Ad3

مارچ 13 تاریخ کے حوالے سے

ل624ء بدر کے مقام پر مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان پہلا معرکہ ہوا۔ جسے غزوہ بدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

1781ء برطانوی سائنس دان ولیم ہرشل نے سیارہ یورینس دریافت کیا۔

1921ء منگولیا نے چین سے آزادی کا اعلان کیا۔

1930ء امریکی سائنس دان کلائیڈ ڈبلیو ٹومبوہ نے سیارہ پلوٹو دریافت کیا۔ سیارہ اٹھارہ فروری کو دریافت ہوا مگر اس کا اعلان 13 مارچ 1930 کو کیا گیا۔

1975ء بھارتی پارلیمنٹ نے اندرا شیخ کشمیر ایوارڈ منظور کیا۔

13مارچ 1963ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے لاہور میں منعقد ہونے والے قومی میلہ مویشیاں کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر مختلف جانوروں کی تصاویر بنی تھیں ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت تیرہ پیسے تھی

ولادت :
۔"""""

1699ء میرزا مظہر جانِ جاناں ، ہندوستانی شاعر و مصنف ،  سادات علوی میں سے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی وساطت سے حضرت علی کرم اللہ وجہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد میرزا جان سلطان اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں صاحب منصب تھے۔ میرزا مظہر کی پیدائش کی خبر جب عالمگیر کو ملی تو اس نے کہا کہ بیٹا باپ کی جان ہوتا ہے، چونکہ باپ کا نام میرزا جان ہے، ہم نے ان کے بیٹے کا نام جانِ جان رکھا لیکن عوام میں جانِ جاناں مشہور ہوا۔ آپ کے والد میرزا جان جو سلسلہ قادریہ میں شاہ عبد الرحمٰن قادری کے مرید تھے، آپ کی پیدائش مبارک کے بعد دنیا سے کنارہ کش ہو گئے اور باقی عمر فقر و قناعت میں بسر کی۔ (وفات: 6 جنوری 1781ء)

1741ء جوزف دوم ، مقدس رومی شہنشاہ ، اگست 1765ء تا 20 فروری 1790ء) مقدس رومی شہنشاہ اور نومبر 1780ء 20 فروری 1790ء) سلطنت ہیبسبرگ کا حکمران ، فرانسس اول کا بیٹا ، انہیں روس کی کیتھرین اعظم اور پروشیا کے فریڈریک اعظم کے ساتھ تین عظیم روشن خیال مطلق العنان حکمرانوں میں گنا جاتا ہے۔ ان کی پالیسیوں کو جوزفیت کا نام دیا گیا ، وہ کسی بیٹے کو وارث کے طور پر نہیں چھوڑے، اور ان کا جانشین ان کا چھوٹا بھائی لیو پولڈ دوم تھا۔ (وفات: 20 فروری 1790ء)

1828ء ارنسٹ ٹرمف ، جرمن ماہر لسانیات اور عیسائی مبلغ ، جس نے پنجابی، سندھی، پشتو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر تحقیقی کام کیا۔ شاہ عبداللطیف کا کلام شاہ جو رسالو اسی نے شائع کرایا۔ (وفات: 1885ء)

1844ء من موہن گھوش ، ہندوستانی بیرسٹر اور مصلح ، پہلے ہندوستانی نژاد بیرسٹر تھے۔ تعلیم نسواں اور اپنے ہم وطنوں میں حب الوطنی پیدا کرنے کی کوشش کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ من موہن ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے منظم قومی سیاسیات میں حصہ لیا۔ البتہ ان کی بعض فرنگی نما عادتیں اکثر انہیں کلکتہ میں ہدف تمسخر بنا دیتی تھیں۔ (وفات: 16 اکتوبر 1896ء)

1897ء یگیشے چارینتس ، آرمینیائی شاعر، مصنف اور عوامی کارکن (وفات: 27 جون 1937ء)

1899ء جان ہیز بروک وان ویک ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1977ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان، ریاضی دان و استاد جامعہ (وفات: 27 اکتوبر 1980ء)

1900ء یور گوسسیفرس ، نوبل انعام برائے ادب (1963ء) یافتہ یونانی شاعر، ادیب و سفارتکار (وفات: 20 ستمبر 1971ء)

1902ء محمد عبدالوہاب ، مصری گلوکار، موسیقار و اداکار ،  انہیں مصری اور عربی موسیقی کے چار بڑوں عبد الحلیم حافظ، اُمِ کلثوم، محمد عبدالوہاب اور فرید الاطرش  میں سے ایک سمجھا جاتا ہے ۔ (وفات: 3 مئی 1991ء)

1943ء کفیت حسین بھٹی المعروف کیفی، عنائت حسین بھٹی کے چھوٹے بھائی اور اداکار و فلم ڈائریکٹر (وفات: 13 مارچ 2009ء)

1952ء خالد اقبال یاسر، تمغا امتیاز (2010ء) اور نیشنل بک کونسل دستاویزی انعام (1990، 1993) یافتہ پاکستانی شاعر، صحافی، مصنف، محقق و ناقد ، وہ تاریخ، معلومات عامہ، نقدوتنقید اور شاعری پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ اب وہ پاکستان پبلک سروس کمیشن میں مطالعہ پاکستان کے مشیر ہیں، اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے صلاح کار اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ویزیٹنگ پروفیسر ہیں۔

1966ء اسرافیل عالم ، بنگلہ دیشی سیاست دان ، 2019ء سے رکن بنگلہ قومی اسمبلی جاتیہ سنسد

1969ء ماہی بدر الدوزہ چوہدری بمعروف ماہی بی چوہدری ، بنگلہ دیشی سیاست دان ، 2019ء سے رکن بنگلہ قومی اسمبلی جاتیہ سنسد

1972ء صاحبہ افضل ، پاکستانی اداکارہ

1978ء محمود فاروقی ، بھارتی کاتب، نقاد، ہدایت کار و داستان گو

1980ء ورن سنجے گاندھی ، بھارتی سیاست دان ، وہ سلطان پور لوک سبھا کا رکن ہے، 19 جون 2013ء سے بھارتیہ جنتا پارٹی جنرل سیکریٹری ، وہ پارٹی کا کم عمر ترین جنرل سیکرٹری ہے۔

1982ء پریجا سدھرن ، لمبی دوڑ کی بھارتی اتھلیٹ

1984ء 1984ء گیتا بسرا ، بھارتی فلمی اداکارہ

وفات :
۔"""""

624ء حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ، غزوہ بدر میں شہد ہونے والے پہلے صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

624ء حضرت ذوالشمالین عمیر بن عبد عمروالخزاعی رضی اللہ عنہ، غزوہ بدر میں شہد ہونے والے مہاجر صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

1447ء شاہ رخ مرزا بمعروف شاہ رخ تیموری ، امیر تیمور کا چوتھا اور چھوٹا بیٹا، تیموری سلطنت کا (1404ء تا 1447ء) دوسرا حکمران (پیدائش: 20 اگست 1377ء)

1857ء ولیم ایمہرسٹ ، برطانوی سفارت کار اور نو آبادیاتی منتظم ، (1 اگست 1823ء تا 13 مارچ 1828ء) 12واں گورنر جنرل فورٹ ولیم پریزیڈینسی (پیدائش: 14 جنوری 1773ء)

1901ء بنجمن ہیریسن ، امریکی وکیل، فوجی افسر، سیاستدان و سفارتکار ، (4 مارچ 1889ء تا 4 مارچ 1893ء) 23واں امریکی صدر (پیدائش: 20 اگست 1833ء)

1914ء نورالدین ، لعین مرزا غلام احمد کا قریبی ساتھی اور (27 مئی 1908ء تا 13 مارچ 1914ء) پہلا قادیانی خلیفہ جو بعد میں اس کی شاخ لاہوری جماعت بنائی (پیدائش: 8 جنوری 1841ء)

1968ء اللہ بخش یوسفی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مؤرخ، صحافی، تحریک خلافت اور تحریک پاکستان کے کارکن ، انہیں صوبہ خیبر پختونخوا کا بابائے صحافت بھی کہا جاتا ہے۔ (پیدائش: 25 دسمبر 1900ء)

1975ء ایواینڈرک ، کروشیائی (سوویت یونین)  ناول نگار، ڈرامہ نگار (پیدائش: 10 اکتوبر 1892ء)

2002ء ناصر حسین، بھارتی فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر، عامر خان بھارتی فلمی اداکار کے چچا (پیدائش: 3 فروری 1931ء)

2003ء شاہدہ پروین ، پاکستان کی کلاسیکی گلوکارہ ۔٭13 مارچ 2003ء کو پاکستان کی نامور کلاسیکی گلوکارہ شاہدہ پروین لاہور میں وفات پا گئیں اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔ شاہدہ پروین مشہور گلوکارہ زاہدہ پروین کی صاحبزادی تھیں۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنی والدہ کے علاوہ استاد اختر حسین خان، استاد فتح علی خان اور استاد چھوٹے غلام علی خان سے حاصل کی تھی۔شاہدہ پروین بھی اپنی والدہ کی طرح کافی گانے کی ماہر سمجھی جاتی تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کے انتقال کے بعد انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

2003ء ایلس جارج بمعروف ایلس فیض ، شاعرہ، دانشور، مصنفہ اور سماجی کارکن، پاکستانی انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ (پیدائش: 22 ستمبر 1914ء)

2004ء استاد ولایت حسین خان ، بھارتی ستار نواز موسیقار (پیدائش: 28 اگست 1928ء)

2007ء احمد علی خان ، پاکستانی صحافی۔٭ پاکستان کے نامور صحافی احمد علی خان 01 جولائی 1924ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1945ء میں انہوں نے بھوپال کے اردو جریدے ترجمان سے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز کیا۔ 1946ء میں وہ ڈان دہلی سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان ٹائمز سے وابستہ ہوگئے جس کے ایڈیٹر ان دنوں فیض احمد فیض تھے۔ پاکستان ٹائمز سے ان کی وابستگی تقریباً ایک دہائی تک جاری رہی۔1962ء میں وہ روزنامہ ڈان کراچی سے وابستہ ہو گئے اور 2000ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے، بعدازاں 2003ء سے 2004ء تک بھی وہ اس اخبار سے وابستہ رہے۔ احمد علی خان کا شمار پاکستان کے ترقی پسند صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی صحافت کے اعلیٰ اقدار کے قیام کے لئے وقف رکھی۔ ذاتی طور پر بھی ان کا تعلق اردو کے ایک معروف صحافی اور ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کی اہلیہ ہاجرہ مسرور اور ان کی خواہر نسبتی خدیجہ مستور اردو کی مشہور ادیبہ تھیں جبکہ مشہور شاعر خالد احمد ان کے برادر نسبتی ہیں۔ ان کے دو ہم زلف ظہیر بابر اور حسن عابدی بھی صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ ایک اور ہم زلف حبیب وہاب الخیری قانون کے شعبے سے وابستگی کی وجہ سے معروف ہیں۔ 13مارچ 2007ء کو احمد علی خان کراچی میں وفات پا گئے۔

2009ء کفیت حسین بھٹی المعروف کیفی، عنائت حسین بھٹی کے چھوٹے بھائی اور اداکار و فلم ڈائریکٹر (پیدائش: 13 مارچ 1943ء)

1971ء۔۔ڈاکٹر تصدق حسین خالد ٭ اردو آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد 12 جنوری 1901ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہیں قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1935ء سے 1937ء تک پنجاب مسلم لیگ کے پبلسٹی سیکریٹری بھی رہے تھے۔ ڈاکٹر تصدق حسین خالد کے شعری مجموعے سروونو اور لامکاں نا لامکاں کے نام سے شائع ہوئے۔ 13 مارچ 1971ء کو تصدق حسین خالد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں دارالعلوم اسلامیہ، شادمان لنک روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔

1993ء۔۔۔حبیب جالب ٭ پاکستان کے نامور عوامی اور انقلابی شاعر حبیب جالب  24 مارچ 1928ء کو میانی افغاناں، ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ حبیب جالب کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ انہوں نے زندگی بھر عوام کے مسائل اور خیالات کی ترجمانی کی اور عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ 1962ء میں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم دستور تحریر کی جس کا یہ مصرع ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا پورے ملک میں گونج اٹھا۔ بعدازاں انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی کے مسلک سے زیادہ قریب تھے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو، ضیاء الحق کے دور میں ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا اور بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کی نظم وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے نے پورے ملک میں مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سرمقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، اس شہر خرابی میں، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سر دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔ حبیب جالب نے کئی معروف فلموں کے لئے بھی نغمہ نگاری کی جن میں مس 56، ماں بہو اور بیٹا، گھونگھٹ، زخمی، موسیقار، زمانہ، زرقا، خاموش رہو، کون کسی کا، یہ امن، قیدی، بھروسہ، العاصفہ، پرائی آگ، سیما، دو راستے، ناگ منی، سماج اور انسان شامل ہیں۔ انہیں انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے اعلیٰ اعزازات پیش کئے تھے۔ کراچی پریس کلب نے انہیں اپنی اعزازی رکنیت پیش کرکے اپنے وقار میں اضافہ کیا تھا اور ان کی وفات کے بعد 2008ء میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا جو خود اس اعزاز کے لئے باعث اعزاز تھا۔  13 مارچ 1993ء کو حبیب جالب لاہور میں وفات پاگئے اور قبرستان سبزہ زار اسکیم میں آسودۂ خاک ہوئے

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...