آج سال کا 160 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 205 دن باقی ہیں ۔
2008ء ایپل کمپیوٹر کمپنی نے نیاآئی فون تھری جی کی گنجائش کے ساتھ متعارف کرایا
2008ء چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معزول کیے جانے پر ملک بھر کے وکلا نے لانگ مارچ کا آغاز کیا
2004ء جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے بیس غیر ملکی عسکریت پسندوں کوہلاک کیا
1974ء پرتگال اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے
1940ء جنگ عظیم دوم:ناروے نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈالے
ولادت۔
1952ء۔۔مخدوم یوسف رضا گیلانی 09 جون 1952 کو ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ سید صاحب کی مادری زبان سرائیکی ہے- ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
09 جون 1954ء اسٹیج، ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم کے معروف اداکار فردوس جمال کی تاریخ پیدائش ہے۔ ان کے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے ہوا تھا تاہم ان کی شہرت پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں سے ہوئی۔ 1975ء میں انہوں نے پی ٹی وی فیسٹیول کے سلسلے میں اردو ڈرامے جو اماں ملی تو کہاں ملی میں کام کیا جس کے بعد انہوں نے واپس مڑ کر نہیں دیکھا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں محمد نثار حسین اور دیگر ڈرامہ پروڈیوسرز نے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ان کے معروف ڈرامہ سیریلز اور ڈرامہ سیریز میں ایک محبت سو افسانے، چڑیاں دا چنبہ، وارث، ہزاروں راستے ،وقت، ساحل اور دہلیز کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد انفرادی ڈراموں میں بھی اپنے فن کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ خصوصاً ان کے ڈرامے برگِ آرزومیں انہوں نے ایک بوڑھے پٹھان کا کردار اس قدر خوبصورتی ادا کیا کہ خوداس وقت کے صدر مملکت جنرل ضیاء الحق نے ذاتی طور پر انہیں ایک تعریفی خط لکھا۔ فردوس جمال ٹی وی ایوارڈ کے لیے 8 مرتبہ نامزد ہوئے اور انہوں نے 4 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا۔ حکومت پاکستان انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطاکیا ہے۔
09 جون 1977ء پاکستان ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی سہیل عباس کی تاریخ پیدائش ہے۔ سہیل عباس کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 28 فروری 1998ء کو کیا تھا۔ 8 اکتوبر 2004ء کو پاکستان کے سہیل عباس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والی 8 میچوں کی سیریز کے 7 ویں میچ میں جوامرتسر میں میں کھیلا گیا تھا، اپنے بین الاقوامی ہاکی کیریئر کا 268 واں گول اسکور کرکے ہالینڈ کے معروف کھلاڑی پال لٹجن کا 267 گول کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ پال لٹجن نے اپنے 267 گول 177 میچوں میں گول کئے تھے جبکہ سہیل عباس نے اپنا 268 واں گول 217 ویں میچ میں اسکور کیا۔ 6 دسمبر 2009ء کو سہیل عباس نے ارجنیٹنا میں منعقد ہونے والے چیمپئنز چیلنج ہاکی کپ ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ، جو ان کا 318واں بین الاقوامی میچ تھا،کینیڈا کے خلاف اپنے کیریئر کا 300 واں گول اسکور کیا اور یوں وہ دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے بین الاقوامی ہاکی میں 300 گول اسکور کرنے کا سنگ میل عبور کیا۔ سہیل عباس کے ان 300 گولوں میں ایک ڈبل ہیٹ ٹرک اور 21 ہیٹ ٹرکس شامل تھیں۔ سہیل عباس نے کل اب تک 348 گول کیے ہیں
1968ء۔۔سعید انور۔پاکستان کی طرف سے سب زیادہ انفرادی سکور بنانے والے بلے باز ۔194 رنز۔
1975ء۔۔امیشاء پٹیل۔بھارتی اداکارہ ۔
1923ء۔ایئر چیف مارشل ادریس حسن لطیف (9 جون 1923 – 30 اپریل 2018) سابق سربراہ بھارتی فضائیہ تھے، لطیف نے بطور چیف آف ایئر سٹاف 1978ء تا 1981ء تک خدمات سر انجام دیں۔ ریٹائرڈ منٹ کے بعد، انھوں نے بطور گورنر ریاست مہاراشٹر (1982–85) رہے اور اس کے بعد فرانس میں بھارتی سفیر رہے (1988ء تک)۔ وہ پہلے اور اب تک کے واحد مسلمان تھے جو بھارتی فضائیہ یا کسی بھی بھارتی عسکری شاخ کے چیف بنے۔
1925ء۔۔مرحومہ مسز سعیدہ فیض ایک ماہر تعلیم اور سماجی اصلاح کار تھی جو اترپردیش کے شہر غازی پور سے تعلق رکھتی تھی۔
1985ء۔۔سونم کپور۔بھارتی اداکار انیل کپور کی بیٹی۔بھارتی فلمی اداکارہ ۔
1938ء۔۔مسعود رانا پاکستان کے مشہور ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے۔ وہ 9 جون 1938ء کو میرپورخاص کے ایک زمیندار کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1962ء میں گلوکاری شروع کی اور پہلی فلم انقلاب کے لیے پہلا گانا گایا۔ وہ اردو اور پنجابی فلموں کے صَف اوّل کے گلوکار تھے۔ انہوں نے 500 سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے اور ان کے گائے ہؤے گانے پاکستان کے تمام بڑے اداکاروں پر فلمبند ہؤے جنمیں ندیم، محمّدعلی،وحیدمراد،شاہد،غلام محی الدین، اعجاز، حبیب،سدھیر،اکمل، وغیرہ قابل ذک رہیں۔ اُن کا انتقال 4 اکتوبر 1995ء کو ہوا۔ انہوں نے مشہور فلموں آئنہ، دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام، چاند اورچاندنی، نازنین، نیند ہماری خواب تمہارے، آنسو، بہاروں پھول برساؤ، دل لگی، شرافت، شرارت، یہ راستے ہیں پیارکے، مجاہد، نائلہ، کون کیسی کا، بھیّا، سنگدل، پاکدامن، احساس، دامن اور چنگاری، میراماہی، مرزاجٹ، دھی رانی،مکھڑاچن ورگا، وریام، اج دا مہینوال، وارنٹ، بادل وغیرہ کے لیے گانے گائے جو بے انتہا مقبول ہوئے۔ انہوں نے کافی سارے قومی نغمات بھی گائے جو انتہائی جوشیلے اندازمیں گائے ہیں جنہیں سن کر جوش آجاتا ہے۔ اُنہیں پاکستانی رفیع کا خطاب بھی دیا گیا۔
1921ء۔۔گل حسن خان پاک فوجکے سابقہ لیفٹیننٹ جنرل اور آخری سالارِ خاص (C-in-C) تھے۔ صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں 20 دسمبر 1971ء سے 3 مارچ 1972ء تک آپ اس عہدے پر فائز رہے۔آپ کا انتقال 10 اکتوبر 1999 کو ہوا۔
وفات۔
68ء۔۔نیرو سلطنت روم کا شہنشاہ تھا جو پانچواں اور آخری سیزر ثابت ہوا۔ نیرو ”بھی“ حادثاتی طور پر تخت نشیں ہوا۔ یہ شہنشاہ کلاڈیس کا بھتیجا تھا اسی نے بھتیجے کو جانشین مقرر کیا۔ نیرو 15 دسمبر 37ء کو پیدا ہوا۔ 54 سے 68ء تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ مورخ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو نے اپنی ماں‘ دو بیویوں اور اپنے محسن کلاڈیس کے بیٹے کو قتل کرایا۔ 19 جولائی 64ء میں روم آگ کی لپیٹ میں آیا تھا۔ خوفناک آگ 5 دن تک بھڑکتی رہی 14 اضلاع میں سے 4 جل کر خاکستر سات بری طرح متاثر ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق جب آگ روم کے در و دیوار کو بھسم کر رہی تھا اس وقت نیرو ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا کر اس نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آگ اس کے حکم سے ہی لگائی گئی تھی۔ تاہم مورخ ٹیسی ٹس کے مطابق (اس واقعہ کے وقت اس کی عمر نو سال تھی)۔ جب روم شعلوں کی لپیٹ میں تھا نیرو روم میں نہیں بلکہ وہاں سے 39 میل دور اینٹیم میں تھا۔ اس نے واپسی پر ذاتی خزانے سے متاثرین کی بحالی کی کارروائیاں شروع کیں اور اپنا محل بے گھر ہونے والوں کے لیے کھول دیا۔ اس نے روم کو نئے سرے سے بسایا خوبصورت عمارتیں اور کشادہ سڑکیں تعمیر کرائیں۔ آگ لگانے کے الزام میں اس نے بے شمار عیسائیوں کو قتل کرا دیا۔ 68ء میں فوج نے بغاوت کر دی تو نیرو ملک سے بھاگ نکلا۔ سینٹ نے نیرو موت کی سزا سنائی لیکن اس نے پھانسی سے قبل صرف 31 سال کی عمر میں 09 جون 68ء کو خود کشی کر لی۔
2011ء۔۔ایف ایم حسین۔مشہور ہندوستانی مصور، پورا نام مقبول فدا حسین(17پدائش ستمبر 1915ء؛ انتقال 9 جون 2011ء)، لیکن ایم ایف حسین کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 17 ستمبر 1915 کو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کم عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد والد کے ساتھ اندور آ گئے جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مقبول فدا حسین بھارت کے سب سے مشہور مصوروں میں سے ایک تھے۔ بھارت کے پکاسو کے نام سے بھی مشہور حسین نے 1929 میں رنگوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ بمبئی آکر انہوں نے باقاعدہ آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 1940 کے عشرے میں ان کا نام آرٹ کی دنیا میں ابھرا۔
1716ء۔۔بندہ سنگھ بہادر (پیدائشی نام: لکشمن دیو، اسے بندہ بہادر،لكشمن داس اور مادھو داس بھی کہتے ہیں) (27 اکتوبر 1670ء – 9 جون 1716ء، دہلی) ایک سکھ فوجی افسر تھا۔ یہ پہلا سکھ سپہ سالار تھا جسے مغلوں کے مقابلے میں فتح ملی اور یوں چھوٹے صاحبزادوں کے قتل کا انتقام پورا ہوا۔ یہی نہیں، اس نے گرو گوبند سنگھ کے نام سے سکے اور مہر بھی جاری کی۔ نچلی ذات کے لوگوں کو اعلیٰ عہدے دیے اور ہل چلانے والے مزدور کسانوں کو زمینوں کا مالک بنا دیا۔
1863ء۔۔دوست محمد خان۔بارکزئی قبیلے کا سردار جو محمد شاہ کی برطرفی کے بعد 1826ء میں افغانستان کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے ملک کا انتظام بہتر کیا اور ایران اور روس سے تعلقات استوار کیے۔ کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر لیا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی رنجیت سنگھ اور کابل کے تخت کے دعوے دار شاہ شجاع سے مل کر امیر دوست محمد خان کو تخت سے ہٹانا چاہتی تھی۔ لارڈ آکلینڈ نے 1839ء میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اگست میں کابل فتح ہوا۔ امیر دوست محمد خان نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا اور شاہ شجاع کابل کے تخت پر بیٹھا۔ مگر افغانوں امیر دوست محمد خان کے بیٹے اکبر خان کی قیادت میں بغاوت کردی۔ انگریزوں کی ساڑھے سولہ ہزار فوج میں سے فقط ایک آدمی زندہ سلامت ہندوستان واپس پہنچا۔ اور شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا۔ انگریزوں نے مجبور ہو کر دوست محمد خان کو رہا کر دیا۔ وہ کلکتے سے 1855ءمیں کابل واپس گیا اور تادم مرگ حکومت کرتا رہا۔ مرنے سے کچھ عرصہ پیشتر اس نے ھرات کو فتح کرکےافغانستان میں شامل کر لیا۔
2004ء۔۔سکندر شاہین ٹی وی کے مشہور اداکار گزرے ہیں۔ بے شمار ٹی وی ڈراموں اور فلموں اور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے یادگار ٹی وی ڈراموں میں زمین، وارث، سنہرے موسم اور پاگل، احمق اور بیوقوف شامل ہیں۔
1982ء۔۔مرزا ناصر احمد لعین۔قادیانیت کے تیسرے خلیفہ تھا۔ مرزا غلام احمد صاحب کا پوتا
No comments:
Post a Comment