آج سال 74واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 291 دن باقی ہیں ۔
1744ء فرانسیسی بادشاہ لوئس پندرہ نے برطانیہ سے جنگ کا اعلان کیا۔
1877ء برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ کرکٹ میچ شروع ہوا۔15 مارچ 1877:: آج ٹیسٹ کرکٹ کی بھی سالگرہ ہے بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کی سالگرہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا.. تاریخ کا سب سے پہل اٹیست میچ 140 سال پہلے آج کے دن انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا .. سب سے پہلا گیند انگلینڈ کے الفریڈ شاہ نے پھینکا . انہوں نے اس میچ 8 وکٹیں حاصل کیں مزے کی بات ہے یہ ان کی سب سے بہترین کارکردگی بھی ہے اپنے پورے کیرئیر میں 7 میچز میں انہیں ٹوٹل 12 وکٹیں ملیں ..ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے پہلا رن انگلینڈ میں پیدا ہونے والے آسٹریلوی بلے باز چارلس بینرمین کے حصے میں آیا انہون نے ہی سب سے پہلی سنچری اسی اننگز میں 165* بنائی .. مزے کی بات ہے یہ ان کی واحد فرسٹ کلاس سنچری بھی تھی .. آسٹریلیا نے یہ میچ 45 رنز سے جیت لیا ..تب ایک اوور چار گیندوں پر مشتمل تھا..ایک اور اتفاق یہ بھی ہوا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان مارچ 1977 میں ایک سنچری ٹیسٹ اسی یاد میں کھیلا گیا جو کہ آسٹریلیا نے 45 رنز کے مارجن سے ہی جیتا تھا .
.
15 مارچ 1975:: انڈیا نے ملائیشیا میں کھیلے جانے والے تیسرے عالمی ہاکی کپ میں پاکستان کو شکست دے کر ٹرافی جیت لی تھی . یہ انڈیا کی پہلی اور آخری ورلڈ کپ فتح تھی ... سب سے پہلا کپ 1971 میں پاکستان نے جیتا تھا.. اب تک سب سے زیاد 4 مرتبہ ورلڈ کپ پاکستان نے ہی جیتا ہے.. موجودہ چمپئین آسٹریلیا اور ہالینڈ 3-3 مرتبہ جب کہ جرمنی دو مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکا ہے۔۔
1939ء جرمنی نے چیکو سلواکیہ پر قبضہ کیا۔
1961ء جنوبی افریقہ نے دولت مشترکہ سے علیحدگی اختیار کی۔
1981ء پاکستانی مغوی طیارے کے مسافر ملک شام میں رہا ہوئے۔
1985ء ہلا انٹرنیٹ ڈومین نیم سمبولکس ڈاٹ کام رجسٹرڈ ہوا۔
1995ء بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے نام سے اپنی الگ سیاسی جماعت قائم کی۔
1981ء پاکستانی مغوی طیارے کے مسافر ملک شام میں رہا ہوئے ۔
1979ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے مشتاق محمد کی قیادت میں آسٹریلیا کا دورہ کیا۔ اس سیریز میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ یہ دونوں ٹیسٹ سرفراز نواز کے دو مختلف کارناموں کی وجہ سے تاریخی اہمیت اختیار کرگئے۔15 مارچ 1979 دنیا نے پہلی بار ریورس سوئنگ کی تباہ کاری دیکھی تھی. جب سرفراز نواز نے 33 گیندون کے سپیل میں صرف ایک رن دے کر 7 آسٹریلوی کھلاڑی آوٹ کر دئے تھے .. پہلا ٹیسٹ میچ میلبرن کے میدان میں کھیلا گیا۔ یہ پاکستان کا سوواں ٹیسٹ میچ تھا۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں 28 رنز کی برتری حاصل کی اور دوسری اننگز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 353 رنز بناکر اننگز ختم کرنے کا اعلان کردیا، اب آسٹریلیا کو میچ جیتنے کے لئے تقریباً 540 منٹ میں 380 رنز بنانے تھے۔ ایلن بورڈر اور کم ہیوز کی چوتھے وکٹ کی 177 رنز کی شراکت آسٹریلیا کی فتح کو بالکل قریب لے آئی۔ اس وقت آسٹریلیا کو میچ جیتنے کے لئے صرف 75 رنز درکار تھے اور اس کے سات کھلاڑی ابھی باقی تھے۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کرکٹ کی تاریخ کا حیرت انگیز ترین واقعہ کہا جاسکتا ہے۔ سرفراز نواز نے صرف ایک رن کے عوض، آسٹریلیا کے سات کھلاڑیوں کو آئوٹ کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور پاکستان نے جو ایک موقع پر شکست کے خطرے سے دوچار تھا، یہ میچ 71 رنز سے جیت لیا۔ اس اننگز میں سرفراز نواز نے مجموعی طور پر 35.4 اوورز پھینکے، جن میں سے سات میڈن رہے، انہوں نے 86 رنز کے عوض آسٹریلیا کے 9 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ (دلچسپ بات یہ تھی کہ دسواں کھلاڑی، یالپ بھی سرفراز نواز ہی ایک اوور کے دوران رن آئوٹ ہوا تھا )۔یوں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ایک شاندار فتح نصیب ہوئی تھی ۔ اگلے 8 سال تک یہ پاکستان کی طرف سے یہ بہترین باولنگ کا ریکارڈ رہا ( بیرون ملک آج بھی ریکارڈ ہے ).. جو بعد میں عبدالقادر نے انگلینڈ کے خلاف لاہور میں 56 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کر کے توڑ دیا.. اسی سپیل کی بدولت سرفراز کو ریورس کا موجد بھی کہا جاتا ہے ... اس میچ میں عمران خان کی کارکردگی بھی اچھی تھی۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ پرتھ کے میدان میں کھیلا گیا۔ اس میچ کی دوسری اننگز میں سرفراز نواز کی اپیل پر ہلڈرچ کو Handling the ball پر آئوٹ قرار دے دیا گیا۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا موقع تھا جب کسی بیٹسمین کو اس طرح آئوٹ دیا گیا۔ یہ تاریخی واقعہ 15 مارچ 1979ء کو پیش آیا تھا ۔
1970ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اوساکا(جاپان) میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش (ایکسپو 70) کے افتتاح کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ 50پیسے مالیت کے اس یادگاری ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر رفیع الدین نے تیار کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ترکی ،ایران اورپاکستان کے پرچم بھی طبع کیے گئے تھے ۔
1976ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے نیشنل کالج آف آرٹس، لاہورکے قیام کی سو ویں سالگرہ کے موقع پر 20پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر فارسی کا مشہور مصرع ’’ کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی‘‘ اور انگریزی میں 100 years of National College of Arts, Lahore (Mayo School of Arts)” 1875-1975 کے الفاظ تحریر تھے اور اس کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔
2003ء ہو جن تاؤ چین کے صدر بنے۔
2004ء فیصل آباد وولوز کے نام سے پاکستان پریمیئر لیگ کے لئے فیصل آباد کی نمائندگی کرنے والی ایک کرکٹ ٹیم کا قیام عمل میں آیا ۔
2008ء اسلام آباد میں اطالوی ریسٹورنٹ میں بم دھماکا، 2 غیر ملکی ہلاک، 19 زخمی۔
15 مارچ 2015۔لاہورکے علاقے یوحنا آباد میں 2 دھماکوں میں کم از کم 15افراد ہلاک اور 78زخمی ہوگئے۔ دھماکوں میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچز رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ کو نشانہ بنایا گیا۔حملوں میں 15افراد ہلاک ہوئے۔عینی شاہدین نے حملوں کو خودکش قرار دیا. پہلا دھماکا کیتھولک چرچ اور دوسرا کرائسٹ چرچ میں اس وقت ہوا جب مسیحی افراد عبادت میں مصروف تھے۔ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ۔ کی اس کے بعد چرچ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن داخلے میں ناکامی پر دونوں حملہ آوروں نے خود کو اڑا دیا۔چرچ کی سیکیورٹی پر 4 اہلکار مامور تھے۔جس وقت یہ حملہ ہوا مبینہ طور چاروں اہلکار ہوٹل پر بیٹھے ہوئے تھے اور پاکستان و آئر لینڈ کا میچ دیکھ رہے تھے۔دھماکے کے بعد مشتعل ہونے والے ہجوم نے ہوٹل گھیر میں لے لیا اور چاروں پولیس اہلکاروں پر تشدد شروع کر دیا۔مشتعل ہجوم کے تشدد سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ باقی تینوں اہلکاروں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
15 مارچ 2015 کو لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں 2 خودکش دھماکوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد مسیحی برادری کے افراد نے مشتعل ہو کر دو افراد حافظ نعیم اور بابر نعمان کو مشتبہ جان کر زندہ جلا دیا۔
.
*ولادت*
1767ء اینڈریو جیکسن، ساتواں امریکی صدر (وفات: 1845ء)
1830ء پال ہیسی، نوبل انعام (1910ء) یافتہ جرمن لکھاری اور مترجم (وفات: 1914ء)
1854ء امیل وون بیرنگ، نوبل انعام (1901ء) یافتہ جرمن طبیب اور فزیالوجسٹ و معلم (وفات: 1917ء)
1878ء رضا خان المعروف رضا شاہ پہلوی، فارس کو ایران کا نام دینے والے شاہ ایران (وفات: 1944ء)
1920ء ای ڈونالڈ تھامس، نوبل انعام (1990ء) یافتہ امریکی جینیٹکس طبیب (وفات: 2012ء)
1927ء شفقت رضوی، پاکستانی محقق، افسانہ نگار، نقاد اور اردو پروفیسر، مولانا حسرت موہانی پر کافی تحقیقی کام کیا۔ حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ (وفات: 2009ء)
1930ء مارٹن کارپلس، آسٹریا نژاد امریکی مفروضیاتی کیمیا دان اور معلم جامعہ ہاورڈ امریکہ
1930ء زیورس ایونوچ الفرو، نوبل انعام (2000ء) یافتہ روسی طبیعیات دان
1933ء سید شمیم احمد، پاکستانی دانشور، جامعہ بلوچستان اور جامعہ کراچی میں اردو ادب کے معلم رہے۔ کھیولی ضلع بارہ بنکی برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ (وفات: 1993ء کراچی)
1949ء سعادت سلیم، پاکستانی شاعر، محقق، نقاد اور معلم جامعہ پنجاب، بمقام لاہور
1955ء محسن حسن خان، پاکستانی مایہ ناز کرکٹر اور اوپنر، اور تجزیہ کار ۔ کراچی میں پیدا ہوئے ۔
1967ء سلیم شیخ، پاکستانی اداکار، بمقام راولپنڈی
1970ء مرتضی جاوید عباسی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی پاکستان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 18 ایبٹ آباد سے منتخب ہوئے والے ممبر قومی اسمبلی
1973ء رچرڈ کیٹلبرو، برطانوی کرکٹر
1983ء پردیش سنگھ المعروف یو یو ہنی سنگھ، بھارتی گلوکار
1985ء ایوا اموری، امریکی فلمی اداکارہ
1993ء احسان عادل، پاکستانی کرکٹر (آل راؤنڈر) بمقام شیخوپورہ
1999ء عالیہ بھٹ، بھارتی فلمی اداکارہ
پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔ حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے۔
1874ء۔۔ سر شیخ عبدالقادر15مارچ 1874ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سرسید احمد خان کی تحریک سے مسلمان نوجوانوں کا جو گروہ پیدا ہوا تھا سر شیخ عبدالقادر اس میں پیش پیش تھے۔1898ء میں وہ پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار آبزرور کے مدیر ہوئے اور 1901ء میں انہوں نے اردو کا ادبی جریدہ مخزن جاری کیا۔ دنیائے ادب میں مخزن کو یہ اختصاص حاصل ہوا کہ علامہ اقبال کی بیشتر نظمیں پہلی مرتبہ مخزن ہی میں شائع ہوئی تھیں۔علامہ اقبال کے پہلے اردو مجموعہ کلام بانگ درا کا دیباچہ سرشیخ عبدالقادر ہی نے لکھا تھا۔ 1904ء میں سرشیخ عبدالقادر بیرسٹری کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ 1907ء میں انہوں نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا پہلے دہلی پھر لاہور میں وکالت کی۔ 1921ء میں ہائی کورٹ کے جج اور 1935ء میں پنجاب کے وزیر تعلیم بنے۔ 1939ء میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور 1942ء میں بہاولپورکے چیف جج بن گئے۔9 فروری 1950ء اردو کے عظیم محسن اور معروف ماہر قانون سرشیخ عبدالقادرکی تاریخ وفات ہے۔سر شیخ عبدالقادر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
*وفات*
1962ء آرتھر کومپٹون، نوبل انعام (1927ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات (پیدائش: 1892ء)
2004ء جوہن پوپل، نوبل انعام (1998ء) یافتہ انگریز حیاتیاتی کیمیا دان (پیدائش: 1925ء)
1997ء۔جسٹس دراب پٹیل ٭ پاکستان کے نامور ماہر قانون اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) دراب پٹیل 13 ستمبر 1924ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ جسٹس دراب پٹیل کا تعلق ایک کاروباری پارسی خاندان سے تھا۔ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی وہ والدہ کے سائے سے محروم ہوگئے تھے چنانچہ ان کی تعلیم و تربیت ان کی دادی نے کی جو بمبئی میں مقیم تھیں۔ دراب پٹیل نے بمبئی میں ایم اے اور ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لئے وہ انگلستان چلے گئے۔ 1954ء میں وہ پاکستان آگئے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ 1966ء میں وہ مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے اور 1976ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے۔ درمیان میں انہیں بلوچستان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملا۔وہ سپریم کورٹ کی اس بنچ کے رکن تھے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل کی سماعت کی تھی۔ اس مقدمے میں جسٹس (ر) دراب پٹیل نے اپنا اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا اور بھٹو کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔ 1981ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے پی سی او نافذ کیا تو جسٹس دراب پٹیل نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد تادم مرگ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ وہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے بانی اور تاحیات چیئرمین تھے۔ 15 مارچ 1997ء کو جسٹس (ر) دراب پٹیل کراچی میں وفات پاگئے۔
*تعطیلات و تہوار*
پولیس کے تشدد کے خلاف بین الاقومی دن۔
1848ء ہنگر ی کا قومی دن .
No comments:
Post a Comment