آج سال کا 190 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 175 دن باقی ہیں ۔
1816ء جنوبی امریکی ملک ارجنٹینا نے اسپین سے آزادی حاصل کی۔
1852ء کناڈا کے مانٹریال شہر میں ۱۱۰۰؍ زیر تعمیر مقامات خوفناک آگ کی زد میں ا ٓجانے سے خاکستر ہو گئے۔
1875ء بمبئی اسٹاك ایکسچینج قائم ہوا۔
1921ء کراچی میں منعقدہ خلافت کانفرنس میں محمد علی جوہر نے تاریخی خطاب کیا۔
1948ء پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹوں کا سیٹ جاری ہوا۔ 9جولائی 1948ء کو سردار عبدالرب نشتر کی رہنمائی اور مسرت حسین زبیری کی کوششوں سے پاکستان کے چار اولین ڈاک ٹکٹوں کا سیٹ جاری ہوا۔ ان ٹکٹوں کی مالیت ڈیڑھ آنہ‘ ڈھائی آنہ‘ تین آنہ اور ایک روپیہ تھی۔ ان میں سے ابتدائی تین ڈاک ٹکٹ‘ جن پر بالترتیب سندھ اسمبلی بلڈنگ‘کراچی ایئر پورٹ اور شاہی قلعہ لاہور کی تصاویر بنی تھیں یہ تصاویر ایکسٹرنل پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے فوٹو گرافر آفتاب احمد نے کھینچی تھیں اور یہ ٹکٹ اسی شعبے کے دو آرٹسٹوں رشید الدین اور محمد لطیف نے مشترکہ طور پر ڈیزائن کیے تھے جب کہ چوتھا ٹکٹ اور اس کے ساتھ شائع ہونے والا فولڈر ملک کے نامور مصور عبدالرحمن چغتائی کی تخلیق تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں اور فولڈرکی ایک قابل ذکر بات یہ بھی تھی کہ ان پر پاکستان کے قیام کی تاریخ 15 اگست 1947ء شائع کی گئی تھی۔
1951ء بھارت میں پہلا پانچ سالہ منصوبہ (۱۹۵۱ء ) شروع ہوا۔
1969ء بھارت میں وائلڈ لائف بورڈ کی جانب سے شیر کو ملک کا قومی جانور چنا گیا۔
1982ء سوویت یونین نے زیر زمین نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1989ء مکہ مکرمہ میں دو بم دھماکوں میں ایک حاجی شہید اور 16 زخمی ہو گئے ۔
1991ء جنوبی افریقہ کو اولمپک کھیلوں میں دوبارہ حصہ لینے کی اجازت ملی۔
1997ء ہولی فیلڈ کا کان کاٹنے کی وجہ سے باکسر مائیک ٹائسن پر باکسنگ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی ۔
2002ء ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس آ بابا میں افریقی یونین کا قیام عمل میں آیا اور جنوبی افریقہ کے صدر تھابو مبیكي اس کے پہلے صدر بنے۔
2003ء بنگلہ دیش میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے سے 400 افراد ڈوب گئے ۔
2011ء جنوبی سوڈان آزاد ہوا۔
ولادت :
1952ء۔۔ڈاکٹر خالد سہیل کراچی کے مشہور ماہرِ نفسیات، ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعر ہیں
1938ء۔۔سنجیو کمار بھارتی اداکار ۔وفات۔06 نومبر 1985
1960ء۔۔سنگیتا بجلانی ایک بھارتی فلمی اداکارہ ہے۔اور بھارتی کرکٹر اظہر الدین کی بیوی ہے
1932ء۔۔۔ڈونلڈ رمسفیلڈ امریکی حکومت کی تاریخ میں سب سے کم عمر اور عمر میں سب سے بڑے وزیرِ دفاع ہیں، پہلی بار انہوں نے یہ عہدہ 1975ء میں صدر جیرلڈ فورڈ کے دورِ حکومت میں سنبھالا جب ان کی عمر 43 سال تھی، دوسری مرتبہ یہی عہدہ انہوں نے 2001ء میں صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں سنبھالا تب ان کی عمر 74 سال تھی، رمسفیلڈ وہ پہلے شخص بھی ہیں جس نے ایک ہی عہدہ دو مختلف ادوار میں سنبھالا۔
1944ء۔۔سید طارق فاطمی ایک پاکستانی سفارت کار ہیں۔
1926ء۔۔۔بن روئے مٹل سن ایک ڈنمارک کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1975ء میں انہوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان ایگ بوہراور امریکی سائنس دان لیو جیمز رین واٹر کے ہمراہ ایٹمی مرکزے میں موجود کولیکٹیو موشن اور پارٹیکل موشن کے باہمی تعلق کوجاننے اور اس بنیاد پر ایٹمی مکزے کی ساخت کے بارے میں بنائے گئے ان کے مفروضے پر یہ انعام دیا گیا۔
1908ء رشید ترابی، شیعہ عالم و ذاکر۔ علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اور وہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی ، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔ علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا۔ 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندوستان گیر شہرت کا باعث بنیں۔ علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد (دکن) کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 1949ء میں علامہ رشید ترابی پاکستان آگئے یہاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو ذکرِ حسین کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔ علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شاخ مرجان‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین‘ حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔ علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں دفن ہوئے۔
1915ء ڈیوڈ ڈیمنڈ، امریکی موسیقار
1925ء گرو دت، بھارتی اداکار اور ہدایتکار
1935ء مائیکل ولیمز، برطانوی اداکار
1951ء کرس کوپر، امریکی اداکار
1956ء ٹام ہینکس، امریکی اداکار
وفات :
1533ء چیتنیہ دیو، ہندوستانی مذہبی مبلغ
2008ء۔۔رحمت النساء نازؔ برصغیر کی نامور شاعرہ، ماہر تعلیم اور سماجی کارکن تھیں۔ولادت۔28 جون 1932 بنگلور۔
9 جولائی 1967ء کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کراچی میں انتقال کرگئیں۔ محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن تھیں مگر ایسی بہن‘ جس نے بھائی کے نصب العین کی خاطر اپنی زندگی تج دی تھی۔ ان کی زندگی کا فقط ایک مقصد تھا اور وہ یہ کہ ان کے عظیم بھائی نے جس کام کا بیڑا اٹھایا ہے اس میں کسی قسم کی رکاوٹ یا دشواری پیدا نہ ہو۔محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے عظیم بھائی کے دوش بدوش مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔1948ء میں جب قائد کا انتقال ہوا تو ان کا مشن آگے بڑھانے کا کام محترمہ فاطمہ جناح نے سنبھال لیا اور وہ ان مقاصد عالیہ کی روشنی کا مینار بن گئیں جن کے مطابق قائد اعظم پاکستان کی تعمیر کے خواہاں تھے۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میںمحترمہ فاطمہ جناح نے خود بھی صدارتی امیدوار کے طور پر بھرپور حصہ لیا مگر وہ سیاسی مشینری اور بیورو کریسی کی سازشوں کے ہاتھوں شکست کھا گئیں۔ ان انتخابات کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں اور 9 جولائی 1967ء کو وفات پاگئیں۔ وہ قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں آسودہ خاک ہیں۔
1797ء۔۔۔اڈمنڈ برک برطانوی فلسفی اور پادری۔ ڈبلن میں تعلیم پائی۔ کلیسائی مراتب طے کرکے برموڈا میں ایک دینی مدرسہ قائم قائم کرنے کی تحریک چلائی۔ تاکہ امریکا کےریڈ انڈینوں کو مسیحی بنایا جائے۔ لیکن تین سال بعد ناکام ہو کر واپس انگلستان آگیا۔ 1734ء میں بشپ بنا۔ متعدد کتابیں لکھیں۔ جن میں خیالی فلسفے کی تلقین کی کہ خیال مادے پر مقدم ہے اور مادہ خیال کا پرتو ہے۔
1850ء۔۔۔سید علی محمد باب (پیدائش:20 اکتوبر 1819ء )بابی یا بہائی مذہب کا بانی۔ اس کا باپ محمد رضا، شیرازکا تاجر تھا۔ سید علی محمد حصول تعلیم کے لیے کربلا گیا اور پھر شیراز واپس آکر چوبیس سال کی عمر میں (باب خدا تک پہنچنے کا دروازہ) ہونے کا دعوی کیا۔ اصفہان کا گورنر منوچہراس کا پیرو بن گیا۔ مرزا یحییٰ نوری جو بعد میں (صبح ازل) کہلایا۔ مرزا حسین علی نوری جو بہا اللہکے نام سے مشہور ہوا اور آیت اللہ ملا برغانی کی حسین و جمیل لڑکی زرین تاج جو قرۃ العین طاہرہ کہلائی دونوں اس مذہب کے پرجوش مبلغ تھے۔ علما نے باب کی زبردست مخالفت کی اور اسے کافر قرار دیا۔ بادشاہ ناصر الدین قاچار کے حکم سے بالاخر تبریز کے چوراہے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور لاش شہر سے باہر پھینک دی گئی۔ اس کے پیرؤوں کا عقیدہ ہے کہ اس کے مریدوں نے اس کی لاش کہیں چھپا دی اور پچاس سال بعد عبد البہا کے عہد میں فلسطین لے جا کر کوہ کرمل پر دفن کی۔ بہائی اسے مقام اعلیٰ کہتے ہیں۔ باب نے دو کتب بیان اوردلائل السبعہ تحریر کی تھیں۔ جن سے اس کے مذہبی عقائد کا مجملاً پتا چلتا ہے۔
1850ء۔۔۔زیکری ٹیلر (انگریزی: Zachary Taylor) امریکہ کا بارہواں صدر تھا
2015ء۔۔۔بشر نواز ایک مشہور اردو شاعر تھے جنہوں نے بالی وڈکی فلم بازار کا زبان زد عام نغمہ کروگے یاد تو ہر بات یاد آئے گی جیسا نغمہ، کئی اور نغمے اور شاعری کے دیگر اصناف سخن مین منقسم کلام لکھا تھا۔
2004ء ازبیل سینفورڈ، امریکی اداکارہ
تعطیلات و تہوار :
1816ء جنوبی امریکی ملک ارجنٹینا نے اسپین سے آزادی حاصل کی۔
2011ء جنوبی سوڈان آزاد ہوا۔
No comments:
Post a Comment