1439ء انگلینڈ میں بوسہ بازی پر پابندی لگا دی گئی۔
1856ء بھارت میں ہندو بیوہ کی دوبارہ شادی کو قانونی درجہ دیا گیا۔
1894ء جاپان اور انگلینڈ کے درمیان ' ایکو کی کنبر لے'معاہدہ پر دستخط ہوئے۔
1905ء مغربی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے بگیرہاٹ کے عوامی جلسہ میں پہلی بار غیر ملکی اشیاء خاص طور پر برطانوی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔
1929ء زراعت کے فروغ کے لئے انڈین کونسل آف ایگری کلچر ریسرچ کا قَیام عمل میں آیا۔
1933ء برطانیہ میں 84 سالہ خفیہ سروس ایم آئی-5 کو منظر عام پر لایا گیا۔
1935ء اوکلاہوما سٹی، اوکلاہوما میں دنیا کا پہلا پارکنگ میٹر لگایا گیا۔
1945ء امریکہ نے ہیروشیما اور ناگا ساگی پر ایٹمی حملے سے تین ہفتے قبل، انسانی تاریخ کے پہلے نیوکلیئر ہتھیار کا خفیہ دھماکہ کیا۔
1947ء برطانوی دارالاشراف نے قانون آزادی ہند پاس کیا۔
1950ء ریو ڈی جنیرو میں فٹبال کے چوتھے عالمی کپ میں اروگوے نے برازیل کو 1۔2 سے شکست دی۔
1951ء لیاقت علی خان نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کے نئے براڈ کاسٹنگ ہاؤس کا افتتاح کیا۔
1962ء پاکستان کی قومی اسمبلی نے سیاسی جماعتوں پر سے پابندی ہٹا دی۔
1965ء فرانس اور اٹلی کو مربوط کرنے والی ’مونٹ بلیک‘ سرنگ کو کھولا گیا۔
1969ء خلابازوں کو لے کر اپولو۔11 سیٹیلائٹ چاند کے مشن پر روانہ ہو گیا۔
1979ء عراقی صدر جنرل احمد حسن البکر نے استعفی دے دیا۔ اور صدام حسین عراق کے نئے صدر بنے۔
1981ء ہندوستان کا پہلا سیارہ اپّل اپنے مدار میں پہنچا۔
1988ء تیز دوڑنے والے کارل لوئس نے 100 میٹر کی دوڑ 78.8 سکینڈ میں مکمل کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
16 جولائی 1990ء کا دن، اس خواہش کی تکمیل کا دن ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں برسوں سے مچل رہی تھی۔ یعنی خلائی ٹیکنالوجی کے حصول کی خواہش۔ جو عوامی جمہوریہ چین کے خلائی مرکز ژی چن سیٹلائٹ لائٹ لانچنگ سینٹر سے چینی راکٹ لانگ مارچ ٹو۔ای لارج وہیکل کی کامیاب پرواز کے بعد پوری ہوئی۔ اس راکٹ نے پاکستان ہی نہیں عالم اسلام میں تیار کردہ پہلا مصنوعی سیارہ ’’بدر اوّل‘‘ خلا میں چھوڑا تھا۔ بدر اوّل کا ڈیزائن، پاکستان کمیشن برائے خلائی و بالا فضائی تحقیق جیسے عرف عام میں سپارکو کہا جاتا ہے ماہرین نے خود ہی تیار کیا تھا۔ بدر اوّل تیس ماہرین کی ایک سال کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تیار ہوا تھا اور پاور سپلائی ٹریکنگ، ٹیلی میٹری اور ٹیلی کمانڈ جیسے کئی نظاموں پر مشتمل تھا۔ اس کی تیاری پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی تھی۔ ’’ بدر اوّل‘‘ اگرچہ 17 فروری 1989ء کو تیار ہوگیا تھا مگر بعض وجوہات کی بنا پر اس کا خلائی سفر ایک سال پانچ ماہ تک التوا میں رہا۔ پھر 16 جولائی 1990ء کا تاریخی دن آیا جب اسے پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح 5 بجکر 50 منٹ پر بحرالکاہل میں فلپائن اور تائیوان کے درمیان مدار میں چھوڑا گیا۔ اسی صبح 7 بجکر 15 منٹ پر اسے سپارکو کے لاہور اور کراچی کے زمینی ٹریکنگ اسٹیشنوں پر کامیابی سے دیکھا گیا اور اسے مسلسل آٹھ منٹ تک ٹریک کیا گیا۔ یہ خلا میں پاکستان کا پہلا قدم تھا۔ بدر اوّل کی شکل دائرہ نما تھی۔ اس کے 26 رخ تھے۔ اس کی جسامت 3½ مکعب فٹ تھی جبکہ وزن 52 کلو گرام تھا۔ اس کا جدید الیکٹرانک نظام، زمینی مرکز سے معلومات حاصل کرنے، ذخیرہ کرنے اور پھر آگے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ شمسی توانائی سے چلنے والا یہ مصنوعی سیارہ ہر 98 منٹ کے بعد زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرتا تھا۔ وہ 24 گھنٹوں میں چھ مرتبہ پاکستانی افق پر سے گزرتا تھا۔ وہ جس مدار پر محو سفر رہا اس کا زمین سے کم سے کم فاصلہ 211 کلو میٹر اور زیادہ سے زیادہ فاصلہ 992 کلو میٹر تھا جبکہ خط استوا پر اس کا زاویہ 28.65 درجے کا ہوتا تھا۔ بدر اوّل کا تجربہ خاصا کامیاب رہا۔ یہ مصنوعی سیارہ 20 اگست 1990ء تک معلومات اور اطلاعات فراہم کرتا رہا، بعدازاں خلا کی پہنائیوں میں گم ہوگیا۔
1990ء فلپائن میں آئے زلزلے میں 400 لوگ ہلاک ہو گئے۔
1993ء روس نے کرایو جینک انجن کا سودا رد کیا۔
2001ء چین اور روس کے مابین خوش ہمسائیگی اور باہمی دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
2007ء جاپان میں آئے زلزلے سے 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ولادت :
1901ء عبد القیوم خان، پاکستان کے سابق وزیر داخلہ (وفات: 1981ء)
1909ء ارونا آصف علی، آزادی ہند کی مجاہدہ اور سماجی کارکن ہریانہ کے کالکا میں پیدا ہوئیں۔
1920ء انور حسین، پاکستانی کرکٹر (وفات:2002ء)
1946ء باربرہ لی، امریکی سیاستدان
1980ء ایڈم اسکاٹ، آسٹریلیوی گالفر
1984ء کترینہ کیف، بھارتی اداکارہ
1926ء۔۔ارون روس ایک امریکی کیمیادان تھے جنھوں نے سال2004ء میں دو اسرائیلی کیمیادانوں کے ساتھ نوبل انعام برائے کیمیا مشترکہ طور پر وصول کیا
1746ء۔۔جوزپہ پیاتسی ایک اطالوی پادری، ریاضی دان اور ماہر فلکیات تھا۔ اس کی وجہِ شہرت بونا سیارہ سیرس کی دریافت ہے۔
1888ء۔۔فرٹز زرنیک نیدر لینڈ کے کے ایک طبیعیات دان تھے۔ جنھیں مائکروسکوپ پر کیے گئے ان کے کام پر 1954ء میں انھیں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا
1958ء۔۔فریال تالپر۔پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صدر، سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور قومی اسمبلی کی منتخب رکن رہی ہیں۔ دو مرتبہ یعنی 9 سال تک ضلع نواب شاہکی ناظمہ رہیں۔ ٹنڈو اﷲ یار، ضلع حیدرآباد، سانگھڑ میں زرعی زمین، ڈی ایچ اے کراچی میں ایک گھر، گوادر میں پلاٹ، کلفٹن کراچی میں گھر، 22 لاکھ کا کاروبار، 62 لاکھ کی سرمایہ کاری، 3 گاڑیاں، 3 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس رکھتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے بچوں کی قانونی نگران ہیں۔ پیپلزپارٹی کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل ہیں اور آنے والے دِنوں میں سندھ کی وزیر اعلیٰ بھی ہو سکتی ہیں۔
ماہر زین طرابلس، لبنان میں 16 جولائی1981ءکو پیدا ہوا۔ وہ سویڈن سے تعلق رکھنے والا ایک گلوکار ہے۔۔ لیکن بعد میں اس نے فیصلہ کیا کہ وہ عام گلوکار نہیں بلکہ اسلامی موضوعات پر بالخصوص حمد ونعت پر اپنا تشخص بنائے گا۔
1831ء۔۔ناصر الدین شاہ قاجار، ایران میں عہد قاجار کے چوتھے بادشاہ تھے۔ ان کا عہد 17 ستمبر 1848ء سے یکم مئی 1896ء تک محیط ہے۔ وہ ایران میں ساسانی عہد کے شاپور دوم اور صفوی عہد کے طہماسپ اول کے بعد سب سے زیادہ طویل حکومت کرنے والے بادشاہ تھے۔ ان کا لقب سلطان صاحبقران ہے، قتل ہونے کے بعد سے انہیں شاہ شہید کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
16جولائی 1926ء پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر انور حسین کی تاریخ پیدائش ہے۔ انور حسین لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پاکستان کی اس پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے جس نے 16 اکتوبر 1952ء کو دہلی میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ انہوں نے اس سیریز کے چار ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 42 رنز اسکور کئے۔ اس سیریز میں انہیں صرف آخری ٹیسٹ میچ میں بائولنگ کا موقع ملا۔ اس میچ میں انہوں نے مجموعی طور پر 6 اوور پھینکے اور 29 رنز کے عوض ایک وکٹ ( پی سین) حاصل کی۔ وہ پاکستان کی اس ٹیم کے بھی رکن تھے جس نے 29 نومبر 1951ء سے 2 دسمبر 1951ء کے دوران کراچی کے جم خانہ گرائونڈ میں ایم سی سی کو شکست دی تھی اور اسی کامیابی کی بدولت پاکستان پر ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے کھلے تھے۔ اس میچ میں انور حسین نے پہلی اننگز میں صفر اور دوسری اننگ میں 48 رنز اسکور کئے تھے۔ انہوں نے 5 اوورز بھی پھینکے تھے تاہم کوئی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ 9 اکتوبر 2002ء کو انور حسین لاہور میں وفات پاگئے۔یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ انور حسین کی وفات اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کی 50 ویں سالگرہ سے صرف ایک ہفتہ قبل ہوئی تھی۔
وفات :
1994ء جولین شیونگر ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر طبعیات (پیدائش 1918ء)
1998ء جان ہینرک کلارک ، امریکی تاریخ داں و دانش ور ( پیدائش 1915ء)
1999ء امریکی طبع نگار اور قانون دان اور جان ایف کینیڈی اور جیکولین کینیڈی کے بیٹے جان ایف کینیڈی جونئیر اپنی بیوی کے ساتھ فضائی حادثے میں جان بحق (پیدائش 1960ء)
مفتی صدر الدین خان آزردہ (پیدائش:12 دسمبر 1789ء— وفات: 16 جولائی 1868ء) ایک انتہائی اعلیٰ عہدےدہلی (ہند) کے مفتی اعظم تھے دہلی میں شریعت کے معاملات میں ان کا فتویٰ حتمی حیثیت کا سمجھا جاتا۔ وہ جنگ آزادی ہند 1857ء میں بطل حریت علامہ فضل حق خیر آبادی شہید کے رفقا مسلم رہنمائے جنگ علمائے اہل سنت میں سے تھے۔ یہ ان علما اسلام میں سے ایک تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔
1998ء۔۔محبوب الحق ایک پاکستانی گیم تھیورسٹ، معاشیات داناور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ٹھیورسٹ تھے۔ وہ 10 اپریل 1985ء سے 28 جنوری 1988ء تک پاکستان کے وزیر خزانہ رہے۔
سٹیفن کووی (24 اکتوبر، 1933ء-16 جولائی، 2012ء) امریکی مصنف،معلم و تاجر تھے۔ سنہ انیس سو نواسی میں سٹیفن نے ’دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپل‘ کی اشاعت کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا جو بڑی کمپنیوں اور حکومتی ایجنسیوں میں کافی مقبول ہوا۔ سٹیفن نےبریگھم ینگ یونیورسٹی میں بزنس مینجمنٹ کے پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں۔
1994ء۔۔جولیان سکونگر ایک امریکی طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے یہ انعام 1965 میں ایک امریکی سائنس دان رچرڈ فلپ فے مین اور جاپانی سائنس دان سن اٹیرو ٹومو ناگا کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ کوانٹم الیکٹر و ڈائینمکس سے جڑے ان کے کام تھے
16جولائی 1973ء کو ممتاز عالم دین اور تحریک پاکستان کے رہنما علامہ سید ابن حسن رضوی جارچوی وفات پاگئے۔ وہ 21 مارچ 1904ء کو جارچہ ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے ابھی پانچ برس کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا چنانچہ ان کی پرورش ان کے نانا نے کی۔ علامہ نے رام پور اورینٹل کالج سے مولوی فاضل اور منشی فاضل‘ میرٹھ سے انٹرنس‘ لاہور سے ایف اے‘ بی اے‘ ایم اے اور ایم او ایل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کی سند حاصل کی۔ 1931ء سے 1938ء تک وہ جامعہ ملیہ کالج دہلی میں استاد رہے۔ 1938ء میں محمود آباد آگئے جہاں وہ راجہ صاحب محمود آباد کے اتالیق رہے۔ 1948ء سے 1951ء تک شیعہ ڈگری کالج لکھنو کے پرنسپل رہے پھر یکم اکتوبر 1951ء کو پاکستان چلے آئے۔ تحریک پاکستان کے دوران علامہ ابن حسن جارچوی مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے۔ وہ ان دو افراد میں سے ایک تھے جنہیں قائد اعظم نے کرپس مشن کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ پیش کیا تھا کہ اس مشن کو تخلیق پاکستان کا دینی پس منظر سمجھا سکیں۔علامہ جارچوی نے پاکستان آنے کے بعد عملی سیاست کا سلسلہ بھی جاری رکھا‘ تحریر و تقریر سے بھی منسلک رہے اور تدریس کے شغل سے بھی وابستہ رہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں ’’شیعہ تھیالوجی‘‘ کے پہلے استاد تھے اور یہ شعبہ انہی کی کوششوں سے وجود میں آیا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں انہوں نے ’’انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ کلچرل ریسرچ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے زمین بھی حاصل کرلی گئی تھی مگر عمر نے وفا نے کی ۔ علامہ ابن حسن جارچوی اسی انسٹیٹیوٹ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔ علامہ نے متعدد کتابیں بھی یادگار چھوڑیں جن میں فلسفۂ آلِ محمد، بصیرت افروز مجالس‘ شہیدِ نینوا‘ جدید ذاکری‘ علی کاطرز جہانبانی اور مقدمہ فلسفۂ آلِ محمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے زوال رومۃ الکبریٰ کے حصہ اسلام کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا جو شائع ہوچکا ہے۔
تعطیلات و تہوار :
1809ء بولیا نےاسپین سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔
1954ء مالے میں فرانسیسی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
No comments:
Post a Comment