آج سال کا 162واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 203
1788ء روسی تحقیق کار گیراسم ایزمیلوف الاسکا پہنچے۔
1805ء آگ سے امریکی شہر دیٹرائٹ کا بڑا حصہ برباد۔
1837ء امریکہ کے بوسٹن میں نسلی فسادات شروع۔
1892ء آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پہلا فلم اسٹوڈیو قائم کیا گیا۔
1898ء امریکی جنگی جہازوں کی کیوبا روانگی۔
1901ء نیوزی لینڈ نے کوک جزیرے پر قبضہ کیا۔
1921ء برازیل میں خواتین کو الیکشن میں ووٹ دینے کا حق ملا۔
1935ء ایف ایم سروس کا پہلا عام مظاہرہ امریکہ کے نیو جرسی میں ہوا۔
1938ء قوم پرست چینی حکومت نے جاپانی فوجوں کو روکنے کیلئے دریامیں سیلاب پیدا کر دیا جس سے پانچ لاکھ سے نو لاکھ کے درمیان افراد ہلاک ہوئے۔
1940ء یورپی ملک اٹلی نے اتحادی ممالک کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
1940ء دوسری عالمی جنگ کے دوران اٹلی کی فضائیہ نے پہلی بار مالٹا جزائر پر حملہ کیا۔
1940ء دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی فوج نے جنیوا اور اٹلی کے تورين علاقے میں بم برسائے۔
1942ء امریکہ اور اس وقت کے سوویت یونین نے دوسری عالمی جنگ کے دوران لینڈ-لیز معاہدے پر دستخط کئے۔
1943ء برطانوی فوج نے سسلي جزائر کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے پینٹے لیریا پر حملہ کیا۔
1944ء امریکہ کے 15جنگی طیاروں نے ماریانا جزائر میں واقع جاپان کے بیس کیمپ پر حملہ کیا۔
1947ء امریکہ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران مکمل طور پر چینی کی رسد ختم ہوئی۔
1956ء سری لنکا میں تملوں اور سنہالیوں کے درمیان نسلی فساد شروع۔
1963ء یونان کے وزیراعظم کانسٹنٹائن کرامنلس نے استعفیٰ دیا۔
1964ء بھارتی وزیر اعطم جواہر لال نہرو کی خواہش کے مطابق ان کی ہڈیوں کی راکھ کو پورے ملک میں پھیلایا گیا۔
1978ء جامعہ کراچی میں طالب علم الطاف حسین نے طلبا کی سیاسی تنظیم ’آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن ‘ قائم کی۔
1981ء ایران میں زلزلہ سے 2000 افراد ہلاک۔
11 جون 1962 کو مولوی تمیز الدین دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔پہلی مرتبہ 14 دسمبر 1948 سے 24 اکتوبر 1954 اور دوسری مرتبہ 11 جون 1962 سے 19 اگست 1963 تک قومی اسمبلی کے اسپیکر رہے۔پاکستان کے آئین کی بالادستی کے پہلے علم بردار مولوی تمیز الدین مارچ 1889ء میں فرید پور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1914ء میں انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1926ء میں وہ پہلی مرتبہ بنگال کی مجلس قانون کے رکن بنے۔ 1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے نہ صرف بنگال کی مجلس قانون کے رکن بنے بلکہ غیر منقسم بنگال کی کابینہ میں بھی شامل کئے گئے۔ 1945ء کے انتخابات میں وہ ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ 1948ء میں قائداعظم کی وفات کے بعد آپ مجلس دستور کے صدر منتخب کرلئے گئے۔ 1954ء میں جب غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے احکام صادر کیے تو مولوی تمیز الدین نے اسے سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کردیا۔ ہائی کورٹ نے مولوی تمیز الدین کے حق میں فیصلہ دیا مگر حکومت نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کردی جہاں فیصلہ گورنر جنرل کے حق میں ہوا اور یوں دستور اسمبلی توڑنے کا قدم جائز قرار دے دیا گیا۔ کچھ عرصہ سیاست سے کنارہ کش رہنے کے بعد 1962ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعدازاں اسپیکر منتخب ہوئے۔ 19 اگست 1963ء کو مولوی تمیز الدین ڈھاکا میں وفات پاگئے اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ انتقال کے وقت بھی وہ اسی عہدے پر فائز تھے۔
1987ء برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر مسلسل تیسری مرتبہ وزیراعظم بنیں۔
1991ء بھارتی فوج نے سری نگر میں 40 کشمیری شہید کر دیئے۔
1999ء کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے سابق آف اسپنر ثقلین مشتاق نے زمبابوے کے خلاف ہیٹ ٹرک لگائی۔
سرجن ریاض احمد کھوکھر گینز بک آف ریکارڈز کے 2006ء کے ایڈیشن کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا اپنڈکس نکالنے کا آپریشن 11 جون 2003ء کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)اسلام آباد میں ہوا تھا۔ یہ اپنڈکس ایک 55 سالہ شخص محمد خان کے جسم سے نکالا گیا تھا۔ اس کی لمبائی 23.5 سینٹی میٹر (9.2انچ) تھی اوریہ آپریشن سرجن ریاض احمد کھوکھر نے کیا تھا۔
2008ء ناروے میں ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہوئی۔
2008ء پاک افغان سرحد کے قریب امریکی فضائی حملے میں دس سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے، حکومت پاکستان نے امریکی حملے کی مذمت کی۔
2012ء افغانستان میں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد زمینی تودے گرنے سے 80 افراد ہلاک ۔
ولادت :
1811ء ویسارین بیلنسکی (روسی مصنف، نقاد، فلسفی)
وفات :
1979ء جان وین، امریکی اداکار
1983ء گھنشیام داس برلا (بھارتی سماجی کارکن، صنعتکار)
2000ء راجستھان کے دوسا میں ایک سڑک حادثہ میں کانگریس (آئی) کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر راجیش پائلٹ کی موت۔
11 جون 2004ء کو پاکستان کے نامور صحافی، مصنف اور آزادیٔ صحافت کے علم بردار ضمیر نیازی کراچی میں وفات پاگئے اور ابو الحسن اصفہانی روڈ پر واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ضمیر نیازی کا اصل نام ابراہیم جان محمد درویش تھا اور وہ 8 مارچ 1927ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1942ء میں ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کی تحریک سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور صحافت کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی آگئے جہاں انہوں نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1965ء میں وہ روزنامہ ’’بزنس ریکارڈر‘‘ سے منسلک ہوئے اور پھر اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی اخبار سے وابستہ رہے۔ ضمیر نیازی نے 1986ء میں Press in Chains کے نام سے پاکستانی صحافت پر گزرنے والی پابندیوں کی داستان تحریر کی۔ یہ کتاب بے حد مقبول ہوئی اور اس کے متعدد ایڈیشن اور تراجم شامل ہوئے۔ اس کے بعد جناب ضمیر نیازی نے 1992ء میں Press Under Siegeاور 1994ء میں Web of Censorship کے نام سے مزید دو کتابیں تحریر کیں جن میں صحافت پر حکومتی اور مختلف تنظیموں کے دبائو اور پاکستان نے سنسر شپ کی تاریخ رقم کی گئی تھی۔ ان کی دیگر تصانیف میں باغبان صحرا ، انگلیاں فگار اپنی، حکایات خونچکاں اور پاکستان کے ایٹمی دھماکے کے ردعمل میں لکھی گئی تحریروں کا انتخاب ’’زمین کا نوحہ‘‘ شامل ہیں۔ 1994ء حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا جسے اگلے برس کراچی کے 6 اخبارات پر پابندی عائد ہونے کے بعد انہوں نے احتجاجاً واپس کردیا تھا۔ انہیں جامعہ کراچی نے بھی ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر انہوں نے اسے قبول کرنے کے لئے گورنر ہائوس جانے سے انکار کردیا تھا۔
11 جون 1967ء کو پاکستان کے معروف فلمی اداکار اکمل انتقال کرگئے۔ اکمل کا اصل نام محمد آصف خان تھا اور وہ 1929ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور فلمی اداکار اجمل کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردارا ادا کیے پھر 1956ء میں انہیں ہدایت کار مظفر طاہر کی فلم ’’جبرو‘‘ میں بطور ہیرو کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک عمدہ اور معیاری فلم تھی اس فلم کی کامیابی سے اکمل پر فلمی دنیا کے دروازے کھل گئے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے پنجابی فلموں کے مقبول ترین ہیرو بلکہ ان کی ضرورت بن گئے۔ اکمل نے مجموعی طور پر 64 فلموں میں کام کیا ان کی آخری فلم ’’بہادر کسان‘‘ تھی جو 1970ء میں نمائش پذیر ہوئی۔اکمل کی فلموں میں چوڑیاں‘ زمیندار‘ پیداگیر‘ بچہ جمہورا‘ بہروپیا‘ چاچا خواہ مخواہ‘ بھریا میلہ‘ مقابلہ‘ ہتھ جوڑی‘ یار دوست‘ کھیڈن دے دن‘ پانی‘ ہیر سیال‘ ولایت پاس‘ چوہدری‘ جگری یار‘ بانکی نار‘ وارث شاہ‘ بودی شاہ‘ ڈھول سپاہی‘ لاڈلی‘ بھرجائی‘ ڈولی‘ گونگا‘ روٹی‘ سہتی‘ میرا ماہی‘ من موجی‘ ملنگی‘ مظلوم‘ بغاوت اور خاندان کے نام سرفہرست ہیں۔ اکمل نے پنجابی زبان کی مشہور اداکارہ فردوس سے شادی کی تھی مگر یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ اکمل نے فردوس کی علیحدگی کا گہرا اثر لیا اور مے نوشی کا سہارا لیا جس کی زیادتی کی وجہ سے وہ صرف 38 برس کی عمر میں 11جون 1967ء کودنیا سے رخصت ہوگئے۔
11جون 1982ء کو پاکستان کے نامور اور اپنے زمانے کے مقبول ترین فلمی اداکار سنتوش کمار دنیا سے رخصت ہوئے۔ سنتوش کمار کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ ان کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا اور وہ 25 دسمبر 1926ء کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر اپنے ایک دوست کے اصرار پر ایک فلم میں ہیرو کے رول کی پیشکش کو قبول کرلیا۔ انہوں نے بمبئی کی فلمی صنعت کی دو فلموں ’’اہنسا‘‘ اور ’’میری کہانی‘‘ میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے جہاں انہوں نے مسعود پرویز کی فلم ’’بیلی‘‘ سے اپنے پاکستانی سفر کا آغاز کیا۔ منٹو کی کہانی پر بنائی گئی اس فلم میں صبیحہ نے سائیڈ ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ ’’بیلی’’ باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی تاہم اس کے بعد بننے والی فلموں ’’دو آنسو‘‘ اور ’’چن وے‘‘ نے سنتوش کمار کے کیریئر کو بڑا استحکام بخشا۔ بعدازاں شہری بابو، غلام، قاتل، انتقام، سرفروش، عشق لیلیٰ، حمیدہ، سات لاکھ، وعدہ، سوال، مکھڑا اور موسیقار نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا اداکار بنادیا۔ اسی دوران ان کی شادی صبیحہ خانم سے ہوئی۔ یہ شادی بھی پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب اور قابل رشک شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سنتوش کمار کی دیگر اہم فلموں میں دامن، کنیز، دیور بھابی، تصویر، شام ڈھلے، انجمن، نائیلہ، چنگاری، لوری، گھونگھٹ اور پاک دامن کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 92 فلموں میں کام کیا جن میں 10 پنجابی فلمیں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے 3 مرتبہ (وعدہ، گھونگھٹ اور دامن میں) بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ سنتوش کمار لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
No comments:
Post a Comment