Ad3

مارچ 22 تاریخ کے حوالے سے

752ء اسٹیفن دوم 23 ویں کیتھولک پوپ منتخب کئے گئے۔

1873ء پوئرٹو ریکو میں غلامی کے رواج کو ختم کیا گیا۔

1888ء عالمی فٹ بال لیگ کا قیام عمل میں آیا۔

1917ء روس کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے والا امریکہ پہلا ملک بنا۔

1940ء۔لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا 3 روزہ تاریخ ساز 27 واں اجلاس شروع ہوا جس میں قرارداد لاہور منظور کی گئی۔

1942ء سر اسٹیفورڈ كرپس کی قیادت میں كرپس مشن ہندوستان آیا۔٭1942ء کے ابتدائی ایام میں جب ایشیا میں برطانوی مقبوضات ایک ایک کرکے برطانیہ کے ہاتھ سے نکلنے لگے تو اس نے ہندوستان کے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اور جنگ میں ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے 22 مارچ 1942ء کو سر اسٹیفورڈ کرپس کی سربراہی میں ایک مشن ہندوستان بھیجا جس کا مقصد ہندوستان کے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ گفت و شنید کرکے ہندوستان کے آئینی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔سر اسٹیفورڈ کرپس نے قائداعظم محمد علی جناح، پنڈل جواہر لعل نہرو، مہاتما گاندھی، ابوالکلام آزاد اور متعدد رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی تجاویز کا اعلان کیا جو کرپس تجاویز کہلاتی ہیں۔ ان تجاویز میں کہا گیا تھا کہ حکومت برطانیہ ہندوستان میں ایک نئی وفاقی مملکت قائم کرنا چاہتی ہے جس کو دولت مشترکہ کے دوسرے رکن ممالک کے برابر ڈومینین کا درجہ حاصل ہوگا۔وہ رسمی طور پر تاج برطانیہ کا وفادار ہوگا تاہم اپنے داخلی اور خارجی امور میں کسی ملک کا زیر دست نہ ہوگا۔سر اسٹیفورڈ کرپس کی یہ تجاویز مسلم لیگ اور کانگریس کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی مسترد کردی اور 12 اپریل 1942ء کو سر اسٹیفورڈ کرپس بے نیل مرام وطن واپس لوٹ گئے

1945ء عرب لیگ یا جامعہ الدول العربیہ قائم کی گئی۔

1946ء برطانیہ نے اردن کو آزاد کرنے کے لئے معاہدے پر دستخط کئے۔

1947ء لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن آخری وائسرائے کے طور پر ہندوستان آئے۔

1954ء امریکہ میں مشی گن کے ساؤتھ فيلڈ میں پہلا شاپنگ مال کھول دیا گیا۔

1956ء مارٹن لوتھر کنگ پر فرد جرم عائد کیا گیا۔ ان کا جرم تھا معروف امریکن سیاہ فام خاتون روزا پارک کی نسلی تعصب کے خلاف اٹھائی گئی آواز میں ان کا ساتھ دینا۔

1958ء سوویت یونین نے نووايا جیمليا میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔

1964ء کلکتہ میں پہلی ونٹیج کار ریلی نکالی گئی۔

1977ء اندرا گاندھی نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دیا۔

1978ء فرانس نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔

1979ء۔۔وائس ایڈمرل کرامت رحمان نیازی  22 مارچ 1979ء سے  23  مارچ 1983 تک  پاک بحریہ کے آٹھویں سربراہ رہے۔ وائس ایڈمرل کرامت رحمان نیازی کراچی کے ایک پشتون گھرانے  میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1956ء میں پاک بحریہ میں کمیشن حاصل کیا اور 1964ء میں پاکستان کی پہلی آبدوز ’’غازی‘‘ کے کمانڈر بنے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیااور نشان امتیاز(ملٹری)، ستارہ جرات( ملٹری) اور ہلال امتیاز(ملٹری) کے اعزازات حاصل کیے۔   22 مارچ 1979ء کو پاکستان بحریہ کے چیف آف اسٹاف  بنے اور 23مارچ 1983ء تک اس عہدے پر فائز رہے

1985ء۔۔سید فخر امام 22 مار چ  1985ء سے 26 مئی 1986 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے گیارہویں اسپیکر رہے۔سید فخر امام 18دسمبر 1942ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ  22مارچ 1985ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 26مئی1986ء کو ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اس عہدے سے رخصت ہوئے ۔ بعد ازاں انھوں نے اسی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے فرائض بھی انجام دیئے۔ سید فخر امام کی اہلیہ سیدہ عابدہ حسین بھی ایک پرانی پارلیمینٹیرین ہیں۔

1989ء اسرائیلی پارلیمنٹ نے مصر کے ساتھ امن معاہدے کو منظوری دی۔

2008ء اسرائیل نے تلکرم کا کنٹرول فلسطین کے حوالے کیا۔ 

2009ء چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوبارہ اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

ولادت :
۔"""""

1394ء مرزا الغ بیگ ، اُزبک ریاضی دان، ماہر فلکیات ، (13 مارچ 1447ء تا 27 اکتوبر 1449ء) تیسرا سلطان سلطنتِ تیمور، امیر تیمور کا علم دوست پوتا جس کو شاہ رخ نے 1409ء میں ماوراء النہر اور سمرقند کا گورنر مقرر کیا تھا۔ (وفات: 27 اکتوبر 1449ء)

1797ء ولیم فریڈرک لوئیس المعروف ولیم اول ، ( 2 جنوری 1861ء تا 9 مارچ 1888ء) پروشیا کا بادشاہ اور (1 جنوری 1871ء تا 9 مارچ 1888ء) پہلا جرمن شہنشاہ، اس کا تعلق جرمن شاہی خاندان سے تھا۔ ولیم اول ملکہ لوئیزی اور پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم ہوہنزولرنکا تیسرا بیٹا تھا۔ (وفات: 9 مارچ 1888ء)

1868ء رابرٹ انڈریو ملکین ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1923ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان و استاد جامعہ ، کی وجہ بنیادی بار اور ضیا برقی اثر کی دریافت تھی۔ (وفات: 19 دسمبر 1953ء)

1913ء صبیحہ گوکچن ، ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز ، وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لئے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔ ترک ذرائع اور صبیحہ گوکچن کے مطابق وہ مصطفٰی عزت بے اور خیریہ خانم کی صاحبزادی تھیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ہانس-لوکاس کیسر کا کہنا ہے کہ وہ آرمینیائی نژاد تھیں۔ (وفات: 22 مارچ 2001ء)

1917ء مولانا محمد یوسف کاندھلوی ؒ ، بھارت سے تعلق رکھنے والے مبلغِ اسلام ، تبلیغی جماعت کے دوسرے عالمی امیر ، آپ بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ کے فرزند اور مولانا محمد ذکریا کاندھلوی ؒ کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں۔ آپ والد کی وفات کے بعد باقاعدہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہو گئے اور امیر مقرر ہوئے۔ تبلیغی جماعت کے اصول چلہ، چار ماہ وغیرہ کی ترتیب انہی کی بنائی ہوئی ہے۔ مشہور زمانہ کتاب " حیاۃ الصحابہ " آپ کی مرتب کردہ ہے۔ آپ جماعتوں کو سخت سے سخت تکلیف سہنے کے لئے تیار کرتے۔ ان کے بیان سحر انگیز ہوتے مرکز نظام الدین، بھارت میں آپ کا بیان سننے ہندو بکثرت آتے۔ آپ پاکستان کا سفر بھی اختیارکرتے۔ لاہور میں اجتماع کے دوران طبیعت خراب ہوئی اور ہسپتال کے راستہ میں انتقال ہوا۔

1931ء برٹن رچر ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1976ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان و استاد جامعہ ۔ یہ انعام  نئے قسم کے بھاری عناصری زرات کو دریافت کرنے پر انہیں چینی نژاد امریکی طبیعیات دان کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (وفات: 18 جولا‎ئی 2018ء)

1934ء کیلاش چندر میگھوال ، بھارتی سیاست دان اور وکیل

1944ء عبد الحمید ڈوگر ، خیر پور سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی وکیل و منصف (3 نومبر 2007 تا 21 مارچ 2009) منصفِ اعظم پاکستان ، پرویز مشرف کے پی سی او جج تھے۔ (28 اپریل 2000ء تا 3 نومبر 2007ء) عدالت عظمیٰ پاکستان میں بطور جج رہے۔

1951ء زلمے خلیل زاد ، مزار شریف افغانستان میں پیدا ہونے والا امریکی تاجر، ماہر بین الاقوامی امور اور سفارتکار ۔ جارج بُش کابینہ میں امریکا کی جانب سے سفیر برائے اقوام متحدہ مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی سفیر برائے افغانستان اور پھر امریکی سفیر برائے عراق بھی مقرر ہوئے۔ زلمے خلیل زاد امریکی وائٹ ہاؤس، سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور پینٹاگون میں امریکی پالسی تشکیل دینے والی کمیٹیوں کے رکن بھی رہے ہیں۔

1981ء ٹیفنی ڈوپونٹ ، امریکی فلمی اداکارہ

وفات :
۔"""""

1300ء زینب بنت عمر بن الکندی ، لبنان سے تعلق رکھنے والی مسلم خاتون عالمہ، محدثہ اور مؤرخ تھیں۔ وہ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین الذہبی کے اساتذہ میں شمار ہوتی ہیں۔ اُن کے شوہر ناصر الدین ابن قرقین بعلبک شہر کے ناظم تھے۔البتہ اُن کا تذکرہ علامہ شمس الدین الذہبی نے کیا۔ وہ لبنان کے شہر بعلبک میں رہا کرتی تھیں۔ علامہ شمس الدین الذہبی نے اِن سے صحیح بخاری کا جز کتاب النکاح پڑھا تھا۔ وہ محمد ابن قوالج کی بھی استاد تھیں جو علامہ ابن حجر عسقلانی کے شیخ الحدیث ہیں۔ زینب بنت عمر کے متعلق ابتدائی تفصیلات نامعلوم ہے ۔ غالباً وہ 1213ء میں دمشق میں پیدا ہوئیں۔

1835ء ولیم فریزر ، ہندوستان میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم، جو دہلی میں بطور سیاسی ایجنٹ برائے انتظامات دہلی و مغلیہ سلطنت خدمات سر انجام دیتا رہا۔ ولیم فریزر نےمغل شہنشاہ اکبر شاہ ثانی کے عہد حکومت میں بطور سیاسی ایجنٹ ایسٹ انڈیا کمپنی فرائض سر انجام دیئے۔ 1835ء میں ولیم فریزر قتل کر دیا گیا۔ (پیدائش : 1784ء)

1899ء گوٹ لیئیب ویل ہیلم لیئیٹنر ، برطانوی مستشرق، مہم جو، فوٹوگرافر (پیدائش: 14 اکتوبر 1840ء)

1940ء ڈیوڈ سیمویل مارگو لیوتھ ، برطانوی مستشرق ، جو مختصر وقت کے لئے کلیسیائے انگلستان میں پریسٹ رہے، اس کے علاوہ جامعہ اوکسفرڈ کے شعبۂ عربی میں بطور 1889ء تا 1937ء پروفیسر رہے۔ (پیدائش: 17 اکتوبر 1858ء)

1978ء حمید احمد خاں ، پاکستانی ادیب، محقق، ماہر تعلیم و 1968ء میں وئس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور (پیدائش : 1 نومبر 1902ء)

22 مارچ 1982ء کو اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش لاہور میں وفات پا گئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ احسان دانش 1914ء میں کاندھلہ، مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ والدین کی غربت کی وجہ سے چوتھی جماعت سے آگے نہ پڑھ سکے تاہم اپنے طور پر اردو، فارسی اور عربی زبان کا مطالعہ کیا، تلاش معاش میں لاہور آگئے اور پھر تمام عمر یہیں گزاری۔ احسان دانش شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھتے تھے ان کے شعری مجموعوں میں حدیث ادب، درد زندگی، تفسیر فطرت، آتش خاموش، نوائے کارگر، شیرازہ، چراغاں اور گورستان کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے لسانیات میں دستور اردو، تذکیر و تانیث اور اردو مترادفات یادگار چھوڑیں، حضرت احسان دانش کی خودنوشت سوانح عمری جہان دانش بھی علمی اور ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہے اس کتاب کو نہ صرف پاکستان رائٹرز گلڈ نے آدم جی ادبی انعام کا مستحق قرار دیا بلکہ اس پر حکومت پاکستان نے بھی پانچ ہزار روپے کا انعام عطا کیا۔حکومت پاکستان نے آپ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ستارۂ امتیاز اور نشان امتیاز کے اعزازات بھی عطا کئے تھے۔ احسان دانش کے لوح مزار پر انہی کا یہ شعر کندہ ہے: دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضورؐ کی۔

1999ء پیر حضرت شاہ  ، جنگک خیل کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے مبلغِ اسلام و روحانی شخصیت ، آپ کے والد پیر غلام رسول شاہ سلسلہ قادریہ کے مقتدر اولیاء اﷲ میں سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ طریقت حضرت آخوند صاحب سوات اڈے شریف سے ملتا ہے ان کا مزار مبارک اجمیر شریف انڈیا میں ہے ۔ (پیدائش : 1912ء)

2001ء صبیحہ گوکچن ، ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز ، وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لئے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔ ترک ذرائع اور صبیحہ گوکچن کے مطابق وہ مصطفٰی عزت بے اور خیریہ خانم کی صاحبزادی تھیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ہانس-لوکاس کیسر کا کہنا ہے کہ وہ آرمینیائی نژاد تھیں۔ (پیدائش: 22 مارچ 1913ء)

22 مارچ 2001ء کو پاکستان کے نامور ستار نواز استاد کبیر خان کراچی میں وفات پاگئے۔ استاد کبیر خان کا تعلق برصغیر کے مشہور دبستان موسیقی، سینی گھرانے سے تھا۔ یہ نام مشہور موسیقار تان سین کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ استاد کبیر خان نے پچاس برس تک متعدد مواقع پر نہ صرف پاکستان بلکہ غیر ممالک میں بھی ثقافتی وفود کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ وہ واحد استاد نواز تھے جو ستار نوازی کے دو معروف اسالیب رضا خوانی اور مسیت خوانی کے ماہر تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کے فن کے اعتراف کے طور پر 1989ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔

2004ء احمد یاسین ، فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے بانی اور روحانی پیشوا ۔ انہوں نے 1987ء میں عبدالعزیز الرنتیسی کے ساتھ مل کر حماس تشکیل دی ،22 مارچ 2004ء کی صبح نماز فجر کے لئے جا رہے تھے کہ اسرائیل کے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں شہید ہو گئے۔ (پیدائش : 1938ء غزہ)

2007ء سید نثار احمد المعروف نثار بزمی ، تمغئہ حسن کارکردگی یافتہ پاکستانی فلمی موسیقار (پیدائش: 1 دسمبر 1924ء)

2018ء سہیل احمد ، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے خود کشی کی۔

تعطیلات و تہوار :
۔""""""""""""""

عالمی یوم آب

ہولی ہندوستان میں منائی جاتی ہے۔⁦

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...