوبا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے۔
1962ء گلشن آرا عالم، نوٹری پبلک کے لئے نامزد ہونے والی۔ پہلی پاکستانی خاتون بنیں
1966ء ایوب خان، لال بہادر شاستری کے ساتھ بات چیت کے لیے گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے تاشقند روانہ ہوئے۔
1970ء کانگو میں مارکس نوازوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔
1974ء برما میں آئین نافذ کیا گیا۔
1977ء ایپل کمپیوٹر کا قیام عمل میں آیا۔
1988ء برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی خاتون بنیں۔
1993ء دو تہائی نیوکلیائی اسلحہ میں تخفیف کے لئے روسی صدر بورس یلتسین اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسٹارٹ دوئم معائدہ پر دستخط کئے۔
1993ء 70 لاکھ لوگوں نے جنوبی افریقہ کی شہریت حاصل کی۔
1994ء وینیزویلا کی جیل میں آپسی جھگڑے میں سو قیدیوں کی موت ہو گئی۔
1994ء سائبیریا میں ٹوپالوف 154 ایم طیارہ کے حادثے میں 122 افراد ہلاک ہو گئے۔
1999ء امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) نے مریخ میں پانی کی موجودگی کے امکانات کا پتہ لگانے کے لئے دوسرا بغیر پائلٹ کی خلائی گاڑی بھیجی۔
2004ء مریخ پر زندگی کی تلاش میں ’دی اسپریٹ روور‘ نامی خلائی شٹل سات ماہ تک خلائی سفر کے بعد کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس آ گیا۔
3 جنوری 2005ء کو وزیراعظم شوکت عزیز نے کراچی کی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح کیا۔ ایم اسی بی ٹاور کی کل بلندی 116 میٹر ہے اور یہ 3 بیسمنٹ اور 29 منزلوں پر مشتمل ہے۔ ایم سی بی ٹاور کا پلاٹ ایریا2500 مربع گز ہے جبکہ اس کا کورڈ ایریا 21285 مربع میٹر ہے۔ایم سی بی ٹاور کی تعمیر کا آغاز 2000ء میں ہوا تھا اور اس کے آرکیٹیکٹ ارشد شاہد عبداللہ تھے۔ایم سی بی ٹاور کی تعمیر سے قبل پاکستان کی بلند ترین عمارت ہونے کا اعزاز حبیب بنک پلازہ کے پاس تھا جس کی تعمیر 1971ء میں مکمل ہوئی تھی۔
2007ء سابقہ صدر پاکستان و جنرل پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کر دیا۔
2008ء۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی۔
3جنوری 2008ء کو کراچی میں اپریل پاکستان کے اہتمام میں دنیا کے سب سے بڑے کرتے کی نمائش کا آغاز ہوا۔ اس کُرتے کی لمبائی 101فٹ اور چوڑائی 59فٹ 3انچ تھی جبکہ آستین کی طوالت 57فٹ تھی۔ اس کُرتے کو دیپک پروانی نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کی سلائی کے لیے گل احمد فیبرکس نے 800گز کپڑا فراہم کیا تھا۔ 4فروری 2008ء کو گنیز بک نے اسے دنیا کا سب سے بڑا کرتا تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
*ولادت*
1624ء۔۔سید شاہ علم اللہ کی پیدائش 12 ربیع الاول 1033ھ میں ہوئی۔ بچپن میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اس لیے ماموں سید ابو محمد نے پرورش کی۔ جوانی میں ماموں نے فوجی ملازمت کے لیے کوشش کی، لیکن شاہ صاحب دنیا سے دل برداشتہ ہو کر حضرت مجدد الف ثانیکے خلیفہ سید آدم بنوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اوربیعت کے بعد بہت جلد ہی خلافت و نیابت سے سر فراز ہوئے۔ سید آدم بنوری نے رخصت کرتے وقت اپنا عمامہ بھی عطا کیا۔رخصت ہونے کے بعد اپنے اہل و عیال کے پاس رائے بریلی پہنچے اور ایک بزرگ شاہ عبد الشکور مجذوب کے اصرار پرقصبہ دائرہ شاہ علم اللہ کی بنیاد رکھی۔پوری زندگی رسوم و بدعات اور خلاف شریعت رواج کی مخالفت میں کمر بستہ رہے، اصلاح نفس و خدمت خلق میں اپنے آپ کو مشغول رکھا اور بڑے کمالات سے سرفراز ہوئے۔1096ھ عہد عالمگیری میں 63 سال کی عمر میں وفات پائی
1753ء۔۔۔پژاشی راجا بھارت کی تحریک آزادی کے سب سے پہلے مجاہدوں میں سے تھے۔ وہ برطانیہ راج کے خلاف میدانِ کارزار میں اٹل رہا، اس لیے انھیں تاریخِ ہند میں ویرا کیرالا سِمہم یعنی بہادر شیرِ کیرالا کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔
1836ء منشی نول کشور، سب سے بڑے اردو مطبع کے علم دوست مالک علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔
1883ء کلیمنٹ ایٹلی, انگریزی سپاہی، وکیل، اور سیاستدان، (وفات: 08 اکتوبر 1967ء)کلیمنٹ اٹلی سابق برطانوی وزیر اعظم تھے۔ آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ تین سال وکالت کی۔ پھر لندن اسکول آف اکنامکس میں پروفیسر ہو گئے۔ 1922ء میں پارلیمنٹ کے رکن اور 1935ء میں لیبر پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران میں لارڈ پریوی کونسل کی حیثیت سے چرچل کابینہ میں رہے۔ 1945ء کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی ہوئی تو وزیر اعظم مقرر ہوئے اور 1951ء تک اسی حیثیت سے کام کیا۔ 1955ء میں سیاست سے الگ ہو گئے۔ اسی سال ارل کا خطاب ملا۔ ان کے عہد حکومت میں برصغیر پاک و ہند آزاد ہوا
1892ء جان رونالڈ روئل ٹولکین، انگریزی زبان دان اور مصنف (وفات: 1973ء)
1930ء مارا کورڈے، امریکی ماڈل اور اداکارہ
1950ء وکٹوریہ پرنسپل، امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر
1953ء محمد وحید حسن، مالدیپ کے صدر
1956ء میل گبسن، امریکی اداکار و فلمساز
1926ء۔۔۔تن عبد اللہ بن ایوب ( 13 دسمبر 2018) ایک وظیفہ یاب ملیشیائی سیول ملازم تھے جو ملیشیائی حکومت کے 6 ویں چیف سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیے تھے۔ آپ نے یکم جنوری 1979ء سے30 نومبر 1982ء تک چیف سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیے ہیں
1982ء۔سلمان اکبر ۔ ایک پاکستانی فیلڈ ہاکی کھلاڑی ہے۔ ٹیم میں یہ گول کیپر رہ چکے ہیں۔ 230 مقابلوں میۂ شرکت کر چکے ہیں
1938ء۔۔جسونت سنگھ۔ بھارت کے ایک ریٹائر فوجی افسر اور سابق وزیر ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک اور پارلیمان میں سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ارکان میں شامل ہیں۔ جسونت سنگھ 1980ء سے 2014ء تک تقریباً تمام عرصہ کسی ایک پارلیمان کے رکن رہے۔ انہوں نے پانچ دفعہ راجیہ سبھا کا انتخاب 1980، 1986، 1998، 1999 اور 2004 اور چار دفعہ لوک سبھا کا انتخاب 1990، 1991، 1996 اور 2009 میں جیتا ہے۔جب 2009ء میں مسلسل دوسری دفعہ اُن کی جماعت کو انتخابات میں شکست ہوئی تو اُنہوں نے جماعت کے لوگوں کو مباحثہ کی دعوت دی جو اُن کی جماعت کے ارکان کو پسند نہیں آئی۔ایک ہفتے بعد اُن کی لکھی ہوئی کتاب منظر عام پر آئی جس میں اُنہوں نے جناح کے بارے میں ہمدردانہ رائے لکھی تھِی۔ 2014ء میں اُن کی جماعت نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کہیں سے انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے بحثیت آزاد اُمیدوار لڑنے کا فیصلہ کیا اس طرح وہ اپنی ہی جماعت کے اُمیدوار کے مقابل آگئے۔ اِس کی وجہ سے اُنہیں 2014 میں جماعت سے نکال دیا گیا اور وہ اس انتخاب میں ناکام بھی رہے۔
1993ء۔۔بیلم کونڈا سرینیواس ایک بھارتی تیلگو اداکار ہیں۔ آپ نے تیلگو سنیما میں اپنے فنی سفر کا آغاز 2014ء میں فلماللوڈو سینو سے کیا، اس فلم میں آپ نے اداکارہ سامنتھا اکنینی کے ساتھ کام کیا۔ آپ تیلگو فلم ساز بیلم کونڈا سریش کے بیٹے ہیں۔آپ کی آخری فلم کووچم تھی، اس فلم میں آپ کاجل اگروال اور مہرین پیرزادہ کے ساتھ نظر آئے۔ یہ فلم دسمبر 2018ء میں جاری کی گئی
1937ء۔۔جنرل آصف نواز جنجوعہ
پاکستانی جنرل۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ جہلم کے ایک فوجی گھرانے سے تعلق تھا۔ والد بھی کرنل کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے پورے فوجی ڈسپلن کے ساتھ بیٹے کی تربیت تھی۔ اور 1954ء میں پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول میں داخل کرایا۔ تعلیم، کھیل اور فوجی تربیت میں اعلی پوزیشن حاصل کرنے پر سندھرسٹ اکیڈیمی انگلینڈ میں داخل ہوئے جہاں موجودہ وزیر خارجہ گوہر ایوب اور ان کے بعد آنے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ بھی زیر تربیت تھے۔ تکمیل اعلی تعلیم کے بعد پنجاب رجمنٹ سے وابستہ ہوئے اور اعلیٰ تربیت اور تجربے کے ساتھ ساتھ مختلف اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ جس وقت وہ کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے وہاں لسانی فسادات اور دہشت گردی کے واقعات پوری شدت سے جاری تھے یہاں تک کہ فریقین ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغوا کرکے سخت غیر انسانی اور بہیمانہ جسمانی تشدد روا رکھتے۔ 16 اگست 1991 کو جنرل مرزا اسلم بیگ کی سبکدوشی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف بنے۔ سندھ میں آپریشن شروع کیا اور وہاں پر شر پسند عناصر خصوصی طور پر مہاجر قومی مومنٹ کے خلاف سخت کارروائی کی۔
*وفات*
1903ء الوئس ہٹلر، آسٹرین سول سرونٹ (پیدائش: 1837ء)
1904ء۔۔مظفر الدین شاہ قاجار ۔فارس کے قاجار خاندان کا پانچواں شاہ تھا۔
1931ء جوزف جوفری، فرانسیسی جنرل (پیدائش: 1852ء)
1967ء جیک روبی، امریکی قاتل (پیدائش: 1911ء)
1972ء موہن راکیش، بھارتی قلم کار
1975ء للت نارائن مشرا، بھارتی وزیر ریلوے، جو بہار میں داناپور کے اسپتال میں بم حملے میں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔
1987ء ہرے کرشن مہتاب، بھارتی ریاست اڑیسہ کے سابق وزیراعلٰی اور مہاراشٹر کے سابق گورنر
2005ء جے این دیکشت، بھارتی قومی سلامتی مشیر (پیدائش: 1936ء)
٭3 جنوری 1981ء کو پاکستان کے معروف فلمی موسیقار شوکت علی ناشاد لاہور میں وفات پاگئے اور سمن آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ شوکت علی ناشاد دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے فلمی کیریئر کا آغاز 1947ء میں بمبئی میں بننے والی فلم دلدار سے ہوا تھا۔ابتدا میں وہ شوکت دہلوی کے نام سے موسیقی ترتیب دیتے تھے۔ 1953ء میں نخشب جارچوی نے موسیقار نوشاد سے اختلافات کے باعث انہیں ناشاد کا فلمی نام دے کر ان سے اپنی فلم نغمہ کی موسیقی مرتب کروائی۔ شوکت علی ناشاد نے ہندوستان کی 30 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ 1963ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہیں مزید 60 فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا۔ ان کی مشہور پاکستانی فلموں میں مے خانہ، جلوہ، ہم دونوں، تم ملے پیار ملا، سالگرہ، سزا ، افسانہ، چاند سورج، رم جھم، بندگی، بہارو پھول برسائو ،ساجن رنگ رنگیلا، زینت اور شکوہ کے نام سرفہرست ہیں۔مشہور موسیقار واجد علی ناشاد ان کے فرزندتھے۔

No comments:
Post a Comment