Ad3

14 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 195 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 175 دن باقی ہیں

1223ء فرانس میں لوئیس ہشتم شہنشاہ بنے۔

1456ء بلغراد کی جنگ میں ہنگری نے آٹومن کو شکست دی۔

1536ء فرانس اور پرتگال نے اسپین کے خلاف ليوس کے بحری معاہدے پر دستخط کئے۔

1636ء مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اورنگزیب کو جنوبی ہند کا گورنر بنایا۔

1683ء جنگ ویانا کے سلسلے میں عثمانیوں کی جانب سے ویانا کے محاصرے کا آغاز ہوا۔

1789ء فرانسیسي انقلاب کی شروعات ہوئی۔

1867ء سوئیڈن کے سائنس دان الفریڈ نوبل نے اپنی نئی ایجاد " ڈائنا مائٹ" کا پہلی بار مظاہرہ کیا۔

1900ء یورپی گروپ نے چین میں باکسر باغیوں کے قبضے سے تینتسن کو بازیاب کرایا۔

1914ء رابرٹ ایچ گوڈارڈ نے سیال راکٹ ایندھن کا پیٹنٹ کرایا۔

1933ء ایڈولف ہٹلر نے جرمنی کی تمام اپوزیشن پارٹیوں پر پابندی لگا دی۔

1940ء دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے بمبار طیاروں نے سوئز پر بمباری کی۔

1942ء کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 'ہندوستان چھوڑو' کی تجویز منظور کی۔

1947ء ناسازی طبیعت کے باعث قائداعظم بلوچستان کے علاقے زیارت تشریف لے گئے۔

1949ء سوویت یونین نے پہلا ایٹمی دھماکا کیا۔

1953ء قائداعظم کی جائے پیدائش وزیر مینشن کو قومی ورثہ قرار دیدیا گیا۔

1958ء انقلاب عراق، عراق میں جنرل عبدالکریم قاسم اور ان کے ساتھی مغربی افسروں نے بغاوت کر دی۔ شاہ فیصل، ان کے چچا شہزادہ عبداللہ، خاندان کے دیگر افراد اور وزیر اعظم نورالسعید کو ہلاک کر دیا۔ ملک میں جمہوریت کا اعلان کر دیا۔

1960ء گواٹے مالا میں زبردست آتش زدگی میں 225 افراد ہلاک اور 300 دیگر زخمی۔

1969ء بھارت کے جے پور کے نزدیک مال گاڑی اور مسافر ٹرین میں ٹکر میں 85 افراد مارے گئے۔

1987ء تائیوان میں 37 سالہ مارشل لاء ختم ہوا۔

1987ء ہندوستان کو ایشیاء کی خواتین ویٹ لفٹنٹ مقابلے میں تیسرا مقام حاصل ہوا۔

2000ء امریکہ کی ایک عدالت نے سگریٹ کمپنی کو عوام کو نقصان پہنچانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 145 ارب ڈالر جرمانہ کیا۔

2005ء سرحد (خیبر پختون خواہ) اسمبلی نے 'حسبہ بل' کثرت رائے سے منظور کر لیا۔۔

2015ء ناسا کی نیو هاریزن پلوٹو پر جانے والی پہلی خلائی گاڑی بنی۔

1992ء میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے طبی پودوں کے عنوان سے ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا تھا۔ اس سیریز کا گیارہواں ڈاک ٹکٹ  14 جولائی 2003ء کو جاری ہوا جس پرگلاب کے  پھول کی تصویر بنی تھی۔ دو روپے مالیت کے اس یادگاری ڈاک ٹکٹ پر اردو میںگلاب اور انگریزی میںRosa damascena   اورMEDICINAL PLANTS OF PAKISTAN کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن بیت الحکمت، ہمدرد یونیورسٹی، کراچی نے فراہم کیا تھا۔

14 جولائی 1975ء کو گورنر سندھ بیگم رعنا لیاقت علی نے کراچی میں ریاضی کی عالمی کانگریس کا افتتاح کیا۔اس موقع پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے 20 پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر خوبصورت انداز میں عربی رسم الخط میں الجبرا کی علامت ’’لا ‘‘ کاڈیزائن بنایا گیا تھا  اور “International Congress of Mathematical Sciences” Karachi, July 14-20, 1975 کے الفاظ تحریر تھے ۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنر مختار احمد نے ڈیزائن کیا تھا۔

2019ء۔۔انگلینڈ نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا۔ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کا پہلا سپر اوور۔

ولادت :

1606ء ریمبراں، ہالینڈ کا مصور

1656ء آٹھویں سکھ گرو ہرکشن جی

1918ء انگمار برگمین سویڈش فنکار

1938ء رچرڈ رسٹ، امریکی اداکار

1946ء جون وڈ، آسٹریلین اداکار

1975ء ٹم ہڈسن، امریکی بیس بال کھلاڑی

1986ء۔۔صنم بلوچ۔پاکستانی اداکارہ۔ڈراموں میں اداکاری اور صبح کے شو کی میزبانی کرنے والی اداکارہ صنم بلوچ پاکستان کی فائٹر پائلٹ مریم مختار کی زندگی پر بننے والی فلم میں کام کیا ہے۔

1970ء۔۔ماہ نور بلوچ۔پاکستانی اداکارہ۔

1961ء۔۔محمد ثروت اعجاز قادری سنی تحریک کے موجودہ رہنما ہیں۔ ان کے والد کا تعلق لکھنؤاور والدہ کانپور کی تھیں، 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد والدین کراچی منتقل ہو گئے۔ پاکستان آنے کے بعد والدین بوجۂ ملازمت کوئٹہ میں بھی رہے، وھیں ثروت قادری14 جولائی 1961ءکو پیدا ہوئے

1937ء۔۔خالد حسن (پاکستانی کرکٹ کھلاڑی)

حمایت علی شاعر 14 جولائی1926ء میں اورنگ آباد، بھارت میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام حمایت طراب ہے

1977ء۔۔حسام الحملاوی
ایک مصری تحریک برائے انسانی حقوق کے کارکن-

1921ء۔۔۔جیوفرے ولنکسن ایک انگریز کیمیاء دان ہے جنھوں نے غیر نامیاتی کیمیاء کی ابتداء کی جس پر انھیں 1973 کا نوبیل انعام برائے کیمیاء دیا گیا۔وفات۔26 ستمبر 1996

1936ء۔۔جیلانی بانو اردو زبان کی معروف مصنفہ ہیں- حیدر آباد دکن (انڈیا) سے تعلق کی بنا پر ان کی اکثر کہانیوں میں حیدرآبادی تہذیب وثقافت کی جھلک واضح نظر آتی ہے- جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئیں- اردو ادب سے لگاؤ انہیں اپنے والد صاحب حیرت بدا یونی سے ورثے میں ملا جو اپنے وقت کے معروف شاعر تھے- ان کی پرورش خالص ادبی ماحول میں ہو ئی- اپنے وقت کے بڑے مصنفین مثلاً سجاد ظہیر،مخدوم محی الدین، جگر مراد آبادی، کرشن چندر اورمجروح سلطان پوری وغیرہ کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا- اس ادبی ماحول نے ان کی تربیت اور شخصیت کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا- ابتدائی عمر سے ہی انہوں نے سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، میر تقی میر،غالب، اقبال، گورکی، چیخوف، موپساں، بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرۃالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کا کام پڑھ ڈالا- ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو خوب جلا بخشی- بہرحال انہوں نے اپنا ایک مخصوص طرز تحریر اپنایااور کسی بڑے مصنف کی نقل نہیں کی- انہوں نے اپنی پہلی کہانی‘ ایک نظر ادھر بھی‘ 1952ء میں تحریر کی- ان کی شہرہ آفاق تحریر ‘موم کی مریم‘ نے ماہنامہ ‘سویرا‘ میں شائع ہوتے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا- ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘روشنی کا منار‘ اور پہلا ناول ‘ایوان غزل‘ تھا- ان کی کہانیاں ہمارے معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں-انہوں نے اپنی زیادہ تر کہانیوں میں معاشرے کے پسے ہوئے غریب طبقے کو موضوع بنایا ہے-

1913ء۔۔۔جیرالڈ فورڈ (مکمل نام: جیرالڈ روڈلف فورڈ) 1974ء سے 1977ء تک امریکہ کے 38 ویں صدر اور 1973ء سے 1974ء تک 40 ویں نائب صدر تھے۔ وہ بغیر انتخابات میں حصہ لیے امریکی صدر بننے والی واحد اور 25 ویں ترمیم کے تحت نائب صدارت سنبھالنے والی پہلی شخصیت تھے۔ انہوں نے ویتنام سے امریکی دستوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ نومبر 2006ء میں سب سے طویل عمر پانے والے امریکی صدر بنے جب ان کی عمر 93 سال 121 دن ہوئی۔ ان سے قبل یہ ریکارڈ رونالڈ ریگن کے پاس تھا۔ وہ واٹر گیٹ اسکینڈل میں رچرڈ نکسن کے مستعفی ہونے کے بعد امریکا کے صدر بنے اور اقتدار سنبھالنے کے بعدنکسن کو معافی دے دی جو ان کا سب سے متنازع فیصلہ تھا۔ وہ 1976ء میں جمی کارٹر سے ہار گئے تھے۔ وہ اپنے دور صدارت میں دو مرتبہ قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے تاہم دونوں حملے ناکام ہوئے۔وفات۔26 دسمبر 2006ء۔

1935ء۔۔ای ایچی نگیشیایک جاپانی کیمیاءدان ہیں جنھیں نگیشی ری ایکشن کو دریافت کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

انور جلال شمزا (پیدائش: 14 جولائی، 1928ء - وفات: 18 جنوری،1985ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور، خطاط اور مصنف تھے۔ وہ تجریدی مصوری میں اختصاص رکھتے تھے۔

وفات :

1975ء مدن موہن، بھارتی موسیقار

1998ء دنیا کے سب سے بڑے ریستوران گروپ میک ڈونالڈ کے بانی رچرڈ میک ڈونالڈ

1975ء۔۔۔مریم میرزاخانی (3 مئی 1977ء ) ایک ایرانی ریاضی دان اور جامعہ سٹنفورڈ میں ریاضیات کی پروفیسر تھیں۔ میرزاخانی کے تحقیقاتی موضوعات میں ٹچ مولر خلا (Teichmüller space)، زائدی ہندسہ (Hyperbolic geometry)، ارگودی نظریہ (Ergodic theory) اور سمپلیکٹ ہندسہ شامل تھیں۔

1975ء۔۔مدن موہن کوہلی ہندوستانی فلموں کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے فلم کے لیے بہترین موسیقی ترتیب دی۔ طلعت محمود، لتا منگیشکر اور محمد رفیع نے ان کی ترتیب دی ھوئی موسیقی میں بہترین گانے گائے۔ خاص طور پر لتا منگیشکر نے مدن موہن کی بنائی ہوئی دھنوں پر بہتریں غزلیں گائیں۔ 1950 سے 1970 کی دہائی تک مدن موہن بولی وڈ کے سنگیت کی دنیا پر چھائے رہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کی مدن موہن کی پیدائش 25 جون، 1924 میں عراقی کردستان کے مقام " ایربیل" میں ہوئی جہان ان کے والد رائے بہادر چنی لال کردستان کی " پیش مرگا" کی فوج میں اکاونٹنٹ جنرل تھے۔ مدن موہن نے اپنی زندگی کے ابتدائی پانچ (5) سال عراق اور مشرق وسطیٰ میں گزارے۔ وہ 1932 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ واپس اپنے شہر چکوال، ضلع جہلم، پنجاب (اب پاکستان) واپس آ گئے۔ اور ان کے والدین ان کو دادا دادی کے پاس چھوڑ کر بسلسلہ کاروبار ممبئی چلے گئے اور بحیثت کارباری شراکت دار " ممبئی ٹاکیز" اور " فلمستان اسٹوڈیو" میں پیسہ لگایا۔ چھ (6) سال بعد مدن موہن بھی ممبئی آ گئے۔ ابتدائی تعلیم ممبئی میں حاصل کرنے کے بعد انھوں نے دہلی کے کرنل براؤں کیمرج اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی والدہ کو شاعری اور موسیقی سے شعف اور گہرا ذوق تھا۔ جس کا اثر مدن موہن پرخاصا گہرا ہوا۔ تعلیم کے بعد انھوں نے آل انڈیا ریڈیو، لکھنؤ میں ملازمت شروع کی جہان پر انھون نے طلعت محمود، استاد فیاض علی خان، استاد اکبر علی خان اور بیگم اختر سے موسیقی کے رموز سیکھے۔ مدن موہن نے راج کپور، ثریا اور نرگس کے ساتھ بھی کام کیا۔ مدن موہن نےساحر لدھیانوی،راجہ مہدی علی خان، مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی، راجندر کشن اور نقش لائل پوری وغیرہ کی شاعری کو اپنی بنائی ہوئی موسیقی میں بڑے موثر انداز میں نہایت خوبصورتی سے سمویا۔ مدن موہن کا اردو کا لہجہ بہت ہی اچھا تھا۔ اردو لکھتے بھی اچھی تھے۔ مگر ان کے لہجے میں" پوٹوہاری" پن بھی جھلکتا تھا۔ بہت اچھی اردو میں گفتگو کرتے تھے۔ اردو غزل کی بہت سمجھ تھی۔ لتا منگیشکر نے سب سے زیادہ غزلیات مدن موہن کی ترتیب دی ہوئی موسیقی میں ہی گائیں۔ اس لیے لتا منگیشکرنےان کو ۔۔" غزل کا شہزادہ" ۔۔۔ کا لقب دیا تھا۔ 1964 میں ان کو فلم " وہ کون تھی" کے لیے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ 1971 میں فلم " دستک" پر نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مدن موہن نے 95 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ کثرت شراب نوشی کے سبب ان کے گردوں نے کام کرنا ختم کر دیا تھا۔ اسی سبب 14، جولائی 1975کو ممبئی میں انتقال ہوا۔ 2004 میں ان کی محفوظ دھنوں کو ان کے بیٹے سنجیو کوہلی نے یش چوپڑہ کی فلم " ویر زارا" میں استعمال کیا جو بہت مقبول ہوئیں۔

14 جولائی 1983ء کو پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گائیک استاد نزاکت علی خان راولپنڈی میں وفات پاگئے اور لاہور میں آسودۂ خاک ہوئے۔ استاد نزاکت علی خان 1932ء میں ضلع ہوشیار پور میں شامل چوراسی نامی قصبہ میں پیدا ہوئے جو اپنے موسیقی کے گھرانے کی وجہ سے پورے ہندوستان میں مشہور ہے، ان کا سلسلہ نسب استاد چاند خان، سورج خان سے ملتا ہے جو دربار اکبری کے نامور گائیک اور میاں تان سین کے ہم عصر تھے۔ استاد نزاکت علی خان کے والد استاد ولائت علی خان بھی اپنے زمانے کے نامور موسیقار تھے اور دھرپد گائیکی میں اختصاص رکھتے تھے۔ استاد نزاکت علی خان نے اپنے چھوٹے بھائی استاد سلامت علی خان (1934ء۔2001ء) کے ساتھ اپنے والد ولایت علی خان سے اکٹھے تعلیم حاصل کی اور نہایت کم عمری میں اپنی گائیکی کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مشہور ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے ملتان اور پھر لاہور میں اقامت اختیار کی اور پاکستان کے معروف موسیقاروں اور گائیکوں میں شمار ہونے لگے۔ استاد نزاکت علی خان اور استاد سلامت علی خان کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

14جولائی 2006ء کو کراچی میں ایک خودکش بم دھماکے میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور معروف عالم دین علامہ حسن ترابی جاں بحق ہوگئے۔ علامہ حسن ترابی پر یہ خودکش حملہ ان کے قیام گاہ کے بالکل سامنے ہوا تھا۔ وہ اس وقت لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے میں شرکت کے بعد گھر لوٹے تھے۔ علامہ حسن ترابی کا تعلق ضلع اسکردو کے ایک دینی گھرانے سے تھا جہاں وہ 1951ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور ایران سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ وہ درس و تدریس کے پیشے سے بھی وابستہ رہے اور ایک مسجد میں پیش امام بھی رہے۔ 1984ء میں وہ تحریک جعفریہ کراچی کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے بعدازاں انہوں نے تحریک جعفریہ سندھ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ علامہ حسن ترابی اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے۔وہ اپنی موت کے وقت متحدہ مجلس عمل سندھ کے نائب صدر اور شیعہ علما کونسل سندھ کے صدر کے علاوہ  اسلامی تحریک کے صوبائی صدر بھی تھے۔ وہ کراچی میں جامع مسجد مصطفوی، عباس ٹائون میں آسودۂ خاک ہیں۔

تعطیلات و تہوار :

فرانس کا قومی دن

1958ء عراق کا یومِ جمہوریہ

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...