02 جنوری 1965 کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے
صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔
پاکستانی انتخابات میں دھاندلی کی ابتداء ہوئی تھی۔
قوم کی ماں فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا تھا۔
پہلے فوجی آمر ایوب خان نے 27 اکتوبر 1958 کو مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے اقتدار مکمل طور پہ سنبھال لیا تھا۔
1962 میں صدارتی طرز کا آئین ملک میں نافذ کیا گیا۔
اس آئین کے تحت پاکستان میں پہلے صدارتی انتخابات 02 جنوری 1965کو منعقد ہوئے۔یہ صدارتی انتخابات براہ راست ووٹ کے ذریعے نہیں منعقد ہوئے تھے۔
ملک میں بنیادی جمہوریت کا طریقہ متعارف کروایا گیا جس کے تحت 80 ہزار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔جنہوں نے اس انتخابات کے لیے ووٹ ڈالا۔
اس انتخابات میں 4 امیدواروں نے حصہ لیا۔کنوینشن مسلم لیگ کے امیدوار فوجی آمر صدر ایوب خاں تھے۔جب کہ دوسری طرف 6 اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد تھا۔اس اتحاد کی طرف سے فاطمہ جناح کو الیکشن لڑنے کے لیے راضی کیا گیا تھا۔جب کہ باقی دو امیدوار غیر معروف تھے۔
فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا جب کہ صدر ایوب کا نشان پھول تھا ۔
اس الیکشن میں عوامی جلسوں کی اجازت نہیں تھی۔صرف بی ڈی ممبران سے خطاب کیا جا سکتا تھا۔وہ الیکشن کمیشن کے تحت منعقد صرف 9 جلسوں میں۔انتخابی مہم کا وقت
۔یہ فاطمہ جناح کو براہ راست عوام سے مخاطب ہونے سے روکنے کے لیے تھا۔فاطمہ جناح کے الیکشن میں حصہ لینے پہ قوم کے سامنے عورت کی حکمرانی کے خلاف تاریخی فتوے جاری ہوئے۔اسی الیکشن میں فاطمہ جناح کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔اسی الیکشن مہم میں گجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے کتیا کے گلے میں لالٹین باندھ کر شہر میں گھمائی تھی۔
02 جنوری 1965 کو جب نتائج آئے تو ایوب خان 49951 ووٹ کے ساتھ جیت چکے تھے جب کہ فاطمہ جناح کو 28691 ووٹ ملے تھے۔ایوب خان کو ملنے والے ووٹ کا تناسب 62 اعشاریہ 43 فیصد تھا جب کہ فاطمہ جناح کو ملنے والے ووٹ کا تناسب 35 اعشاریہ 86 فیصد تھا۔
فاطمہ جناح کو کراچی ڈھاکہ سے بھاری اکثریت ملی تھی جب کہ مشرقی پاکستان میں اکثر جگہوں پہ فاطمہ جناح کامیاب تھیں۔شیخ مجیب الرحمن اس الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کے مشرقی پاکستان میں پولنگ ایجنٹ تھے۔
مشترکہ اپوزیشن نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن کوئی بڑی عوامی تحریک نہ چل سکی کیونکہ فاطمہ جناح نے خاموشی سے نتائج تسلیم کر لیے تھے۔
8 ماہ بعد جنگ ستمبر میں ایوب خان کو بھرپور عوامی حمایت ملی لیکن معاہدہ تاشقند میں جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پہ ہارنے کے تاثر نے عوام میں ایوب خان کا سارا امیج تباہ و برباد کردیا۔
اس موقع پہ ذولفقار علی بھٹو جو ایوب خان کے وزیر خارجہ تھے ،استعفی دے دیا کچھ عرصے بعد 30 نومبر 1967 کو اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا۔اس سے تقریبا 4 ماہ قبل 09 جولائی 1967 کو فاطمہ جناح کا انتقال ہو چکا تھا۔
شیخ مجیب الرحمن اپنے 6 نکات پیش کر چکے تھے۔
ایوب خان کے حصے میں دس سالہ اقتدار کے بعد جو لفظ آیا وہ کتا تھا ۔کہ پورے ملک میں نعرے لگ رہے تھے ۔ایوب کتا ہائے ہائے۔
25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے استعفی دیدیا۔
یہ تھا اس تاریخی بددیانتی اور دھاندلی کا انجام جو منتخب صدر پاکستان کہلانے کے لیے ایوب خان نے کی تھی۔
یہ 1964 کے اخبارات میں شائع ایوب خان کا اشتہار ہے جس میں فاطمہ جناح کو بھارتی مقاصد کا آلہ کار لکھا گیا ہے۔

No comments:
Post a Comment