Ad3

12 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 193 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 172 دن باقی ہیں ۔
1191ء تیسری صلیبی جنگ میں 92۔1189 کے تحت انگلینڈ کے حکمراں رچرڈ کی قیادت
والی فوج نے سیریائی بندرگاہ ارکے پر قبضہ کیا۔
1290ء حکمراں ایڈورڈ اول کے حکم پر یہودیوں کو انگلینڈ سے نکالا گیا۔
1543ء انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ہشتم نے چھٹی اور آخری بیوی کیتھرین پار کے ساتھ شادی کی۔
1576ء بنگال کے گورنر حسین قلی نے باغیوں کو شکست دی۔
1674ء چھترپتی شیواجی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا۔
1690ء ولیم آف آرینج کی قیادت میں پروٹیسٹینٹوں نے رومن کیتھولک فوج کو شکست دی۔
1691ء اگہریم کی لڑائی میں انگلینڈ کے ولیم سوئم نے جیمس دوم کو ہرایا۔
1790ء فرانس میں چرچ کے لئے بنے سول آئین کو نیشنل اسمبلی نے منظور کیا۔
1812ء امریکہ نے کنیڈا پر حملہ کیا۔
1823ء بھاپ انجن سے چلنے والا پہلا جہاز ’ڈائنا گن بوٹ‘ کو کولکتہ کے نزدیک سمندر میں اتارا گیا۔
1862ء امریکی کانگریس نے 'میڈل آف آنر' کو اختیار کیا۔
1902ء آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے خواتین کے حق رائے دہی پر اتفاق کیا۔
1912ء مولانا آزاد نے "الہلال" رسالے کا اجرا کیا۔
1912ء ’’کوئین الزبتھ‘‘ امریکہ میں ریلیز ہونے والی پہلی غیر ملکی فلم بنی
1928ء ٹینس میچ کو پہلی مرتبہ ٹیلیویژن پر نشر کیا گیا۔
1949ء نیدرلینڈ کی ایئرلائن کے ایل ایم کا جہاز بمبئی کے نزدیک حادثہ کا شکار ہوا 45 افراد ہلاک ہو گئے۔
1970ء تنزام ریلوے کی تعمیر کے لئے تنزانیا نے چین کے ساتھ معاہدہ کیا۔
1970ء بھارت میں الک نندا ندی میں سیلاب میں کئی بسوں کے بہہ جانے سے 600 افراد ہلاک ہو گئے۔
1978ء امریکہ نے نوادا میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1990ء روس کے صدر بورس یلسن نے سوویت کمیونسٹ پارٹی سے استعفی دے دیا۔
1993ء جاپان کے جزیرے ہوکائیڈو میں سات اعشاریہ آٹھ شدت کے سمندری زلزلے سے 202 افراد ہلاک ہو گئے۔
1997ء بیس برسوں میں پہلی بار سوویت یونین کا ایک وفد اسرائیل گیا۔
1998ء ایک ارب ستر کروڑ لوگوں نے فرانس اور برازیل کے درمیان ہوئے فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل دیکھا۔
2000ء ممبئی کے گھاٹ کوپر علاقے میں موسلادھار بارش کے بعد 67 افراد ہلاک ہوئے۔
2004ء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے اشرف جہانگیر قاضی کو عراق میں خصوصی نمائندہ نامزد کیا۔
2006ء اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔
ولادت
100 قبل مسیح۔ رومن شہنشاہ جولیس سیزر
1904ء پابلو نیرودا چلی کے ادیب
1911ء محمد معین ایرانی مصنف
1954ء سولکشنا پنڈت بھارتی اداکارہ اور گلوکارہ
1954ء رابرٹ کارل امریکی موسیقار
1956ء سینڈی پیٹی امریکی گلوکارہ
1977ء نیل ہیرس برطانوی فٹبالر
1980ء ٹوم پرائز برطانوی اداکار
1904ء۔۔پیبلو نیرودا ہسپانوئی زبان کے معروف شاعر تھے انکا تعلق چلی سے تھا ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1971ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔وفات۔23 ستمبر 1973.
1913ء۔۔ولس لیمب ایک امریکی طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات نوبل انعام جیتنے والے سائنس دان تھے۔ انھوں نے یہ انعام 1955ء میں پولی کارپ کوشچ کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ اہم دریافت یہاں پر ہائیڈروجن ایٹم کے سپیکٹرم تھے۔وفات۔15 مئی 2008
ملالہ یوسف زئی (پیدائش 12 جنوری، 1997ء) پاکستان میں پیدا ہونے والی خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہے اور اسے کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
محمد مہدی عاکف (جولائی 12، 1928 – ستمبر 22، 2017ء) اخوان المسلمون کے 2004ء سے 2010ء تک سربراہ رہے، یہ ایک مصری اسلامی سیاسی تحریک ہے۔ عاکف مہدی ساتویں "مرشد عام"  تھے، اس عہدے پر وہ اپنے پیشرو مامون الہضیبی کی موت کے بعد فائز ہوئے تھے۔ عاکف کو 4 جولائی 2013ء کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔14 جولائی 2013ء کو مصر کے نئے پراسیکیوٹر جنرل بشام بارک نے ان کے اثاثوں کو منجمد کر دیا۔22 ستمبر 2017ء کو 89 سال کی عمر میں جیل ہی میں وفات پائی۔
مولانا محمد حنیف ندوی (پیدائش: 10 جون، 1908ء - وفات: 12 جولائی، 1987ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمِ اسلام کے نامور عالمِ دین، محقق، مفسرِ قرآن، فلسفی اور مترجم تھے۔
1927ء۔۔اکبر بگٹی پاکستان کے مشہور بلوچ قوم پرست سیاسی رہنما، جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق گورنر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان تھے۔نواب اکبر بگٹی کی کوہلو کے مری قبیلہ سے رشتہ داری تھی۔ سال 2003ء سے 2006ء تک اکبر بگٹی مری سرداروں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جنگ میں قوم پرستوں کی قیادت کرتے رہے۔ کوہلو کے پہاڑوں میں کئی مہینوں سے روپوش رہے۔ انہوں نے کوہلومیں پہاڑ میں پناہ لی تھی،26 اگست 2006 کو کچھ فوجی اہلکار بھی اس غار میں داخل ہوئے اور اچانک بارود کا دھماکا ہوا جس میں اکبر بگٹی ،ان کے 37 ساتھی اور پاکستان فوج کے 21 اہلکار شہید ہوئے
1950ء۔۔محمد الیاس قادری ایک پاکستانی میمن مسلمان عالم دین ہیں جنہوں نے تحریک دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی۔محمد الیاس قادری 26 رمضان 1369ھ بمطابق 12 جولائی1950ءکو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔آپ کی کنیت "ابوبلال"اور تخلص "عطار" ہے
ساتوشی اومورا Satoshi Ōmura (پیدائش:12 جولائی، 1935ء) ایک جاپانی حیاتیاتی کیمیادان ہیں جنھوں نے خوردبینی جانوروں میں موجود کئی فارمکیوٹیکل کی دریافت اوراسکی بڑھوتری کے لیے کام کیا۔ انھیں 2015ءمیں نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب ولیم سی . کیمپ بل اورچینی سائنس دان تویویو کے ہمراہ دیا گیا۔
1946ء۔۔رابرٹ فسک (انگریزی میں: Robert Fisk) (12 جولائی 1946 میڈسٹون، برطانیہ میں) ایک برطانوی رپورٹر ہیں جو مڈل ایسٹ میں انگریزی اخبار « د انڈیپنڈنٹ » کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ او پچھلے 30 برس سے زیادہ سے اس علاقے میں کام کر رہیں ہیں۔ 1976 میں مڈل ایسٹ میں گئے، فسک ان چنندہ رپورٹروں میں سے ایک ہیں جو اسامہ بن لادن سے کئی بار ملے ہیں۔ اسامہ سے ان کی پہلی ملاقات سوڈان میں ہویی تھی اور آخیری بار افغانستانمیں انہوں نے اس سعودی کا انٹرویو لیا تھا۔۔
جارج ایسٹ مین (George Eastman) امریکی موجد اور صنعت کار، ریاست نیویارک کے ایک قصبے میں 12 جولائی 1854 کو پیداہوا۔ فوٹوگرافی اور صنعت کار۔ ریاست نیویارک کے ایک قصبے میں پیدا ہوا۔ فوٹوگرافی اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس میدان میں کئی ایجادات کیں۔ پہلے خشک پلیٹ کا طریقہ ایجاد کیا۔ بعد ازاں لپٹنے والی فلم Roll Filmاور کوڈک کیمرا بنایا۔ 1928ء میں رنگین فوٹوگرافی کا طریقہ ایجاد کیا۔ ایسٹ مین کوڈک کمپنی (قائم شدہ 1892ء) امریکا کی پہلی فرم تھی جس معیاری فلمیں بنائیں اور اس مقصد کے لیے سب سے بڑی لیبارٹری قائم کی۔ بہت بڑا مخیرتھا۔ دس کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم فلاح عام پر صرف کی۔ 14 مارچ 1932ء کو طویل بیماری سے تنگ آکر خود کشی کر لی۔
1928ء۔۔۔الیاس جیمز کورے ایک امریکی نامیاتی کیمیادان ہیں جنھوں نے 1990ء کا نوبل انعام برائے کیمیا جس کی وجہ انکی جانب سے نامیاتی اشیاء کی تخلیق کے حوالے سے ایک مفروضے کو موثر بنانا تھا۔
وفات
1489ء لودھی خاندان کے بانی دہلی کے سلطان بہلول خان لودھی کی دہلی میں وفات
1999ء راجندر کمار بھارتی اداکار
2003ء بینی کارٹر امریکی موسیقار
2012ء دارا سنگھ بھارتی پہلوان اور اداکار
گرٹروڈ مارگریٹ لوتھیان بیل (انگریزی: Gertrude Margaret Lowthian Bell) ‏ (14 جولائی 1868 – 12 جولائی 1926) ایک انگریز مصنف، سیاح، سیاسی افسر، ماہر آثار قدیمہ اور جاسوسہ تھی۔ اپنی صلاحیتوں اور تعلقات کی بنا پر اپنے عہد کے شاہی خاندان اور اشرافیہ میں انتہائی اثر و رسوخ حاصل کیا تھا۔ گرٹروڈ بیل1914ء میں عراق پہونچی اور جنگ عظیم اول کے بعد مشرق وسطی کے عرب قبائل اور ان کے سربراہان سے تعلقات اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے موجودہ عراق کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، بیل اپنے معاصر اہل عراق کے درمیان "خاتون" کے لقب سے معروف تھیں۔ اسی طرح گرٹروڈ بیل نے لارنس آف عربیہ کے ساتھ مل کر اردنکے ہاشمی خاندان کے قیام میں مدد بہم پہونچائی۔ نیز عرب دنیا کے نقشے پر موجود بعض دیگر ممالک بھی بیل کی کوششوں کا نتیجہ سمجھے جاتے ہیں۔
گرٹروڈ بیل اور لارنس آف عربیہ نے مملکت عراق کے لیے ایک مجلس تاسیسی کے قیام کی تجویز پیش کہ تاکہ امیر فیصل بن حسین کو شاہ عراق بنایا جاسکے۔ بیل کا ایک اور کارنامہ عراقی میوزیم کا قیام ہے، اس میوزیم میں بیل کے دریافت کردہ آثار قدیمہ کے ساتھ ساتھ دیگر قدیم عراقی بابلی آثار قدیمہ اور مخطوطات وتحائف بھی موجود تھے؛ جن میں سے اکثر 2003ء کی عراق جنگ میں تباہ ہو گئے یا چرا لیے گئے، تاہم ان چوری شدہ آثار میں سے کچھ آثار کو 2006ء کے بعد واپس حاصل کرکے میوزیم میں رکھا گیا۔
پران کرشن سکند (12 فروری 1920 – 12 جولائی 2013)، پران کا پورا نام پران کشن سکند تھا۔ زیادہ تر صرف پرانکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایک بھارتی اداکار ہیں۔ جو ہندی سنیما  کی فلموں میں عموماً منفی کرداروں میں 1940 کی دہائی سے 1990 کی دہائی تک نظر آتے رہے ہیں۔ ۔وہ 1940 تا 1947 کی فلموں میں بطور ہیرو، 1942 تا 1991کی فلموں میں بطور ویلن اور 1948 تا 2007 کی بعض فلموں میں بطور معاون اداکار آئے۔   وہ بولی وڈ کے ایسے بُرے آدمیوں (ولنز) میں شامل تھے جنہوں نے بہ طور ولین اس انڈسٹری پر اپنا سکہ ایسا جمایا کہ ساری دنیا میں دھوم مچادی۔ ان کا چہرہ، آنکھیں اور چلنے کا انداز دیکھ کر بعض فلم بین تو ان سے ڈرتے تھے۔ ان کا انداز ایک خطرناک ولین والا تھا۔ پران 12فروری 1920کو پیدا ہوئے تھے اور نمونیے کی بیماری میں مبتلا ہوکر 12جولائی2013ء کو 93 سال کی عمر میں ممبئی، مہاراشٹر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔
2016ء۔۔۔آغا ناصر۔پاکستان کے مشہور براڈ کاسٹر، مصنف، ہدایت کار۔ 1937 میں ممبئی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز 1955 میں ریڈیو پاکستان میں بحیثیت براڈکاسٹر کیا تھا اور بعد ازاں وہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 1964 میں وہ پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے اور یہاں بطور ہدایتکار اور پروڈیوسر کام کیا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ آغا ناصر کی ایک تخلیق ’تعلیم بالغاں ‘ کو پی ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بہترین ڈراموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے کئی فلموں میں ہدایت کاری بھی کی جن میں وحید مراد اور طلت اقبال جیسے اداکاروں نے کام کیا تھا۔ وہ ایک اچھے مصنف بھی تھے انھوں نے کل چھ کتابیں تحریر کیں اور ان کی ثقافت پر تحریروں کو کافی پسند کیا گیا۔ آغا ناصر نے ریڈیو پاکستان میں “اسٹوڈیو نمبر 9″ اور “حامد میاں کے یہاں ” جب کہ پاکستان ٹیلی وژن میں “الف نون ،تعلیم بالغان جیسے شاہکار ڈرامے تخلیق کیے۔ 1970 کے عام انتخابات براہ راست نشریات بھی ان کے کیرئیر میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے  اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک نجی ٹی وی چینل سے بھی منسلک رہے۔ انھیں ان کی خدمات کے نتیجے میں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ 12 جولائی 2016 کو انتقال ہوا
12 جولائی 1975ء کو اردو کے ممتاز شاعر صدا کار اور ماہر نشریات جناب زیڈ اے بخاری‘ کراچی میں انتقال کرگئے۔ زیڈ اے بخاری کا پورا نام ذوالفقار علی بخاری تھا۔ وہ 1904ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ بخاری صاحب کو بچپن ہی سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا شوق تھا چنانچہ انہوں نے پہلی مرتبہ شملہ میں امتیاز علی تاج‘ کے مشہور ڈرامے ’’انارکلی‘‘ میں سلیم کا کردار ادا کیا اور خوب داد تحسین حاصل کی۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر بھی وہ خود ہی تھے۔ 1936ء میں جب آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آیا تو بخاری صاحب ریڈیو سے منسلک ہوگئے پھر ان کا یہ ساتھ زندگی بھر جاری رہا اور بخاری صاحب اور ریڈیو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے۔ 1938ء میں بخاری صاحب نشریات کی تربیت حاصل کرنے لندن گئے۔ 1940ء میں وہ جوائنٹ براڈ کاسٹنگ کونسل لندن سے منسلک ہوئے اور اسی زمانے میں انہوں نے بی بی سی سے اردو سروس شروع کی۔ لندن سے واپس آکر بمبئی اور کلکتہ ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے قیام پاکستان کے بعد بخاری صاحب ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ نومبر 1967ء میں کراچی میں ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم ہوا تووہ اس کے پہلے جنرل منیجر مقرر ہوئے۔ بخاری صاحب کو شعر و ادب سے شغف ورثے میں ملا تھا۔ ان کے والد اسد اللہ شاہ بخاری صاحبِ دیوان نعت گو شاعر تھے۔ بڑے بھائی پطرس بخاری اردو کے صاحبِ طرز ادیب اور ماہر تعلیم تھے۔ پھر بخاری صاحب کو ابتدا ہی سے اچھے شاعروں کی صحبت میسر آئی جن میں حسرت موہانی‘ علامہ اقبال‘ یاس یگانہ چنگیزی‘ نواب سائل دہلوی اور وحشت کلکتوی جیسے اساتذہ فن شامل تھے۔ عربی میں آپ نے مولانا عبدالعزیز میمن اور فارسی میں مولانا شاداب بلگرامی سے کسبِ فیض کیا۔ ان تمام عوامل نے بخاری صاحب کی شخصیت کی جلا میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ بخاری صاحب ایک اعلیٰ ماہر نشریات ہی نہیں بلکہ ایک بلند پایہ صداکار بھی تھے۔ انہوں نے بمبئی میں بمبئے خان بن کر اور کراچی میں جمعہ خان جمعہ بن کر صدا کاری کے جوہر دکھائے وہ سننے والوں کے دلوں میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ انہوں نے ریڈیو کے متعدد ڈراموں میں بھی صداکاری کی جن میں سب سے زیادہ شہرت ’’لائٹ ہائوس کے محافظ‘‘ نے حاصل کی۔ مرثیہ خوانی اور شعر خوانی میں بھی ان کا انداز یکتا تھا۔ خود بھی شعر کہتے تھے اور موسیقی سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ فارسی‘ اردو‘ پنجابی‘ پشتو‘ بنگالی‘ برمی اور انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے اور یوں ہفت زباں کہلاتے تھے۔ بخاری صاحب نے اپنے حالاتِ زندگی ’’سرگزشت‘‘ کے نام سے رقم کیے جو اردو کے نثری ادب کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف راگوں اور راگنیوں پر ایک کتاب ’’راگ دریا‘‘ بھی یادگار چھوڑی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی پطرس بخاری کی یاد میں ایک کتاب ’’بھائی بھائی‘‘ کے نام سے لکھنی شروع کی تھی مگر یہ کتاب مکمل نہ ہوسکی۔ البتہ ان کا مجموعہ کلام ’’میں نے جو کچھ بھی کہا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ زیڈ اے بخاری کراچی میں سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
1996ء۔۔نذر محمد ٭5 پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر نذر محمد 5 مارچ 1921ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1952-53ء میں بھارت کا دورہ کرنے والی پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے۔ اس سیریز کے دوران نذر محمد نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران جو 23 سے 26 اکتوبر 1952ء کے دوران لکھنؤ میں کھیلا گیا تھا پہلی اننگز میں ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 124 رنز اسکور کئے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے نہ صرف ٹیسٹ سنچری اسکور کی بلکہ بیٹ کیری بھی کیا۔ نذر محمد نے مجموعی طور پر 5 ٹیسٹ میچ کھیلے جن کی 8 اننگز میں انہوں نے 39.57رنز کی اوسط سے مجموعی طور پر 277 رنز اسکور کئے۔ نذر محمد کی ایک وجہ شہرت ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ان کا اسکینڈل تھاجس کے نتیجے میں 24 جون 1953ء کوبالائی منزل سے چھلانگ لگانے کے نتیجے میں ان کا بازو ٹوٹ گیا تھا اور وہ کرکٹ کھیلنے سے ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئے تھے۔ معروف موسیقار فیروز نظامی اور ممتاز ادیب سراج نظامی ان کے بھائی تھے جبکہ پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر ان کے فرزند ہیں۔ 12جولائی 1996ء کو نذر محمد اسلام آباد میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
تعطیلات و تہوار
1920ء لتھوانیا نے سوویت روس سے آزادی حاصل کی۔
1960ء کانگو، چاڈ اور سینٹرل افریقین جمہوریہ نے آزادی کا اعلان کیا۔
1975ء ساؤٹوم نے پرتگال سے آزادی حاصل کی۔
1979ء کیریباتی جزیرے نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...