Ad3

30 جون 1969 یوم پیدائش افضل گرو۔

افضل گرو۔ایک قیدی جو پھانسی کے بعد بھی قید میں ہے ۔

9 فروری 2013ء کو کشمیری محمد افضل گُروکو بھارتی ہندو اسٹیبلشمنٹ نے دہلی کی تہاڑ جیل میں نہایت ظالمانہ طریقے سے پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ اس ستم پر مزید ستم یہ ڈھایا گیاکہ شہید کی میت بھی اُن کے والدین، بیوہ(تبسم) اور نہایت کمسن اکلوتے بیٹے (غالب)کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ 06 سال گزرنے کے باوجود شہید افضل گرو اب بھی تہاڑ جیل کے اندر ہی مدفون ہے۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ 13 دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں نے جو حملہ کیا تھا، اس کا ماسٹر مائنڈ یہی افضل گرو تھا۔ بارہ سال مقدمہ چلا۔ اس دوران تمام شواہد نے ثابت کر دیا کہ افضل گنہگار نہیں ہیں لیکن اس کے باوصف بھارتی عدالت نے اُنہیں موت کی سزا سنادی۔ ہندو ججوں کے سفاک الفاظ زرا ملاحظہ کیجئے: ’’بھارت کے اجتماعی ضمیر کا تقاضا ہے کہ افضل گرو کو موت کی سزا دے کر اُس کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔‘‘

بھارت کی ممتاز اورمحترم اخبار نویس ارُن دھتی رائے نے اس موقع پر ایک برطانوی اخبار (گارڈین) میں طویل مذمتی آرٹیکل لکھتے ہُوئے کہا: ’’افضل گرو کی موت بھارتی جمہوریت کے دامن پر ایسا سیاہ دھبہ ہے جو کبھی نہیں دُھل سکے گا۔‘‘.

فضل گورو کی پیدائش30 جون 1969 کو  جموں و کشمیر کے ضلع بارامولہ میں ہوئی۔ 1986ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سوپورمیں اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طبی دانشگاہ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے اپنے ایم بی بی ایس نصاب کا پہلا سال مکمل کر لیا تھا اور مقابلے کے امتحان کی تیاری میں تھے۔

افضل گورو کو13 دسمبر2001ءمیں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے کے اِلزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پچاس سالہ بھارتی شہری افضل گورو پر بھارت کے مطابق الزام تھا کہ وہ 13  دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر کیے جانے والے حملے میں ملوث تھا۔ اس پر الزامات تھے کہ وہ حملہ آوروں کے لیے اسلحے کے حصول میں مدد کا مرتکب تھا اور اس نے حملہ آوروں کو پناہ دی تھی۔

پھانسی سے پہلے بھارت کے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے افضل گورو کی رحم کی اپیل کو مسترد کر دی تھی۔ بھارت کی عدالت عظمٰی نے 2004ء میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ افضل گورو کو 20 اکتوبر 2006 میں صبح چھ بجے پھانسی ہونی تھی لیکن ان کی اہلیہ تبسم گرو کی رحم کی اپیل پر اس وقت کے صدر نے اسے ملتوی کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ التوا میں رہا۔ 16 نومبر 2012ء کو صدر پرنب مکھرجی نے افضل گورو کی رحم کی درخواست وزارت داخلہ کو واپس لوٹا دی۔ اس کے بعد 23 جنوری، 2013 کو صدر نے وزارت داخلہ کو افضل گورو کی رحم کی درخواست کو خارج کر دیا۔ 4 فروری 2013 کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

افضل گورو کو 9 فروری 2013 بروز ہفتہ کی صبح 5 بجے جگایا گیا، انہوں نے نماز ادا کی پھر تین گھنٹے بعد پرسکون انداز سے خودتختہ دار تک چل کر گئے۔
09 فروری 2013ء بھارتی وقت کے مطابق صبح 8 بجے افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
8 بجے پھانسی کے بعد انہیں جیل کے سیل میں دفن کر دیا گیا۔ جیل حکام کے مطابق افضل گورو اداس ہونے کی بجائے پرسکون تھے۔ جیل ڈائریکٹر جنرل وملہ مہرا کا کہنا ہے کہ افضل خوش اور صحت مند تھے۔ ان کے سیل سے 20 میٹر کے فاصلے پر پھانسی دی گئی۔ تختہ دار پر چڑھانے سے قبل ان کا طبی معائنہ کیا گیا، ان کی صحت اور خونی دباؤ نارمل تھا۔

افضل گورو کو پھانسی کی سزا دینے کے بعد مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر  میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے سری نگر سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور کیبل سروس معطل کر دی گئی۔ کشمیری حریت رہنماؤں میرواعظ عمر فارق اور سید علی گیلانی نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف چار روزہ ہڑتال کی اپیل کی۔ کشمیری حریت رہنماؤں نے افضل گورو کی پھانسی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے عوام سے پرامن احتجاج کرنے کی اپیل کی۔آزاد کشمیر حکومت نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ کشمیری رہنما یسین ملک نے 24 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...