Ad3

10 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 191 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں 174 دن باقی ہیں ۔
1212ء برطانیہ کے سب سے اہم شہر لندن میں لگنے والی  بھیانک آگ نے پورے شہر کو خاکستر کر دیا۔
1652ء انگلینڈ نے نیدرلینڈ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
1800ء کلکتہ میں اردو، ہندی اور مقامی زبانوں کے فروغ کے لئے فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا۔
1806ء ہندوستانی فوج کے سپاہیوں کی برٹش انڈیا کمپنی کے خلاف ویلور میں پہلی بغاوت ہوئی۔
1862ء امریکہ نے بحرالکاہل ریل روڈ کی تعمیر کا کام شروع کیا۔
1884ء انگلینڈ کے اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے جا رہے پہلے کرکٹ ٹسٹ میچ کا پہلا روز بارش کی بھینٹ چڑھا۔
1913ء یورپی ملک رومانیہ نے بلغاریہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
1913ء امریکہ کے کیلی فورنیا صوبہ میں واقع ’ڈیٹھ ویلی‘ میں درجہ حرارت 7ء56 ڈگری سیلیس درج کیا گیا۔
1924ء ڈنمارک نے گرین لینڈ پر قبضہ کر لیا۔
1925ء سوویت یونین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کا قیام۔
1940ء جرمنی کے طیاروں نے برطانوی بحری جہازوں پر حملہ کیا۔
1942ء نیدرلینڈ اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی  تعلقات کا آغاز۔
1943ء دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے ‘آپریشن ہسکی’ کے تحت اٹلی کے سسلی جزیرے پر حملہ کیا۔
1947ء چین کے کینٹون علاقہ میں ندی میں ریل گرنے سے 200 افراد ہلاک ہو گئے۔
1947ء برطانیہ کے وزیراعظم کلیمیٹ اٹلی نے قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں پہلا گورنر جنرل نامزد کیا۔
1962ء جارجیا میں مظاہرے کے دوران مارٹن لوتھر کنگ جونیئر گرفتار۔
1962ء دنیا کے پہلے ٹیلی مواصلات ’ٹیل اسٹار‘ کا کامیاب  تجربہ۔
1965ء  بھارت میں مدھیہ پردیش کے گوالیار میں خواتین کے پہلے این سی سی کالج کا افتتاح ہوا۔
1972ء بھارت میں چندکا کے جنگلات میں ہاتھیوں نے 14 افرا کو کچل ڈالا۔
1973ء پاکستان کی پارلیمنٹ نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی تجویز کی منظوری دی۔
1973ء شمالی امریکہ براعظم کے کریبیائی علاقہ میں واقع ملک بہاماز نے انگلینڈ سے آزادی حاصل کی اور اپنا آئین نافذ کیا۔
1974ء تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ نے نیدر لینڈ کا بائیکاٹ ختم کیا۔
1991ء بورس یلتسن روس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
1991ء نسلی امتیاز کی وجہ سے برسوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی پابندی جھیلنے والی جنوبی افریقہ کرکٹ کونسل کو آئی سی سی میں دوبارہ جگہ ملی۔
1994ء نیپال کے وزیر اعظم کری راج پرساد کوئرالہ نے استعفی دے دیا۔
1997ء ویٹ لفٹر ملیشوری نے بیجنگ میں منعقد ایشیائی چمپین شپ میں ہندوستان کے لئے پہلا گولڈ میڈل جیتا۔
2000ء پیٹ سمپراس نے اپنا ساتواں ومبلڈن خطاب جیتا۔
2000ء نائجیریا میں پیٹرول پائپ لائن میں سوراخ ہونے سے  لگنے والی آگ میں 250 دیہی باشندوں کی موت ہو گئی۔
2006ء پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز کا طیارہ ملتان میں حادثہ کا شکار ہونے سے 45 افراد شہید ہو گئے۔
2007ء۔۔لال مسجد پہ مذاکرات کی ناکامی پر آپریشن شروع ہو گیا
2013ء چین کے شی زوان صوبہ میں زمین دھسنے سے 40 افراد ہلاک ہو گئے۔
2015ء بنگلہ دیش کے میمن سنگھ ضلع میں مفت میں بانٹے جا رہے کپڑے لینے کے دوران مچی بھگدر میں23 افراد ہلاک ہو گئے۔
10جولائی 2009ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے معروف شاعر اور افسانہ نگار جناب احمد ندیم قاسمی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراحمد ندیم قاسمی کا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ پانچ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں3RD DEATH ANNIVERSARY OF AHMAD NADEEM QASMI 1916-2006 کے الفاظ تحریر تھے۔
ولادت
پروفیسر ڈاکٹر نواز علی شوق (پیدائش: 10 جولائی،1937ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے بقید حیات سندھی زبان و ادب کے معروف ماہر، شاعر، نقاد اور محقق ہیں۔
1925ء۔۔ڈاکٹر مہاتیر بن محمد ملائشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہے۔ ان کا سیاسی سفر 40 سال تک محیط رہا۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،
محسن زیدی (1935ء - 2003ء) ایک اردو شاعرتھے جو قلمی نام 'محسن' لکھا کرتے تھے۔ سید محسن رضا زیدی10 جولائی 1935 شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے۔ والدین کا نام علی الترتیب سید علی رضا زیدی اور صغری بیگم تھا۔ ان کا 3 ستمبر 2003ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔
1930ء۔۔۔سید امین اشرف ایک مشہور اردو غزل شاعر اور نقاد تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی جس کے لیے انہوں نے سیروگنی نیدو کی شاعری کو موضوع بنایا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے تین مجموعے اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ ایک کتاب کی شکل میں تیار کیا۔ ان کی شاعری کی خدمات پر انہیں بہت سے اکیڈمک ایوارڈز ملے اور بہت سے مضامین ان کی شاعری کی مدح سرائی میں لکھے گئے۔ 7 فروری 2013ء (بمطابق 25 ربیع الاول 1434 ہجری) کو علی گڑھ میں دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے پر ان کی وفات ہوئی اور انہیں کچاوچہ شریف میں اشرف جہانگیر سمنانی کے مقبرے کے پاس اپنے والد کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔
1931،ء۔۔ایلس منرو  ایک کینیڈا کے ادیب ہیں آپنے نوبل ادب انعام 2013ء میں جیتا۔
1920ء۔۔۔اون چیمبر لین امریکا کے ایک طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے سائیسدان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1959 میں چن نینگ یانگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ انکی ایٹم کے زیلی زرات کی مشترکہ دریافتیں تھی ۔
سید الطاف علی بریلوی (پیدائش: 10 جولائی، 1905ء - وفات: 24 ستمبر، 1986ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ادیب، صحافی، ماہر تعلیم اور تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ سر سید احمد خان کی قائم کردہ آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کی پاکستان میں شاخ آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے نام سے قائم کی۔ انہوں نے نے تعلیم کے شعبے میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں اور کراچی میں سر سید گرلز کالج قائم کیا۔
اسد اللہ خاں المروف اسد بھوپالی  (پیدائش: 10 جولائی، 1921ء - وفات: 9 جون، 1990ء) بھارت کے نامور شاعر اور فلمی گیت نگار تھے۔ انہیں فلم میں نے پیار کیا کے گیت دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ پر بھارت کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا انعام فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
آلوک ناتھ (پیدائش: 10 جولائی 1956 ء پٹنہ بھارت ) ہندی فلموں اور ڈراموں کے ایک مشہور اداکار ہیں۔
1856ء نیکولا ٹیسلا، امریکی طبعیات دان اور مہندس (Engineer)
1931ء جولئین مئے، امریکن مصنف
1949ء سنیل گواسکر، بھارتی کرکٹر
1968ء جوناتھن گلبرٹ، امریکن اداکار
1968ء۔۔مولانا مسعود اظہر۔
وفات
831ء۔۔۔ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصورہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن اور بیوی تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونے والی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ165ھ مطابق جولائی 782ء میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان میں اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پانچ کروڑ درہم خرچ کیے۔ ہارون الرشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔۔
1927ء۔۔۔رائے بہادر سر گنگا رام (Rai Bahadur Sir Ganga Ram) (اپریل 1851ء ) ایک معروف سول انجنیئر تھے جو برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے گاوں مانگٹاں والا جو اب پنجاب، پاکستان کا حصہ ہے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تھامسن کالج آف سول انجینرنگ میں تعلیم حاصل کی جو اب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہیں اپنے وقت کے ایک معروف انسان دوست اور زرعی ماہر کے طور پر جابا جاتا ہے۔
1851ء۔۔۔لوئس ڈاگئیوری (Louis Daguerre) ایک فرانسیسی مصور تھا۔ لیکن وہ ایک نئی طرح کا تصویر بنا نا چاہتا تھا۔ 1920 میں اس نے اپنے تجربات شروع کیے 12 سال بعد حقیقی تصویر ایجاد کر ڈالی اس نے اپنا یہ ایجاد فرانسیسی حکومت کو بیچ دیا اور حکومت نے اسے پوری دنیا کو بتایا۔ ڈاگئیوری اپنے اس ایجاد کو ڈاگئیوری ٹائپس کہتا تھا اور یہ بہت جلد مقبول ہو گئے ۔1940 تک نیویارک شہر میں 70 ڈاگئیوری ٹائپس سٹوڈیوز قائم ہو گئے تھے۔
2015ء۔۔۔عمر شریف۔ہالی وُڈ کی کئی ایک کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا کر عالمی شہرت حاصل کرنے والے مصری فنکار۔عمر شریف مصر کے بندرگاہی شہر اسکندریہ میں لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1953ء میں اُنہوں نے خوبصورت اداکارہ فاتن حمامہ کے ساتھ مل کر ایک فلم میں کام کیا۔ تب اِس اداکارہ سے شادی کرنے کےلئے اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام، جو تب تک مِشیل دمتری شالُوب تھا، بدل کر عمر شریف کر لیا۔ اِس شادی سے اُن کا ایک بیٹا ہوا، جس کا نام طارِق ہے۔
2015ء۔۔۔سردار محمد عبد القیوم خان تحریک آزاد کشمیر کے بانیوں میں شمارہوتا ہے، انہیں بھارتی فوج کے خلاف آزادی کی تحریک میں پہلی گولی چلانے کا اعزاز حاصل تھا۔ اسی لیے ان کو مجاہد اول کا لقب دیا گیا ۔
2014ء۔۔زہرہ سہگل ہندوستانی فلمی اور اسٹیج اداکارہ تھی۔۔ پیدائش سہارن پور کے ایک بڑے زمیندار گھرانہ میں 27 اپریل سنہ 1912ء کو ہوئی۔ اس گھرانے کا تعلق روہیلہ پٹھان نسل سے تھا۔ ابتدائی تعلیم دہرادون کے قریب چکراتا سے حاصل کی۔ بعد میں وہ کوئن میری گرلس کالج لاہور گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے لندن، جرمنی، مصر اوریورپ کے کئی ممالک کا سفر کیا۔
2003ء ونٹسن گراہم، برطانوی مصنف
10جولائی 2006ء کواردو کے نامور افسانہ نگار‘ شاعر‘ ناقد‘ کالم نگار‘ محقق‘ مترجم اور صحافی جناب احمد ندیم قاسمی لاہور میں وفات پاگئے۔ جناب احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ 20 نومبر 1916ء کو انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب احمد ندیم قاسمی ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے ان کی تصانیف کا دائرہ ہر صنف ادب تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں دھڑکنیں‘ رم جھم‘ جلال و جمال‘ شعلہ گل‘ دشت وفا‘ محیط‘ دوام، لوح خاک‘جمال اور ارض وسما، افسانوی مجموعوں میں چوپال‘ بگولے‘ طلوع و غروب‘ آنچل‘ آبلے‘ آس پاس‘ درودیوار‘ سناٹا‘ بازار حیات‘ برگ حنا‘ سیلاب و گرداب،گھر سے گھر تک‘ کپاس کا پھول‘ نیلا پتھراور کوہ پیما‘ تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں تہذیب و فن،پس الفاظ اور معنی کی تلاش اور خاکوں کے دو مجموعے میرے ہم سفراور میرے ہم قدم شامل ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کا شمار انجمن ترقی پسند مصنّفین کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اس جماعت کی وابستگی کے حوالے سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ وہ پھول‘ تہذیب نسواں‘ ادب لطیف‘ نقوش‘ سویرا‘ فنون اور روزنامہ امروز کے مدیر رہے اورمتعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ 1974ء سے اپنی وفات تک مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘ ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز سے نوازا تھا۔ پاکستان رائٹرز گلڈ نے انہیں تین مرتبہ آدم جی ادبی انعام عطا کیا تھا۔ بزم فروغ اردو ادب قطر نے انہیں اپنے ایوارڈ سے نوازا تھا اور اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں 1997ء کا کمال فن ایوارڈ اور2007ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا  علامہ محمد اقبال ایوارڈ عطا کیا تھا۔انہیں پنجاب کا پریم چند بھی کہا جاتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی لاہور میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
10جولائی 1987ء کو پاکستان کا پہلا پرچم تیار کرنے والے خیاط ماسٹر افضال حسین کراچی میں وفات پاگئے۔ ماسٹر افضال حسین 1907ء میں بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے بعدازاں وہ دہلی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے اپنے بھائی الطاف حسین کے ساتھ حسین برادرز کے نام سے خیاطی کی دکان کھول لی۔ اپنے علاقے کے مسلم لیگ کے سرگرم کارکن ڈاکٹر عبدالغنی قریشی کے مشورے پر وہ مسلم لیگ کی تنظیم نیشنل گارڈ میں شریک ہوگئے۔ جون 1947ء میں ان کے بھائی الطاف حسین نے انہیں آکر کہاکہ ہمیں پاکستان کا پہلا پرچم سینا ہے، چنانچہ ماسٹر افضال حسین نے پیمائش اور رنگوں کے تناسب سے کپڑے کی تراش خراش کرکے الطاف حسین کو دیا جسے انہوں نے سی کر مسلم لیگ کے دفتر میں پہنچا دیا۔ اتفاق سے اسی وقت ایک انگریز فوٹو گرافر نے ان کی تصویر کھینچ لی جو بعد میں لائف میگزین میں چھپی۔ ماسٹر افضال حسین اور الطاف حسین کو اس پرچم کی سلائی کا معاوضہ بھی ملا تھا مگر وہ انہوں نے مسلم لیگ کے فنڈ میں دے دیا۔ ماسٹر افضال حسین کراچی میں نیوکراچی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
2007ء مولانا عبدالرشید غازی لال مسجد واقعہ میں " آپریشن سائلنس " کے نتیجے میں جہان فانی سے رخصت ہو گئے ۔
10 جولائی 2007ء۔۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی نے شہید کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے کئی معرکے سرکرکے پاک فوج کا سر فخر سے بلند کردیا تھا۔وہ انتہائی نفیس اور ہمدرد انسان تھے۔قرآن شریف کا مطالعہ کرنا انکی روزمرہ مصروفیات میں شامل تھا۔ تفہیم القران کا بھی باقاعدگی سے مطالعہ کرتے تھے۔ 24 اگست 1977 کو پیدا ہونے والے کیپٹن سلمان فاروق لودھی کابہاولپورسے تعلق تھا۔ پاک فوج سے گریجویٹ کرنے کے بعد کیپٹن سلمان شہید کو آرمی ایئر ڈیفنس میں تعینات کیا گیا لیکن انہوں نے 2003ء میں اپنی مہم جو طبعیت کے باعث ایس ایس جی کو جوائن کر لیا۔  انہیں اپنی بہادری کی بدولت پہلا ایوارڈ جنوبی وزیرستان میں کامیابی سے ڈیوٹی دیتے ہوئے ملا۔ انہیں ’قرار حیدری‘ میں تعینات کیا گیا اور ’المیزان آپریشن‘ میں کامیابی کی بدولت انہیں 2004ءمیں ’تمغہ بسالت‘ دیا گیا۔پاک فوج کے اس بہادر سپوت نے 10 جولائی 2007ء کو شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ کیپٹن سلمان شہید کو لال مسجد میں محصور یرغمالیوں کو چھڑوانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ کیپٹن سلمان نے صرف 30 سال کی عمر میں شہادت پائی۔ شہادت کے چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں اولاد نرینہ سے سرفراز کیا۔
2018ء۔۔ہارون احمد بلور۔ پشاور، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان تھے۔ وہ مشہور سیاست دانبشیر احمد بلور کے بیٹے تھے۔ وہ 10 جولائی 2018ء کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے کے دوران میں خودکش دھماکے میں فوت ہو گئے
تعطیلات و تہوار
1973ء بہاماس برطانیہ سے آزاد ہوا اور آئین اختیار کیا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...