ایک پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا.. اس نے وہ گلاس بلند کر دیا تاکہ تمام طلبہ اسے دیکھ لیں.. پھر اس نے طالب علموں سے سوال کیا.. " تمھارے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا..؟ " پچاس گرام.. سو گرام.. یا ایک سو پچیس گرام..؟ "
لڑکے اپنے اپنے اندازے سے جواب دینے لگے..
" میں خود صحیح وزن نہیں بتا سکتا جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کر لوں.." پروفیسر نے کہا.. " مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں تو کیا ہوگا..؟ "
" کچھ نہیں ہوگا.. " تمام طالب علموں نے جواب دیا..
" ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یونہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا..؟ "
" آپ کے بازو میں درد شروع ہو جائے گا.. "
" تم نے بلکل ٹھیک کہا.. " پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا.. " اب یہ بتاؤ کہ اس گلاس کو میں دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو کیا ہوگا..؟ "
" آپ کا بازو سن ہو سکتا ہے.. " ایک طالب علم نے کہا..
" آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے.. " دوسرے نے کہا..
" آپ پر فالج کا حملہ ہو نا ہو لیکن آپ کو اسپتال تو لازما" جانا پڑیگا.. " ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری کلاس قہقہے لگانے لگی..
" بہت اچھا.. " پروفیسر نے برا نہ مناتے ہوئے کہا.. " لیکن اس تمام دوران میں کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا..؟ "
" نہیں.. " طالب علموں نے جواب دیا..
" تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا..؟ "
طالب علم سوال سن کر چکرا گئے..
" گلاس کا مسلسل اٹھائے رکھنا..!! " پروفیسر نے کہا..
" ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں.. آپ انھیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں.. انھیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ سر کا درد بن جائیں گے.. انھیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کر دیں گے ' آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے..
اپنی زندگی کے چیلنجز کے بارے میں سوچنا یقینا" اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم ہر دن کے اختمام پر سونے سے پہلے انھیں ذہن پر سے اتار دینا ہے.. اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے.. ہر روزصبح آپ تر و تازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہونگے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کر سکیں گے..
لہٰذا گلاس کو نیچے رکھنا یاد رکھیں..!! "
Ad3
ہماری زندگی کے مسائل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...
No comments:
Post a Comment