Ad3

11 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 192 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں  ابھی 173 دن باقی ہیں
1346ء لگژمبرگ کے چارلس چہارم کو رومن سلطنت کے شہنشاہ کی حثیت سے تاجپوشی۔
1376ء انگریزی پارلیمنٹ ’گڈ پارلیمنٹ‘ کی میٹنگ ۔
1673ء نیدرلینڈ اور ڈنمارک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا۔
1776ء کیپٹن جیمس کک نے اپنا تیسرا سفر شروع کیا۔
1812ء امریکہ نے کناڈا پر حملہ کیا۔
1832ء برطانوی پارلیمنٹ نے ستی کی رسم ختم کرنے کے  خلاف مذہبی ہندو پیشواؤں کی اپیل مسترد کی۔
1848ء لندن کا واٹرلو اسٹیشن کھولا گیا۔
1889ء سیووا بازار کلب کسی فٹ بال ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی پہلی ہندوستانی ٹیم بنی۔
1921ء منگولیا چین سے آزاد ہوا۔
1930ء آسٹریلوی کھلاڑی ڈان بریڈمین نے ایک ہی دن میں 309 رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ بنایا۔
1933ء پاپ ہفتم نے انگلینڈ کے راجا ہینری ہشتم کو سماج سے باہر کیا۔
1934ء فرینکلن ڈیلونو روزویلٹ (ایف ڈی آر) پناما نہر سے سفر کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر بنے۔
1943ء دوسری عالمی جنگ میں سسلی پر حملہ۔
1943ء یوکرین میں وولہینیا میں سب سے بڑا قتل عام ہوا۔ پچاس ہزار افراد قتل کئے گئے۔
1948ء یروشلم پر پہلا ہوائی حملہ ہوا۔
1950ء پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں شمولیت اختیار کی۔
1955ء کانگریس نے سبھی طرح کی امریکی کرنسی کو ’ان گاڈ وی ٹرسٹ‘ کہنے کی منظوری دی۔
1960ء ہارپر لی کے ناول 'ٹو کل دا موکنگ برڈ' (To Kill the Mockingbird) کی پہلی اشاعت ہوئی۔
1962ء امریکہ نے نیواد میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1962ء پہلی پار اٹلانٹک سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوئی۔
1974ء عالمی فٹبال لیگ نے پہلا میچ کھیلا۔
1977ء مارٹن لوتھر کنگ جونئر کو بعد از مرگ ’میڈل آف فریڈم‘ دیا گیا۔
1989ء دولت مشترکہ نے پاکستان کو دولت مشترکہ میں دوبارہ شمولیت کی باضابطہ پیش کش کر دی۔
1991ء امریکہ کے ہوائی میں مکمل سورج گرہن دیکھا گیا۔
1995ء سرب فوجوں نے بوسنیا اور ہرزیگوینا کے آٹھ ہزار سے زائد مسلمان شہریوں کو قتل کر دیا۔
1995ء امریکا اور ویتنام کے مابین سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔
2003ء اٹھارہ ماہ کے تعطل کے بعد لاہور دہلی بس سروس کا دوبارہ آغاز ہوا۔
2006ء ممبئی بم دھماکوں میں 209 افراد ہلاک ہوئے۔
2008ء ایپل نے آئی فون III جی آغاز کیا۔
2010ء اسپین فٹبال کا عالمی چیمپیئن بنا۔
2012ء پلوٹو کے پانچوں چاند کی دریافت ہوئی۔
ولادت :
1767ء جون کونسی ایڈمز امریکی سیاستدان اور چھٹا امریکی صدر
1952ء بل باربر کینیڈین آئس ہاکی کھلاڑی
1982ء کرس کولی امریکی فٹبالر
1990ء پیٹرک پیٹرسن امریکی فٹبالر
1767ء۔۔جان کوئنسی ایڈمز۔امریکا کا چھٹا صدر۔ دوسرے صدر۔ جان ایڈمز کا بڑا لڑکا۔شہر کوئنسی (میساچوسٹس) میں پیدا ہوا۔ ہارورڈ کالجسے بی اے کیا۔ 1803ء میں سینٹ کا رکن منتخب ہوا۔نپولین نے روس پرحملہ کیا تو روس میں امریکا کا سفیر تھا۔ 1817ء میں امریکا کا وزیر خارجہ بنا اور ایک معاہدے کے تحت سپین سے فلوریڈا کا علاقہ لیا۔ 1825ء تا 1829ء تک امریکا کا صدر رہا۔ حبشی غلاموں کی آزادی کا زبردست حامی تھا۔
پروفیسر سید شبیر علی کاظمی (پیدائش: 11 جولائی،1915ء - وفات: 31 جنوری، 1985ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہر لسانیات اور ماہر تعلیم تھے۔
1931ءءڈاکٹر نواب حیدر نقوی پاکستان کے ممتاز ماہرِ اقتصادیات اور دانشور ہیں
پرویز امیر علی ہود بھائی (پیدائش: 11 جولائی 1950ء) ایک پاکستانی نیوکلیئر طبیعیات دان، مضمون نگار اورقومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ ہود بھائی نے مساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے الیکٹریکل انجینئری اور ریاضیات میں گریجویٹ کیا، اس کے بعدسولڈ سٹیٹ طبیعیات (ٹھوس حالت طبیعیات) کے موضوع میں ماسٹر لیول کی تعلیم حاصل کی اور پھر نیوکلئر فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں جیسے ایم آئی ٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ، کارنیگ میلن یونیورسٹی وغیرہ میں عارضی پروفیسر شپ کے طور پر کام کیا۔ 2003ء میں انہیں پیوگوش کونسل میں چھ روزہ قیام کےلئے لیے مدعو کیا گیا۔ ہودبھائی "دی بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس" کے کفیل بھی ہیں اور "پرماننٹ مانیٹرنگ پینل آن ٹیرارزم آف دی ورلڈ فیڈریشن آف سائنٹسٹس" کے ایک اہم رکن بھی
وفات :
1630ء بیگم ریزابی بیہ سوكیئس (رضا بی بی) کولکتہ آئی پہلی غیر ملکی خاتون۔
1936ء جیمز مرے امریکی اداکار۔
سر آرتھر ایڈورڈز ایوینز (پیدائش:جولائی 8, 1851 اور وصال: جولائی11, 1941) آثار قدیمہ کے ماہر تھے جن کی وجہ شہرت جزیرہ کریٹ پر کنوسوس کے کھنڈر کی کھوج تھی۔ انہوں نے ہیرو اسکول، بریزنوز کالج ،جامعہ آکسفورڈاور جامعہ گوٹنجن سے تعلیم حاصل کی
1869ء۔۔مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردوفارسی نے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھی نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857 میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا "جرم" معاف ہو گیا اور پنشن مقرر ہوئی۔
2001،ء۔۔۔۔قتیل شفائی ٭ اردو کے ممتاز شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قتیل شفائی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں حاصل کی تھی۔ بعدازاں وہ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہوں نے حکیم محمد یحییٰ شفا سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی اور انہی کی نسبت سے خود کو شفائی لکھنا شروع کیا۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا اور وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔ ٭11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
1957ء مسلم لیگ کے بانی رکن آغا خان سوم سر سلطان محمد شاہ٭11جولائی1957ءکو اسماعیلی فرقے کے موروثی پیشوا اور تحریک پاکستان کے ایک عظیم رہنما ہزرائل ہائی نس سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوم نے وفات پائی۔انہیں ان کی وصیت  کے مطابق مصر میں اسوان کے مقام پر دفن کیا گیا۔ سر آغا خان2نومبر1877ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ محض ایک مذہبی رہنما ہی نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے ایک عظیم سیاستدان اور مدبر بھی تھے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ برصغیر پاک و ہند کی خوشحالی کے لئے عظیم خدمات انجام دیں بلکہ بین الاقوامی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک تھے اور1907ء سے1913ء تک اس کی صدارت پر فائز رہے تھے۔ انہی کی کوششوں سے ایم اے او کالج علی گڑھ کو یونیورسٹی کا درجہ ملا اور وہ اس یونیورسٹی کے پروچانسلر بھی رہے۔1930ء میں جب لندن میں گول میز کانفرنسوں کا آغاز ہوا تو سر آغا خان نے وہاں بھی مسلمانان برصغیر کی نمائندگی کی۔1937ء میں انہیں لیگ آف نیشنز کی جنرل اسمبلی کا صدر بھی منتخب کیا گیا تھا۔
11 جولائی 2001ء کو پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گلوکار استاد سلامت علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔ استاد سلامت علی خان 12 دسمبر 1934ء کو شام چوراسی ضلع ہوشیارپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی استاد نزاکت علی خان کے ساتھ اپنے والد استاد ولایت علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور نہایت کم عمری میں ہندوستان گیر شہرت حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے ملتان اور پھر لاہو رمیں اقامت اختیار کی۔ استاد سلامت علی کا گھرانہ دھرپد گائیکی کے لئے مشہور تھا لیکن استاد سلامت علی خان نے اپنے ایک بزرگ میاں کریم بخش مجذوب سے خیال گائیکی میں بھی اختصاص حاصل کیا۔ 1983ء میں استاد نزاکت علی خان کی وفات کے بعد استاد سلامت علی خان کی گائیکی کا سلسلہ خاصا کم ہوگیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں دو مرتبہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ استاد سلامت علی خان لاہور میں قبرستان اسکیم موڑ، ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔
تعطیلات و تہوار :
1987ء اقوام متحدہ نے عالمی یوم آبادی منانے کا آغاز کیا۔ دنیا کی آبادی 5 ارب سے تجاوز کر گئی۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...