1801ء۔ہندستان میں پہلی آرڈینینس فیکٹری قائم ہوئی۔
1940ء۔اٹلی کے آمر بینیٹو مسولینی نے انگلینڈ اور فرانس کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔
1944ء۔ نیتا جی کی قیادت میں آزاد ہند فوج برما کی سرحد پار کر کے ہندستان میں داخل ہوئی۔
1966ء۔ انڈونیشیا میں جنرل سهارتو نے حکومت بنائی۔
1971ء۔ پیرو میں زمیں کھسکنے سے ۲۰۰؍افراد جاں بحق۔
1972ء۔ نئی دہلی میں عالمی کتاب میلے کا افتتاح ہوا۔
1997ء۔ترکی میں روس کا طیارہ گر کر تباہ ہونے سے 50افراد ہلاک
1974ء - اوپیک نے امریکہ، یورپ اور جاپان پر سے پانچ مہینوں بعد پابندی اٹھا لی۔
1984ء - حکومت پاکستان نے طلباء تنظیموں کو ختم کر دیا۔ الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کا آغاز کیا۔
2003ء - امریکہ اور حمایتی افواج کا عراق پر حملہ۔
2005ء امریکا کے شہر نیویارک میں اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے نماز جمعہ کی امامت کی اس نماز میں مردوخواتین دونوں شریک تھے۔
1990ء امریکا کے شہر بوسٹن میں میوزیم سے تین سو ملین ڈالر کی مالیت کی تیرہ پینٹنگز چوری ہوئیں۔
1989ء مصر میں چار ہزار چار سو سال پرانی ممی دریافت ہوئی۔
1977ء امریکا نے اپنے شہریوں پرکیوبا ،ویتنام،شمالی کوریا اور کمبوڈیاکے سفر کی پابندی عائد کر دی۔
1945ء جنگ عظیم دوم:ایک ہزار دوسو پچاس امریکن بمبارطیاروں نے برلن پر حملہ کیا۔
1944ء جرمنی نے ہنگری پر قبضہ کیا۔
1922ء ہندوستان میں برطانوی مجسٹریٹ نے موہن داس کرم چند گاندھی کونافرمانی پر چھ سال کے لیے جیل بھیج دیا۔
2003ء۔۔۔پاکستان فضائیہ کے سترہویں سربراہ ایر چیف مارشل کلیم سعادت رانا 12 دسمبر 1951ء کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں پیدا ہوئے تھے ۔ انھوں نے 13 مارچ 1971ء کو پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا اور 1971ء اور 1999ء دونوں جنگوں میں حصہ لیا۔ 1980ء سے 1983ء کے دوران انھوں نے ڈیپوٹیشن پر الجزائر کی فضائیہ میں خدمات انجام دیں۔ 20فروری 2003ء کو ایر چیف مارشل مصحف علی میر کی ناگہانی وفات کے کوئی ایک ماہ بعد 18 مارچ 2003ء کو انھیںپاک فضائیہ کاچیف آف اسٹاف مقرر کردیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 18 مارچ 2006ء تک فائز رہے۔ انھیں حکومت پاکستان نے نشان امتیاز(ملٹری) ، ہلال امتیاز (ملٹری) ، ستارہ امتیاز( ملٹری)، تمغہ امتیاز(اعزازی) اور ستارہ بسالت کے اعزازات عطا کیے تھے۔ جبکہ انھیں لیجن آف آنر کا اعزاز بھی ملا تھا ۔
2006ء۔۔۔۔پاکستان فضائیہ کے اٹھارہویں سربراہ ایر چیف مارشل تنویر محمود احمد یکم فروری 52 19ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے 15اپریل 1972ء کو پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا۔ انھوں نے ترکش ایر وار کالج سے گریجویشن اور نیشنل ڈیفنس کالج اسلام آباد سے ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ متحدہ عرب امارات کی ایر فورس میں بھی خدمات انجام دیں۔ 18مارچ 2006ء کو انھیں پاک فضائیہ کاچیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر 18مارچ 2009ء تک فائز رہے۔ انھیں حکومت پاکستان نے نشان امتیاز(ملٹری)، ہلال امتیاز (ملٹری) اور ستارہ بسالت کے اعزازات عطا کیے تھے۔ جبکہ ترک حکومت کی جانب سے انھیں لیجن آف میرٹ، حکومت برازیل کی جانب سے آرڈر آف ایروناٹیکل میرٹ، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایمریطس آرڈ آف دی فرسٹ میرٹ، حکومت اومان کی جانب سے اومان ملٹری ایوارڈ آف دی سیکنڈ کلاس اور حکومت سعودی عرب کی جانب سے کنگ عبدالعزیز رائل میڈل آف ہائیسٹ آنر فرام سعودی عربیہ کے اعزازات بھی ملے تھے۔
2009ء۔۔۔۔پاکستان فضائیہ کے انیسویں سربراہ ایر چیف مارشل راؤ قمر سلیمان 1954ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے یکم جون 1975ء کو پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا اور 18 مارچ 2009ء کو پاک فضائیہ کے چیف آف اسٹاف مقرر ہوئے۔ وہ تین برس تک اس منصب پر فائز رہے اور 19 مارچ 2012ء کواس عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ نشان امتیاز(ملٹری)، ہلال امتیاز (ملٹری)، ستارہ امتیاز (ملٹری)، تمغہ امتیاز( ملٹری) اور ستارہ بسالت کے اعزازات کے علاوہ کئی غیر ملکی اعزازات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔
1977ء۔۔۔۔اکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بمبئی ، کیلیفورنیا اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اور ایس ایم لاء کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے۔ جلد ہی ان کی شہرت حکومتی ایوانوں تک جا پہنچی۔ 1958ء میں ایوب خان نے انہیں اپنی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا۔ 1963ء میں وہ پاکستان کے وزیرخارجہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انقلاب آگیا اور پاکستان عالمی تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ ستمبر 1965ء میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔ جنوری 1966ء میں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔30 نومبر 1967ء کو انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے مغربی پاکستان میں واضح کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971ء میں پاکستان کے صدر اور پھر 1973ء میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1977ء کے عام انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر حزب اختلاف نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں 5جولائی 1977ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے جناب ذوالفقار علی بھٹوکو ان کے عہدے سے معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ دو ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ 18 مارچ 1977ء کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس ، جسٹس انوار الحق نے اپنا وزن ان ججوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی سزا کے توثیق کی تھی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر پہنچا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا۔
1993ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سات روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرامن کی فاختہ اور پاکستان، ایران اور ترکی کے پرچم بنے تھے اور انگریزی میں SOUTH & WEST ASIA POSTAL UNION کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرفیضی امیرنے تیار کیا تھا۔
ولادت
1938ء - ششی کپور، بھارتی اداکار
وفات
1993ء۔۔۔پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے مرکزی صدر محمد خان جونیجو 18 اگست 1932ء کوسانگھڑ میں پیدا ہوئے تھے۔وہ صدر ایوب خان کے زمانے میں سیاست میں نمایاں ہوئے اور صوبائی وزارت پر فائز ہوئے۔ 1985ء میں وہ پاکستان کے وزیراعظم بنے، انہوں نے 8 سالہ مارشل لاء اور 20 سالہ ایمرجنسی کا خاتمہ کیا، ملک میں جمہوری پارلیمانی نظام بحال کیا، سلب شدہ بنیادی حقوق بحال کئے، مارشل لاء کے خاتمے کے لئے قومی اسمبلی سے آٹھویں ترمیم منظور کروائی اور پھر خود ہی اس کا پہلا شکار بنے۔ وہ سادگی اور شرافت کا پیکر تھے۔18 مارچ 1993ء کو امریکا کے شہر بالٹی مور کے ایک ہسپتال میں محمد خان جونیجو کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 61 برس تھی۔ انہیں خون کے سرطان کا عارضہ لاحق تھا۔20 مارچ 1993ء کو محمد خان جونیجو کو ان کے آبائی گائوں سندھڑی میں سپردخاک کردیا گیا۔
1994ء کو پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو اور فلم کے معروف اداکار محبوب عالم کراچی میں وفات پاگئے۔محبوب عالم 1948ء میں ٹنڈوغلام علی، ماتلی ضلع حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ تاریخ میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے سندھی فلم سورٹھ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ پھر پاکستان ٹیلی وژن کے کئی ڈراموں میں چھوٹے بڑے کردار ادا کئے تاہم 1979ء میں ٹیلی وژن کے مشہور ڈرامہ سیریل وارث میں چوہدری حشمت کا کردار ادا کرکے وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیلی وژن کے کئی اور سیریلز میں بھی کام کیا جن میں دہلیز، سمندر، وقت، لازوال اور پیاس کے نام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے اردو، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور پشتو کی 50 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ خود بھی چند فلموں کی ہدایات دیں۔وہ ٹنڈوغلام علی، ماتلی ضلع حیدرآباد میں اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
2007ء - باب وولمر، برطانوی کرکٹر اور پاکستانی کوچ
2013ءایم ایم عالم 6 جولائی 1935ء کو بھارت کے شہر کولکتہ میں پیدا ہوئے اور 1953ء میں پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں ان کی بے مثال جرات اور بہادری کے باعث ستارۂ جرات سے بھی نوازا گیا۔ وہ 1982ء میں ایئر کموڈور کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ قوم کا یہ عظیم سپوت 18 مارچ 2013ء کو طویل علالت کے بعد 78 برس کی عمر میں اِس دارفانی سے کوچ کر گیا۔
No comments:
Post a Comment