Ad3

مارچ 12 تاریخ کے حوالے سے

آج سال کا 71 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 294 دن باقی ہیں ۔

1799ء آسٹریا نے فرانس سے جنگ کا اعلان کیا۔

12 مارچ 1889 کو ساوتھ افریقہ نے تیسری ٹیسٹ نیشن کے طور پہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

1904ء برطانیہ میں پہلی برقی ٹرین کاآغاز ہوا۔ ابتدا میں ٹرین لیور پول سے ساؤتھ پورٹ کے درمیان چلائی گئی۔

1938ء جرمنی نے آسٹریا پر حملہ کیا۔

12 مارچ 1949ء کو  پاکستان کی مجلس دستور ساز نے وہ قرارداد مقاصد منظور کرلی جسے 7 مارچ 1949ء کو قائد ایوان لیاقت علی خان نے پیش کیا تھا۔ قرارداد مقاصد کا مسودہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے تیار کیا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستان کے دستور کی بنیاد اور مملکت پاکستان کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ 1985ء میں اس قرارداد کو پاکستان کے آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ قرارداد مقاصد کے چند اہم نکات یہ تھے: 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور مملکت پاکستان کا اختیار حکمرانی‘ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک مقدس امانت ہے جسے جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ 2: ملک کا نظام حکومت وفاق اورطرز حکومت شورائی ہوگا۔ 3: پاکستان میں آباد اقلیتوں کے جائز حقوق اور مذہبی اور ثقافتی آزادی کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ 4: عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھا جائے گا۔ 5:  بنیادی حقوق کی پاسداری کی جائے گی اور نظام عدل مکمل طور پر محفوظ اور آزاد ہوگا تاکہ اہل پاکستان فلاح و خوشحالی کی زندگی بسر کرسکیں۔ اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز مقام حاصل کرسکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی ترقی اور بہبود میں کماحقہ اضافہ کرسکیں۔

1993ء بمبمئی میں پے در پے بم دھماکے ہوئے جن میں 200 افراد مارے گئے۔

2005ء یوکرائن نے عراق سے اپنی فوجوں کا انخلاء شروع کیا۔

2007ء سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کئے جانے کے بعد لاہور میں وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کئے، جس میں بیس سے زائد وکلا پولیس سے جھڑپ میں زخمی ہوئے۔

2010ء لاہور میں فوجی قافلے پر دو خود کش حملوں 45 افراد ہلاک اور 95 سے زائد زخمی ہو گئے۔

12 مارچ 2009ء۔۔ سینیٹ آف پاکستان کے پانچویں چیئرمین فاروق حمید نائیک 3 جنوری 1950ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ 12 مارچ 2009ء کو سینٹ آف پاکستان کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے اور  12 مارچ 2012ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

12 مارچ 2012ء۔ سینیٹ آف پاکستان کے چھٹے چیئرمین سید نیر حسین بخاری 23 دسمبر 1952ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ 12 مارچ 2012ء کو سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے اور 11 مارچ 2015ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

12 مارچ 2018۔۔متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار میر صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان سے سینٹ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔
:میرصادق سنجرانی 14 اپریل 1978 کو بلوچستان کے ضلع  چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم نوکنڈی میں حاصل کی، بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کیا، ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی کا شمار علاقے کے قبائلی رہنمائوں میں ہوتا ہے اور وہ ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں، میر صادق سنجرانی پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں، ان کے ایک بھائی اعجاز سنجرانی ، نواب ثناء اللہ زہری کے دور حکومت  میں محکمہ ریونیو کے مشیر بنے، حکومت کی تبدیلی کے باوجود وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا، میر صادق سنجرانی کے ایک بھائی محمد رازق سنجرانی سینڈک پروجیکٹ کے ایم ڈی رہے، میر صادق سنجرانی 1998 میں  سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کواڈینیٹر رہے، 2008 میں جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان بنے تو ان کی جانب سے قائم کئے گئے شکایات سیل کا سربراہ میر صادق سنجرانی کو بنایا گیا اور وہ 5 سال تک اس سیل کے سربراہ رہے، صادق سنجرانی نے 03 مارچ 2018 کو بلوچستان سے آزاد  حیثیت سے سینٹ کا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکے سینیٹر منتخب ہوئے۔

12-13مارچ 1988ء کو انقرہ میں پاکستان، ایران اور ترکی کے محکمہ ڈاک کے ایک اجتماع میں ساؤتھ اینڈ ویسٹ ایشیا پوسٹل یونین کے قیام کی منظوری دی گئی تھی ۔ اس واقعے کی تیسری سال گرہ کے موقع پر 12مارچ 1991ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر  پاکستان، ایران اور ترکی کے پرچم بنے تھے اور انگریزی میں SOUTH & WEST ASIA POSTAL UNION اور SWAPU کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

ایس او ایس چلڈرن ولیج ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں ان بچوں کی کفالت کی جاتی ہے جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں۔ اس نوع کا پہلا ولیج 1949ء میں آسٹریا میں ڈاکٹر ھرمن جمین نے قائم کیا تھا۔ 1975ء میں اس ادارے کی ایک شاخ پاکستان میں قائم ہوئی۔ پاکستان دنیا کا ساٹھواں ملک تھا جہاں اس ادارے کی شاخ قائم ہوئی تھی۔  12 مارچ 2000ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس ادارے کی پچیسویں سال گرہ کے موقع پر ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیاجس کی مالیت دو روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ایک ماں اور بچے کی تصویراور ادارے کا لوگو بنا تھا اور 25 Caring Years  SOS CHILDREN'S VILLAGE OF PAKISTAN1975-2000 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن ایس او ایس کی انتظامیہ نے فراہم کیا تھا۔

12مارچ2014ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم اہل قلم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ نامور شاعر حبیب جالب کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرحبیب جالب کا ایک خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا۔ پندرہ روپے مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں MEN OF LETTERSاورHABIB JALIB 1928 1993 کے الفاظ تحریر تھے۔

*ولادت*

1807ء جنرل جیمز ایبٹ، برطانوی فوجی اور ضلع ہزارہ کا پہلا ڈپٹی کمشنر، ایبٹ آباد شہر اسی کے نام پہ رکھا گیا۔ (وفات: 1896ء)

1889ء محمد ادریس سنوسی المعروف ادریس اول، لیبیا کا واحد بادشاہ، جس نے 1951 سے 1969 لیبیا پر حکومت کی۔ علاج کے لئے ترکی گئے تو معمر قذافی نے بغاوت کر کے انہیں معزول کر دیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ (وفات: 1983ء قاہرہ)

1910ء غازی بن فیصل، عراقی بادشاہ مکہ میں پیدا ہوا (وفات: 1939ء بغداد)

1922ء غلام الثقلین نقوی، پاکستانی افسانہ نگار، ناول نگار اور سفر نامہ نگار (وفات: 2002ء)

1925ء لیو اسکائی، نوبل انعام (1973ء) یافتہ جاپانی طبیعیات دان

1932ء ڈاکٹر ابوالخیر کشفی، پاکستانی محقق، نقاد اور ماہر تعلیم ۔اردو کے نامور ادیب، محقق، نقاد اور ماہر تعلیم سید ابوالخیر کشفی  12 مارچ 1932ء کو کانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا سید شاہ محمد اکبر عربی، فارسی اور اردو زبان کے مشہور عالم تھے۔ ان کے والد سید ابو محمد ثاقب کانپوری اپنے زمانے کے نامور شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ 1947ء میں انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور پھر کراچی آگئے جہاں 1952ء میں انہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔ پہلے وہ اسلامیہ کالج میں اور پھر جامعہ کراچی کے شعبہ اردو سے منسلک ہوئے۔ تین برس تک وہ ایک جاپانی یونیورسٹی میں بھی اردو کی تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ سیدابوالخیر کشفی نے اردو شاعری کا سیاسی و تاریخی پس منظر کے موضوع پر پی ایچ ڈی کیا تھا جو کتابی شکل میں اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ ان کی دیگر کتب میں ہمارے عہد کے ادب اور ادیب، جدید اردو ادب کے دو تنقیدی جائزے، ہمارے ادبی اور لسانی مسائل اور خاکوں کا مجموعہ یہ لوگ بھی غضب تھے شامل ہیں۔ 15 مئی 2008ء کو سید ابوالخیر کشفی کراچی میں وفات پاگئے اور جامعہ کراچی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

1942ء رائیگو ملادیچ، سرب فوجی سربراہ، اس درندے نے 1995ء میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کو گرفتار کر کے شہید کر دیا۔ اقوام متحدہ نے اسے جنگی مجرم قرار دیا، مگر سربیا کی حکومت نے اسے پناہ دی۔ بالآخر یورپی اتحاد میں شمولیت کی لالچ میں سربیا کی حکومت نے اسے 2011ء میں اقوام متحدہ کے حوالے کیا۔ مقدما چلا اور اسے صرف عمر قید کی سزائی سنائی گئی ۔

1946ء لیزا مینیلی، امریکی اداکارہ

1949ء راب کوہن، امریکی فلمساز

  1968ء آرون ایکہارٹ، امریکی اداکار

1971ء ابو زبیدہ، عرب باشندہ جسے امریکہ نے پاکستان سے اغوا کر کے شدید تشدد کیا۔ اور بدنام زمانہ گوانتا نامو بے میں قید کر دیا۔

1984ء شریا گھوشال، بھارتی پس پردہ گلوکارہ

1942ء۔۔شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ  12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔

*وفات*

1942ء ولیم ہنری براگ، نوبل انعام (1915ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات، کیمیا دان اور ریاضی دان (پیدائش: 1862ء)

1988ء کیرن سٹیل، امریکی فلمی اداکارہ (پیدائش: 1931ء)

1991ء راگنر گرانٹ، نوبل انعام (1967ء) یافتہ فنلینڈی/  سوئیڈش ماہر طبیعیات (پیدائش: 1900ء)

2003ء ماجد بن عبدالعزیز آل سعود، سابقہ گورنر مکہ (پیدائش:1938ء)

2016ء للویڈ شیپلی، نوبل انعام (2012ء) یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات اور ریاضی دان (پیدائش: 1923ء)

1985ء۔۔۔معروف عالم دین، ماہر تعلیم، دانشور، مصنف، مترجم اور شاعر ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو کنٹ، پنڈی گھیپ ضلع کیمبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ عربی، فارسی اور اردو میں اسناد فضیلت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی میں ایم اے کیا۔ 1940ء میں انہوں نے امام ابن تیمیہ کی زندگی اور کارناموں پر تحقیقی مقالہ رقم کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر چالیس کے لگ بھگ کتابیں تحریر کیں جن میں دو اسلام، دو قرآن، فلسفیان اسلام، مؤرخین اسلام، حکمائے عالم، فرمانروایان اسلام، دانش رومی و سعدی، بھائی بھائی، ہم اور ہمارے اسلاف اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ٭12 مارچ 1985ء کو ڈاکٹر غلام جیلانی برق اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...