Ad3

07 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 188 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 177 دن باقی ہیں ۔

1763ء میر جعفر دوبارہ بنگال کے نواب بنے۔

1799ء سکھ حکمراں مہاراجا رنجیت سنگھ نے لاہور پر  قبضہ کیا۔

1815ء واٹر لو کے مقام پر فرانسیسی جنرل نپولین بونا پارٹ کی شکست کے بعد فاتح اتحادی افواج پیرس میں داخل ہو گئیں۔

1853ء جاپان نے ڈھائی سو برس تک مغربی طاقتوں سے تجارتی تعلقات منقطع رکھنے کے بعد مغرب سے تجارت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

1855ء انگریز فوج سے لوہا لینے کیلئے تیس ہزار ہتھیار بند لوگوں نے کلکتہ کی طرف کوچ کیا۔

07 جولائی 1863ء۔۔میر قاسم علی خان20 اکتوبر  1760ء سے07 جولائی 1763ء تک نواب بنگال تھا۔ اسے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے میر جعفر کو ہٹا کر نواب بنگال بنایا تھا۔ میر جعفر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہت زیادہ مطالبات کی وجہ سے کمپنی کے ساتھ تنازع میں تھا اور اس نے ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی سے ساز باز کرنے کی کوشش کی لیکن برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج کو علاقے سے نکالا اور میر قاسم کو میر جعفر کی جگہ نواب بنا دیا۔ تاہم جلد ہی میر قاسم بھی انگریزوں کے خلاف ہو گیا جس کے نتیجے میںبکسر کی لڑائی ہوئی جس میں میر قاسم کو شکست ہوئی۔

1896ء فرانس کے لومیئر ایجنٹ کی ٹیم کے ذریعہ ممبئی کے واٹسن ہوٹل میں فلموں کی نمائش کے ساتھ ہی ہندوستان میں فلمی دور کا آغاز ہوا۔

1941ء دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے آئس لینڈ پر احتیاطی قبضہ کر لیا تا کہ جرمنی اس پر قبضہ کر کے برطانوی بحری جہازوں پر حملے نہ کر سکے۔

1941ء  نازیوں نے یورپی ملک لیتھوانیا میں پانچ ہزار یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

1943ء راس بہاری بوس نے آزاد ہند فوج کی کمان نیتاجی سبھاش چندر بوس کو سونپی۔

1946ء کانگریس نے کیبینیٹ مشن منصوبہ کو منظوری دی۔

1948ء بھارت میں ملک کے پہلے پبلک کارپوریشن ’دامودر گھاٹی کارپوریشن‘ کا قیام عمل میں آیا۔

1948ء امریکی بحریہ میں پہلی مرتبہ خواتین کی تقرری  عمل میں آئی۔

1956ء کولمبیا کے کیلی شہر میں دھماکہ سے تقریباََ 1200 لوگوں کی موت ہوئی اور دو ہزار عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

1969ء کناڈا کے ہاؤس آف کامنس نے انگریزی اور فرینچ زبانوں کو یکساں درجہ دیا۔

1979ء سوویت یونین نے مشرقی قازق (قازقستان) میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔

1985ء جرمنی کے 17 سالہ ٹینس کھلاڑی بورس بیکر ومبلڈن ٹورنامنٹ جیتنے والے سب سے کم عمر چیمپین بن گئے، یہ اعزاز پہلے بجورن بورگ کے پاس تھا۔

1986ء پشاور ڈرائی پورٹ کا افتتاح ہوا۔

1986ء شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑی ’سولر چیلنجر نے انگلش چینل پار کیا۔

1986ء اردن کی حکومت نے الفتح کے دفاتر کو مقفل کر دیا۔

1998ء یک روزہ کرکٹ میں ٹیم انڈیا کی سلامی جوڑی سچن تندولکر اور سورو گنگولی نے پہلے وکٹ کے لئے بلے بازی کرتے ہوئے 252 رنز کی ریکارڈ شراکت کی۔

1999ء کرگل جنگ کے دوران پاکستان نے بٹالک سیکٹر میں زبیر پہاڑی سے اپنی فوج واپس بلا لی۔

2005ء لندن کی ٹرانسپورٹ خدمات پر خود کش حملہ میں  56 افراد جاں بحق اور 700 دیگر زخمی ہو ئے۔ الزام القاعدہ پر آیا۔

2007ء۔۔۔پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے زیرِ اہتمام دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس لندن میں 7اور 8 جولائی 2007ء کوہوئی۔ اس کانفرنس کا مقصد مشترکہ اپوزیشن کا مشرف حکومت کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنا تھا۔اس کانفرنس میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمان، ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ  عمران خان اور اے آر ڈی کے سربراہ اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے رہنما مخدوم امین فہیم سمیت دیگر اہم اپوزیشن رہنما، سینیئر تجزیہ کار اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

2011ء ہیری پوٹر سیریز کی آخری فلم ’’ہیری پاٹر اینڈ دی ڈیتھلی ہیلوز پارٹ 2؍‘‘کا لندن میں پریمیئر ہوا۔

2012ء روس میں شدید سیلاب سے 140 افراد ہلاک ہو گئے۔

2013ء ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں نوواک جوکووچ کو شکست دے کر اینڈی مرے سال 1936ء کے بعد اس خطاب پر قبضہ کرنے والے انگلینڈ کے پہلے کھلاڑی بنے۔

ولادت

7جولائی 1926ء پاکستان کے نامور مصور احمد پرویز کی تاریخ پیدائش ہے۔ احمد پرویز 7جولائی 1926ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی تعلیم سینٹ جوزف کالج، بارہ مولا اور گورڈن کالج راولپنڈی میں حاصل کی۔ 1952ء میں ان کی مصوری کی پہلی نمائش پنجاب یونیورسٹی لاہور کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ میں منعقد ہوئی جسے اہل فن نے بے حد سراہا۔ 1955ء سے 1964ء تک کا عرصہ انہوں نے لندن میں اور پھر 1966ء سے 1969ء تک کا عرصہ نیویارک میں بسر کیا۔ احمد پرویز تجریدی مصوری میں ایک علیحدہ اور منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ زندگی کے آخری دورمیں انہوں نے اپنے لئے گلدان اور پھول کے موضوع کا انتخاب کیا تھا اور اس موضوع پر لاتعداد تصویریں بنائی تھیں۔ تیز اور شوخ رنگ ان کی مصوری کی ایک خاص شناخت تھے اور شاید ان کی ذات کا اظہار بھی۔ 1978ء میں حکومت پاکستان نے احمد پرویز کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انہوں نے 5 اکتوبر 1979ء کو صرف 53 برس کی عمرمیں کراچی میں وفات پائی۔ وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

1939ء۔۔رادھے شیام کوری سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارتی سیاست دان اور لوک سبھا کے رکن ہیں۔وفات۔12 اگست 2015.

1843ء۔۔کیمیلو گولگی ایک اطالوئی حیاتیاتدان ،طبیب آو جراثیمیات کے ماہر تھے انھوں نے جانوروں کے خلئے کے ایک اہم کارندے گولگی آپریٹس کو دریافت کیا۔وفات۔21 جنوری 1926.

یانکا کوپالا  (پیدائش: 7 جولائی 1882ء - وفات: 28 جون 1942ء) بیلاروسیعوامی شاعراورجدید بیلاروسی ادب کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

گرو ہرکرشن(پیدائش 07 جولائی، 1656 وفات 30 مارچ، 1664ء)سکھوں کے دس میں سے آٹھویں سکھ گرو ہیں۔گرو ہرکشن کو 5 سال کی عمر میں ہی اپنے باپ گرو ہررائے کے مرنے کے بعد7 اکتوبر، 1661ء کوگرو بن گئے تھے۔ گرو ہرکشن کو بال گرو یعنی بچہ گرو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ 8 سال کی عمر میں دہلی میں پھیلنے والی وبا کی وجہ سے مر گئے تھے۔ اُن کا گرو ہونے کا دور صرف 2 سال 5 ماہ اور 24 دن ہے۔

جسٹس (ر) ڈاکٹر منیر احمد مغل لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ حاجی محمد رمضان کے گھر میں 7 جولائی 1939ء کو پیدا ہونے والے منیر احمد مغل نے بے شمار کتب لکھیں، پاکستان کی مختلف عدالتوں میں قاضی منصف اور مشیر رہے آج بھی وہ قانونی علمی اور سماجی حلقوں میں وہ ایک با وقار شخصیت نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے قانونی مشیر ہیں۔

عبد الصمد خان اچکزئی (پیدائش :7 جولائی 1907ءگلستان، بلوچستان) ایک معروف قبائلی شخصیت، سیاسی راہنما ،ادیب اور انسانی حقوق کے کارکن تھے۔ عبد الصمد خان موجودہ چیئرمین پختونخوا ملی پارٹی محمود خان اچکزئی کے والد تھے۔ ان کا تعلق پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ایک پسماندہ علاقے گلستان سے تھا۔ عبد الصمد خان نے ابتدائی تعلیم گلستان میں حاصل کی اور اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پشتو، عربی، فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی اور فقہ، احادیث اور تفصیل کا مطالعہ کیا۔برطانوی راج کیخلاف متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی اور تقریباََ 25 سال سے زیادہ عرصے تک عبد الصمد کو انگریزوں نے جیل میں رکھا۔ بعد میں پاکستان بننے کے بعد ایوب خان کی مارشل لا کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں جیل بھیجا گیا۔ قریب اپنی زندگی میں انہوں کُل 35 سال جیل کاٹی۔عبد الصمد خان اچکزئی کو پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کا شاہی قلعہ منٹگمری مالٹا اور جزائر انڈیمان کے جیلوں میں بھی رکھا گیا تھا۔اپریل 1930ء کو پشاور میں انگریز سرکار اور پشتون آزادی پسندوں کی درمیان جھڑپ ہوئی جس نے ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں مردان، ٹکر، بنوں، ہاتھی خیل، کوہاٹ، پڑانگ، سپن تنگی اور کئی دیگر مقامات پر بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ یہ لڑائی’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک کا حصہ تھی

1889ء۔۔۔شیخ عبد المجید سندھی۔ (پیدائش: 7 جولائی، 1889ء - وفات:24 مئی، 1978ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامورسیاستدان، مصنف اور صحافی تھے۔ انہوں نے ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں تین سال اورتحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں 2 سال قید کاٹی۔ 1937ء میں سندھ اسمبلی کے پہلے آزاد انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی رہے۔

1929ء حسن عابدی، پاکستانی صحافی

1968ء ایمی کارلسن، امریکی اداکارہ

1973ء کیلاش کھیر، بھارتی گلوکار

1978ء کرس اینڈرسن، امریکی باسکٹ بال کھلاڑی

1981ء مہندر سنگھ دھونی، بھارتی کرکٹر

1984ء محمد اشرافل، بنگلہ دیشی کرکٹر

وفات

1861ء غالب کے انگریز شاگرد کپتان الیگزینڈر ہیڈلے آزاد

1960ء فرانسس براون آئریش فوٹوگراف

  2008ء ڈورین لیہ، امریکن سپر ماڈل

عبد القوى دسنوى (1 نومبر 1930ء – 7 جولائی 2011ء)بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ایک مصنف، نقاد، کتابیات ساز اور ماہر السنہ تھے۔ وہ اردو ادب پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کا اہم ترین کام مولاناابوالکلام آزاد، مرزا اسداللہ خان غالب اور محمد اقبال پر تھا۔ وہ اپنے کاموں کے لیے کئی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔

2014ء۔ایڈورڈ شیورڈناڈزے۔سوویت یونین کے سابق وزیر خارجہ اور جارجیا کے سابق صدر۔ 25 جنوری1928ء کو جارجیا میں پیدا ہوئے اور انھوں نے سنہ 1946ء میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھیں سنہ 1972ء میں جارجیا میں کمیونسٹ پارٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ عالمی سطح پر ان کی سب سے بڑی شناخت اس وقت ہوئی جب انھوں نے سنہ 1985ء میںمیخائیل گورباچوف کی حکومت میں سوویت یونین کے وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا۔ انھوں نے سنہ 1990ء میں اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا، لیکن جب سنہ 1991ءمیں سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا تو وہ دوبارہ کچھ عرصے کے لیے وزیرِخارجہ بنے تھے۔ جارجیا آنے کے بعد انھیں جارجیا میں خانہ جنگی پر قابو پانے میں کامیابی ہوئی، تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ ایڈورڈ شیورڈناڈزے سنہ 1992ء میں جارجیا کے آزاد ہونے کے بعد سربراہِ مملکت بنے لیکن وہ حزب مخالف کی ’گلاب انقلاب‘ نامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے میں ناکام رہے اور پھر سنہ2003ء میں ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ بطور وزیر خارجہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور مشرقی یورپ کی ریاستوں میں سوویت یونین کی فوجوں کی موجودگی کو ختم کر کے ان ممالک کے آزاد ہونے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ 7 جولائی 2014ء کو 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

1930ء۔۔۔سر آرتھر اگنیشئیس کونن ڈویل  ایک اسکاچستانی معالج اورمصنف تھے۔ اِن کی سب سے مشہور ترین کہانیاں سراغ رساں شرلاک ہومز کے بارے میں تھیں۔ اِن کہانیوں کی مقبولیت کی وجہ سے ڈویل کو جرائم کے جدید افسانوں کا بانی مانا جاتا ہے۔ اِن کی تصانیف میں ایک اہم سنگ میل پروفیسر چیلنجر کے سانحہ جات بھی تھے۔ اِنہوں نے کافی سائنسی قصص، ناٹک، رومانی افسانے، شاعری، غیر افسانوی ادب اور تاریخی کتابیں بھی لکھیں۔یوم پیدائش۔22 مئی 1859.

2008ء۔۔۔خاطر غزنوی ٭ اردو اور ہندکو کے نامور شاعر اور ادیب خاطر غزنوی کا اصل نام محمد ابراہیم بیگ تھا اور وہ 25 نومبر 1925ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے کیا۔ بعدازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو زبان میں ایم اے کیا اور اسی شعبہ میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران وہ دو ادبی جرائد ’’سنگ میل‘‘ اور ’’احساس‘‘ سے بھی منسلک رہے۔ 1984ء میں انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ خاطر غزنوی کے شعری مجموعوں میں روپ رنگ، خواب درخواب، شام کی چھتری اور کونجاں اور نثری کتب میں زندگی کے لئے، پھول اور پتھر، چٹانیں اور رومان، رزم نامہ، سرحد کے رومان، پشتو متلونہ، دستار نامہ، پٹھان اور جذبات لطیف، خوشحال نامہ، چین نامہ، اصناف ادب اور ایک کمرہ کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ٭7جولائی 2008ء کو خاطر غزنوی پشاور میں وفات پاگئے اور پشاور ہی میں قبرستان رحمن بابا میں آسودۂ خاک ہوئے۔

07 جولائی 1999ء کو معرکہ کارگل کے ایک اور عظیم ہیرو اور ناردرن لائٹ انفٹری کی جانب سے پہلا ’’نشان حیدر‘‘ حاصل کرنے والے حوالدار لالک جان نے جام شہادت نوش کیا۔ حوالدار لالک جان  15فروری1968ء کو ہندور میں پیدا ہوئے تھے۔میٹرک کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہوئے۔ اپنے علاقے ہندور میں سماجی ادارے ’’المدد ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کے بانی ممبران میں سے تھے۔ جون 1999ء میں جب کارگل کی لڑائی اپنے عروج پر تھی تو اس وقت حوالدار لالک جان ’’ٹائیگر ہل‘‘ پر تعینات تھے۔ پاک فوج نے اس چوٹی پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو عبرت ناک شکست دی تھی۔ اس کے باوجود بھارتی افواج کی کئی بٹالین دوبارہ اس چوٹی پر قبضہ کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کررہی تھیں۔ یکم جولائی 1999ء کو بھارت کی Grenadiers Battalion نے ٹائیگر ہل پر زبردست حملہ کیا۔ اس وقت صوبیدار سکندر کی قیادت میں لالک جان سمیت پاک فوج کے صرف 11 جوان موجود تھے۔ یہ وہ چوٹی تھی کہ جس پر بھارت قبضے کے بعد کارگل کی شکستوں کو فتح میں بدل سکتا تھا کیونکہ اس مقام سے وہ بہترین پوزیشن میں آجاتا مگر پاک فوج کے جوان ڈٹے رہے حتیٰ کہ 6 جولائی 1999ء کو بھارت کی 18 بٹالین نے بھرپور حملہ کیا جس میں صوبیدار سکندر سمیت سات جوان شہید ہوگئے۔ اب لالک جان بقیہ چار جوانوں کے ساتھ ان کی قیادت کررہے تھے۔ اسی اثنا میں پاکستانی فوج کی مزید کمک بھی پہنچ گئی مگر لالک جان زخمی ہونے کے باوجود اپنے مورچے پر ڈٹے رہے۔اس کے بعد لالک جان نے جو کیا اس کا اندازہ دشمن کے مورچے کی مستقل خاموشی سے لگایا جاسکتا ہے۔ 13 اگست 1999ء کو حکومت پاکستان نے آپ کو ’’نشان حیدر‘‘ عطا کرنے کا اعلان کیا۔ 15 ستمبر 1999ء کو آپ کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی جسے پورے اعزاز سے سپرد خاک کیا گیا۔

تعطیلات و تہوار

1978ء سولومن جزیرے نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کر دیا.

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...