آج سال کا 186 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 179 دن باقی ہیں
1687ء آئزک نیوٹن نے اپنی معروف تصنیف Philosophiae Naturalis Principia Matrematica شائع کی
1933ء۔۔لاہور میں پہلی مرتبہ جشن ولادت کا جلوس نکالا گیا ۔
1977ء -وزیر اعظم بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔
1977ء -مارشل لاء 1977 کا نفاذ ٭پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی 1977ء کا دن بھلایا نہیں جاسکتا۔ یہی وہ دن تھا جب پاکستان میں سورج طلوع ہونے سے قبل ہی پورے ملک میں مارشل لاء نافذ ہوچکا تھا۔ فوج کی اس کارروائی کو آپریشن فیئر پلے کا نام دیا گیا۔یہ کوئی اچانک اور غیر متوقع اقدام نہیں تھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد عرصے سے اس خدشہ کا اظہار کررہے تھے۔ اس کے لئے پس پردہ تیاریاں ہورہی تھیں اور فضا کو ایسا سازگار بنایا جارہا تھا کہ مارشل لاء لگنے کے بعد قوم اسے درپیش مسائل کا واحد حل سمجھ کر خوش دلی کے ساتھ اس کا استقبال کرنے کے قابل ہوسکے۔ جون کے اواخر اور جولائی کے ابتدائی چند دنوں میں قومی اتحاد اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کے مدوجذر نے اس کے لئے مزید راہ ہموارکردی۔ فریقین کے رہنما سیاسی بصیرت، تجربہ اور مارشل لاء لگنے کے امکان سے باخبر ہونے کے باوجود اہم امور پر اتفاق رائے ہوجانے کے بعد بھی چھوٹی موٹی تفصیلات پر باہم الجھتے رہے اورایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے۔ اس طرح خود انہوں نے اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے مارشل لاء کے نفاذ کو ممکن ہی نہیں بلکہ مستحسن بھی بنادیا۔ 5 جولائی 1977ء کی صبح 6 بجکر 4 منٹ پر مسلح افواج کے ایک ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسلح افواج نے 5 جولائی کی صبح سے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور تمام سیاسی رہنما عارضی حفاظت میں ہیں۔ ایسا عظیم انقلاب بپا ہونے کے باوجود ملک میں حالات کلی طور پر معمول کے مطابق رہے۔ ذرّہ برابر کوئی احتجاج یا ردعمل نہیں ہوا، بلکہ گذشتہ حالات کے پس منظر میں اسے ایک عمومی پذیرائی میسر آگئی۔ اسی روز جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں صدر مملکت فضل الٰہی چوہدری اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس یعقوب علی خاں سے ملاقات کی۔ 5 جولائی کو 1977ء کے مارشل لاء کے نفاذ سے متعلق ایک غیر معمولی گزٹ شائع ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد ضیاء الحق نے پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ: -1 اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور معطل رہے گا۔-2 قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ -3 وزیراعظم، وفاقی وزراء، وفاقی وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیر، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین، صوبائی گورنر، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزراء اپنے عہدوں پر قائم نہیں رہیں گے۔-4 صدر پاکستان اپنے عہدہ پر کام کرتے رہیں گے۔-5 پورا ملک مارشل لاء کے تحت آگیا ہے۔
1983ء فرانس نے الجیریا پر حملہ کیا
5جولائی 1992ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین مختلف مالیتوں کے عمومی ڈاک ٹکٹ جاری کیے جن پر پاکستان کی تین برآمدات آلات جراحی، چمڑے کی مصنوعات اورکھیلوں کے سامان کی تصاویر بنی تھیں۔ ان عمومی ڈاک ٹکٹوں کی مالیت 10روپے15 روپے اور25 روپے تھی اوران کا ڈیزائن سید علی افسرنے تیار کیا تھا۔
2005ء شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان، بھارت اور ایران کو بطور مبصر رکنیت دے دی
ولادت
1989ء پاکستان میں پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش
1653ء - تھامس پٹ، برطانوی سیاست دان (وفات: 1726ء)
-
1860ء - رابرٹ بیکن، امریکی سیاست دان (وفات: 1919ء)
1882ء - عنایت خان، بھارتی صوفی (وفات:1927ء)
1895ء - گورڈن جیکب، برطانوی موسیقار (وفات: 1984ء)
1860ء - بوب ڈفی، امریکی باسکٹ بال کھلاڑی
1989ء - جوزف کنگ، امریکی گلوکارہ
1971ء۔۔عامر لیاقت حسین۔معروف ٹی وی اینکر۔
جان ہورڈ نورتروپ(5 جولائی 1891ء - 27 مئی 1987ء) ایک امریکی کیمیادان تھا جنھوں نے انزائم، وائرس اورپروٹین کے قلمیں تخلیق اور علیحد گی پر کام کیا اور انھیں 1946ء میں جیمز بی سمر اور ونڈل میریڈتھ سٹینلی کے ساتھ کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا.
1936ء۔۔۔جیمز مرلیس برطانیہ ماہر اقتصادیات ہیں اقتصا دیات میں انکی کام کی اہمیت کو دیکھ کر 1996 میں انھیں اورولیم وکریکو نوبل میموریل انعام برائے معاشیات مشترکہ طور پر دیا گیا۔۔
1951ء۔۔حسن نثار ایک مشہور کالم نگار، تجزیہ کار، نقاد اور صحافی ہیں۔ آپ اردو صحافت کے منفرد کالم نگار ہیں۔ آپچوراہا کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔ انکا کالم چوراہا روزنامہ جنگ میں شائع ہو رہا ہے۔ تعلق فیصل آباد سے ہے لیکن آج کل لاہور کے قریب دیہاتی علاقے میں رہتے ہیں۔
1888ء۔۔ہر برٹ سپنسر گیسرایک امریکی ماہر عصبیات تھے جنھوں نے 1944 کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات حاصل کیا۔ انھوں نے پتہ لگایا تھا کہ انسانی جسم میں پیغام ایک سے دوسرے حصے میں کیسے پہنچتا ہے۔
وفات۔
1927ء۔۔۔البرچٹ کوسلاایک جرمن حیاتیات دان تھے انھوں نے سب سے پہلے جینیات پر کام کا آغاز کیا۔ نہیں 1909ء میں نوبل انعام برائے طب دیا گیا۔
جارج دی ہیوسی (1 اگست 1885ء - 5 جولائی 1966ء) ایک ہنگرین ریڈیائی کیمیاء دان تھا۔ جنھیں ریڈیائی ٹریسر کا ایجاد کرنے پر کام کیا نیز انھوں نے ہافنیم کی کھوج میں اہم رول ادا کیا۔ انھیں 1943ء میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔
1460ء۔۔جلال الدین محلی امام جلال الدین سیوطی کے استاذ، مفسر قرآن، فقیہ اور ماہر علوم الہیات تھے۔ انہیں عرب کا تفتازانی کہا جاتا ہے۔
2015ء۔۔۔یوچیرو نامبوجاپان/ امریکا کے ایک طبیعیات دان تھے جنھیں 2008 میں نوبل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے سیمٹری کے خودبخود ٹوٹنے کے عمل کو دریافت کرنے تھا۔۔
1683ء۔۔۔تورخان خدیجہ سلطان (Turhan Hatice Sultan)سلطان سلطنت عثمانیہ ابراہیم اول کی خاص کی سلطان کنیز تھی۔ وہ بطور محمد رابع والدہ سلطان بھی تھی۔۔
5جولائی 1987ء کو مشہور موسیقار اور ہارمونیم نواز ماسٹر محمد صادق پنڈی والے راولپنڈی میں وفات پاگئے اور راولپنڈی ہی میں قبرستان ڈھوک الٰہی بخش میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ماسٹر محمد صادق 1923ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد استاد نادر علی اور تایا استاد فیروز خاں نشی خاں والے جو اپنے زمانے کے معروف طبلہ نواز تھے، طبلہ نوازی کی تربیت حاصل کی، پھر گجرات کے میاں نبی بخش کالرے والے اور استاد کرم الٰہی ربابی سے بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ماسٹر محمد صادق ہارمونیم بجانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ پاکستان کے واحد ہارمونیم نواز تھے جن کے ہارمونیم کاانسٹرومینٹل کیسٹ جاری ہوا تھا۔ ان کے فن پر لوک ورثہ اور پاکستان ٹیلی وژن نے خصوصی ویڈیو فلمیں تیار کی تھیں۔ماسٹر محمد صادق کے شاگردوں میں معروف گلوکارہ مالا اور ان کی بہن شمیم نازلی کے نام سرفہرست ہیں۔
5جولائی 1986ء کو اردو کے معروف ادیب اور مشہور جریدے ’’نقوش‘‘ کے مدیر محمد طفیل اسلام آباد میں وفات پاگئے اور میانی صاحب لاہور میں آسودۂ خاک ہوئے۔ محمد طفیل 14 اگست 1923ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ نامور خطاط تاج الدین زریں رقم سے خوشنویسی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے1944ء میں ’’ادارۂ فروغ اردو‘‘ کے نام سے ایک طباعتی ادارہ قائم کیا۔ 1948ء میں انہوں نے لاہور سے ماہنامہ ’’نقوش‘‘ کا اجرا کیا۔ 18 شماروں کی اشاعت کے بعد محمد طفیل نے اس جریدے کی ادارت خود سنبھال لی۔ ان کی ادارت میں نقوش کے غزل نمبر، افسانہ نمبر، شخصیات نمبر، خطوط نمبر، آپ بیتی نمبر، مکاتیب نمبر، طنز و مزاح نمبر، ادب عالیہ نمبر، منٹو نمبر، میر نمبر، غالب نمبر، اقبال نمبر، انیس نمبر، پطرس نمبر، شوکت تھانوی نمبر، لاہور نمبر، ادبی معرکے نمبر، عصری ادب نمبر اور سب سے بڑھ کر رسول نمبرشائع ہوئے۔ محمد طفیل کے خاکوں کے مجموعے صاحب، جناب، آپ، محترم، مکرم، معظم، محبی اور مخدومی کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی خود نوشت ان کی وفات کے بعد ناچیز کے عنوان سے نقوش کے محمد طفیل نمبر میں اشاعت پذیر ہوئی۔ شان الحق حقی اور محمد عالم مختار حق نے ان کی تاریخ وفات اس مصرع سے نکالی تھی: ثبت است بر جریدہ عالم دوام او اس مصرع کے اعداد کا مجموعہ 1406 ہوتا ہے جو محمد طفیل کا ہجری سن وفات ہے۔ محمد طفیل کو بابائے اردو مولوی عبدالحق نے محمد نقوش کا خطاب دیا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
تعطیلات و تہوار
الجیریا کا یوم آزادی
1811ء وینز ویلا،اسپین سے آزادی حاصل کرنے والا جنوبی امریکاکا پہلا ملک بنا©️
No comments:
Post a Comment