Ad3

سورة البقرة 124

وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾

80: یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کچھ حالات وواقعات شروع ہورہے ہیں اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح گہرا تعلق ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی عیسائی اور عرب کے بت پرست، یعنی تینوں وہ گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعوی کرتا تھا کہ وہ اسی کے مذہب کے حامی تھے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں صحیح صورت حال واضح کی جائے، قرآنِ کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ ان کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گذرنا پڑا جن میں وہ پورے اترے، دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوبیٹے تھے، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام)۔ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت کا سلسلہ انہی کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں چلا آرہا تھا جس کی بنا پروہ یہ سمجھتے تھے کہ دُنیا بھر کی پیشوائی کا حق صرف انہی کو حاصل ہے۔ کسی اور نسل میں کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو ان کے لئے واجب الاتباع ہو۔ قرآنِ کریم نے یہاں یہ غلط فہمی دُور کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا ہے کہ دِینی پیشوائی کا منصب کسی خاندان کی لازمی میراث نہیں ہے، اور یہ بات خود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صریح لفظوں میں کہہ دی گئی تھی انہیں جب اﷲ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے آزمالیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے ہر حکم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہے، انہیں توحید کے عقیدے کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا۔ انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، انہیں اپنی بنوی اور نوزائیدہ بچے کو مکہ کی خشک وادی میں تنہا چھوڑنے کا حکم ملا اور وہ بلاتأمل یہ ساری قربانیاں دینے چلے گئے، تب اﷲ تعالیٰ نے انہیں دُنیا بھر کی پیشوائی کا منصب دینے کا اعلان فرمایا۔ اسی موقع پر جب انہوں نے اپنی اولاد کے بارے میں پوچھا تو صاف طورپر بتلادیا گیا کہ ان میں جو لوگ ظالم ہوں گے یعنی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے اپنی جانوں پر ظلم کریں گے وہ اس منصب کے حق دار نہیں ہوں گے۔ بنی اسرائیل کو صدیوں آزمانے کے بعد ثابت یہ ہوا ہے کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ قیامت تک پوری انسانیت کی دینی پیشوائی ان کو دی جائے۔ اس لئے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے صاحبزادے یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں بھیجے جارہے ہیں جن کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ وہ اہل مکہ میں سے بھیجے جائیں۔ اب چونکہ دینی پیشوائی منتقل کی جارہی ہے، اس لئے اب قبلہ بھی اس بیت اللہ کو بنایا جانے والا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اس مناسبت سے آگے تعمیرِ کعبہ کا واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے یہاں سے آیت نمبر 152 تک جو سلسلۂ کلام آرہا ہے اِس کو اس پس منظر میں سمجھنا چاہئے۔

And [mention, O Muhammad], when Abraham was tried by his Lord with commands and he fulfilled them. [ Allah ] said, "Indeed, I will make you a leader for the people." [Abraham] said, "And of my descendants?" [ Allah ] said, "My covenant does not include the wrongdoers."

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...