Ad3

یونانی تاجر

اوناسس ایک یونانی تاجرتھا،
دنیاکی سب سے بڑی جہاز رانی کمپنی کا مالک تھا،
زیتون کا کاروبار کرتاتھا اسے دنیا کے امیرترین شخص کا اعزاز حاصل تھا
اسکوایک عجیب بیماری لگی تھی جس وجھ سے اسکے اعصاب جواب دے گۓ تھے
یہان تک کہ آنکھوں کی پلکیں بھی خود نہیں اٹھاسکتے تھے
ڈاکٹروں نے انکھیں کھولنے کے لیے پلکوں پر سولیشن لگاکر اوپر چپکادیتے تھے
رات کو جب آرم کرتےتوسولیشن اتاردیتے
توپلکیں خودبخود نیچے گرجاتی صبح پھرسولیشن لگادیتے، ایک دن اس سے سب سے بڑی خواھش پوچھی گئی تو کہا کہ صرف ایک بار اپنی پلکیں خود اٹھاسکوں چاھے
اس پرمیری ساری دولت ھی
کیوں نہ خرچ آجاۓ، اللہ اکبر . صرف ایک بارپلکیں خود اٹھانے کی قیمت دنیاکاامیرترین شخص اپنی ساری دولت دیتاہے؟ ھم مفت میں ان گنت بار پلکیں خوداٹھاسکتے ھیں
دل ایک خودکارمشین کی طرح بغیرکسی چارجز کے دن میں
ایک لاکھ 3ھزار680 مرتبہ دھڑکتاہے آنکھیں 1کروڑ10لاکھ رنگ دیکھ سکتی ھیں
زبان کان ناک ھونٹ دانت ھاتھ پاؤں
جگرمعدہ دماغ پھیپھڑ پورے جسم کے اعضاء آٹومیٹک کام کرتے ھیں
ایسے کریم رب کی ھر نعمت کاشکرکرنا اور اسکو راضی کرنے کی پوری کوشش کرنا
اوراسکا ھروقت شکرکرناچاہیے...
اللہ مجھے اور آپکو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،، آمین

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...