04 جنوری
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا چوتھا دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 361 دن باقی ہیں ۔
46 قبل مسیح، رومن حکمراں جولین سیزر نے رسپینا کی لڑائی میں ٹائٹس، لیبنیس کو شکست دی۔
1604ء شہزادہ سلیم کی بغاوت ناکام، بادشاہ اکبر کے سامنے پیش کیا گیا۔
1642ء انگلینڈ کے بادشاہ چارلس اول نے ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنے والے ممبران پارلیمنٹ کی گرفتاری کیلئے فوج بھیجی۔
1762ء برطانیہ نے اسپین اور نیپلس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1865ء نیویارک اسٹاک ایکسچنج نے نیویارک شہر میں وال اسٹریٹ کے قریب اپنا پہلا مستقل صدر دفتر کھولا۔
1906ء پرنس آف ویلس نے کلکتہ میں وکٹوریہ میموریل ہال کی بنیاد رکھی، وہ بعد میں حکمراں جارج پنجم بنے۔
1923ء اپنے آخری وقت میں سوویت یونین کے انقلابی رہنما ولادیمیر لینن نے ایک خط میں پارٹی کے جنرل سکریٹری اسٹالن کو ان کے رویئے کی وجہ سے عہدے سے ہٹانے کی وکالت کی۔
1932ء برطانوی ایسٹ انڈیا کے وائسرائے ویلنگٹن نے گاندھی اور نہرو کو گرفتار کیا۔
1950ء پاکستان نے کمیونسٹ پیکنگ گورنمنٹ آف چائنہ کو تسلیم کیا۔
1951ء شمالی کوریا نے جنوبی کوریائی دارالحکومت سول پر قبضہ کیا۔
1958ء سوویت یونین نے دنیا کا پہلا خلائی سیٹیلائٹ اسپوتنک ۔1 کا کامیاب تجربہ کیا۔
1959ء لیونا ون پہلا خلائی طیارہ تھا جو چاند کی زمین پر اترا۔
1964ء پوپ جان پال ششم نے یروشلم کا دورہ کیا کسی عیسائی مذہبی رہنما کا یروشلم کا یہ پہلا دورہ تھا۔
1964ء وارانسی ریل انجن کارخانہ میں پہلا انجن تیار ہوا۔
1966ء پاک بھارت جنگ ختم ہونے کے بعد سوویت روس کے شہر تاشقند میں بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری اور پاکستانی صدر جنرل ایوب کے درمیان سربراہ میٹنگ ہوئی۔
1967ء ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) نے مگ لڑاکا طیارے فوج کے حوالے کرنا شروع کئے۔
1972ء نئی دہلی میں جرائم اور فارنسک سائنس کے ادارے کا افتتاح ہوا۔
1990ء۔ ریلوے کی تاریخ کا ایک بد ترین حادثہ 4جنوری 1990 کو اُس وقت پیش آیا جب اپنی گنجائش سے زیادہ مسافر لیے ہوئے زکریا ایکسپریس ملتان سے کراچی جاتے ہوئے پنو عاقل چھاؤنی کے قریب سانگی ریلوے سٹیشن پر ملازمین کی غلطی کی وجہ سے غلط پٹڑی پر ڈال دی گئی جو ایک مال گاڑی سے جا ٹکرائی ۔ اس حادثے میں 307 افراد ہلاک اور 705 زخمی ہوئے۔
1998ء الجیریا کے ولایا آف ریلی جانے تنظیم نے 170 لوگوں کو قتل کیا۔
1999ء اسلام آباد مسجد میں اہل تشیع پر بندوق برداروں نے گولیاں چلائیں جس میں 16 افراد کی موت ہوئی اور 125 زخمی ہوئے۔
2004ء ناسا کا خلائی شٹل سپریٹ مریخ پر اترا۔
2004ء افغانستان میں مختلف جنگجو گروپ لویا جرگا میں ایک آئین پر راضی ہو گیا۔ اور ملک میں آزادانہ عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔
2005ء صدر جنرل پرویز مشرف نے کاروکاری کے انسداد کے قانون پر دستخط کئے۔
2006ء سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ السعود نےبھارتی شہر دہلی کی جامع مسجد کی مرمت کے لئے امداد کی پیش کش کی۔
2007ء نینسی پیلوسی امریکی سینیٹ کی پہلی خاتون اسپیکر بنیں۔
2010ء دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ کو سرکاری طور پر کھولا گیا۔
ولادت۔
659ء حضرت علیؒ بن حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والون کا امام) کے نام سے مشہور ہیں ، خانواد رسول ﷺ کی عظیم چشم و چراغ (وفات: 713ء)
1839ء مرزا حسین نوری طبرسی بمعروف ، محدث نوری ایران سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے معروف عالم اور محدث
1935ء پروفیسر داؤد کمال ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور ماہر تعلیم (وفات: 1987ء)
1940ء برائن ڈیوڈ جوزف سن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1973ء) یافتہ برطانوی طبیعیات دان و استاد جامعہ انھوں نے یہ انعام اپنے ہم وطن سائنسدانوں ایور گیور اور لیو اسکائی کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیوٹی سوپر کنڈکٹیوٹی اور سیمی کنڈکٹر سے جڑے ان کے دریافتیں تھی۔
1945ء رچرڈ آر. شروک ، نوبل انعام برائے کیمیا (2005ء) یافتہ امریکی کیمیاءدان و استاد جامعہ ، انھیں نامیاتی کیمیاء میں مستعمل ایک طریقےمیٹا میتھیسس پر کام کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
1949ء محمد افضل طاہر ، نشان امتیاز، ہلال امتیاز، ستارۂ امتیاز، ایک ریٹائرڈ فور سٹار چیف اف نیول سٹاف (7 اکتوبر 2005ء تا 7 اکتوبر 2008ء) ، مصنف اور عسکری مؤرخ جو نیول وار کالج، پاک بحریہ میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
1958ء عزیز کنگرانی ، گولڈ میڈل - سندھ یونیورسٹی ، پی ٹی ایوارڈ برائے بہترین ڈراما نگار اور لعل شہاز قلندر ایوارڈ یافتہ دادو پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی اور سندھی زبان کے منفرد ادیب، افسانہ نگار، ڈرراما نویس، شاعر، محقق، مؤرخ اور پروفیسر
1962ء ڈاکٹر محمد یونس بٹ ، اردو ادب کے مشہور ادیب خاکہ نگار اور ڈراما نویس
1965ء ادیتیا پنچولی ، بھارتی اداکار و گلو کار
1966ء حنیف عباسی ، پاکستانی کاروباری شخصیت اور سیاست دان
1980ء ایرن کاہیل ، امریکی اداکارہ
1984ء امر بی چوہدری بمعروف جیوا ، بھارتی اداکار و پروڈیوسر
1988ء ارچنا کوی ، بھارتی اداکارہ
1809ء لوئس بریل، نابینا افراد کے لئے تحریر اور مطالعے کے موجد، بریل 4 جنوری1809ء میں پیرس کے ایک نواحی قصبے ومپرے میں پیدا ہوا۔ وہ ایک حادثے کی وجہ سے اندھا ہوا۔ اس کے والد چمڑے کا کام کرتے تھے۔ ایک روز تین سالہ لوئس بریل اپنے باپ کے کارخانے میں بیٹھا کھیل رہا تھا اور اپنے باپ کی نقل میں ایک ہتھوڑی سے ایک کیل کو ٹھونک رہا تھا کہ اچانک کیل اچھلی اور اس کی آنکھ میں جا گھسی۔ اس کے چیخنے پر گھر والے متوجہ ہوئے اور علاج معالجہ کیا گیا لیکن اس آنکھ کی بینائی کو بچایا نہیں جا سکا۔ اور پھر اس چوٹ کی وجہ سے آنکھوں کے اندرونی سسٹم میں کچھ ایسی خرابی ہو گئی کہ لوئس بریل کی دوسری آنکھ کی بینائی بھی چلی گئی اور یوں اس کی دنیا اندھیری ہو گئی ۔گھر والے اور خصوصاً اس کے والدین غم و اندوہ میں ڈوب گئے۔ مگر انھیں کیا پتہ تھا کہ یہ حادثہ کروڑوں نابیناؤں کے لیے رحمت بن جائے گا۔جب لوئس اندھا ہوا تو اس کی عمر ہی کیا تھی، صرف تین برس… اس لیے وہ جلد ہی سب کچھ بھول گیا۔ شکلیں، رنگ سب کچھ! اب وہ ایک چھڑی کے سہارے چلتا تھا اور لوگ اس کو دیکھ کر اس پر ترس کھاتے تھے۔ پھر اس کے باپ کو پتہ چلا کہ پیرس میں ایک اسکول ہے جہاں نابینا بچوں کو کچھ پڑھایا بھی جاتا ہے اور انھیں موسیقی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے تا کہ وہ بڑے ہو کر کسی طور کچھ کما سکیں۔ اسے اس اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر دس سال تھی۔ اس اسکول میں اندھے بچوں کو پڑھانے کے لیے خاص طرح کی کتابیں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ کارڈ بورڈ سے بنتی تھیں، ان پر لفظ ابھرے ہوئے ہوتے تھے جنھیں ہاتھوں سے چھو کر بچے پڑھتے تھے۔ لیکن یہ ایک انتہائی مشکل طریقہ تھا۔ بچے کے ذہن پر بے حد بوجھ ہو جاتا تھا اور وہ کئی سال لگا کر بھی انتہائی کم تعلیم حاصل کر پاتا تھا۔ لوئس بریل کے ذہن نے اس مشکل طریقے کو مسترد کر دیا۔ وہ برابر سوچتا رہا کہ پڑھنے کے طریقے کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ جب سب بچے سو جاتے تھے تو وہ جاگ کر کچھ تجربے کرتا رہتا تھا۔ وہ بہت کم سوتا تھا یوں روز بروز کمزور ہوتا چلا گیا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔
چار سے پانچ سال تک اس نے مسلسل تجربات کیے اور بالآخر سن 1824ء کو جب وہ محض پندرہ سال کا تھا، اس نے ایک انقلابی طریقہ دریافت کر لیا جو پہلے کے طریقے سے بہت زیادہ بہتر اور آسان تھا۔ اس نے اپنے طریقے میں چھ نقطے استعمال کیے تھے، جو انگلیوں کی پوروں سے محسوس کیے جا سکتے تھے۔ اس نے ان چھ نقطوں کی جگہیں تبدیل کر کے الفاظ بنانے کا عمل قائم کیا، مثلاً A کے لیے ایک نقطہ اور B کے لیے دو نقطے۔ جب طلباء میں اس کے طریقے کا چرچا ہوا تو استادوں نے اس کا امتحان لیا۔ وہ اس امتحان میں سو فیصد کامیاب ہوا جس سے سب حیران رہ گئے۔ یوں اس کا ایجاد کردہ طریقہ پہلے اس اسکول، پھر شہر کے دوسرے اسکولوں میں پھر آہستہ آہستہ پوری دنیا میں رائج ہو گیا۔ اس کا انقلابی طریقہ نابیناؤں کی تعلیم میں ایک انتہائی جدید پیش قدمی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کے بعد اس سے بہتر طریقہ آج تک کوئی بنا نہیں سکا۔ یہی طریقہ جسے اس کے نام پر ’’بریل سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے، آج بھی ساری دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ بہرحال نابیناؤں کا یہ مسیحا 6 جنوری 1852ءکو صرف تینتالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسے ٹی بی ہو گئی تھی جو اس زمانے میں ایک لاعلاج مرض تھا۔
وفات۔۔
769ء۔۔عبد اللہ شاہ غازی ۔ کراچی،سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے
1316ء۔۔علاء الدین خلجی کا پیدائشی نام علی گرشاسپ خلجی تھا اور وہ ہندوستان میں خلجی خاندان کے دوسرےسلطان تھے۔ وہ خلجی خاندان کے سب سے طاقتور سلطان تھے۔
1826ء
۔نکولس فس سویسی ریاضیدان تھا جو بیشتر عرصہ روس میں مقیم رہا
1961ء۔۔ارون شروڈنگر۔ ایک انگریز طبیعیات دان اور سائنسدان تھے
1965ء ٹی ایس ایلیٹ، نوبل انعام برائے ادب (1948ء) یافتہ امریکہ میں پیدا ہونے والے برطانوی شاعر اور ڈرامہ نگار (پیدائش: 1888ء)
1967ء بیگم عطیہ فیضی، فنون لطیفہ، موسیقی اور حقوقِ نسواں کی حامی ۔
1978ء سعید ہمانی، تنظیم آزادی فلسطین برطانیہ ونگ کے نمائندے کو لندن میں قتل کردیا گیا۔
1993ء طفیل ہوشیارپوری ، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، فلمی نغمہ نگار اور صحافی (پیدائش: 1914ء)
1994ء راہل دیو برمن،آر ڈی برمن۔ ہندی فلمی موسیقار (پیدائش: 1938ء)
2011ء ۔ سلمان تاثیر، پاکستانی یاست دان، کارجو، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، مصنف ، (15 مئی 2008ء تا 4 جنوری 2011ء) گورنر پنجاب جسے ممتاز قادری نے قتل کر دیا۔ (پیدائش: 1944ء)
2018ء زبیدہ طارق الیاس ، بمعروف زبیدہ آپا ، پاکستانی باورچی اور ماہر امور پکوان طبی مشیر (پیدائش: 1945ء)
1884ء کیشوچندر سین، مشہور بنگالی دانشور اور برہم سماج کے ممبر
2013ء۔۔ایئر چیف مارشل انور شمیم ،پاکستان کی فضائیہ کے قابل فخر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ 1965ء اور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کے ہیرو رہے۔ وہ پاک فضائیہ کے نہایت سخت گیر افسران میں سے رہے ہیں۔ ہر لمحے کچھ بڑا کرنے کو بیتاب رہنے والے
2017ء۔۔استاد بڑے فتح علی خان کا تعلق بر صغیر پاک و ہند کے مشہور پٹیالہ گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے کی بنیاد ان کے دادا علی بخش اور ان کے دوست فتح علی خان نے رکھی تھی۔ ان کے فن گائیکی کو داد تحسین پیش کرتے ہوئے لارڈ ایلگن نے علی بخش کو جرنیل اور فتح علی خان کو کرنیل کا خطاب دیا۔ علی بخش کے بیٹےاستاد اختر حسین خان کے تین بیٹے ہوئے جو دنیائے موسیقی میں استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان اور استاد حامد علی خانکے نام سے مشہور ہیں۔ گوالیار گھرانے کے ایک گائیک کو بھی استاد فتح علی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، لہذا شناخت کے اس مخمصے سے بچنے کے لیے پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کو استاد بڑے فتح علی خان کہا جاتا ہے۔
1999ء۔۔مقصود احمد /کرکٹر ٭ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر مقصود احمد 26 مارچ 1925ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ مقصود احمد پاکستان کی اس کرکٹ ٹیم کے رکن تھے جس نے اکتوبر 1952ء میں بھارت کے خلاف دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گرائونڈ میں پاکستان کی جانب سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 16 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 27 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 19.50 کی اوسط سے 507 رنز بنائے جبکہ 13 کیچز کرنے کے علاوہ 63.66 کی اوسط سے 151 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ 1954-55ء میں جب بھارت کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو لاہور ٹیسٹ میں مقصود احمد نے ایک دلکش اننگز کھیلی اور صرف ایک رن کی کمی کی وجہ سے اپنی اوّلین ٹیسٹ سنچری سے محروم ہوگئے۔ وہ 99 رنز کے اسکور پر آئوٹ ہونے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے۔ ان کے آئوٹ ہونے کی خبر سنتے ہی نواب شاہ میں ریڈیو پر کمنٹری سننے والا ایک شخص حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگیا۔ مقصود احمد اس کے بعد بھی کبھی سنچری اسکور نہیں کرسکے۔ وہ دنیا کے ان 9 کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کا ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 99 رنز ہے۔ ان 9 کھلاڑیوں میں پاکستان کے ایک اور کھلاڑی عاصم کمال بھی شامل ہیں۔ 1981-82ء میں مقصود احمد کو پاکستان کی قومی سلیکشن ٹیم کا سربراہ بنایا گیا تو انہوں نے عمران خان کو کپتان مقرر کیا جو پاکستان کی کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ثابت ہوئے۔ مقصود احمد کو ان کی عرفیت میری میکس سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ اسی قلمی نام سے قومی اخبارات و جرائد میں کرکٹ کے بارے میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے اور ریڈیو و ٹیلی وژن پرکرکٹ میچوں پر رواں تبصرہ بھی کرتے تھے۔ مقصود احمد کا انتقال4 جنوری 1999ء کو راولپنڈی میں ہوا۔
1969ء۔۔حکیم احمد شجاع ٭ اردو کے مشہور انشا پرداز‘ ڈرامہ نگار‘ افسانہ نگار اور شاعر حکیم احمد شجاع کی تاریخ پیدائش 4 نومبر1896 ء ہے۔ حکیم احمد شجاع نے لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد ایم اے او کالج علی گڑھ سے ایف اے اور پھر میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ 1920ء میں پنجاب اسمبلی سے منسلک ہوئے اور پھر اس اسمبلی کے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی وہ 1948ء سے 1969ء تک مجلس زبان دفتری کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کی رہنمائی میں ہزاروں انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ ہوا۔ حکیم احمد شجاع اردو کے صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے افسانے بھی لکھے‘ ناول بھی تحریر کیا اور کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔ انہوں نے ایک ادبی رسالہ ہزار داستان اور بچوں کا رسالہ نونہال بھی نکالا۔ اپنی خود نوشت خوں بہا کے نام سے تحریر کی اور لاہور کے اندرون بھاٹی دروازے کی ادبی تاریخ لاہور کا چیلسی کے نام سے رقم کی۔ وہ قرآن پاک کی تفسیر بھی تحریر کررہے تھی جس کا نام افصح البیان رکھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا اور صرف پانچ پاروں ہی کی تفسیر لکھی جاسکی۔ حکیم احمد شجاع نے 4 جنوری 1969ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے.
1931ء مولانا محمد علی جوہر لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران انتقال کر گئے۔٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کا تعلق رامپور سے تھا جہاں وہ 10 دسمبر 1878ء کو پیدا ہوئے تھے۔ 1898ء میں انہوں نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا، بعدازاں مزید تعلیم اوکسفرڈ سے حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ پہلے انہوں نے گپ کے نام سے ایک رسالہ نکالا بعدازاں انہوں نے انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا جسے ان کی شہرت ہندوستان بھر میں گونجنے لگی۔ اسی زمانے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا محمد علی جوہر ابتدا ہی سے اس تنظیم کے فعال رہنمائوں میں شمار ہونے لگے۔ انہیں اس تنظیم کا دستور مرتب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور انہی کی کوششوں سے قائداعظم محمد علی جناح بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بن گئے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد مولانا محمد علی جوہر نے اپنے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کی معیت میں تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔ تحریک خلافت کے دوران ان پر بغاوت کا مقدمہ بھی چلایا گیا جس کی سماعت کراچی کے مشہور خالق دینا ہال میں ہوئی۔انہی تحریکوں کے دوران انہیں گاندھی کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا، جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندو اور مسلم دو علیحدہ قومیں ہیں جن کا اتحاد ممکن نہیں۔ 1928ء میں مولانا محمد علی جوہر نے نہرو رپورٹ کے جواب میں تیار کیے جانے والے قائداعظم کے چودہ نکات کی تیاری میں ان کی معاونت کی۔ 1930ء میں وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جائوں گا، میں ایک غیر ملک میں بشرطیکہ وہ ایک آزاد ملک ہو مرنے کو ترجیح دوں گا۔ اگر آپ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو مجھے یہاں قبر کی جگہ دینی پڑے گی۔ ان کی یہ خواہش حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اس تقریر کے چند دن بعد 4 جنوری 1931ء کو وہ لندن ہی میں وفات پاگئے۔ انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا گیا۔
*تعطیلات و تہوار*
1948ء برما (میانمار) کو برطانیہ سے آزادی ملی۔
بریل (لینگوئج) کا عالمی دن۔ ہر سال4 جنوری کو پوری دنیا میں لوئس بریل کی سالگرہ کے موقع پر منایا جاتا ہے ۔بریل کا عالمی دن پاکستان میں ایک غیر معروف دن ہے ،بہت سے لوگ بریل کے نام سے ہی واقف نہیں ہیں ۔۔
تاریخ کے آئینے میں
آج سال کا چوتھا دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 361 دن باقی ہیں ۔
46 قبل مسیح، رومن حکمراں جولین سیزر نے رسپینا کی لڑائی میں ٹائٹس، لیبنیس کو شکست دی۔
1604ء شہزادہ سلیم کی بغاوت ناکام، بادشاہ اکبر کے سامنے پیش کیا گیا۔
1642ء انگلینڈ کے بادشاہ چارلس اول نے ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنے والے ممبران پارلیمنٹ کی گرفتاری کیلئے فوج بھیجی۔
1762ء برطانیہ نے اسپین اور نیپلس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1865ء نیویارک اسٹاک ایکسچنج نے نیویارک شہر میں وال اسٹریٹ کے قریب اپنا پہلا مستقل صدر دفتر کھولا۔
1906ء پرنس آف ویلس نے کلکتہ میں وکٹوریہ میموریل ہال کی بنیاد رکھی، وہ بعد میں حکمراں جارج پنجم بنے۔
1923ء اپنے آخری وقت میں سوویت یونین کے انقلابی رہنما ولادیمیر لینن نے ایک خط میں پارٹی کے جنرل سکریٹری اسٹالن کو ان کے رویئے کی وجہ سے عہدے سے ہٹانے کی وکالت کی۔
1932ء برطانوی ایسٹ انڈیا کے وائسرائے ویلنگٹن نے گاندھی اور نہرو کو گرفتار کیا۔
1950ء پاکستان نے کمیونسٹ پیکنگ گورنمنٹ آف چائنہ کو تسلیم کیا۔
1951ء شمالی کوریا نے جنوبی کوریائی دارالحکومت سول پر قبضہ کیا۔
1958ء سوویت یونین نے دنیا کا پہلا خلائی سیٹیلائٹ اسپوتنک ۔1 کا کامیاب تجربہ کیا۔
1959ء لیونا ون پہلا خلائی طیارہ تھا جو چاند کی زمین پر اترا۔
1964ء پوپ جان پال ششم نے یروشلم کا دورہ کیا کسی عیسائی مذہبی رہنما کا یروشلم کا یہ پہلا دورہ تھا۔
1964ء وارانسی ریل انجن کارخانہ میں پہلا انجن تیار ہوا۔
1966ء پاک بھارت جنگ ختم ہونے کے بعد سوویت روس کے شہر تاشقند میں بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری اور پاکستانی صدر جنرل ایوب کے درمیان سربراہ میٹنگ ہوئی۔
1967ء ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) نے مگ لڑاکا طیارے فوج کے حوالے کرنا شروع کئے۔
1972ء نئی دہلی میں جرائم اور فارنسک سائنس کے ادارے کا افتتاح ہوا۔
1990ء۔ ریلوے کی تاریخ کا ایک بد ترین حادثہ 4جنوری 1990 کو اُس وقت پیش آیا جب اپنی گنجائش سے زیادہ مسافر لیے ہوئے زکریا ایکسپریس ملتان سے کراچی جاتے ہوئے پنو عاقل چھاؤنی کے قریب سانگی ریلوے سٹیشن پر ملازمین کی غلطی کی وجہ سے غلط پٹڑی پر ڈال دی گئی جو ایک مال گاڑی سے جا ٹکرائی ۔ اس حادثے میں 307 افراد ہلاک اور 705 زخمی ہوئے۔
1998ء الجیریا کے ولایا آف ریلی جانے تنظیم نے 170 لوگوں کو قتل کیا۔
1999ء اسلام آباد مسجد میں اہل تشیع پر بندوق برداروں نے گولیاں چلائیں جس میں 16 افراد کی موت ہوئی اور 125 زخمی ہوئے۔
2004ء ناسا کا خلائی شٹل سپریٹ مریخ پر اترا۔
2004ء افغانستان میں مختلف جنگجو گروپ لویا جرگا میں ایک آئین پر راضی ہو گیا۔ اور ملک میں آزادانہ عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔
2005ء صدر جنرل پرویز مشرف نے کاروکاری کے انسداد کے قانون پر دستخط کئے۔
2006ء سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ السعود نےبھارتی شہر دہلی کی جامع مسجد کی مرمت کے لئے امداد کی پیش کش کی۔
2007ء نینسی پیلوسی امریکی سینیٹ کی پہلی خاتون اسپیکر بنیں۔
2010ء دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ کو سرکاری طور پر کھولا گیا۔
ولادت۔
659ء حضرت علیؒ بن حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، جو زین العابدین (عابدوں کی زینت) اور امام الساجدین (سجدہ کرنے والون کا امام) کے نام سے مشہور ہیں ، خانواد رسول ﷺ کی عظیم چشم و چراغ (وفات: 713ء)
1839ء مرزا حسین نوری طبرسی بمعروف ، محدث نوری ایران سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے معروف عالم اور محدث
1935ء پروفیسر داؤد کمال ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور ماہر تعلیم (وفات: 1987ء)
1940ء برائن ڈیوڈ جوزف سن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1973ء) یافتہ برطانوی طبیعیات دان و استاد جامعہ انھوں نے یہ انعام اپنے ہم وطن سائنسدانوں ایور گیور اور لیو اسکائی کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیوٹی سوپر کنڈکٹیوٹی اور سیمی کنڈکٹر سے جڑے ان کے دریافتیں تھی۔
1945ء رچرڈ آر. شروک ، نوبل انعام برائے کیمیا (2005ء) یافتہ امریکی کیمیاءدان و استاد جامعہ ، انھیں نامیاتی کیمیاء میں مستعمل ایک طریقےمیٹا میتھیسس پر کام کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
1949ء محمد افضل طاہر ، نشان امتیاز، ہلال امتیاز، ستارۂ امتیاز، ایک ریٹائرڈ فور سٹار چیف اف نیول سٹاف (7 اکتوبر 2005ء تا 7 اکتوبر 2008ء) ، مصنف اور عسکری مؤرخ جو نیول وار کالج، پاک بحریہ میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
1958ء عزیز کنگرانی ، گولڈ میڈل - سندھ یونیورسٹی ، پی ٹی ایوارڈ برائے بہترین ڈراما نگار اور لعل شہاز قلندر ایوارڈ یافتہ دادو پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی اور سندھی زبان کے منفرد ادیب، افسانہ نگار، ڈرراما نویس، شاعر، محقق، مؤرخ اور پروفیسر
1962ء ڈاکٹر محمد یونس بٹ ، اردو ادب کے مشہور ادیب خاکہ نگار اور ڈراما نویس
1965ء ادیتیا پنچولی ، بھارتی اداکار و گلو کار
1966ء حنیف عباسی ، پاکستانی کاروباری شخصیت اور سیاست دان
1980ء ایرن کاہیل ، امریکی اداکارہ
1984ء امر بی چوہدری بمعروف جیوا ، بھارتی اداکار و پروڈیوسر
1988ء ارچنا کوی ، بھارتی اداکارہ
1809ء لوئس بریل، نابینا افراد کے لئے تحریر اور مطالعے کے موجد، بریل 4 جنوری1809ء میں پیرس کے ایک نواحی قصبے ومپرے میں پیدا ہوا۔ وہ ایک حادثے کی وجہ سے اندھا ہوا۔ اس کے والد چمڑے کا کام کرتے تھے۔ ایک روز تین سالہ لوئس بریل اپنے باپ کے کارخانے میں بیٹھا کھیل رہا تھا اور اپنے باپ کی نقل میں ایک ہتھوڑی سے ایک کیل کو ٹھونک رہا تھا کہ اچانک کیل اچھلی اور اس کی آنکھ میں جا گھسی۔ اس کے چیخنے پر گھر والے متوجہ ہوئے اور علاج معالجہ کیا گیا لیکن اس آنکھ کی بینائی کو بچایا نہیں جا سکا۔ اور پھر اس چوٹ کی وجہ سے آنکھوں کے اندرونی سسٹم میں کچھ ایسی خرابی ہو گئی کہ لوئس بریل کی دوسری آنکھ کی بینائی بھی چلی گئی اور یوں اس کی دنیا اندھیری ہو گئی ۔گھر والے اور خصوصاً اس کے والدین غم و اندوہ میں ڈوب گئے۔ مگر انھیں کیا پتہ تھا کہ یہ حادثہ کروڑوں نابیناؤں کے لیے رحمت بن جائے گا۔جب لوئس اندھا ہوا تو اس کی عمر ہی کیا تھی، صرف تین برس… اس لیے وہ جلد ہی سب کچھ بھول گیا۔ شکلیں، رنگ سب کچھ! اب وہ ایک چھڑی کے سہارے چلتا تھا اور لوگ اس کو دیکھ کر اس پر ترس کھاتے تھے۔ پھر اس کے باپ کو پتہ چلا کہ پیرس میں ایک اسکول ہے جہاں نابینا بچوں کو کچھ پڑھایا بھی جاتا ہے اور انھیں موسیقی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے تا کہ وہ بڑے ہو کر کسی طور کچھ کما سکیں۔ اسے اس اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر دس سال تھی۔ اس اسکول میں اندھے بچوں کو پڑھانے کے لیے خاص طرح کی کتابیں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ کارڈ بورڈ سے بنتی تھیں، ان پر لفظ ابھرے ہوئے ہوتے تھے جنھیں ہاتھوں سے چھو کر بچے پڑھتے تھے۔ لیکن یہ ایک انتہائی مشکل طریقہ تھا۔ بچے کے ذہن پر بے حد بوجھ ہو جاتا تھا اور وہ کئی سال لگا کر بھی انتہائی کم تعلیم حاصل کر پاتا تھا۔ لوئس بریل کے ذہن نے اس مشکل طریقے کو مسترد کر دیا۔ وہ برابر سوچتا رہا کہ پڑھنے کے طریقے کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ جب سب بچے سو جاتے تھے تو وہ جاگ کر کچھ تجربے کرتا رہتا تھا۔ وہ بہت کم سوتا تھا یوں روز بروز کمزور ہوتا چلا گیا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔
چار سے پانچ سال تک اس نے مسلسل تجربات کیے اور بالآخر سن 1824ء کو جب وہ محض پندرہ سال کا تھا، اس نے ایک انقلابی طریقہ دریافت کر لیا جو پہلے کے طریقے سے بہت زیادہ بہتر اور آسان تھا۔ اس نے اپنے طریقے میں چھ نقطے استعمال کیے تھے، جو انگلیوں کی پوروں سے محسوس کیے جا سکتے تھے۔ اس نے ان چھ نقطوں کی جگہیں تبدیل کر کے الفاظ بنانے کا عمل قائم کیا، مثلاً A کے لیے ایک نقطہ اور B کے لیے دو نقطے۔ جب طلباء میں اس کے طریقے کا چرچا ہوا تو استادوں نے اس کا امتحان لیا۔ وہ اس امتحان میں سو فیصد کامیاب ہوا جس سے سب حیران رہ گئے۔ یوں اس کا ایجاد کردہ طریقہ پہلے اس اسکول، پھر شہر کے دوسرے اسکولوں میں پھر آہستہ آہستہ پوری دنیا میں رائج ہو گیا۔ اس کا انقلابی طریقہ نابیناؤں کی تعلیم میں ایک انتہائی جدید پیش قدمی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کے بعد اس سے بہتر طریقہ آج تک کوئی بنا نہیں سکا۔ یہی طریقہ جسے اس کے نام پر ’’بریل سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے، آج بھی ساری دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ بہرحال نابیناؤں کا یہ مسیحا 6 جنوری 1852ءکو صرف تینتالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسے ٹی بی ہو گئی تھی جو اس زمانے میں ایک لاعلاج مرض تھا۔
وفات۔۔
769ء۔۔عبد اللہ شاہ غازی ۔ کراچی،سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے
1316ء۔۔علاء الدین خلجی کا پیدائشی نام علی گرشاسپ خلجی تھا اور وہ ہندوستان میں خلجی خاندان کے دوسرےسلطان تھے۔ وہ خلجی خاندان کے سب سے طاقتور سلطان تھے۔
1826ء
۔نکولس فس سویسی ریاضیدان تھا جو بیشتر عرصہ روس میں مقیم رہا
1961ء۔۔ارون شروڈنگر۔ ایک انگریز طبیعیات دان اور سائنسدان تھے
1965ء ٹی ایس ایلیٹ، نوبل انعام برائے ادب (1948ء) یافتہ امریکہ میں پیدا ہونے والے برطانوی شاعر اور ڈرامہ نگار (پیدائش: 1888ء)
1967ء بیگم عطیہ فیضی، فنون لطیفہ، موسیقی اور حقوقِ نسواں کی حامی ۔
1978ء سعید ہمانی، تنظیم آزادی فلسطین برطانیہ ونگ کے نمائندے کو لندن میں قتل کردیا گیا۔
1993ء طفیل ہوشیارپوری ، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، فلمی نغمہ نگار اور صحافی (پیدائش: 1914ء)
1994ء راہل دیو برمن،آر ڈی برمن۔ ہندی فلمی موسیقار (پیدائش: 1938ء)
2011ء ۔ سلمان تاثیر، پاکستانی یاست دان، کارجو، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، مصنف ، (15 مئی 2008ء تا 4 جنوری 2011ء) گورنر پنجاب جسے ممتاز قادری نے قتل کر دیا۔ (پیدائش: 1944ء)
2018ء زبیدہ طارق الیاس ، بمعروف زبیدہ آپا ، پاکستانی باورچی اور ماہر امور پکوان طبی مشیر (پیدائش: 1945ء)
1884ء کیشوچندر سین، مشہور بنگالی دانشور اور برہم سماج کے ممبر
2013ء۔۔ایئر چیف مارشل انور شمیم ،پاکستان کی فضائیہ کے قابل فخر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ 1965ء اور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں کے ہیرو رہے۔ وہ پاک فضائیہ کے نہایت سخت گیر افسران میں سے رہے ہیں۔ ہر لمحے کچھ بڑا کرنے کو بیتاب رہنے والے
2017ء۔۔استاد بڑے فتح علی خان کا تعلق بر صغیر پاک و ہند کے مشہور پٹیالہ گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے کی بنیاد ان کے دادا علی بخش اور ان کے دوست فتح علی خان نے رکھی تھی۔ ان کے فن گائیکی کو داد تحسین پیش کرتے ہوئے لارڈ ایلگن نے علی بخش کو جرنیل اور فتح علی خان کو کرنیل کا خطاب دیا۔ علی بخش کے بیٹےاستاد اختر حسین خان کے تین بیٹے ہوئے جو دنیائے موسیقی میں استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان اور استاد حامد علی خانکے نام سے مشہور ہیں۔ گوالیار گھرانے کے ایک گائیک کو بھی استاد فتح علی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، لہذا شناخت کے اس مخمصے سے بچنے کے لیے پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کو استاد بڑے فتح علی خان کہا جاتا ہے۔
1999ء۔۔مقصود احمد /کرکٹر ٭ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر مقصود احمد 26 مارچ 1925ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ مقصود احمد پاکستان کی اس کرکٹ ٹیم کے رکن تھے جس نے اکتوبر 1952ء میں بھارت کے خلاف دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گرائونڈ میں پاکستان کی جانب سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے مجموعی طور پر 16 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 27 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 19.50 کی اوسط سے 507 رنز بنائے جبکہ 13 کیچز کرنے کے علاوہ 63.66 کی اوسط سے 151 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ 1954-55ء میں جب بھارت کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو لاہور ٹیسٹ میں مقصود احمد نے ایک دلکش اننگز کھیلی اور صرف ایک رن کی کمی کی وجہ سے اپنی اوّلین ٹیسٹ سنچری سے محروم ہوگئے۔ وہ 99 رنز کے اسکور پر آئوٹ ہونے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے۔ ان کے آئوٹ ہونے کی خبر سنتے ہی نواب شاہ میں ریڈیو پر کمنٹری سننے والا ایک شخص حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگیا۔ مقصود احمد اس کے بعد بھی کبھی سنچری اسکور نہیں کرسکے۔ وہ دنیا کے ان 9 کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کا ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 99 رنز ہے۔ ان 9 کھلاڑیوں میں پاکستان کے ایک اور کھلاڑی عاصم کمال بھی شامل ہیں۔ 1981-82ء میں مقصود احمد کو پاکستان کی قومی سلیکشن ٹیم کا سربراہ بنایا گیا تو انہوں نے عمران خان کو کپتان مقرر کیا جو پاکستان کی کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ثابت ہوئے۔ مقصود احمد کو ان کی عرفیت میری میکس سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ اسی قلمی نام سے قومی اخبارات و جرائد میں کرکٹ کے بارے میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے اور ریڈیو و ٹیلی وژن پرکرکٹ میچوں پر رواں تبصرہ بھی کرتے تھے۔ مقصود احمد کا انتقال4 جنوری 1999ء کو راولپنڈی میں ہوا۔
1969ء۔۔حکیم احمد شجاع ٭ اردو کے مشہور انشا پرداز‘ ڈرامہ نگار‘ افسانہ نگار اور شاعر حکیم احمد شجاع کی تاریخ پیدائش 4 نومبر1896 ء ہے۔ حکیم احمد شجاع نے لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد ایم اے او کالج علی گڑھ سے ایف اے اور پھر میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ 1920ء میں پنجاب اسمبلی سے منسلک ہوئے اور پھر اس اسمبلی کے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی وہ 1948ء سے 1969ء تک مجلس زبان دفتری کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کی رہنمائی میں ہزاروں انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ ہوا۔ حکیم احمد شجاع اردو کے صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے افسانے بھی لکھے‘ ناول بھی تحریر کیا اور کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔ انہوں نے ایک ادبی رسالہ ہزار داستان اور بچوں کا رسالہ نونہال بھی نکالا۔ اپنی خود نوشت خوں بہا کے نام سے تحریر کی اور لاہور کے اندرون بھاٹی دروازے کی ادبی تاریخ لاہور کا چیلسی کے نام سے رقم کی۔ وہ قرآن پاک کی تفسیر بھی تحریر کررہے تھی جس کا نام افصح البیان رکھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا اور صرف پانچ پاروں ہی کی تفسیر لکھی جاسکی۔ حکیم احمد شجاع نے 4 جنوری 1969ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے.
1931ء مولانا محمد علی جوہر لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران انتقال کر گئے۔٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کا تعلق رامپور سے تھا جہاں وہ 10 دسمبر 1878ء کو پیدا ہوئے تھے۔ 1898ء میں انہوں نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا، بعدازاں مزید تعلیم اوکسفرڈ سے حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ پہلے انہوں نے گپ کے نام سے ایک رسالہ نکالا بعدازاں انہوں نے انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا جسے ان کی شہرت ہندوستان بھر میں گونجنے لگی۔ اسی زمانے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا محمد علی جوہر ابتدا ہی سے اس تنظیم کے فعال رہنمائوں میں شمار ہونے لگے۔ انہیں اس تنظیم کا دستور مرتب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور انہی کی کوششوں سے قائداعظم محمد علی جناح بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بن گئے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد مولانا محمد علی جوہر نے اپنے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کی معیت میں تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔ تحریک خلافت کے دوران ان پر بغاوت کا مقدمہ بھی چلایا گیا جس کی سماعت کراچی کے مشہور خالق دینا ہال میں ہوئی۔انہی تحریکوں کے دوران انہیں گاندھی کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا، جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندو اور مسلم دو علیحدہ قومیں ہیں جن کا اتحاد ممکن نہیں۔ 1928ء میں مولانا محمد علی جوہر نے نہرو رپورٹ کے جواب میں تیار کیے جانے والے قائداعظم کے چودہ نکات کی تیاری میں ان کی معاونت کی۔ 1930ء میں وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جائوں گا، میں ایک غیر ملک میں بشرطیکہ وہ ایک آزاد ملک ہو مرنے کو ترجیح دوں گا۔ اگر آپ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو مجھے یہاں قبر کی جگہ دینی پڑے گی۔ ان کی یہ خواہش حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اس تقریر کے چند دن بعد 4 جنوری 1931ء کو وہ لندن ہی میں وفات پاگئے۔ انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا گیا۔
*تعطیلات و تہوار*
1948ء برما (میانمار) کو برطانیہ سے آزادی ملی۔
بریل (لینگوئج) کا عالمی دن۔ ہر سال4 جنوری کو پوری دنیا میں لوئس بریل کی سالگرہ کے موقع پر منایا جاتا ہے ۔بریل کا عالمی دن پاکستان میں ایک غیر معروف دن ہے ،بہت سے لوگ بریل کے نام سے ہی واقف نہیں ہیں ۔۔

No comments:
Post a Comment