یہ سال کا پہلا دن ہے۔ابھی سال ختم ہونے میں 364 دن باقی ہیں ۔
01 جنوری کو کب سال کا پہلا دن قرار دیا گیا ۔اس کی کچھ تفصیل۔
قرون وسطیٰ میں بہت سے عیسائی ممالک سال کے آغاز کو کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے مناتے۔ یہ کیتھولک چرچ کے اثر رسوخ کی وجہ سے تھی جیسے 25 دسمبر (ولادت مسیح) ، یا ایسٹر کے طور پہ یا یورپ کے مشرقی ممالک اس طریقے سے علیحدہ رہے کیونکہ وہ آرتھوڈکس چرچ سے منسلک تھے، وہ اپنا سال 988 سے ہی یکم ستمبر کو بدلتے رہے۔ انگلینڈ میں یکم جنوری کو بطور نئے سال کے تہوار کے منایا جاتا رہا لیکن 12ویں صدی سے 1752ء تک انگلینڈ کا نیا سال 25 مارچ (Lady Day) سے شروع ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق چارلس اول کو 30 جنوری 1648ء کو سزائے موت دی گئی۔ تاریخ دانوں نے اس تاریخ کو یکم جنوری سے شروع ہونے والے سال کے مطابق رکھنے کے لئے سن کو تبدیل کر کے 1649ء کر دیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے عیسوی تقویم اپنانے سے پہلے ہی یکم جنوری کو سال تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ نے 166 میں سکاٹش نئے سال کو یکم جنوری کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ، آئرلینڈ اور برطانوی کالونیوں نے 1752ء میں یکم جنوری سے سال تبدیل کرنا شروع کیا۔ اسی سال ستمبر میں پورے برطانیہ اور برطانوی کالونیوں میں عیسوی تقویم متعارف کرائی گئی۔ یہ دونوں تبدیلیاں Calendar (New Style) Act 1750 کے تحت کی گئیں۔ یکم جنوری کو درج ذیل ممالک نے بھی باضاطبہ طور پر نئے سال کا آغاز شروع کیا۔
1362ء گرینڈ ڈچ آف لتھوینیا
1522ء جمہوریہ وینس
1544ء مقدس رومی سلطنت (جرمنی)
1556ء پرتگال، سپین
1559ء پروشیا, سوئیڈن
1564 فرانس
1576ء Southern Netherlands
1579ء Duchy of Lorraine
1583ء Northern Netherlands
1600ء سکاٹ لینڈ
1700ء روس
1721ء Tuscany
1752ء برطانیہ (سکاٹ لینڈ کے علاوہ) اور اس کی کالونیاں
یکم جنوری کو پیش آنے والے اھم واقعات ۔
153 قبل مسیح، رومی قونصل نے اپنے دفتروں میں نئے سال کا آغاز کیا۔
45 قبل مسیح Julian calendar نے رومی عوامی کیلینڈر پر اثر ڈالتے ہوئے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا۔
42 قبل مسیح رومی سینیٹ نے جولیس سیزر کو خدا کا درجہ دے دیا۔
0001ء عیسائی دور کا آغاز ہوا۔
69ء جرمینا سپریئر کے رومن لیجین نے گالبا کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بغاوت کر دی اور ویٹیلس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
630ء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب اپنے صحابہ کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ کے لئے روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے فتح حاصل کی۔
1399ء تیمور لنگ دہلی سے وسط ایشیا لوٹا۔
1502ء پرتگال کے بحری ہم جوڑی نے ریو ڈی کنیریو کی کھوج کی۔
1664ء شواجی نے سورت کی مہم شروع کی۔
1800ء ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی۔
1801ء سیرالون برطانوی نوآبادیات میں شامل ہوا۔
1801ء سب سے چھوٹے سیارے سیریس کی کھوج لگائی گئی۔
1808ء امریکہ میں غلام بھیجے جانے پر پابندی لگی۔
1862ء تعزیرات ہند لاگو ہوئی۔ اور فوجداری مقدمہ نافذ کیا گیا۔
1873ء جاپان میں گریلورین کیلینڈر کا استعمال شروع ہوا۔
1877ء دہلی دربار میں ملکہ وکٹوریا کو تاجدار ہند قرار دیا گیا۔
1880ء ہندوستان میں ڈاک خانوں میں منی آرڈر کا نظام شروع ہوا۔
1891ء فرانس نے مغربی سوڈان پر قبضہ کیا۔ تین ہزار افراد مارے گئے۔
1901ء آسٹریلیا کا قیام عمل میں آیا اور ایڈمنڈ بارٹن اس کے پہلے وزیراعظم بنے۔
1903ء کنگ ایڈروڈ ہفتم کو ہندوستان کا شاہ بنایا گیا۔
1906ء برٹش انڈیا میں معیاری وقت کا نفاذ عمل میں آیا۔
1915ء جنوبی افریقہ میں وائسرائے نے مہاتما گاندھی کو قیصر ہند طلائی تمغے سے نوازا
1923ء سوشلسٹ جمہوریہ سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1942ء دنیا کے 26 ملکوں نے واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے اعلانیہ پر دستخط کئے۔
1945ء فرانس نے اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔
1948ء تقسیم ہند کے بعد بھارت نے پاکستان کو واجب الادا پانچ سو پچاس ملین روپے دینے سے انکار کر دیا۔
1949ء کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
1956ء سوڈان میں مصر اور برطانیہ کے مشترکہ راج کا خاتمہ ہوا اور سوڈان ایک آزاد جمہوری ملک بنا۔
1958ء یوروپی یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء ڈکٹیٹر فلجینسو بیٹسٹا کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد فیڈل کاسترو اقتدار پر قابض ہوئے۔
1960ء اسوان بند کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
1961ء انڈین فرٹیلائزر لمیٹیڈ کا قیام عمل میں آیا۔
1972ء بھارت کی مختلف ریاستوں کے سابق حکمرانوں کو خصوصی سہولیات اور ’پریوی پرس‘ کو ختم کر دیا گیا۔
1973ء بھارتی حکومت نے جنرل بیمہ کو قومی تحویل میں لے لیا۔
1976ء بھارت میں ٹی وی پر تجارتی اشتہارات کی شروعات ہوئی۔
1978ء ائر انڈیا کا پہلا جمبو جیٹ ’سمرات اشوک‘ سمندر میں گرا۔ تمام 231 مسافروں کی موت ہو گئی۔
1983ء ارپانیٹ باضابطہ طور پر انٹرنیٹ پروٹوکول (انٹرنیٹ) میں تبدیل ہوئی۔
1985ء انٹرنیٹ کا ڈومین نام سسٹم تخلیق کیا گیا۔
1985ء برطانیہ میں موبائل فون کی پہلی کال ووڈا فون سے ملائی گئی۔
1992ء متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے برطانیہ کے شہر لندن میں جلا وطنی اختیار کر لی۔
1992ء پاکستان اور بھارت نے پہلی مرتبہ ایٹمی ٹھکانوں کی فہرست ایک دوسرے کو دی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔
1995ء عالمی تجارتی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔
1998ء رفیق تارڑ پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔محمد رفیق تارڑ 2 نومبر 1929ء کو ضلع گوجرانوالہ میں پیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ 1955ء میں لاہورہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔ 1989ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ مارچ 1997ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے ۔دسمبر 1997ء میں فاروق لغاری کے استعفے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ یوں وہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ یکم جنوری 1998ء کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 20جون 2001ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1998ء مہاراشٹر سگریٹ پینے اور سڑکوں پر تھوکنے کی مخالفت میں مہم چلانے والی پہلی ریاست بنی۔
2002ء یورپی یونین 12 ممبر ممالک نے ایک ہی کرنسی یورو کا استعمال شروع کیا۔
2007ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔
2010ء پاکستان میں والی بال میچ کے دوران خودکش حملہ میں 85 لوگ شہید ہو گئے۔
2010ء ہندوستان کے پانچ ممالک جاپان، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور لکژمبرگ کو فوری ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی۔
2014ء لٹویا نے سرکاری طور پر یورو کرنسی کو اپنایا اور اٹھارواں یوروزون ملک بن گیا۔
1995ء۔عالمی ریکارڈ لاہور میں مقیم ڈاکٹر محمد مستنصر نے دنیا میں سب سے زیادہ چسنیاں (Dummies) جمع کرنے کا ۔۔عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس مجموعے کا آغاز 1995ء میں کیا تھا اور وہ اب تک 1994 چسنیاں جمع کرچکے ہیں۔ ان کے مجموعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہر چسنی ایک علیحدہ بچے سے تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر محمد مستنصر نے یہ چسنیاں ان کی مائوں سے براہ راست حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر محمد مستنصر کا تعلق لاہور کے چلڈرن اسپتال سے ہے.
1955ء۔۔پہلا ٹیسٹ میچ ٭جنوری 1955ء سے مارچ 1955ء کے دوران بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سیریز میں بھارت کی قیادت ونومنکڈ نے اور پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کاردار نے کی۔ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم سے 4 جنوری 1955ء کے دوران ڈھاکا میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔یہ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ اس کے بعد بہاول پور، لاہور، پشاور اور کراچی میں چار مزید ٹیسٹ میچ کھیلے گئے مگر یہ چاروں ٹیسٹ میچ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے اور یوں یہ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئی۔ اس ٹیسٹ سیریز میں بہاول پور ٹیسٹ میں حنیف محمد نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے علیم الدین بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بھارت کی جانب سے واحد سنچری پی آر امریگر نے اسکور کی۔
2001ء۔۔یکم جنوری 2001ء کو شائع شدہ گنیز بک آف ریکارڈز کے تازہ ایڈیشن میں پاکستان کے نامور قوال نصرت فتح علی خان کا ذکر بھی موجود تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں قوالی کے 125 البم ریکارڈ کروائے جو دنیا میں قوالی کی ریکارڈنگ کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نصرت فتح علی خان نے ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں The Last Temptation Of Christ اور Dead Man Walking کے سائونڈ ٹریک بھی ریکارڈ کروائے تھے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ بھی کیا تھا
2003ء۔۔ یکم جنوری 2003ء کو جب گنیز بک آف ریکارڈ کا نیا ایڈیشن اشاعت پذیر ہوا تو اس میں گوجرانوالہ (پاکستان) میں مقیم ایک کاریگر شیخ ظفر اقبال کا ذکر بھی موجود تھا جو دنیا کا سب سے بڑے تالے (سیکیورٹی لاک) کے مالک تھے۔ اسٹیل سے بنے ہوئے اس تالے کی پیمائش 67.3X39.6X12.4 سینٹی میٹر (26.5X15.6X4.9 انچ) تھی اور اس کا وزن 96.3 کلو گرام (212.3پونڈ) تھا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تالا شیخ ظفر اقبال نے ہی بنایا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تالا 1955ء میں شیخ ظفر اقبال کے والد شیخ محمد رفیق (و:1987ء)نے 3سال کی محنت سے تیار کیا تھا۔
*ولادت*
1953ء۔۔مولانا طارق جمیل۔
1990ء۔۔نقیب اللہ محسود۔
838ء۔۔امام ابن خزیمہ۔
824ء۔۔ابو عیسیٰ محمد ترمذی۔
1900ء۔۔اثیم خیرآبادی ( وفات: 6 اپریل1972ء) اردو زبان کے شاعر تھے۔
1965ء۔۔
راؤ افضل گوہر پاکستان کے معروف شاعر ہیں۔ ملک میں ہونے والے بڑے مشاعروں میں انہیں مدعو کیا جاتا یے۔
1100ء۔۔الادریسی ۔ایک اندلسی عرب نقشہ نویس، جغرافیہ دان اورسیاح تھا۔ وہ مرابطین کے دور میں سیوطہ میں پیدا ہوا۔ سیوطہ اندلس کا حصہ تھا۔ اس نے سسلی کے بادشاہ راجر دویم کے دربار میں وقت گزارا۔
1961ء۔۔الحاج شاہ جی گل آفریدی پاکستانی سیاست دان ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔
1484ء۔۔الرخ زونگلی۔مارٹن لوتھر کی وفات کے بعد اصلاحِ کلیسیا کا کام جاری رہا۔ اصلاح کی اہم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والوں میں سے ایک الرخ زونگلی تھا جو سوئٹزر لينڈ کا رہنے والا تھا
1888ء۔۔سید امجد حسین امجد حیدر آبادی :- اردو کے نامور شاعر سید امجد حسین۔حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ دار العلوم میں بحیثیت مدرس ملازم ہوئے پھر محکمہ محاسبی میں 25 سال تک مددگار محاسب کی خدمات انجام دے کر پنشن پائی۔ زندگی کا اہم حادثہ 1908ء میں رددَ موسی کی قیامت خیز طغیانی ہے جس میں ان کی والدہ، بیوی، بیٹی نذر طوفان ہوگئیں۔ ان کے بعد طبیعت تصوف کی طرف راغب ہو گئی۔ شاعری میں ابتداً حبیب لکھنوی اور ترکی صاحب سے اصلاح لی۔ پھر اپنی طبیعت ہی کو رہنما بنایا۔ ایک مدت تک غزل اور نظم کہتے رہے۔ نظموں میں فریاد مجنوں، آجا، دنیا اور انسان مشہور ہیں۔ بعد ازاں رباعی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنالیا اور حقائق عالم، فلسفہ حیات، اخلاقیات، خصوصا مضامین تصوف کو رباعی کے پیرائے میں بیان کیا۔ نظموں کے دو مجموعے ریاض امجد (حصہ اول دوم ) شائع ہو چکے ہیں۔
1975ء۔۔اَنُورَادَھا بِسوال ۔ایک بھارتی ٹریک اور فیلڈ کھلاڑی ہیں۔ وہ اوڈیشا سے ہیں اور 100 میٹر رکاوٹوں میں مہارت رکھتی ہیں . ان کا موجودہقومی ریکارڈ 100 میٹر رکاوٹوں کے لیے 13.38 سیکنڈ ہے۔انورادھا نے یہ ریکارڈ 26 اگست 2002ء کے دوران، نہرو اسٹیڈیم دہلی میں منعقد ڈی ڈی اے راجا بھالیندر سنگھ قومی سرکٹ میٹ کے دوران قائم کیا۔ انہوں نے 30 جولائی، 2000ء میں جکارتہ میں منعقد ایشیائی چیمپئن شپ کے اپنے 13.40 سیکنڈ کے ریکارڈ کو بہتر کیا۔انہوں نے جکارتہ میں آپ کی کارکردگی کے لیے ایک کانسی کا تمغا جیتا۔وہ اس وقت بھونیشور، اوڈیشا میں واقع نالكو کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
1950ء۔۔تصور خانم۔ ایک پاکستانی غزل گائک ہیں۔ انہیں 1970ءکی دہائی سے 1980ء کی دہائی تک پاکستانی فلم اورٹیلی ویژن پر اردو اور پنجابی زبان میں گائکی کے لیے جانا جاتا ہے۔ 2005ء میں صدر پاکستان نے تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا۔
1972ء۔۔جام کمال خان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ہیں۔ وہ اگست 2018ء سےصوبائی اسمبلی بلوچستان کے رکن بن چکے ہیں۔اس سے قبل وہ جون 2013ء سے مئی 2018ء تک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن تھے۔ وہ نواز شریف کی وزارت عظمی (2013ء - 2017ء) اور شاہد خاقان عباسی کی وزارت (2017ء - 2018ء) کے عہد میں وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل رہے۔
1950ء۔۔راحت اندوری ۔ ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار ہیں .وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کئی بھارتی ٹیلی ویژن شوز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کئی گلو کاری کے رئیلیٹی شوز میں بہ طور جج حصہ لیا ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائی ہیں جو ان کے فنی سفر، تلفظ اور گلو کاری میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔
1955ء۔۔رانا ثناءاللہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رکن ہیں۔ اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔ رانا ثنااللہ خان متعدد بار پنجاب اسمبلی میں فیصل آباد کی نششت سے کامیاب ہوا۔ ۔ شہباز شریف کی حکومت میں دو بار وزیر انصاف رہا۔ پہلی وزارت 2011ء کے دور میں قاتل امریکی ریمنڈ ڈیوس خصوصی طیارے میں لاہور سے بھگایا گیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
1909ء۔۔شیخ القرآن ابو الحقائق مولاناعبدالغفور ہزاروی اہلسنت وجماعت کے اکابر علما میں شمار ہوتے ہیں۔۔
1974ء۔۔میر عبد القدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی کے موجودہ اسپیکر ہیں۔ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سولہویں وزیر اعلیٰ رہے۔ انہوں نے 13 جنوری 2018ء سے 8 جون 2018ء تک وزیراعلیٰ رہے۔
1966ء۔۔عمران اسماعیل ۔پاکستانی کاروباری شخصیت اور سیاست دان جو سندھ کے موجودہ اور 33ویں گورنر ہیں۔ اس سے قبل وہ سندھ صوبائی اسمبلی کے 13 اگست 2018ء سے 27 اگست 2018ء تک رکن رہ چکے ہیں۔23 اگست 2018ء کو انہیں سندھ کا گورنر نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد 27 اگست کو انہوں نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
1950ء۔پرویز خٹک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن اور پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع ہیں۔ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ انکا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ وہ یکم جنوری 1950ء کو پیدا ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے سے پہلے وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما تھے۔اس وقت وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر دفاع کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
1891ء سمپورنانند، اتر پردیش کے وزیراعلٰی
1892ء مہادیو ہری بھائی ڈیسائی، گاندھی کے سکریٹری
1894ء ستیندرا ناتھ بوس، بھارتی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (وفات: 1974ء)
1904ء سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری گجرات میں پیدا ہوئے۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور 1946ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت رہے۔ 1956ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ وہ 1962ء اور 1965ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1965ء سے 1969ء تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔ 1970ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پھر صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے۔ اس آخری عہدے پر وہ 16 ستمبر 1978ء تک فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن اور 1972ء میں عبوری آئین کے نفاذ کے بعد اس اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ 7 اگست 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 10 اگست 1973 ء کو وہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے ان کا مقابلہ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار امیر زادہ خان سے تھا جنہیں ان کے 139 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 45 ووٹ ملے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جن کا انتخاب 1973ء کے دستور کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے کیا تھا۔ فضل الٰہی چوہدری 16 ستمبر 1978ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ مرالہ گوجرہ‘ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں آسودہ خاک ہیں۔
1927ء ورمن ایل سمتھ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات اور تعلیم
1944ء میر ظفر اللہ خان جمالی، میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی ۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔
1944ء عمر حسن احمد البشیر، صدر سوڈان۔
1951ء اشفاق حسین زیدی، پاکستانی شاعر۔
1951ء نانا پاٹیکر، بھارتی اداکار، گلوکار، اور ڈائریکٹر۔
1952ء حمد بن خلیفہ الثانی، قطری حکمران ساتویں امیر قطر
1975ء سونالی بیندرے، بھارتی اداکارہ
1978ء ودیا بالن، بھارتی ماڈل اور اداکارہ
1970ء۔۔کیپٹن کرنل شیر خان نشانِ حیدر ٭ 5 جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے عظیم ہیرو، پاکستان کے نامور سپوت اور سندھ رجمنٹ کی جانب سے پہلا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ یکم جنوری 1970ء کو ضلع صوابی کے مشہور گائوں نواں کلی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے گائوں سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج صوابی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں پاک فضائیہ میں ائیرمین کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد بطور الیکٹرک فٹر/ایرو ناٹیکل انجینئر رسالپور میں تعینات ہوئے۔ دو سال تک ائیر فورس میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے کوشش کی، پہلی بار ناکام ہو گئے لیکن دوسری مرتبہ کامیاب ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے نومبر 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کو جوائن کیا اور 1994ء میں گریجویٹ لانگ کورس مکمل کیا۔ 1995ء میں سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1998ء میں آپ کی منگنی ہوئی۔ 1999ء میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔ میجر عاصم کی قیادت میں صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دبائو کے پیش نظر مزید سترہ پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ آپ کا نام آپ کے دادا خان غالب نے ’’کرنل شیر‘‘ رکھا تھا جبکہ فوج میں آپ کا عہدہ کیپٹن کا تھا یوں آپ ’’کیپٹن کرنل شیر خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کے اس عظیم کارنامے پر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ عطا کیا۔
٭ اردو کے نامور شاعر، ادیب اور مترجم سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1914ء کو چک عبدالخالق ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ فوج میں شامل ہوئے اور میجر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ سید ضمیر جعفری اردو کے اہم مزاح گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں کارزار، لہوترنگ، مافی الضمیر، مسدس بے حالی، کھلیان، ضمیریات، قریۂ جان، ضمیر ظرافت اور نشاط تماشا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی نثری کتب بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1984ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سید ضمیر جعفری 12 مئی 1999ء کونیویارک میں وفات پاگئے اورکھنیارہ شریف، بچہ مندرہ ضلع راولپنڈی میں سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
یکم جنوری 1901ء پشتو کے بزرگ ادیب، شاعر، محقق اور مترجم سمندر خاں سمندر کی تاریخ پیدائش ہے۔ سمندر خاں سمندر بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں ژور سمندر، دادب منارہ، میرمنے، دبلال ہانگ، کاروان روان دے، لیت ولار ، خوگہ شپیلئی، پختنے، قافیہ، دایلم سوکہ، دقرآن ژڑا اور بلے ڈیوے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال کی مثنوی اسرار خودی اور رموز بے خودی کا بھی منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ سمندر خاں سمندر کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سمندر خاں سمندر17 جنوری 1990ء کو پشاور میں وفات پاگئے ۔وہ بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں آسودۂ خاک ہیں۔
پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی گیند کروانے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل تھا۔ 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ گرائونڈ میں کھیلے گئے پاکستان کے اولین ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پہلی گیند ایم ایچ مینکڈ کو کروائی تھی اور اسی اننگز میں 19 کے اسکور پر پنکج رائے کو آئوٹ کرکے پہلی وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ خان محمد میڈیم فاسٹ بائولر تھے۔ انہوں نے 1952ء سے 1958ء کے دوران 13 ٹیسٹ میچ کھیلے اور54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بائولنگ 21 رنز کے عوض 6 وکٹیں تھی۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے ایک ہی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز چار مرتبہ حاصل کیا تھا۔ ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے۔
ہاکی کے مشہور کھلاڑی لطیف الرحمن یکم جنوری 1929ء کو اندور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں انہوں نے بھارت کی نمائندگی کی، بعدازاں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور 1952ء اور 1956ء کے اولمپک کھیلوں اور 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ علی اقتدار شاہ دارا اور اختر حسین کے ساتھ دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ لطیف الرحمن اسپیڈ، بال کنٹرول اور نپاتلا کراس لگانے کے ماہر تھے۔ مغربی ممالک نے انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب عطا کیا تھا۔ یہ خطاب بعدازاں سمیع اللہ کے حصے میں بھی آیا۔ انہیں پاکستان کا دھیان چند بھی کہا جاتا تھا۔ 27 فروری 1987ء کو لطیف الرحمن فیصل آباد میں وفات پاگئے۔ لطیف الرحمن کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*وفات*
2018ء۔۔۔ابراہیم نافع (12 جنوری 1934 ) ایک مصری صحافی تھے۔ وہ مصری اخبار الاہرم کے 1979ء تا 2005ء تک مدیر رہے اور 1996ء تا 2012ء تک عرب صحافیوں کی جنرل یونین کے سربراہی رہے۔
2018ء۔۔۔شیخ ڈاکٹر احمد بن سعید اللدن الراشانی ایک مسلمان عالم، مصنف، خطاط اور لبنان کے مفکر تھے۔ انہوں نے لبنانی جمہوریہ کے سابقہ مفتی شیخ محمد رشید قابانی کے بعد2011ء میں مفتی کا عہدہ سنبھالا تھا، اس عہدے پر وہ 14 جنوری 1439 ھجری بمطابق 1 جنوری 2018ء تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔
874ء۔۔امام سید حسن بن علی عسکری
1940ء۔۔اکرم یاری ایک افغانستانی سیاست دان اور «سازمان جوانان مترقی» تنظیم کے بانی تھے۔اکرم یاری 1940 کو افغانستان کے غزنی، جاغوری میں پیدا ہوا۔ وہ افغانستان کے ہزارہ نسلی گروہوں سے تعلق رکھتے تھے
1775ء۔۔احمد شاہ بہادر ۔ مغل شہنشاہ تھا، جو مغل شہنشاہ محمد شاہ کا بیٹا تھا
1748ء جون برنولی، مشہور ریاضی دان
1944ء سر ایڈون لٹینس، بھارتی راشٹرپتی بھون کے آرکیٹیکٹ
1955ء شانتی سروپ بھٹناگر، بھارتی سائنسداں اور صنعتی ریسرچ کونسل کے بانی ڈائرکٹر
1995ء یوجین پاول وگنر، نوبل انعام یافتہ ہنگیرین امریکی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (پیدائش: 1902ء)
2015ء ڈونا ڈگلس، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ (پیدائش: 1933ء)
2006.حنیف رامے٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔ حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے.
٭یکم جنوری 1974ء کو پٹیالہ گھرانے کے نامور موسیقار اور گائیک خان صاحب اختر حسین خان انتقال کرگئے۔ برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کا نام سرفہرست ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد برکت علی خان‘ استاد عاشق علی خان‘ استاد مبارک علی خان‘ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان سے لے کر استاد حامد علی خان‘ اسد امانت علی خان‘ زاہدہ پروین‘ شفقت امانت علی خان اور رستم فتح علی خان تک کلاسیکی موسیقی کے متعدد بڑے فنکاروں کا تعلق اسی گھرانے سے رہا ہے۔ اس گھرانے کا یہ نام ریاست پٹیالہ سے وابستگی کی وجہ سے پڑا۔ اس گھرانے کے بانی خان صاحب جرنیل علی بخش خان اور خان صاحب کرنیل فتح علی خان تھے۔ یہ دونوں گو آپس میں رشتے دار نہ تھے لیکن ہمیشہ سگے بھائیوں کی طرح رہے اور جہاں گانے کے لیے گئے‘ اکٹھے گئے۔ یہ دونوں اساتذۂ فن پہلے گوکھی بائی کے شاگرد ہوئے پھر بہرام خان‘ مبارک علی خان اور تان رس خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے انہیں جرنیل اور کرنیل کے خطابات دیے۔ انہی جرنیل علی بخش خان کے فرزند خان صاحب اختر حسین خان تھے‘ جو 1896ء میں پیدا ہوئے تھے۔ خان صاحب اختر حسین خان نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی اپنے باکمال والد سے حاصل کی اور پھر اپنے بیٹوں امانت علی خان اور فتح علی خان اور پوتے اسد امانت علی خان کو فن موسیقی کا درس دے کر اس فن کو آگے بڑھایا۔ خان صاحب اختر حسین خان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*تعطیلات و تہوار*
مسیحی عید کا دن، مسیح کے ختنہ کی عید، مسیح کے ناموں کی عید، مریم کی سنجیدگی کا تہوار
نئے گریگورین سال کا آغاز۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک جشن اور تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
عالمی یوم امن
یوم قانون اٹلی
یوم شجرکاری تنزانیہ
عالمی یوم خاندان
1804ء ہیٹی فرانس سے آزاد ہوا۔
1899ء کیوبا کو اسپین سے آزادی ملی۔
1912ء تائیوان کے قیام کا دن
1956ء سوڈان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
1960ء کیمرون کو فرانس سے آزادی ملی۔
1984ء برونائی نے برطانیہ سے آذادی حاصل کی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔01 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا پہلا دن ہے۔ابھی سال ختم ہونے میں 364 دن باقی ہیں ۔
01 جنوری کو کب سال کا پہلا دن قرار دیا گیا ۔اس کی کچھ تفصیل۔
قرون وسطیٰ میں بہت سے عیسائی ممالک سال کے آغاز کو کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے مناتے۔ یہ کیتھولک چرچ کے اثر رسوخ کی وجہ سے تھی جیسے 25 دسمبر (ولادت مسیح) ، یا ایسٹر کے طور پہ یا یورپ کے مشرقی ممالک اس طریقے سے علیحدہ رہے کیونکہ وہ آرتھوڈکس چرچ سے منسلک تھے، وہ اپنا سال 988 سے ہی یکم ستمبر کو بدلتے رہے۔ انگلینڈ میں یکم جنوری کو بطور نئے سال کے تہوار کے منایا جاتا رہا لیکن 12ویں صدی سے 1752ء تک انگلینڈ کا نیا سال 25 مارچ (Lady Day) سے شروع ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق چارلس اول کو 30 جنوری 1648ء کو سزائے موت دی گئی۔ تاریخ دانوں نے اس تاریخ کو یکم جنوری سے شروع ہونے والے سال کے مطابق رکھنے کے لئے سن کو تبدیل کر کے 1649ء کر دیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے عیسوی تقویم اپنانے سے پہلے ہی یکم جنوری کو سال تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ نے 166 میں سکاٹش نئے سال کو یکم جنوری کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ، آئرلینڈ اور برطانوی کالونیوں نے 1752ء میں یکم جنوری سے سال تبدیل کرنا شروع کیا۔ اسی سال ستمبر میں پورے برطانیہ اور برطانوی کالونیوں میں عیسوی تقویم متعارف کرائی گئی۔ یہ دونوں تبدیلیاں Calendar (New Style) Act 1750 کے تحت کی گئیں۔ یکم جنوری کو درج ذیل ممالک نے بھی باضاطبہ طور پر نئے سال کا آغاز شروع کیا۔
1362ء گرینڈ ڈچ آف لتھوینیا
1522ء جمہوریہ وینس
1544ء مقدس رومی سلطنت (جرمنی)
1556ء پرتگال، سپین
1559ء پروشیا, سوئیڈن
1564 فرانس
1576ء Southern Netherlands
1579ء Duchy of Lorraine
1583ء Northern Netherlands
1600ء سکاٹ لینڈ
1700ء روس
1721ء Tuscany
1752ء برطانیہ (سکاٹ لینڈ کے علاوہ) اور اس کی کالونیاں
یکم جنوری کو پیش آنے والے اھم واقعات ۔
153 قبل مسیح، رومی قونصل نے اپنے دفتروں میں نئے سال کا آغاز کیا۔
45 قبل مسیح Julian calendar نے رومی عوامی کیلینڈر پر اثر ڈالتے ہوئے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا۔
42 قبل مسیح رومی سینیٹ نے جولیس سیزر کو خدا کا درجہ دے دیا۔
0001ء عیسائی دور کا آغاز ہوا۔
69ء جرمینا سپریئر کے رومن لیجین نے گالبا کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بغاوت کر دی اور ویٹیلس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
630ء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب اپنے صحابہ کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ کے لئے روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے فتح حاصل کی۔
1399ء تیمور لنگ دہلی سے وسط ایشیا لوٹا۔
1502ء پرتگال کے بحری ہم جوڑی نے ریو ڈی کنیریو کی کھوج کی۔
1664ء شواجی نے سورت کی مہم شروع کی۔
1800ء ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی۔
1801ء سیرالون برطانوی نوآبادیات میں شامل ہوا۔
1801ء سب سے چھوٹے سیارے سیریس کی کھوج لگائی گئی۔
1808ء امریکہ میں غلام بھیجے جانے پر پابندی لگی۔
1862ء تعزیرات ہند لاگو ہوئی۔ اور فوجداری مقدمہ نافذ کیا گیا۔
1873ء جاپان میں گریلورین کیلینڈر کا استعمال شروع ہوا۔
1877ء دہلی دربار میں ملکہ وکٹوریا کو تاجدار ہند قرار دیا گیا۔
1880ء ہندوستان میں ڈاک خانوں میں منی آرڈر کا نظام شروع ہوا۔
1891ء فرانس نے مغربی سوڈان پر قبضہ کیا۔ تین ہزار افراد مارے گئے۔
1901ء آسٹریلیا کا قیام عمل میں آیا اور ایڈمنڈ بارٹن اس کے پہلے وزیراعظم بنے۔
1903ء کنگ ایڈروڈ ہفتم کو ہندوستان کا شاہ بنایا گیا۔
1906ء برٹش انڈیا میں معیاری وقت کا نفاذ عمل میں آیا۔
1915ء جنوبی افریقہ میں وائسرائے نے مہاتما گاندھی کو قیصر ہند طلائی تمغے سے نوازا
1923ء سوشلسٹ جمہوریہ سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1942ء دنیا کے 26 ملکوں نے واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے اعلانیہ پر دستخط کئے۔
1945ء فرانس نے اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔
1948ء تقسیم ہند کے بعد بھارت نے پاکستان کو واجب الادا پانچ سو پچاس ملین روپے دینے سے انکار کر دیا۔
1949ء کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
1956ء سوڈان میں مصر اور برطانیہ کے مشترکہ راج کا خاتمہ ہوا اور سوڈان ایک آزاد جمہوری ملک بنا۔
1958ء یوروپی یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء ڈکٹیٹر فلجینسو بیٹسٹا کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد فیڈل کاسترو اقتدار پر قابض ہوئے۔
1960ء اسوان بند کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
1961ء انڈین فرٹیلائزر لمیٹیڈ کا قیام عمل میں آیا۔
1972ء بھارت کی مختلف ریاستوں کے سابق حکمرانوں کو خصوصی سہولیات اور ’پریوی پرس‘ کو ختم کر دیا گیا۔
1973ء بھارتی حکومت نے جنرل بیمہ کو قومی تحویل میں لے لیا۔
1976ء بھارت میں ٹی وی پر تجارتی اشتہارات کی شروعات ہوئی۔
1978ء ائر انڈیا کا پہلا جمبو جیٹ ’سمرات اشوک‘ سمندر میں گرا۔ تمام 231 مسافروں کی موت ہو گئی۔
1983ء ارپانیٹ باضابطہ طور پر انٹرنیٹ پروٹوکول (انٹرنیٹ) میں تبدیل ہوئی۔
1985ء انٹرنیٹ کا ڈومین نام سسٹم تخلیق کیا گیا۔
1985ء برطانیہ میں موبائل فون کی پہلی کال ووڈا فون سے ملائی گئی۔
1992ء متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے برطانیہ کے شہر لندن میں جلا وطنی اختیار کر لی۔
1992ء پاکستان اور بھارت نے پہلی مرتبہ ایٹمی ٹھکانوں کی فہرست ایک دوسرے کو دی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔
1995ء عالمی تجارتی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔
1998ء رفیق تارڑ پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔محمد رفیق تارڑ 2 نومبر 1929ء کو ضلع گوجرانوالہ میں پیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ 1955ء میں لاہورہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔ 1989ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ مارچ 1997ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے ۔دسمبر 1997ء میں فاروق لغاری کے استعفے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ یوں وہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ یکم جنوری 1998ء کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 20جون 2001ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1998ء مہاراشٹر سگریٹ پینے اور سڑکوں پر تھوکنے کی مخالفت میں مہم چلانے والی پہلی ریاست بنی۔
2002ء یورپی یونین 12 ممبر ممالک نے ایک ہی کرنسی یورو کا استعمال شروع کیا۔
2007ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔
2010ء پاکستان میں والی بال میچ کے دوران خودکش حملہ میں 85 لوگ شہید ہو گئے۔
2010ء ہندوستان کے پانچ ممالک جاپان، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور لکژمبرگ کو فوری ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی۔
2014ء لٹویا نے سرکاری طور پر یورو کرنسی کو اپنایا اور اٹھارواں یوروزون ملک بن گیا۔
1995ء۔عالمی ریکارڈ لاہور میں مقیم ڈاکٹر محمد مستنصر نے دنیا میں سب سے زیادہ چسنیاں (Dummies) جمع کرنے کا ۔۔عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس مجموعے کا آغاز 1995ء میں کیا تھا اور وہ اب تک 1994 چسنیاں جمع کرچکے ہیں۔ ان کے مجموعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہر چسنی ایک علیحدہ بچے سے تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر محمد مستنصر نے یہ چسنیاں ان کی مائوں سے براہ راست حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر محمد مستنصر کا تعلق لاہور کے چلڈرن اسپتال سے ہے.
1955ء۔۔پہلا ٹیسٹ میچ ٭جنوری 1955ء سے مارچ 1955ء کے دوران بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سیریز میں بھارت کی قیادت ونومنکڈ نے اور پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کاردار نے کی۔ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم سے 4 جنوری 1955ء کے دوران ڈھاکا میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔یہ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ اس کے بعد بہاول پور، لاہور، پشاور اور کراچی میں چار مزید ٹیسٹ میچ کھیلے گئے مگر یہ چاروں ٹیسٹ میچ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے اور یوں یہ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئی۔ اس ٹیسٹ سیریز میں بہاول پور ٹیسٹ میں حنیف محمد نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے علیم الدین بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بھارت کی جانب سے واحد سنچری پی آر امریگر نے اسکور کی۔
2001ء۔۔یکم جنوری 2001ء کو شائع شدہ گنیز بک آف ریکارڈز کے تازہ ایڈیشن میں پاکستان کے نامور قوال نصرت فتح علی خان کا ذکر بھی موجود تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں قوالی کے 125 البم ریکارڈ کروائے جو دنیا میں قوالی کی ریکارڈنگ کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نصرت فتح علی خان نے ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں The Last Temptation Of Christ اور Dead Man Walking کے سائونڈ ٹریک بھی ریکارڈ کروائے تھے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ بھی کیا تھا
2003ء۔۔ یکم جنوری 2003ء کو جب گنیز بک آف ریکارڈ کا نیا ایڈیشن اشاعت پذیر ہوا تو اس میں گوجرانوالہ (پاکستان) میں مقیم ایک کاریگر شیخ ظفر اقبال کا ذکر بھی موجود تھا جو دنیا کا سب سے بڑے تالے (سیکیورٹی لاک) کے مالک تھے۔ اسٹیل سے بنے ہوئے اس تالے کی پیمائش 67.3X39.6X12.4 سینٹی میٹر (26.5X15.6X4.9 انچ) تھی اور اس کا وزن 96.3 کلو گرام (212.3پونڈ) تھا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تالا شیخ ظفر اقبال نے ہی بنایا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تالا 1955ء میں شیخ ظفر اقبال کے والد شیخ محمد رفیق (و:1987ء)نے 3سال کی محنت سے تیار کیا تھا۔
*ولادت*
1891ء سمپورنانند، اتر پردیش کے وزیراعلٰی
1892ء مہادیو ہری بھائی ڈیسائی، گاندھی کے سکریٹری
1894ء ستیندرا ناتھ بوس، بھارتی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (وفات: 1974ء)
1904ء سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری گجرات میں پیدا ہوئے۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور 1946ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت رہے۔ 1956ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ وہ 1962ء اور 1965ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1965ء سے 1969ء تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔ 1970ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پھر صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے۔ اس آخری عہدے پر وہ 16 ستمبر 1978ء تک فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن اور 1972ء میں عبوری آئین کے نفاذ کے بعد اس اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ 7 اگست 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 10 اگست 1973 ء کو وہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے ان کا مقابلہ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار امیر زادہ خان سے تھا جنہیں ان کے 139 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 45 ووٹ ملے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جن کا انتخاب 1973ء کے دستور کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے کیا تھا۔ فضل الٰہی چوہدری 16 ستمبر 1978ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ مرالہ گوجرہ‘ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں آسودہ خاک ہیں۔
1927ء ورمن ایل سمتھ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات اور تعلیم
1944ء میر ظفر اللہ خان جمالی، میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی ۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔
1944ء عمر حسن احمد البشیر، صدر سوڈان۔
1951ء اشفاق حسین زیدی، پاکستانی شاعر۔
1951ء نانا پاٹیکر، بھارتی اداکار، گلوکار، اور ڈائریکٹر۔
1952ء حمد بن خلیفہ الثانی، قطری حکمران ساتویں امیر قطر
1975ء سونالی بیندرے، بھارتی اداکارہ
1978ء ودیا بالن، بھارتی ماڈل اور اداکارہ
1970ء۔۔کیپٹن کرنل شیر خان نشانِ حیدر ٭ 7جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے عظیم ہیرو، پاکستان کے نامور سپوت اور سندھ رجمنٹ کی جانب سے پہلا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ یکم جنوری 1970ء کو ضلع صوابی کے مشہور گائوں نواں کلی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے گائوں سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج صوابی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں پاک فضائیہ میں ائیرمین کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد بطور الیکٹرک فٹر/ایرو ناٹیکل انجینئر رسالپور میں تعینات ہوئے۔ دو سال تک ائیر فورس میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے کوشش کی، پہلی بار ناکام ہو گئے لیکن دوسری مرتبہ کامیاب ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے نومبر 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کو جوائن کیا اور 1994ء میں گریجویٹ لانگ کورس مکمل کیا۔ 1995ء میں سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1998ء میں آپ کی منگنی ہوئی۔ 1999ء میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔ میجر عاصم کی قیادت میں صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دبائو کے پیش نظر مزید سترہ پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ آپ کا نام آپ کے دادا خان غالب نے ’’کرنل شیر‘‘ رکھا تھا جبکہ فوج میں آپ کا عہدہ کیپٹن کا تھا یوں آپ ’’کیپٹن کرنل شیر خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کے اس عظیم کارنامے پر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ عطا کیا۔
٭ اردو کے نامور شاعر، ادیب اور مترجم سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1914ء کو چک عبدالخالق ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ فوج میں شامل ہوئے اور میجر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ سید ضمیر جعفری اردو کے اہم مزاح گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں کارزار، لہوترنگ، مافی الضمیر، مسدس بے حالی، کھلیان، ضمیریات، قریۂ جان، ضمیر ظرافت اور نشاط تماشا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی نثری کتب بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1984ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سید ضمیر جعفری 12 مئی 1999ء کونیویارک میں وفات پاگئے اورکھنیارہ شریف، بچہ مندرہ ضلع راولپنڈی میں سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
یکم جنوری 1901ء پشتو کے بزرگ ادیب، شاعر، محقق اور مترجم سمندر خاں سمندر کی تاریخ پیدائش ہے۔ سمندر خاں سمندر بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں ژور سمندر، دادب منارہ، میرمنے، دبلال ہانگ، کاروان روان دے، لیت ولار ، خوگہ شپیلئی، پختنے، قافیہ، دایلم سوکہ، دقرآن ژڑا اور بلے ڈیوے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال کی مثنوی اسرار خودی اور رموز بے خودی کا بھی منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ سمندر خاں سمندر کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سمندر خاں سمندر17 جنوری 1990ء کو پشاور میں وفات پاگئے ۔وہ بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں آسودۂ خاک ہیں۔
پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی گیند کروانے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل تھا۔ 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ گرائونڈ میں کھیلے گئے پاکستان کے اولین ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پہلی گیند ایم ایچ مینکڈ کو کروائی تھی اور اسی اننگز میں 19 کے اسکور پر پنکج رائے کو آئوٹ کرکے پہلی وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ خان محمد میڈیم فاسٹ بائولر تھے۔ انہوں نے 1952ء سے 1958ء کے دوران 13 ٹیسٹ میچ کھیلے اور54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بائولنگ 21 رنز کے عوض 6 وکٹیں تھی۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے ایک ہی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز چار مرتبہ حاصل کیا تھا۔ ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے۔
ہاکی کے مشہور کھلاڑی لطیف الرحمن یکم جنوری 1929ء کو اندور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں انہوں نے بھارت کی نمائندگی کی، بعدازاں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور 1952ء اور 1956ء کے اولمپک کھیلوں اور 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ علی اقتدار شاہ دارا اور اختر حسین کے ساتھ دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ لطیف الرحمن اسپیڈ، بال کنٹرول اور نپاتلا کراس لگانے کے ماہر تھے۔ مغربی ممالک نے انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب عطا کیا تھا۔ یہ خطاب بعدازاں سمیع اللہ کے حصے میں بھی آیا۔ انہیں پاکستان کا دھیان چند بھی کہا جاتا تھا۔ 27 فروری 1987ء کو لطیف الرحمن فیصل آباد میں وفات پاگئے۔ لطیف الرحمن کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*وفات*
1748ء جون برنولی، مشہور ریاضی دان
1944ء سر ایڈون لٹینس، بھارتی راشٹرپتی بھون کے آرکیٹیکٹ
1955ء شانتی سروپ بھٹناگر، بھارتی سائنسداں اور صنعتی ریسرچ کونسل کے بانی ڈائرکٹر
1995ء یوجین پاول وگنر، نوبل انعام یافتہ ہنگیرین امریکی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (پیدائش: 1902ء)
2015ء ڈونا ڈگلس، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ (پیدائش: 1933ء)
2006.حنیف رامے٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔ حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے.
٭یکم جنوری 1974ء کو پٹیالہ گھرانے کے نامور موسیقار اور گائیک خان صاحب اختر حسین خان انتقال کرگئے۔ برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کا نام سرفہرست ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد برکت علی خان‘ استاد عاشق علی خان‘ استاد مبارک علی خان‘ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان سے لے کر استاد حامد علی خان‘ اسد امانت علی خان‘ زاہدہ پروین‘ شفقت امانت علی خان اور رستم فتح علی خان تک کلاسیکی موسیقی کے متعدد بڑے فنکاروں کا تعلق اسی گھرانے سے رہا ہے۔ اس گھرانے کا یہ نام ریاست پٹیالہ سے وابستگی کی وجہ سے پڑا۔ اس گھرانے کے بانی خان صاحب جرنیل علی بخش خان اور خان صاحب کرنیل فتح علی خان تھے۔ یہ دونوں گو آپس میں رشتے دار نہ تھے لیکن ہمیشہ سگے بھائیوں کی طرح رہے اور جہاں گانے کے لیے گئے‘ اکٹھے گئے۔ یہ دونوں اساتذۂ فن پہلے گوکھی بائی کے شاگرد ہوئے پھر بہرام خان‘ مبارک علی خان اور تان رس خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے انہیں جرنیل اور کرنیل کے خطابات دیے۔ انہی جرنیل علی بخش خان کے فرزند خان صاحب اختر حسین خان تھے‘ جو 1896ء میں پیدا ہوئے تھے۔ خان صاحب اختر حسین خان نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی اپنے باکمال والد سے حاصل کی اور پھر اپنے بیٹوں امانت علی خان اور فتح علی خان اور پوتے اسد امانت علی خان کو فن موسیقی کا درس دے کر اس فن کو آگے بڑھایا۔ خان صاحب اختر حسین خان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*تعطیلات و تہوار*
مسیحی عید کا دن، مسیح کے ختنہ کی عید، مسیح کے ناموں کی عید، مریم کی سنجیدگی کا تہوار
نئے گریگورین سال کا آغاز۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک جشن اور تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
عالمی یوم امن
یوم قانون اٹلی
یوم شجرکاری تنزانیہ
عالمی یوم خاندان
1804ء ہیٹی فرانس سے آزاد ہوا۔
1899ء کیوبا کو اسپین سے آزادی ملی۔
1912ء تائیوان کے قیام کا دن
1956ء سوڈان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
1960ء کیمرون کو فرانس سے آزادی ملی۔
1984ء برونائی نے برطانیہ سے آذادی حاصل کی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔
01 جنوری کو کب سال کا پہلا دن قرار دیا گیا ۔اس کی کچھ تفصیل۔
قرون وسطیٰ میں بہت سے عیسائی ممالک سال کے آغاز کو کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے مناتے۔ یہ کیتھولک چرچ کے اثر رسوخ کی وجہ سے تھی جیسے 25 دسمبر (ولادت مسیح) ، یا ایسٹر کے طور پہ یا یورپ کے مشرقی ممالک اس طریقے سے علیحدہ رہے کیونکہ وہ آرتھوڈکس چرچ سے منسلک تھے، وہ اپنا سال 988 سے ہی یکم ستمبر کو بدلتے رہے۔ انگلینڈ میں یکم جنوری کو بطور نئے سال کے تہوار کے منایا جاتا رہا لیکن 12ویں صدی سے 1752ء تک انگلینڈ کا نیا سال 25 مارچ (Lady Day) سے شروع ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق چارلس اول کو 30 جنوری 1648ء کو سزائے موت دی گئی۔ تاریخ دانوں نے اس تاریخ کو یکم جنوری سے شروع ہونے والے سال کے مطابق رکھنے کے لئے سن کو تبدیل کر کے 1649ء کر دیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے عیسوی تقویم اپنانے سے پہلے ہی یکم جنوری کو سال تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ نے 166 میں سکاٹش نئے سال کو یکم جنوری کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ، آئرلینڈ اور برطانوی کالونیوں نے 1752ء میں یکم جنوری سے سال تبدیل کرنا شروع کیا۔ اسی سال ستمبر میں پورے برطانیہ اور برطانوی کالونیوں میں عیسوی تقویم متعارف کرائی گئی۔ یہ دونوں تبدیلیاں Calendar (New Style) Act 1750 کے تحت کی گئیں۔ یکم جنوری کو درج ذیل ممالک نے بھی باضاطبہ طور پر نئے سال کا آغاز شروع کیا۔
1362ء گرینڈ ڈچ آف لتھوینیا
1522ء جمہوریہ وینس
1544ء مقدس رومی سلطنت (جرمنی)
1556ء پرتگال، سپین
1559ء پروشیا, سوئیڈن
1564 فرانس
1576ء Southern Netherlands
1579ء Duchy of Lorraine
1583ء Northern Netherlands
1600ء سکاٹ لینڈ
1700ء روس
1721ء Tuscany
1752ء برطانیہ (سکاٹ لینڈ کے علاوہ) اور اس کی کالونیاں
یکم جنوری کو پیش آنے والے اھم واقعات ۔
153 قبل مسیح، رومی قونصل نے اپنے دفتروں میں نئے سال کا آغاز کیا۔
45 قبل مسیح Julian calendar نے رومی عوامی کیلینڈر پر اثر ڈالتے ہوئے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا۔
42 قبل مسیح رومی سینیٹ نے جولیس سیزر کو خدا کا درجہ دے دیا۔
0001ء عیسائی دور کا آغاز ہوا۔
69ء جرمینا سپریئر کے رومن لیجین نے گالبا کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بغاوت کر دی اور ویٹیلس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
630ء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب اپنے صحابہ کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ کے لئے روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے فتح حاصل کی۔
1399ء تیمور لنگ دہلی سے وسط ایشیا لوٹا۔
1502ء پرتگال کے بحری ہم جوڑی نے ریو ڈی کنیریو کی کھوج کی۔
1664ء شواجی نے سورت کی مہم شروع کی۔
1800ء ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی۔
1801ء سیرالون برطانوی نوآبادیات میں شامل ہوا۔
1801ء سب سے چھوٹے سیارے سیریس کی کھوج لگائی گئی۔
1808ء امریکہ میں غلام بھیجے جانے پر پابندی لگی۔
1862ء تعزیرات ہند لاگو ہوئی۔ اور فوجداری مقدمہ نافذ کیا گیا۔
1873ء جاپان میں گریلورین کیلینڈر کا استعمال شروع ہوا۔
1877ء دہلی دربار میں ملکہ وکٹوریا کو تاجدار ہند قرار دیا گیا۔
1880ء ہندوستان میں ڈاک خانوں میں منی آرڈر کا نظام شروع ہوا۔
1891ء فرانس نے مغربی سوڈان پر قبضہ کیا۔ تین ہزار افراد مارے گئے۔
1901ء آسٹریلیا کا قیام عمل میں آیا اور ایڈمنڈ بارٹن اس کے پہلے وزیراعظم بنے۔
1903ء کنگ ایڈروڈ ہفتم کو ہندوستان کا شاہ بنایا گیا۔
1906ء برٹش انڈیا میں معیاری وقت کا نفاذ عمل میں آیا۔
1915ء جنوبی افریقہ میں وائسرائے نے مہاتما گاندھی کو قیصر ہند طلائی تمغے سے نوازا
1923ء سوشلسٹ جمہوریہ سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1942ء دنیا کے 26 ملکوں نے واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے اعلانیہ پر دستخط کئے۔
1945ء فرانس نے اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔
1948ء تقسیم ہند کے بعد بھارت نے پاکستان کو واجب الادا پانچ سو پچاس ملین روپے دینے سے انکار کر دیا۔
1949ء کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
1956ء سوڈان میں مصر اور برطانیہ کے مشترکہ راج کا خاتمہ ہوا اور سوڈان ایک آزاد جمہوری ملک بنا۔
1958ء یوروپی یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء ڈکٹیٹر فلجینسو بیٹسٹا کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد فیڈل کاسترو اقتدار پر قابض ہوئے۔
1960ء اسوان بند کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
1961ء انڈین فرٹیلائزر لمیٹیڈ کا قیام عمل میں آیا۔
1972ء بھارت کی مختلف ریاستوں کے سابق حکمرانوں کو خصوصی سہولیات اور ’پریوی پرس‘ کو ختم کر دیا گیا۔
1973ء بھارتی حکومت نے جنرل بیمہ کو قومی تحویل میں لے لیا۔
1976ء بھارت میں ٹی وی پر تجارتی اشتہارات کی شروعات ہوئی۔
1978ء ائر انڈیا کا پہلا جمبو جیٹ ’سمرات اشوک‘ سمندر میں گرا۔ تمام 231 مسافروں کی موت ہو گئی۔
1983ء ارپانیٹ باضابطہ طور پر انٹرنیٹ پروٹوکول (انٹرنیٹ) میں تبدیل ہوئی۔
1985ء انٹرنیٹ کا ڈومین نام سسٹم تخلیق کیا گیا۔
1985ء برطانیہ میں موبائل فون کی پہلی کال ووڈا فون سے ملائی گئی۔
1992ء متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے برطانیہ کے شہر لندن میں جلا وطنی اختیار کر لی۔
1992ء پاکستان اور بھارت نے پہلی مرتبہ ایٹمی ٹھکانوں کی فہرست ایک دوسرے کو دی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔
1995ء عالمی تجارتی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔
1998ء رفیق تارڑ پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔محمد رفیق تارڑ 2 نومبر 1929ء کو ضلع گوجرانوالہ میں پیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ 1955ء میں لاہورہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔ 1989ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ مارچ 1997ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے ۔دسمبر 1997ء میں فاروق لغاری کے استعفے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ یوں وہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ یکم جنوری 1998ء کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 20جون 2001ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1998ء مہاراشٹر سگریٹ پینے اور سڑکوں پر تھوکنے کی مخالفت میں مہم چلانے والی پہلی ریاست بنی۔
2002ء یورپی یونین 12 ممبر ممالک نے ایک ہی کرنسی یورو کا استعمال شروع کیا۔
2007ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔
2010ء پاکستان میں والی بال میچ کے دوران خودکش حملہ میں 85 لوگ شہید ہو گئے۔
2010ء ہندوستان کے پانچ ممالک جاپان، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور لکژمبرگ کو فوری ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی۔
2014ء لٹویا نے سرکاری طور پر یورو کرنسی کو اپنایا اور اٹھارواں یوروزون ملک بن گیا۔
1995ء۔عالمی ریکارڈ لاہور میں مقیم ڈاکٹر محمد مستنصر نے دنیا میں سب سے زیادہ چسنیاں (Dummies) جمع کرنے کا ۔۔عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس مجموعے کا آغاز 1995ء میں کیا تھا اور وہ اب تک 1994 چسنیاں جمع کرچکے ہیں۔ ان کے مجموعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہر چسنی ایک علیحدہ بچے سے تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر محمد مستنصر نے یہ چسنیاں ان کی مائوں سے براہ راست حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر محمد مستنصر کا تعلق لاہور کے چلڈرن اسپتال سے ہے.
1955ء۔۔پہلا ٹیسٹ میچ ٭جنوری 1955ء سے مارچ 1955ء کے دوران بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سیریز میں بھارت کی قیادت ونومنکڈ نے اور پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کاردار نے کی۔ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم سے 4 جنوری 1955ء کے دوران ڈھاکا میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔یہ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ اس کے بعد بہاول پور، لاہور، پشاور اور کراچی میں چار مزید ٹیسٹ میچ کھیلے گئے مگر یہ چاروں ٹیسٹ میچ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے اور یوں یہ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئی۔ اس ٹیسٹ سیریز میں بہاول پور ٹیسٹ میں حنیف محمد نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے علیم الدین بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بھارت کی جانب سے واحد سنچری پی آر امریگر نے اسکور کی۔
2001ء۔۔یکم جنوری 2001ء کو شائع شدہ گنیز بک آف ریکارڈز کے تازہ ایڈیشن میں پاکستان کے نامور قوال نصرت فتح علی خان کا ذکر بھی موجود تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں قوالی کے 125 البم ریکارڈ کروائے جو دنیا میں قوالی کی ریکارڈنگ کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نصرت فتح علی خان نے ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں The Last Temptation Of Christ اور Dead Man Walking کے سائونڈ ٹریک بھی ریکارڈ کروائے تھے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ بھی کیا تھا
2003ء۔۔ یکم جنوری 2003ء کو جب گنیز بک آف ریکارڈ کا نیا ایڈیشن اشاعت پذیر ہوا تو اس میں گوجرانوالہ (پاکستان) میں مقیم ایک کاریگر شیخ ظفر اقبال کا ذکر بھی موجود تھا جو دنیا کا سب سے بڑے تالے (سیکیورٹی لاک) کے مالک تھے۔ اسٹیل سے بنے ہوئے اس تالے کی پیمائش 67.3X39.6X12.4 سینٹی میٹر (26.5X15.6X4.9 انچ) تھی اور اس کا وزن 96.3 کلو گرام (212.3پونڈ) تھا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تالا شیخ ظفر اقبال نے ہی بنایا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تالا 1955ء میں شیخ ظفر اقبال کے والد شیخ محمد رفیق (و:1987ء)نے 3سال کی محنت سے تیار کیا تھا۔
*ولادت*
1953ء۔۔مولانا طارق جمیل۔
1990ء۔۔نقیب اللہ محسود۔
838ء۔۔امام ابن خزیمہ۔
824ء۔۔ابو عیسیٰ محمد ترمذی۔
1900ء۔۔اثیم خیرآبادی ( وفات: 6 اپریل1972ء) اردو زبان کے شاعر تھے۔
1965ء۔۔
راؤ افضل گوہر پاکستان کے معروف شاعر ہیں۔ ملک میں ہونے والے بڑے مشاعروں میں انہیں مدعو کیا جاتا یے۔
1100ء۔۔الادریسی ۔ایک اندلسی عرب نقشہ نویس، جغرافیہ دان اورسیاح تھا۔ وہ مرابطین کے دور میں سیوطہ میں پیدا ہوا۔ سیوطہ اندلس کا حصہ تھا۔ اس نے سسلی کے بادشاہ راجر دویم کے دربار میں وقت گزارا۔
1961ء۔۔الحاج شاہ جی گل آفریدی پاکستانی سیاست دان ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔
1484ء۔۔الرخ زونگلی۔مارٹن لوتھر کی وفات کے بعد اصلاحِ کلیسیا کا کام جاری رہا۔ اصلاح کی اہم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والوں میں سے ایک الرخ زونگلی تھا جو سوئٹزر لينڈ کا رہنے والا تھا
1888ء۔۔سید امجد حسین امجد حیدر آبادی :- اردو کے نامور شاعر سید امجد حسین۔حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ دار العلوم میں بحیثیت مدرس ملازم ہوئے پھر محکمہ محاسبی میں 25 سال تک مددگار محاسب کی خدمات انجام دے کر پنشن پائی۔ زندگی کا اہم حادثہ 1908ء میں رددَ موسی کی قیامت خیز طغیانی ہے جس میں ان کی والدہ، بیوی، بیٹی نذر طوفان ہوگئیں۔ ان کے بعد طبیعت تصوف کی طرف راغب ہو گئی۔ شاعری میں ابتداً حبیب لکھنوی اور ترکی صاحب سے اصلاح لی۔ پھر اپنی طبیعت ہی کو رہنما بنایا۔ ایک مدت تک غزل اور نظم کہتے رہے۔ نظموں میں فریاد مجنوں، آجا، دنیا اور انسان مشہور ہیں۔ بعد ازاں رباعی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنالیا اور حقائق عالم، فلسفہ حیات، اخلاقیات، خصوصا مضامین تصوف کو رباعی کے پیرائے میں بیان کیا۔ نظموں کے دو مجموعے ریاض امجد (حصہ اول دوم ) شائع ہو چکے ہیں۔
1975ء۔۔اَنُورَادَھا بِسوال ۔ایک بھارتی ٹریک اور فیلڈ کھلاڑی ہیں۔ وہ اوڈیشا سے ہیں اور 100 میٹر رکاوٹوں میں مہارت رکھتی ہیں . ان کا موجودہقومی ریکارڈ 100 میٹر رکاوٹوں کے لیے 13.38 سیکنڈ ہے۔انورادھا نے یہ ریکارڈ 26 اگست 2002ء کے دوران، نہرو اسٹیڈیم دہلی میں منعقد ڈی ڈی اے راجا بھالیندر سنگھ قومی سرکٹ میٹ کے دوران قائم کیا۔ انہوں نے 30 جولائی، 2000ء میں جکارتہ میں منعقد ایشیائی چیمپئن شپ کے اپنے 13.40 سیکنڈ کے ریکارڈ کو بہتر کیا۔انہوں نے جکارتہ میں آپ کی کارکردگی کے لیے ایک کانسی کا تمغا جیتا۔وہ اس وقت بھونیشور، اوڈیشا میں واقع نالكو کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
1950ء۔۔تصور خانم۔ ایک پاکستانی غزل گائک ہیں۔ انہیں 1970ءکی دہائی سے 1980ء کی دہائی تک پاکستانی فلم اورٹیلی ویژن پر اردو اور پنجابی زبان میں گائکی کے لیے جانا جاتا ہے۔ 2005ء میں صدر پاکستان نے تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا۔
1972ء۔۔جام کمال خان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ہیں۔ وہ اگست 2018ء سےصوبائی اسمبلی بلوچستان کے رکن بن چکے ہیں۔اس سے قبل وہ جون 2013ء سے مئی 2018ء تک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن تھے۔ وہ نواز شریف کی وزارت عظمی (2013ء - 2017ء) اور شاہد خاقان عباسی کی وزارت (2017ء - 2018ء) کے عہد میں وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل رہے۔
1950ء۔۔راحت اندوری ۔ ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار ہیں .وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کئی بھارتی ٹیلی ویژن شوز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کئی گلو کاری کے رئیلیٹی شوز میں بہ طور جج حصہ لیا ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائی ہیں جو ان کے فنی سفر، تلفظ اور گلو کاری میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔
1955ء۔۔رانا ثناءاللہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رکن ہیں۔ اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہ چکے ہیں۔ رانا ثنااللہ خان متعدد بار پنجاب اسمبلی میں فیصل آباد کی نششت سے کامیاب ہوا۔ ۔ شہباز شریف کی حکومت میں دو بار وزیر انصاف رہا۔ پہلی وزارت 2011ء کے دور میں قاتل امریکی ریمنڈ ڈیوس خصوصی طیارے میں لاہور سے بھگایا گیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
1909ء۔۔شیخ القرآن ابو الحقائق مولاناعبدالغفور ہزاروی اہلسنت وجماعت کے اکابر علما میں شمار ہوتے ہیں۔۔
1974ء۔۔میر عبد القدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی کے موجودہ اسپیکر ہیں۔ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سولہویں وزیر اعلیٰ رہے۔ انہوں نے 13 جنوری 2018ء سے 8 جون 2018ء تک وزیراعلیٰ رہے۔
1966ء۔۔عمران اسماعیل ۔پاکستانی کاروباری شخصیت اور سیاست دان جو سندھ کے موجودہ اور 33ویں گورنر ہیں۔ اس سے قبل وہ سندھ صوبائی اسمبلی کے 13 اگست 2018ء سے 27 اگست 2018ء تک رکن رہ چکے ہیں۔23 اگست 2018ء کو انہیں سندھ کا گورنر نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد 27 اگست کو انہوں نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
1950ء۔پرویز خٹک قومی اسمبلی پاکستان کے رکن اور پاکستان کے موجودہ وزیر دفاع ہیں۔ وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ انکا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ وہ یکم جنوری 1950ء کو پیدا ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے سے پہلے وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما تھے۔اس وقت وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر دفاع کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
1891ء سمپورنانند، اتر پردیش کے وزیراعلٰی
1892ء مہادیو ہری بھائی ڈیسائی، گاندھی کے سکریٹری
1894ء ستیندرا ناتھ بوس، بھارتی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (وفات: 1974ء)
1904ء سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری گجرات میں پیدا ہوئے۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور 1946ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت رہے۔ 1956ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ وہ 1962ء اور 1965ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1965ء سے 1969ء تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔ 1970ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پھر صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے۔ اس آخری عہدے پر وہ 16 ستمبر 1978ء تک فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن اور 1972ء میں عبوری آئین کے نفاذ کے بعد اس اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ 7 اگست 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 10 اگست 1973 ء کو وہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے ان کا مقابلہ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار امیر زادہ خان سے تھا جنہیں ان کے 139 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 45 ووٹ ملے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جن کا انتخاب 1973ء کے دستور کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے کیا تھا۔ فضل الٰہی چوہدری 16 ستمبر 1978ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ مرالہ گوجرہ‘ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں آسودہ خاک ہیں۔
1927ء ورمن ایل سمتھ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات اور تعلیم
1944ء میر ظفر اللہ خان جمالی، میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی ۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔
1944ء عمر حسن احمد البشیر، صدر سوڈان۔
1951ء اشفاق حسین زیدی، پاکستانی شاعر۔
1951ء نانا پاٹیکر، بھارتی اداکار، گلوکار، اور ڈائریکٹر۔
1952ء حمد بن خلیفہ الثانی، قطری حکمران ساتویں امیر قطر
1975ء سونالی بیندرے، بھارتی اداکارہ
1978ء ودیا بالن، بھارتی ماڈل اور اداکارہ
1970ء۔۔کیپٹن کرنل شیر خان نشانِ حیدر ٭ 5 جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے عظیم ہیرو، پاکستان کے نامور سپوت اور سندھ رجمنٹ کی جانب سے پہلا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ یکم جنوری 1970ء کو ضلع صوابی کے مشہور گائوں نواں کلی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے گائوں سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج صوابی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں پاک فضائیہ میں ائیرمین کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد بطور الیکٹرک فٹر/ایرو ناٹیکل انجینئر رسالپور میں تعینات ہوئے۔ دو سال تک ائیر فورس میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے کوشش کی، پہلی بار ناکام ہو گئے لیکن دوسری مرتبہ کامیاب ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے نومبر 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کو جوائن کیا اور 1994ء میں گریجویٹ لانگ کورس مکمل کیا۔ 1995ء میں سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1998ء میں آپ کی منگنی ہوئی۔ 1999ء میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔ میجر عاصم کی قیادت میں صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دبائو کے پیش نظر مزید سترہ پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ آپ کا نام آپ کے دادا خان غالب نے ’’کرنل شیر‘‘ رکھا تھا جبکہ فوج میں آپ کا عہدہ کیپٹن کا تھا یوں آپ ’’کیپٹن کرنل شیر خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کے اس عظیم کارنامے پر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ عطا کیا۔
٭ اردو کے نامور شاعر، ادیب اور مترجم سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1914ء کو چک عبدالخالق ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ فوج میں شامل ہوئے اور میجر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ سید ضمیر جعفری اردو کے اہم مزاح گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں کارزار، لہوترنگ، مافی الضمیر، مسدس بے حالی، کھلیان، ضمیریات، قریۂ جان، ضمیر ظرافت اور نشاط تماشا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی نثری کتب بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1984ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سید ضمیر جعفری 12 مئی 1999ء کونیویارک میں وفات پاگئے اورکھنیارہ شریف، بچہ مندرہ ضلع راولپنڈی میں سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
یکم جنوری 1901ء پشتو کے بزرگ ادیب، شاعر، محقق اور مترجم سمندر خاں سمندر کی تاریخ پیدائش ہے۔ سمندر خاں سمندر بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں ژور سمندر، دادب منارہ، میرمنے، دبلال ہانگ، کاروان روان دے، لیت ولار ، خوگہ شپیلئی، پختنے، قافیہ، دایلم سوکہ، دقرآن ژڑا اور بلے ڈیوے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال کی مثنوی اسرار خودی اور رموز بے خودی کا بھی منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ سمندر خاں سمندر کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سمندر خاں سمندر17 جنوری 1990ء کو پشاور میں وفات پاگئے ۔وہ بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں آسودۂ خاک ہیں۔
پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی گیند کروانے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل تھا۔ 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ گرائونڈ میں کھیلے گئے پاکستان کے اولین ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پہلی گیند ایم ایچ مینکڈ کو کروائی تھی اور اسی اننگز میں 19 کے اسکور پر پنکج رائے کو آئوٹ کرکے پہلی وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ خان محمد میڈیم فاسٹ بائولر تھے۔ انہوں نے 1952ء سے 1958ء کے دوران 13 ٹیسٹ میچ کھیلے اور54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بائولنگ 21 رنز کے عوض 6 وکٹیں تھی۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے ایک ہی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز چار مرتبہ حاصل کیا تھا۔ ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے۔
ہاکی کے مشہور کھلاڑی لطیف الرحمن یکم جنوری 1929ء کو اندور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں انہوں نے بھارت کی نمائندگی کی، بعدازاں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور 1952ء اور 1956ء کے اولمپک کھیلوں اور 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ علی اقتدار شاہ دارا اور اختر حسین کے ساتھ دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ لطیف الرحمن اسپیڈ، بال کنٹرول اور نپاتلا کراس لگانے کے ماہر تھے۔ مغربی ممالک نے انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب عطا کیا تھا۔ یہ خطاب بعدازاں سمیع اللہ کے حصے میں بھی آیا۔ انہیں پاکستان کا دھیان چند بھی کہا جاتا تھا۔ 27 فروری 1987ء کو لطیف الرحمن فیصل آباد میں وفات پاگئے۔ لطیف الرحمن کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*وفات*
2018ء۔۔۔ابراہیم نافع (12 جنوری 1934 ) ایک مصری صحافی تھے۔ وہ مصری اخبار الاہرم کے 1979ء تا 2005ء تک مدیر رہے اور 1996ء تا 2012ء تک عرب صحافیوں کی جنرل یونین کے سربراہی رہے۔
2018ء۔۔۔شیخ ڈاکٹر احمد بن سعید اللدن الراشانی ایک مسلمان عالم، مصنف، خطاط اور لبنان کے مفکر تھے۔ انہوں نے لبنانی جمہوریہ کے سابقہ مفتی شیخ محمد رشید قابانی کے بعد2011ء میں مفتی کا عہدہ سنبھالا تھا، اس عہدے پر وہ 14 جنوری 1439 ھجری بمطابق 1 جنوری 2018ء تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔
874ء۔۔امام سید حسن بن علی عسکری
1940ء۔۔اکرم یاری ایک افغانستانی سیاست دان اور «سازمان جوانان مترقی» تنظیم کے بانی تھے۔اکرم یاری 1940 کو افغانستان کے غزنی، جاغوری میں پیدا ہوا۔ وہ افغانستان کے ہزارہ نسلی گروہوں سے تعلق رکھتے تھے
1775ء۔۔احمد شاہ بہادر ۔ مغل شہنشاہ تھا، جو مغل شہنشاہ محمد شاہ کا بیٹا تھا
1748ء جون برنولی، مشہور ریاضی دان
1944ء سر ایڈون لٹینس، بھارتی راشٹرپتی بھون کے آرکیٹیکٹ
1955ء شانتی سروپ بھٹناگر، بھارتی سائنسداں اور صنعتی ریسرچ کونسل کے بانی ڈائرکٹر
1995ء یوجین پاول وگنر، نوبل انعام یافتہ ہنگیرین امریکی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (پیدائش: 1902ء)
2015ء ڈونا ڈگلس، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ (پیدائش: 1933ء)
2006.حنیف رامے٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔ حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے.
٭یکم جنوری 1974ء کو پٹیالہ گھرانے کے نامور موسیقار اور گائیک خان صاحب اختر حسین خان انتقال کرگئے۔ برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کا نام سرفہرست ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد برکت علی خان‘ استاد عاشق علی خان‘ استاد مبارک علی خان‘ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان سے لے کر استاد حامد علی خان‘ اسد امانت علی خان‘ زاہدہ پروین‘ شفقت امانت علی خان اور رستم فتح علی خان تک کلاسیکی موسیقی کے متعدد بڑے فنکاروں کا تعلق اسی گھرانے سے رہا ہے۔ اس گھرانے کا یہ نام ریاست پٹیالہ سے وابستگی کی وجہ سے پڑا۔ اس گھرانے کے بانی خان صاحب جرنیل علی بخش خان اور خان صاحب کرنیل فتح علی خان تھے۔ یہ دونوں گو آپس میں رشتے دار نہ تھے لیکن ہمیشہ سگے بھائیوں کی طرح رہے اور جہاں گانے کے لیے گئے‘ اکٹھے گئے۔ یہ دونوں اساتذۂ فن پہلے گوکھی بائی کے شاگرد ہوئے پھر بہرام خان‘ مبارک علی خان اور تان رس خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے انہیں جرنیل اور کرنیل کے خطابات دیے۔ انہی جرنیل علی بخش خان کے فرزند خان صاحب اختر حسین خان تھے‘ جو 1896ء میں پیدا ہوئے تھے۔ خان صاحب اختر حسین خان نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی اپنے باکمال والد سے حاصل کی اور پھر اپنے بیٹوں امانت علی خان اور فتح علی خان اور پوتے اسد امانت علی خان کو فن موسیقی کا درس دے کر اس فن کو آگے بڑھایا۔ خان صاحب اختر حسین خان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*تعطیلات و تہوار*
مسیحی عید کا دن، مسیح کے ختنہ کی عید، مسیح کے ناموں کی عید، مریم کی سنجیدگی کا تہوار
نئے گریگورین سال کا آغاز۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک جشن اور تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
عالمی یوم امن
یوم قانون اٹلی
یوم شجرکاری تنزانیہ
عالمی یوم خاندان
1804ء ہیٹی فرانس سے آزاد ہوا۔
1899ء کیوبا کو اسپین سے آزادی ملی۔
1912ء تائیوان کے قیام کا دن
1956ء سوڈان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
1960ء کیمرون کو فرانس سے آزادی ملی۔
1984ء برونائی نے برطانیہ سے آذادی حاصل کی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔01 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
یہ سال کا پہلا دن ہے۔ابھی سال ختم ہونے میں 364 دن باقی ہیں ۔
01 جنوری کو کب سال کا پہلا دن قرار دیا گیا ۔اس کی کچھ تفصیل۔
قرون وسطیٰ میں بہت سے عیسائی ممالک سال کے آغاز کو کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے مناتے۔ یہ کیتھولک چرچ کے اثر رسوخ کی وجہ سے تھی جیسے 25 دسمبر (ولادت مسیح) ، یا ایسٹر کے طور پہ یا یورپ کے مشرقی ممالک اس طریقے سے علیحدہ رہے کیونکہ وہ آرتھوڈکس چرچ سے منسلک تھے، وہ اپنا سال 988 سے ہی یکم ستمبر کو بدلتے رہے۔ انگلینڈ میں یکم جنوری کو بطور نئے سال کے تہوار کے منایا جاتا رہا لیکن 12ویں صدی سے 1752ء تک انگلینڈ کا نیا سال 25 مارچ (Lady Day) سے شروع ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق چارلس اول کو 30 جنوری 1648ء کو سزائے موت دی گئی۔ تاریخ دانوں نے اس تاریخ کو یکم جنوری سے شروع ہونے والے سال کے مطابق رکھنے کے لئے سن کو تبدیل کر کے 1649ء کر دیا۔ بہت سے مغربی ممالک نے عیسوی تقویم اپنانے سے پہلے ہی یکم جنوری کو سال تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر سکاٹ لینڈ نے 166 میں سکاٹش نئے سال کو یکم جنوری کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ، آئرلینڈ اور برطانوی کالونیوں نے 1752ء میں یکم جنوری سے سال تبدیل کرنا شروع کیا۔ اسی سال ستمبر میں پورے برطانیہ اور برطانوی کالونیوں میں عیسوی تقویم متعارف کرائی گئی۔ یہ دونوں تبدیلیاں Calendar (New Style) Act 1750 کے تحت کی گئیں۔ یکم جنوری کو درج ذیل ممالک نے بھی باضاطبہ طور پر نئے سال کا آغاز شروع کیا۔
1362ء گرینڈ ڈچ آف لتھوینیا
1522ء جمہوریہ وینس
1544ء مقدس رومی سلطنت (جرمنی)
1556ء پرتگال، سپین
1559ء پروشیا, سوئیڈن
1564 فرانس
1576ء Southern Netherlands
1579ء Duchy of Lorraine
1583ء Northern Netherlands
1600ء سکاٹ لینڈ
1700ء روس
1721ء Tuscany
1752ء برطانیہ (سکاٹ لینڈ کے علاوہ) اور اس کی کالونیاں
یکم جنوری کو پیش آنے والے اھم واقعات ۔
153 قبل مسیح، رومی قونصل نے اپنے دفتروں میں نئے سال کا آغاز کیا۔
45 قبل مسیح Julian calendar نے رومی عوامی کیلینڈر پر اثر ڈالتے ہوئے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا۔
42 قبل مسیح رومی سینیٹ نے جولیس سیزر کو خدا کا درجہ دے دیا۔
0001ء عیسائی دور کا آغاز ہوا۔
69ء جرمینا سپریئر کے رومن لیجین نے گالبا کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بغاوت کر دی اور ویٹیلس کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔
630ء حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب اپنے صحابہ کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ کے لئے روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے بغیر کسی خون خرابے کے فتح حاصل کی۔
1399ء تیمور لنگ دہلی سے وسط ایشیا لوٹا۔
1502ء پرتگال کے بحری ہم جوڑی نے ریو ڈی کنیریو کی کھوج کی۔
1664ء شواجی نے سورت کی مہم شروع کی۔
1800ء ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی۔
1801ء سیرالون برطانوی نوآبادیات میں شامل ہوا۔
1801ء سب سے چھوٹے سیارے سیریس کی کھوج لگائی گئی۔
1808ء امریکہ میں غلام بھیجے جانے پر پابندی لگی۔
1862ء تعزیرات ہند لاگو ہوئی۔ اور فوجداری مقدمہ نافذ کیا گیا۔
1873ء جاپان میں گریلورین کیلینڈر کا استعمال شروع ہوا۔
1877ء دہلی دربار میں ملکہ وکٹوریا کو تاجدار ہند قرار دیا گیا۔
1880ء ہندوستان میں ڈاک خانوں میں منی آرڈر کا نظام شروع ہوا۔
1891ء فرانس نے مغربی سوڈان پر قبضہ کیا۔ تین ہزار افراد مارے گئے۔
1901ء آسٹریلیا کا قیام عمل میں آیا اور ایڈمنڈ بارٹن اس کے پہلے وزیراعظم بنے۔
1903ء کنگ ایڈروڈ ہفتم کو ہندوستان کا شاہ بنایا گیا۔
1906ء برٹش انڈیا میں معیاری وقت کا نفاذ عمل میں آیا۔
1915ء جنوبی افریقہ میں وائسرائے نے مہاتما گاندھی کو قیصر ہند طلائی تمغے سے نوازا
1923ء سوشلسٹ جمہوریہ سوویت یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1942ء دنیا کے 26 ملکوں نے واشنگٹن میں اقوام متحدہ کے اعلانیہ پر دستخط کئے۔
1945ء فرانس نے اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔
1948ء تقسیم ہند کے بعد بھارت نے پاکستان کو واجب الادا پانچ سو پچاس ملین روپے دینے سے انکار کر دیا۔
1949ء کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
1956ء سوڈان میں مصر اور برطانیہ کے مشترکہ راج کا خاتمہ ہوا اور سوڈان ایک آزاد جمہوری ملک بنا۔
1958ء یوروپی یونین کا قیام عمل میں آیا۔
1959ء ڈکٹیٹر فلجینسو بیٹسٹا کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد فیڈل کاسترو اقتدار پر قابض ہوئے۔
1960ء اسوان بند کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
1961ء انڈین فرٹیلائزر لمیٹیڈ کا قیام عمل میں آیا۔
1972ء بھارت کی مختلف ریاستوں کے سابق حکمرانوں کو خصوصی سہولیات اور ’پریوی پرس‘ کو ختم کر دیا گیا۔
1973ء بھارتی حکومت نے جنرل بیمہ کو قومی تحویل میں لے لیا۔
1976ء بھارت میں ٹی وی پر تجارتی اشتہارات کی شروعات ہوئی۔
1978ء ائر انڈیا کا پہلا جمبو جیٹ ’سمرات اشوک‘ سمندر میں گرا۔ تمام 231 مسافروں کی موت ہو گئی۔
1983ء ارپانیٹ باضابطہ طور پر انٹرنیٹ پروٹوکول (انٹرنیٹ) میں تبدیل ہوئی۔
1985ء انٹرنیٹ کا ڈومین نام سسٹم تخلیق کیا گیا۔
1985ء برطانیہ میں موبائل فون کی پہلی کال ووڈا فون سے ملائی گئی۔
1992ء متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے برطانیہ کے شہر لندن میں جلا وطنی اختیار کر لی۔
1992ء پاکستان اور بھارت نے پہلی مرتبہ ایٹمی ٹھکانوں کی فہرست ایک دوسرے کو دی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔
1995ء عالمی تجارتی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔
1998ء رفیق تارڑ پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔محمد رفیق تارڑ 2 نومبر 1929ء کو ضلع گوجرانوالہ میں پیر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ 1955ء میں لاہورہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔ 1989ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ جج کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ مارچ 1997ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے ۔دسمبر 1997ء میں فاروق لغاری کے استعفے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انہیں صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ یوں وہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ یکم جنوری 1998ء کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ 20جون 2001ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1998ء مہاراشٹر سگریٹ پینے اور سڑکوں پر تھوکنے کی مخالفت میں مہم چلانے والی پہلی ریاست بنی۔
2002ء یورپی یونین 12 ممبر ممالک نے ایک ہی کرنسی یورو کا استعمال شروع کیا۔
2007ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔
2010ء پاکستان میں والی بال میچ کے دوران خودکش حملہ میں 85 لوگ شہید ہو گئے۔
2010ء ہندوستان کے پانچ ممالک جاپان، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور لکژمبرگ کو فوری ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی۔
2014ء لٹویا نے سرکاری طور پر یورو کرنسی کو اپنایا اور اٹھارواں یوروزون ملک بن گیا۔
1995ء۔عالمی ریکارڈ لاہور میں مقیم ڈاکٹر محمد مستنصر نے دنیا میں سب سے زیادہ چسنیاں (Dummies) جمع کرنے کا ۔۔عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس مجموعے کا آغاز 1995ء میں کیا تھا اور وہ اب تک 1994 چسنیاں جمع کرچکے ہیں۔ ان کے مجموعے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہر چسنی ایک علیحدہ بچے سے تعلق رکھتی ہے اور ڈاکٹر محمد مستنصر نے یہ چسنیاں ان کی مائوں سے براہ راست حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر محمد مستنصر کا تعلق لاہور کے چلڈرن اسپتال سے ہے.
1955ء۔۔پہلا ٹیسٹ میچ ٭جنوری 1955ء سے مارچ 1955ء کے دوران بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سیریز میں بھارت کی قیادت ونومنکڈ نے اور پاکستان کی قیادت عبدالحفیظ کاردار نے کی۔ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم سے 4 جنوری 1955ء کے دوران ڈھاکا میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔یہ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔ اس کے بعد بہاول پور، لاہور، پشاور اور کراچی میں چار مزید ٹیسٹ میچ کھیلے گئے مگر یہ چاروں ٹیسٹ میچ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے اور یوں یہ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئی۔ اس ٹیسٹ سیریز میں بہاول پور ٹیسٹ میں حنیف محمد نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے علیم الدین بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بھارت کی جانب سے واحد سنچری پی آر امریگر نے اسکور کی۔
2001ء۔۔یکم جنوری 2001ء کو شائع شدہ گنیز بک آف ریکارڈز کے تازہ ایڈیشن میں پاکستان کے نامور قوال نصرت فتح علی خان کا ذکر بھی موجود تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں قوالی کے 125 البم ریکارڈ کروائے جو دنیا میں قوالی کی ریکارڈنگ کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نصرت فتح علی خان نے ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں The Last Temptation Of Christ اور Dead Man Walking کے سائونڈ ٹریک بھی ریکارڈ کروائے تھے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ بھی کیا تھا
2003ء۔۔ یکم جنوری 2003ء کو جب گنیز بک آف ریکارڈ کا نیا ایڈیشن اشاعت پذیر ہوا تو اس میں گوجرانوالہ (پاکستان) میں مقیم ایک کاریگر شیخ ظفر اقبال کا ذکر بھی موجود تھا جو دنیا کا سب سے بڑے تالے (سیکیورٹی لاک) کے مالک تھے۔ اسٹیل سے بنے ہوئے اس تالے کی پیمائش 67.3X39.6X12.4 سینٹی میٹر (26.5X15.6X4.9 انچ) تھی اور اس کا وزن 96.3 کلو گرام (212.3پونڈ) تھا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تالا شیخ ظفر اقبال نے ہی بنایا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تالا 1955ء میں شیخ ظفر اقبال کے والد شیخ محمد رفیق (و:1987ء)نے 3سال کی محنت سے تیار کیا تھا۔
*ولادت*
1891ء سمپورنانند، اتر پردیش کے وزیراعلٰی
1892ء مہادیو ہری بھائی ڈیسائی، گاندھی کے سکریٹری
1894ء ستیندرا ناتھ بوس، بھارتی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (وفات: 1974ء)
1904ء سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری گجرات میں پیدا ہوئے۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تحریک پاکستان میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور 1946ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پنجاب کے وزیر تعلیم اور وزیر صحت رہے۔ 1956ء میں وہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ وہ 1962ء اور 1965ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1965ء سے 1969ء تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔ 1970ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پہلے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور پھر صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے۔ اس آخری عہدے پر وہ 16 ستمبر 1978ء تک فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن اور 1972ء میں عبوری آئین کے نفاذ کے بعد اس اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ 7 اگست 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 10 اگست 1973 ء کو وہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے ان کا مقابلہ نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار امیر زادہ خان سے تھا جنہیں ان کے 139 ووٹوں کے مقابلے میں صرف 45 ووٹ ملے۔۔ وہ پاکستان کے پہلے صدر تھے جن کا انتخاب 1973ء کے دستور کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے کیا تھا۔ فضل الٰہی چوہدری 16 ستمبر 1978ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یکم جون 1982ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ مرالہ گوجرہ‘ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں آسودہ خاک ہیں۔
1927ء ورمن ایل سمتھ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات اور تعلیم
1944ء میر ظفر اللہ خان جمالی، میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی ۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔
1944ء عمر حسن احمد البشیر، صدر سوڈان۔
1951ء اشفاق حسین زیدی، پاکستانی شاعر۔
1951ء نانا پاٹیکر، بھارتی اداکار، گلوکار، اور ڈائریکٹر۔
1952ء حمد بن خلیفہ الثانی، قطری حکمران ساتویں امیر قطر
1975ء سونالی بیندرے، بھارتی اداکارہ
1978ء ودیا بالن، بھارتی ماڈل اور اداکارہ
1970ء۔۔کیپٹن کرنل شیر خان نشانِ حیدر ٭ 7جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے عظیم ہیرو، پاکستان کے نامور سپوت اور سندھ رجمنٹ کی جانب سے پہلا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ یکم جنوری 1970ء کو ضلع صوابی کے مشہور گائوں نواں کلی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے گائوں سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج صوابی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1987ء میں پاک فضائیہ میں ائیرمین کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ کے بعد بطور الیکٹرک فٹر/ایرو ناٹیکل انجینئر رسالپور میں تعینات ہوئے۔ دو سال تک ائیر فورس میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے کوشش کی، پہلی بار ناکام ہو گئے لیکن دوسری مرتبہ کامیاب ہو گئے۔ اس طرح انہوں نے نومبر 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کو جوائن کیا اور 1994ء میں گریجویٹ لانگ کورس مکمل کیا۔ 1995ء میں سندھ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1998ء میں آپ کی منگنی ہوئی۔ 1999ء میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں کہ آپ کو 18400 فٹ بلند کارگل کے بلند محاذ پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999ء کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر شدید ترین حملہ کیا۔ میجر عاصم کی قیادت میں صرف 24 پاکستانی فوجیوں نے دشمن کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ کیپٹن کرنل شیر خان میجر عاصم کے معاون تھے۔ دشمن کے دبائو کے پیش نظر مزید سترہ پاکستانی فوجی بھیجے گئے اور پھر کل 41 فوجیوں کی قیادت کیپٹن کرنل شیر خان نے کی اور بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔ غازی میجر عاصم نے خود 300 بھارتی فوجیوں کی لاشیں گنیں پاکستانی افواج کی اس معرکہ آرا کامیابی میں کیپٹن کرنل شیر خان سمیت 9 پاکستانی فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ آپ کا نام آپ کے دادا خان غالب نے ’’کرنل شیر‘‘ رکھا تھا جبکہ فوج میں آپ کا عہدہ کیپٹن کا تھا یوں آپ ’’کیپٹن کرنل شیر خان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کے اس عظیم کارنامے پر پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ عطا کیا۔
٭ اردو کے نامور شاعر، ادیب اور مترجم سید ضمیر جعفری یکم جنوری 1914ء کو چک عبدالخالق ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ سید ضمیر جعفری کا اصل نام سید ضمیر حسین تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ فوج میں شامل ہوئے اور میجر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ سید ضمیر جعفری اردو کے اہم مزاح گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں کارزار، لہوترنگ، مافی الضمیر، مسدس بے حالی، کھلیان، ضمیریات، قریۂ جان، ضمیر ظرافت اور نشاط تماشا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی نثری کتب بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1984ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سید ضمیر جعفری 12 مئی 1999ء کونیویارک میں وفات پاگئے اورکھنیارہ شریف، بچہ مندرہ ضلع راولپنڈی میں سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
یکم جنوری 1901ء پشتو کے بزرگ ادیب، شاعر، محقق اور مترجم سمندر خاں سمندر کی تاریخ پیدائش ہے۔ سمندر خاں سمندر بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں ژور سمندر، دادب منارہ، میرمنے، دبلال ہانگ، کاروان روان دے، لیت ولار ، خوگہ شپیلئی، پختنے، قافیہ، دایلم سوکہ، دقرآن ژڑا اور بلے ڈیوے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال کی مثنوی اسرار خودی اور رموز بے خودی کا بھی منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ سمندر خاں سمندر کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ سمندر خاں سمندر17 جنوری 1990ء کو پشاور میں وفات پاگئے ۔وہ بدرشی، نوشہرہ کینٹ میں آسودۂ خاک ہیں۔
پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی گیند کروانے اور پہلی وکٹ حاصل کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل تھا۔ 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ گرائونڈ میں کھیلے گئے پاکستان کے اولین ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پہلی گیند ایم ایچ مینکڈ کو کروائی تھی اور اسی اننگز میں 19 کے اسکور پر پنکج رائے کو آئوٹ کرکے پہلی وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ خان محمد میڈیم فاسٹ بائولر تھے۔ انہوں نے 1952ء سے 1958ء کے دوران 13 ٹیسٹ میچ کھیلے اور54 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین بائولنگ 21 رنز کے عوض 6 وکٹیں تھی۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے ایک ہی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز چار مرتبہ حاصل کیا تھا۔ ٭4جولائی 2009ء کو پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر خان محمد لندن میں وفات پاگئے۔
ہاکی کے مشہور کھلاڑی لطیف الرحمن یکم جنوری 1929ء کو اندور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں انہوں نے بھارت کی نمائندگی کی، بعدازاں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور 1952ء اور 1956ء کے اولمپک کھیلوں اور 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ علی اقتدار شاہ دارا اور اختر حسین کے ساتھ دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ لطیف الرحمن اسپیڈ، بال کنٹرول اور نپاتلا کراس لگانے کے ماہر تھے۔ مغربی ممالک نے انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب عطا کیا تھا۔ یہ خطاب بعدازاں سمیع اللہ کے حصے میں بھی آیا۔ انہیں پاکستان کا دھیان چند بھی کہا جاتا تھا۔ 27 فروری 1987ء کو لطیف الرحمن فیصل آباد میں وفات پاگئے۔ لطیف الرحمن کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*وفات*
1748ء جون برنولی، مشہور ریاضی دان
1944ء سر ایڈون لٹینس، بھارتی راشٹرپتی بھون کے آرکیٹیکٹ
1955ء شانتی سروپ بھٹناگر، بھارتی سائنسداں اور صنعتی ریسرچ کونسل کے بانی ڈائرکٹر
1995ء یوجین پاول وگنر، نوبل انعام یافتہ ہنگیرین امریکی ماہر طبیعیات اور ریاضی دان (پیدائش: 1902ء)
2015ء ڈونا ڈگلس، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ (پیدائش: 1933ء)
2006.حنیف رامے٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔ حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے.
٭یکم جنوری 1974ء کو پٹیالہ گھرانے کے نامور موسیقار اور گائیک خان صاحب اختر حسین خان انتقال کرگئے۔ برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کا نام سرفہرست ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان‘ استاد برکت علی خان‘ استاد عاشق علی خان‘ استاد مبارک علی خان‘ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان سے لے کر استاد حامد علی خان‘ اسد امانت علی خان‘ زاہدہ پروین‘ شفقت امانت علی خان اور رستم فتح علی خان تک کلاسیکی موسیقی کے متعدد بڑے فنکاروں کا تعلق اسی گھرانے سے رہا ہے۔ اس گھرانے کا یہ نام ریاست پٹیالہ سے وابستگی کی وجہ سے پڑا۔ اس گھرانے کے بانی خان صاحب جرنیل علی بخش خان اور خان صاحب کرنیل فتح علی خان تھے۔ یہ دونوں گو آپس میں رشتے دار نہ تھے لیکن ہمیشہ سگے بھائیوں کی طرح رہے اور جہاں گانے کے لیے گئے‘ اکٹھے گئے۔ یہ دونوں اساتذۂ فن پہلے گوکھی بائی کے شاگرد ہوئے پھر بہرام خان‘ مبارک علی خان اور تان رس خان سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھتے رہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے انہیں جرنیل اور کرنیل کے خطابات دیے۔ انہی جرنیل علی بخش خان کے فرزند خان صاحب اختر حسین خان تھے‘ جو 1896ء میں پیدا ہوئے تھے۔ خان صاحب اختر حسین خان نے فن موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی اپنے باکمال والد سے حاصل کی اور پھر اپنے بیٹوں امانت علی خان اور فتح علی خان اور پوتے اسد امانت علی خان کو فن موسیقی کا درس دے کر اس فن کو آگے بڑھایا۔ خان صاحب اختر حسین خان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ وہ مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*تعطیلات و تہوار*
مسیحی عید کا دن، مسیح کے ختنہ کی عید، مسیح کے ناموں کی عید، مریم کی سنجیدگی کا تہوار
نئے گریگورین سال کا آغاز۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک جشن اور تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔
عالمی یوم امن
یوم قانون اٹلی
یوم شجرکاری تنزانیہ
عالمی یوم خاندان
1804ء ہیٹی فرانس سے آزاد ہوا۔
1899ء کیوبا کو اسپین سے آزادی ملی۔
1912ء تائیوان کے قیام کا دن
1956ء سوڈان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
1960ء کیمرون کو فرانس سے آزادی ملی۔
1984ء برونائی نے برطانیہ سے آذادی حاصل کی۔
1993ء چیکوسلواکیہ کی تقسیم کے بعد چیک اور سلواک جمہوریاؤں کا وجود عمل میں آیا۔

No comments:
Post a Comment