10 جولائی 1967
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے جنازے اور تدفین کا احوال۔
محترمہ فاطمہ جناح کی اچانک اور پراسرار موت آج بھی ایک معمہ ہے،
7 اور 8 جولائی 1967ء کی درمیانی رات 11 بجے لائق علی سابق وزیراعظم حیدر آباد دکن کی بیٹی کی شادی سے فارغ ہوئی تھیں۔ وہ ہشاش بشاش تھیں، اور 9 جولائی 1967کو اچانک اعلان ہوا کہ وہ اپنی قیام گاہ قصر فاطمہ کراچی میں 74 برس کی عمر میں رات سوتے وقت وفات پا گئیں۔
اس وقت پاکستان میں ان کا کوئی عزیز یا رشتہ دار موجود نہ تھا۔ ، ان کے گلے پر سرخ نشان بھی پایا گیا تھا۔ تجہیز و تکفین کے وقت عوام کو دور رکھا گیا، اور یہاں تک کہ ان کے آخری دیدار کی بھی اجازت نہ دی گئی، آخری دیدار کرنے کے لئے اسرار کرنے والوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس پھینکی گئی۔ ان کی وصیت کے مطابق اپنے بھائی کے پہلو میں دفنانے کی بجائے مقبرہ کے احاطہ میں دفن کیا گیا۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ان کی موت طبعی نہ تھی۔ حکومت کی لالچ اور حرص والے گروپ کی سازش سے جمہوریت کی علمبردار ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیت کو راستہ سے ہٹایا گیا پاکستانی معاشرہ کو ایک بااثر مددگار خاتون سے محروم کیا گیا۔
محترمہ فاطمہ جناحؒ کا تابوت کلفٹن میں واقع قیام گاہ قصر فاطمہ سے ایک کھلی مائیکرو وین میں رکھا گیا جس کے چار کونوں پر مسلم لیگ کے چار نیشنل گارڈ کھڑے تھے اور ایک عالم دین قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ان کی موت پر لوگ قصر فاطمہ سے پولو گراﺅنڈ تک اشک بار تھے۔ عقیدت مندوں کا جم غفیر تھا۔ ان کی میت اور جنازے کا طویل ترین جلوس تھا، جنازہ کے ساتھ جو لوگ شریک تھے ان میں کونسل مسلم لیگ کے صدر میاں ممتاز خان دولتانہ، نظام اسلام پارٹی کے سربراہ چودھری محمد علی، سردار شوکت حیات، نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل مسٹر محمودالحق عثمانی، قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مسٹر نورالامین، مسٹر ایم ایچ اصفہانی، آزاد کشمیر کے سابق صدر مسٹر کے ایچ خورشید، مختلف سیاسی رہنما اور ممتاز شہری شامل تھے۔
جنازہ کا جلوس روانہ ہونے سے پہلے قصر فاطمہ میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس میں کم و بیش 5 ہزار افراد شریک ہوئے۔ صوبائی دارالحکومت اور مغربی پاکستان کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم المرتبت بہن خاتون پاکستان مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور سوگ منایا گیا۔ لاہور میں تمام تعلیمی و تجارتی ادارے، سرکاری وغیر سرکاری دفاتر مکمل طور پر بند اور قومی پرچم سرنگوں رہے۔
بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عزیز ترین بہن مادر ملت کو 10 جولائی 1967ء کو 12:35 پر بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں بہت بڑے سوگوار ہجوم کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ جنازے کا جلوس مزار پر پہنچنے کے پانچ منٹ بعد مادر ملت کا تابوت قبر میں اتار دیا گیا جو نواب زادہ خان لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی قبروں کے درمیان بنائی گئی تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مزار کے احاطہ اور گرد و نواح میں سوگواروں کی تعداد تین اور چار لاکھ کے درمیان تھی۔ مزار کے میدان میں اس قدر ہجوم تھا کہ جس گاڑی میں تابوت رکھا ہوا تھا اسے تین سو گز کا فاصلہ طے کرنے میں پورا آدھا گھنٹہ لگا اور ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والوں کا شام تک تانتا بندھا رہا۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی رسم قل قصر فاطمہ کلفٹن میں سر انجام دی گئی۔ خواتین نے صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے دس بجے تک قرآن پاک کی تلاوت اور فاتحہ خوانی کی۔ مردوں نے ساڑھے پانچ بجے شام سے ساڑھے چھ بجے تک قرآن خوانی کی اور مرحومہ کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ پڑھی۔
No comments:
Post a Comment