Ad3

15 جولائی تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 196 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 174 دن باقی ہیں ۔

1099ء پہلی جنگ کے دوران مسلم اکثریت والے یروشلم کے باشندوں نے خودسپردگی کی۔

1662ء کنگ چارلس دوئم نے لندن میں رائل سوسائٹی کو منظوری دی۔

1788ء غلام قادر نے دہلی پر قبضہ کیا۔

1795ء مارسلس کو فرانس کا قومی ترانہ قرار دیا گیا۔

1815ء فرانس کے لیڈر نیپولین بونا پارٹ شکست سے دوچار ہوئے۔

1856ء برطانیہ نے جنوبی افریقہ کے نٹال کو اپنی نو آبادیات میں شامل کر لیا۔

1864ء امریکہ میں قیدیوں سے بھری ایک مسافر ٹرین کوئلہ لدی ایک ٹرین سے ٹکرا گئی جس سے اس میں سوار 955 میں سے 65 افراد ہلاک اور ایک سو دیگر زخمی ہو گئے۔

1870ء امریکہ کے خلیج ہڈسن اور شمال مغربی علاقے کناڈا کو سونپے گئے۔

1870ء جارجیا امریکی ریاست بنا۔

1888ء ماوَنٹ بنڈائی کے آتش فشاں میں دھماکے سے 500 افراد مارے گئے۔

1904ء امریکہ کے لاس اینجلس میں پہلا جودھ مندر بنا۔

1918ء پہلی جنگ عظیم میں مارٹن کی دوسری جنگ شروع ہوئی۔

1923ء اٹلی کی پارلیمنٹ نے نیا آئین نافذ کیا۔

1923ء ویانا قتل عام میں آسٹریلیائی پولیس نے 89 مظاہرین کا قتل کیا۔

1926ء دنیا میں پہلی مرتبہ زیر آب کھینچی جانے والی رنگین تصاویر "نیشنل جیو گرافک " میگزین میں شائع کی گئیں ۔

1926ء ممبئی میں پہلی بس سروس شروع ہوئی۔

1927ء ویانا میں آسٹریائی پولیس نے 89 مظاہرین کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

1932ء امریکہ کے 31ویں صدر ہورو نے اپنی تنخواہ میں 15 فی صد کی کٹوتی کی۔

1933ء امریکی ہوا باز "ولے پوسٹ" نے دنیا کے گرد چکر لگانے کے لئے پہلی تنہا پرواز کا آغاز کیا۔ اس نے 7 دن 18 گھنٹے اور 49 منٹ میں دنیا کے گرد چکر لگایا۔

1937ء جاپان نے چین پر حملہ کیا۔

1945ء امریکہ نے میکسیکو میں ایٹم بم کا پہلا تجربہ کیا، اس کا نام "ٹرینٹی" اور طاقت 19 کلو ٹن تھی۔

1947ء نئی دہلی سے پہلی خصوصی ٹرین سرکاری افسران کو لے کر پاکستان آئی۔

1967ء۔۔گل یاسمین (چنبیلی )کو پاکستان کا قومی پھول قرار دیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے نرگس کے پھول اور چیتے کو ملک کا قومی نشان قرار دیا تھا مگر نرگس کا پھول ملک کے مشرقی حصے میں اور چیتا ملک کے مغربی حصے میں نہیں پایا جاتا تھا اس لیے حکومت پاکستان نے 15 جولائی 1961ء کو چنبیلی کو ملک کا قومی نشان قرار دے دیا۔ چنبیلی کو ملک کا قومی نشان قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے اپنے اعلان میں کہا کہ اس پھول کو یہ اعزاز اس لیے بخشا گیا ہے کیونکہ یہ ملک کے دونوں حصوں میں پیدا ہوتا ہے اور ملک کے قریباً تمام علاقوں کے باشندے اس پھول سے مساوی طور پر جذباتی لگائو رکھتے ہیں۔ پاکستانی ادب میں اس کو نمایاں مقام حاصل ہے اور شاعری اور مصوری نے اس پھول کو لافانی بنا دیا ہے۔

1955ء وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ’بھارت رتن‘ دینے کا اعلان کیا گیا۔

1958ء امریکہ نے اپنی فوج لبنان بھیجی۔

1962ء الجیریا عرب لیگ کا رکن بنا۔

1965ء امریکی کانگریس نے وہ قانون منظور کیا جس کے تحت سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت کا انتباہ شائع کرنا لازمی ہو گیا۔

1974ء قبرص میں فوجی بغاوت صدر میکاریوس ملک بدر کر دیئے گئے۔

1975ء روسی خلائی شٹل سویوز۔19 اور اپولوں۔18بھیجا گیا۔

1976ء وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نےکپاس کی فیکٹریوں اور فلور ملز کو قومیانے کا اعلان کیا۔

1979ء بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ جگ جیون رام، جنتا پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما بنے۔

1986ء خواتین کرکٹ ٹسٹ میچ میں سندھیا اگروال نے 190 رن بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

1987ء کانگریس کے صدر راجیو گاندھی نے پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں کو پارٹی سے باہر کر دیا۔

1991ء خلیجی جنگ کے بعد امریکی فوج کا شمالی عراق سے انخلاء شروع ہوا۔

1995ء بوسینیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، آٹھ ہزار شہید اور چالیس ہزار کو جبری ملک بدر کر دیا گیا۔

1996ء پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا کے درمیان طلاق ہو گئی۔

2002ء انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ڈنائل پرل کے قاتل احمد عمر سعید شیخ کو موت کی سزا سنائی۔

2007ء سوات، مٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے ہوئے، جس میں چالیس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ زیادہ تر افراد کا تعلق سیکورٹی فورسزز سے تھا۔

15جولائی 2009ء کو پاکستان میں ضلع ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پر قائم تاریخی شہر کیٹی بندر کے ساحل پر ایک دن میں تمر کے 541176 پودے لگا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا۔ شجر کاری کی اس مہم کا اہتمام وفاقی وزارت ماحولیات نے کیا تھا۔ اس مہم میں 400 تربیت یافتہ مقامی رضاکاروں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے بتایا کہ پاکستان میں 2009ء کے سال کو ماحولیات کے سال کے طور پر منایا جارہا ہے۔ سمندری ساحلوں اور جزیروں میں تمر کے جنگلات سمندری طوفانوں کے خاتمے میں بڑی مدد کرتے ہیں اور مچھلی کی افزائش میں نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دن میں سب سے زیادہ پودے لگائے جانے کا عالمی ریکارڈ اس سے قبل بھارت کے پاس تھا جہاں جون 2009ء میں ایک دن میں 447874 پودے لگائے گئے تھے۔ شجرکاری کی اس مہم کے موقع پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمائندے جناب عادل احمد بھی موجود تھے جنہوں نے ایک دن میں سب سے زیادہ پودے لگائے جانے کے اس نئے عالمی ریکارڈ کی تصدیق کی اور وفاقی وزیر ماحولیات کو اپنے ادارے کی جانب سے سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا۔

15جولائی2005ء کوتیونس میںانفارمیشن سوسائٹی کی عالمی کانفرنس کے دوسرے دور کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کاایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر اس تنظیم کا لوگو بنا تھا اور WORLD SUMMIT ON  INFORMATION SOCIETYاور تیونس TUNIS 2005 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیا رکیا تھا۔

15جولائی 1980 ء کوکراچی پورٹ ( بندرگاہ) کے قیام کی صدسالہ سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر کراچی پورٹ کی مختلف تصاویر شائع کی گئی تھیں ۔  ایک روپیہ مالیت والے اس ڈاک ٹکٹ پر  KARACHI PORT 1880 INDEPENDANT MANAGEMENT 1980 کے الفاظٖ شائع کیے گئے تھے اور اس کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پیپرز کے ڈیزائنر جناب عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

15 جولائی ورلڈکپ 2018 کو فرانس دنیائے فٹبال کا نیاحکمران بنا

ولادت :

1892ء والٹر بینجمن، جرمن مصنف اور نقاد (وفات: 1940ء)

1914ء اختر حمید خان، پاکستانی معاشرتی سائنس دان (وفات: 1999ء)

1928ء نین مارٹن، امریکی اداکارہ (وفات:2010ء)

1944ء ملی جیکسن، امریکی گلوکارہ

اکشے کمار دت  ‏(15 جولائی 1820ء – 18 مئی 1886ء) بنگالی نشاۃ ثانیہ کے محرکین میں سے ایک تھے۔ پورب بردھمان میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام پتامبر دت تھا۔

15جولائی 1905ء پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔ چوہدری محمد علی ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1928ء میں انڈین آئوٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب عارضی حکومت میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے بطور مشیر اعلیٰ ان کاوہ بجٹ تیار کرنے میں بڑی مدد کی جسے غریبوں کا بجٹ کہا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل اور 1951ء میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 11 اگست 1955ء سے 12 ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری تھا۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ تاہم محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistan کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ’’ظہور پاکستان‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔

بادل سرکار، 15 جولائی 1925 کو مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں پیدا ہوئے۔ وہ بنگالی زبان کے ڈراما نگار اور پیش کار ہیں۔ وہ بنگال انجیرنگ کالج (سول) سے فارغ التحصیل ہیں۔ مگر انھوں نے انجیرنگ کو کبھی اپنا پیشہ نہیں بنایا۔ انہوں نے 1970ء کی دہائی میں بنگال میں "نکٹر ناٹک" (اسٹریٹ تھیٹر) کی بحالی اور فروغ مین بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کے ڈرامے بنیادی طور پر حکومت شکن ( اینٹی اسٹبلشمنٹ) ھوتے تھے۔ جب بھارتی حکومت نے نکسلیوں کے خلاف تشددانہ استبدادی خونی کھیل کھیلا۔ تو بادل سرکار نے اپنے نکڑ ناٹک کی وساطت سے اس ریاستی قہر کے خلاف نعرہ بغاوت کرتے ھوئے حکومت سے ٹکر لی اور بنگالی تھیٹر کی روایت میں نئے عوامی احتجاجی، مزاحمتی اور انقلابی رویوں کو روشناس کروایا۔ اس کو " تیسرا تھیٹر" یا "بھوما" تھیٹر بھی کہا جاتا ہے۔ جس میں شہری معاشرت کی بازگست ہوتی تھی۔ بادل سرکار کو 1968ء میں سنگیت ناٹک فیلو شپ اور 1972 میں ‘پدم شری‘ کے کے ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ وہ پچاس (50) سے زائدڈراموں کے مصنف اور پیش کار ہیں۔ ان کے چند مشہور ڈراموں میں۔ ‘باسی خبر‘، ‘جلوس‘(اس کا اردوترجمہ ھوچکا ہے)، ‘ساری رات،‘ اور ‘کوئی(شاعر) کہانی ‘شامل ہیں۔ 13 مئی 2011ء میں کولکتہ میں کولن سرطان کے عارضے کے سبب 85 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

1918ء۔۔۔برٹرام بروک ہاؤس کینیڈا کے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا۔ یہ انعام 1994 میں انھوں نے نیٹرون سپیکٹروسکوپی، نیوٹرون سکیٹرینگ اور کنڈنسڈ مے ٹرکے حوالے سے کام کرنے پر حاصل کیا تھا۔ اسی سال یہ انعام امریکا کے طبیعیات دان کلفورڈ شل کو بھی ملا۔

1921ء۔۔۔رابرٹ بروس میریفیلڈ ایک امریکی کیمیاءدان تھے جنھیں 1984 کو نوبل انعام برائے کیمیاء دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے سولڈ فیس پیپٹائڈ بنانا تھا۔

1606ء۔۔ریمبرانٹ ہالینڈ کا عظیم مصور تھا۔ ایک پن چکی چلانے والے کے گھر پیداہوا۔ لائیڈن یونیورسٹی میں داخلہ لیا، لیکن مصوری میں ایسا منہمک ہوا کہ تعلیم ترک کر دی۔ چھ سو رنگین تصویریں، دو ہزار ڈرائینگ اور تین سو ایچنگ تصویریں یادگار چھوڑی ہیں۔ یہ تصاویر برطانیہ کے عجائب گھر اور نیشنل گیلری میں محفوظ ہیں۔

سردار علی ٹکر (پیدائش: 15 جولائی 1956ء) پشتو زبان کے گلوکار ہیں اور غنی خان کو ایک نئی جہت میں پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ سردار علی ٹکر پیشے کے لحاظ سے مہندس ہیں مگر وجہ شہرت پشتو گائیکی ہے۔ آپ نےپشاور سے اپنی تعلیم مکمل کی اور آپ کو موسیقی میں گراں قدر خدمات کے صلے میں صدر پاکستان کی جانب سے ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ سردار علی ٹکر 1956ء میں ٹکر گاؤں جو تخت بائی ضلع مردان میں واقع ہے پیدا ہوئے۔ دسویں کا امتحان مقامی سرکاری اسکول سے پاس کیا اور مردان بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی۔ بارہویں کا امتحان امتیازی نمبروں سے گورنمنٹ کالج مردان سے پاس کیا اور پشاور میں انجنئیرنگ کے شعبہ میں داخل ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد طویل عرصہ تک کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم رہے۔

1922ء۔۔۔لیون ایم لیڈر مین ایک امریکہ کے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1988ء میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان جیک سٹین برگر اور ملون سکوارٹز کے ہمراہ نیوٹرینو طریقے اور لپٹون کے ڈوپلٹ ساخت کو نون میٹرینو کی دریافت کی وجہ سے ظاہر کرنے پر پر یہ انعام ملا۔

1949ء۔۔۔محمد بن راشد آل مکتوم ۔ انہیں شیخ محمد بھی کہا جاتا ہے، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم امارت دبئی کے اور امیر (حکمران) ہیں ۔06 جنوری 2006ء کے بعد سے یہ عہدہ ان کے پاس ہے جبکہ اس سے پہلے ان کے بڑے بھائی مکتوم بن راشد آل مکتوم اس عہدے پر فائز تھے۔

1904ء۔۔پاول چینکوف ایک سویت یونین کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات نوبل انعام جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1958 میں الوا فرانک اور اگور ٹام کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ چیرنکوف تابکاری کی دریافت تھی۔

ژاک دریدا (انگریزی: Jaques Derrida۔) (15 جولائی1930ء – 9 اکتوبر 2004ء) ایک فرانسیسی فلسفی تھے جنہوں نے 1971ء میں ایک مقالہ لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے "ردتشکیلت" (DECONSTRUCTION) کو متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے فکری اور نظری کارنامے میں افلاطون، ہوسرل فرایڈ، ہیدیگر وغیرہ جیسے عظیم مفکرین اور ادبا کے مابعدالطعبیاتی نظام فکر کے تصورات، تضادات اور افتراقات پر فکری نقد لکھا۔

وفات :

1954ء صدر الدین عینی، تاجکستان کے قومی شاعر

1996ء ڈانا ہل، امریکی اداکارہ (پیدائیش:1964ء)

2014ء۔۔۔زلیخا حسین کیرالا کی پہلی اردو ناول نگار ہیں۔ انھوں نےاردو میں کل 27 ناول اور 27 افسانے لکھے

فوزیہ عظیم (یکم مارچ 1990 – 15 جولائی 2016) جوقندیل بلوچ کے نام سے مشہور تھیں، ایک پاکستانی ماڈل، اداکارہ،  اور سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت تھیں۔ سوشل نیٹ ورک پر اپنی روز مرہ زندگی اور مختلف متنازع معامالات پر اپنی وڈیوز کی وجہ سے وہ شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔

1919ء۔۔۔ہرمن امیل فشر جرمنی کے ایک کیمیاء دان تھے جنھیں 1902ء میں کیمیاء کا نوبل انعام دیا گیا جس کی وجہ انکی جانب سے شوگر اور پیورین بنانے کے طریقے تھے۔

تعطیلات و تہوار :

2017ء عالمی یوم درود

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...