5 جولائی 1977
پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین مارشل لاء کے نفاذ کا دن
کہانی تو شروع ہوتی ہے 5 جولائی 1977 سے لیکن ہم آپ کو مارچ 1977 کے انتخابات سے سنانا شروع کرتے ہیں ۔
7 مارچ1977 کو قومی اسمبلی کے 10 مارچ 1977 کو پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ہونے والے عام انتخابات پاکستان کی تقسیم کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔
اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور حکومت 14 اگست 1978 کو ختم ہونا تھا مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کم و بیش ایک برس سات ماہ قبل ہی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور جنوری 1977 کے آغاز میں ہی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کردیا کہ 7 مارچ 1977 کو پاکستان کی قومی اسمبلی و 10 مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں گے۔
اس وقت آئین میں نگران سیٹ اپ کے بارے میں کوئی شق موجود نہ تھی۔چنانچہ ذوالفقارعلی بھٹو نے نگران وزیر اعظم کا منصب اپنے پاس ہی رکھا اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اگرچہ ان کے اس فیصلے پر اعتراضات کیے مگر ان کے تمام اعتراضات کو مسترد کردیا گیا ۔ان عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کو شکست سے دوچارکرنے کے لیے 10 جنوری 1977 کو رفیق باجوہ کے مکان پہ حزب مخالف کی نو سیاسی جماعتوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا اور نوجماعتی سیاسی اتحاد کا نام تجویز ہوا۔
پاکستان نیشنل الائنس PNA یا دوسرے الفاظ میں پاکستان قومی اتحاد اس نو جماعتی اتحاد میں شریک سیاسی جماعتیں تھیں، پاکستان جمہوری پارٹی، تحریک استقلال، جماعت اسلامی، جمعیت علما پاکستان ،جمعیت علما اسلام ،خاکسار تحریک ،پاکستان مسلم لیگ( قاسم گروپ)، نیشنل عوامی پارٹی و آل جموں وکشمیر مسلم لیگ کانفرنس شامل تھیں۔ جب کہ ایک اور سیاسی جماعت مسلم لیگ (قیوم گروپ) بھی ان انتخابات میں حصہ لے رہی تھی۔ نو جماعتی اتحاد کے سربراہ تھے مفتی محمود مرحوم جوکہ فضل الرحمن کے والد تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تلوار جب کہ پاکستان قومی اتحاد جس کا مخفف تھا۔ PNA کا انتخابی نشان تھا ہل۔ PNA کا نعرہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا۔
قومی اسمبلی کی 200 نشتوں کے کاغذات نامزدگی 19 جنوری کو داخل کیے گئے، اسی روز لاڑکانہ کی نشست پر قومی اسمبلی کے انتخابات میں ذوالفقار بھٹو کو بلامقابلہ کامیاب قرار دے دیا گیا کیونکہ اس سے پہلے اس نشست پر قومی اتحاد کے امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر پہنچا کر انھیں کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے محروم کر دیا گیا۔ (1965ء کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کے علاوہ ایوب خان کے مقابلے میں جمیعت علمائے اسلام کی طرف سے مولانا احمد علی لاہوری کے صاحبزادے مولانا عبیداللہ انور بھی صدارتی امیدوار تھے، ان کو ایوب خان نے اغواء کر کے نامعلوم مقام پر پہنچایا اور انتخابات کے بعد واپس آئے تو معلوم ہوا کہ انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یعنی بھٹو نے اپنے سیاسی استاد ایوب خان کی سنت کی نشاۃ ثانیہ فرمائی) اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو بھی حریف امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرکے بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دیا گیا۔ملک کے انتخابات میں دھاندلی کی ابتداء بھی تھی۔
خدا خدا کر کے 7 مارچ 1977 کا سورج طلوع اور اس کے ساتھ ہی انتخابی عمل بھی شروع ہوا اور شام تک نتائج آنا بھی شروع ہوگئے۔
200 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی 19 نشستوں پر بلا مقابلہ کامیاب قرار پاچکی تھی ان بلامقابلہ کامیاب ہونے والوں میں ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے جوکہ لاڑکانہ کی نشست سے کامیاب ہوئے تھے بلامقابلہ کامیاب ہونے والوں میں 15 کا تعلق صوبہ سندھ اور 4 کا تعلق صوبہ بلوچستان سے تھا البتہ لاڑکانہ وہ ضلع تھا جہاں انتخابی عمل ممکن نہ ہوا کیونکہ تینوں نشستوں پر حکمران جماعت کے لوگ بھٹو سمیت بلامقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔ 181 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تو PNA فقط 36 نشستیں حاصل کرسکی جب کہ حکمران جماعت نے 155 نشستوں پرکامیابی حاصل کی۔
ایک نشست مسلم لیگ قیوم گروپ کے جب کہ آٹھ نشستیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔ PNA نے صوبہ سرحد سے 17 پنجاب سے 8 صوبہ سندھ سے 11 نشستیں حاصل کیں جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب سے 107 سندھ سے 32 سرحد سے 8 بلوچستان سے 7 نشستیں حاصل کیں۔ ان انتخابات میں PNA کے اکثر رہنما ایک سے زائد نشستوں پر انتخاب لڑ رہے تھے ان رہنماؤں میں سے مفتی محمود ، بیگم نسیم ولی خان دو دو حلقوں سے کامیاب ہوئے۔ اصغرخان بھی دوحلقوں سے کامیاب ہوئے جب کہ انھوں نے پانچ حلقوں سے انتخاب لڑا تھا۔ یہ ایبٹ آباد وکراچی سے کامیاب ہوئے تھے۔ پروفیسر غفور احمد ، شیربازخان مزاری ایک ایک نشست جیتنے والے رہنما تھے۔
دیگر میں ملک قاسم، چوہدری ظہورالٰہی، عبدالستارخان نیازی کامیابی حاصل نہ کرسکے چنانچہ PNA کے رہنماؤں نے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ 10 مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کردیا۔ جب کہ PNA کے بائیکاٹ کے باعث خواتین کی مخصوص دس نشستوں پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی تمام خواتین کامیاب ہوگئیں ۔ان خواتین میں بیگم نصرت بھٹو، نسیم سلطانہ ، مبارک بیگم، نرگس نعیم، دلشاد بیگم، نفیسہ خالد، بیگم کلثوم سیف اللہ ، بیگم سمیعہ عثمان فتح، بیگم بلقیس حبیب اللہ شامل تھیں۔
بہرکیف PNA کے رہنماؤں نے دھاندلی کا الزام لگا کر ملک بھر میں تحریک چلانے کا اعلان کردیا ۔حکومت کی طرف سے گرفتاریاں شروع ہوگئیں جس سے مزید حالات خراب ہوگئے۔قریبا بارہ ہفتوں کے بعد 3 جون 1977 کو حکومت اور پی این اے کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا۔ جس میں حکومت سے زخمی افراد کی مالی معاونت، میڈیا پر پی این اے کے خلاف پروپیگنڈہ مہم فوری طور پر ختم کرنے اور تحریک کے قائدین کی رہائی جیسے مطالبات کیے گئے۔
دوسرے اجلاس میں مفتی محمود نے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا جس میں جزئیات پر اختلاف ہوا لیکن آخرکار بھٹو صاحب (نہ چاہتے ہوئے) مان گئے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور آٹھویں نشست میں حکومت کا اصرار تھا کہ انتخابات نومبر میں ہوں گے جبکہ پی این اے کا مطالبہ تھا کہ 14 اگست 1977 سے پہلے کروائے جائیں۔ آخرکار 15 جون 1977 کو نویں نشست منعقد ہوئی، اور مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئے اور فریقین کے دستخط کے بعد مکمل متن پریس کو جاری کرنے پر اتفاق ہو گیا۔اب یہاں پر بنیادی سوال یہ ہے کہ مسٹر بھٹو نے مذکرات کو بلاوجہ اتنی طوالت کیوں دی؟ جو طویل مدت میں بھی نتیجہ نہیں نکال سکے؟
اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر بھٹو صاحب نے اتنے نازک مرحلے پر تھکاوٹ کا بہانہ کیوں بنایا؟ اور آرام کی خاطر پانچ دن کے لیے لاڑکانہ جانے کا کہہ رہے تھے، پھر 18 جون کو بیرون ملک سفر پر کیوں روانہ ہوئے؟
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب دستخط کے لیے تیار نہیں تھے۔ قومی اتحاد کی مذاکراتی ٹیم نے بھٹو صاحب کو اس عمل سے سختی سے روکا بھی تھا۔
بھٹو صاحب نے اور بھی ایک بہت غیرآئینی اقدام کا ارتکاب کیا تھا۔ ابھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے، صرف زبانی معاہدہ تھا لیکن غلام مصطفی کھر نے وزیر اعظم کے خصوصی مشیر کے طور پر حلف اٹھا لیا جونہ صرف آئین کی خلاف ورزی تھی بلکہ قومی اتحاد کے ساتھ سخت بددیانتی بھی تھی۔ تاہم قومی اتحاد کے قانونی ماہرین نے سمجھوتے کی ضروری تفصیلات طے کرنے کے بعد پروفیسر غفور احمد کے ذریعے عبدالحفیظ پیر زادہ کو انتخابی قوانین میں تبدیلیوں سے متعلق تجاویز فراہم کردیں۔ مذکراتی ٹیم کا 20 جون کا اجلاس بھی بدستور اختلاف ختم ہوئے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ حکومت اور پی این اے کے مابین اختلاف، نئے انتخابات کی تاریخ، قیدیوں کی رہائی، اسمبلیوں کے توڑنے کی تاریخ، سینٹ کے نئے ارکین کی رکنیت ختم کرنے کی تاریخ زیر بحث آئی۔
مذاکرات کے اہم موڑ پر بھٹو صاحب کے بیرون ملک جانے کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے۔ بہرحال ذیلی کمیٹیوں میں مذاکرات ٹوٹ چکے تھے اور بھٹو صاحب نے تہران سے پیغام جاری کیا کہ مذاکرات ٹوٹ نہیں سکتے۔ 22 جون کو قومی اتحاد نے یوم احتجاج کا اعلان کیا جس پر پیرزادہ صاحب نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
23 جون1977 کو بھٹو صاحب وطن واپس پہنچ گئے اور مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔ اس اجلاس میں مذاکراتی ٹیم کے تمام ارکان نے حصہ لیا۔ معاہدے کا مسودہ بھٹو صاحب کو پیش کیا گیا جس پر بھٹو صاحب نے صحافیوں سے گفتگوں کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور قومی اتحاد کے مابین بنیادی اور اصولی طور پر سمجھوتہ طے پا گیا ہے لیکن بھٹو صاحب معاہدہ کرنے میں سنجیدہ نہیں تھے۔
25 جون1977 کو ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں مسودہ کی بعض شقوں پر غور کیا گیا جو 23 جون کو قومی اتحاد نے پیش کیا تھا۔ اس نشست میں بھٹو صاحب نے اپنا تیار کردہ مسودہ مفتی صاحب کو پیش کیا، مفتی صاحب نے اس پر غور کرنے کے لیے وقت مانگا لیکن قومی اتحاد کے مسودے پر شق وار غور کرنے کے ساتھ ایک نیا مسودہ دینا بہرحال بہت بڑا سوال ہے۔26 جون کے اجلاس میں جب دونوں مسودوں کا موازنہ کیا گیا تو دونوں میں زمین آسماں کا فرق تھا۔ آخر کار طے پایا کہ لیگل کمیٹی کی مدد سے قومی اتحاد کے فیصلوں کی روشنی میں معاہدہ کا نیا ڈرافٹ تیار کیا جائے جو منظوری کے بعد ایک مسودہ کی حثیت سے حکومت کو پیش کردیا جائے۔ 30 جون کو مذکرات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں قومی اتحاد کے ترمیمی مسودے پر پیرزادہ صاحب نے 17 شقوں پر رضامندی کا ظہار کیا۔ یکم جولائی کے طویل ترین اجلاس میں قومی اتحاد کے ترمیمی معاہدے پر شق وار غور کیا گیا اور ان اختلافی امور پر بحث ہوئی جن پر ذیلی کمیٹی کا اختلاف تھا۔ اس اجلاس میں آئندہ نشست کا وقت بھی طے پایا۔ 2 جولائی کو ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ترامیم زیر غور آئیں اور قومی اتحاد کے ترمیم شدہ مسودے پر پیرزادہ صاحب نے رضامندی ظاہر کردی۔ 3 جولائی کی نشست اس پر منتج ہوئی کہ بھٹو صاحب معاہدے کو قانونی حیثیت دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔4 جولائی 1977ء کو ذوالفقار بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میں نے ساری باتیں مان لیں، دستخط ہونا تھے لیکن مجھ پر انحراف کا الزام لگا دیا گیا۔
ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ قومی اتحاد نے مزید نئے نکات پیش کردیے حالانکہ یہ خلاف واقعہ تھا۔ اس میں کوئی چیز نئی نہیں تھی بلکہ وہی ترمیم شدہ مسودہ تھا جس کے بارے میں قومی اتحاد کا مؤقف تھا کہ خصوصی عدالتوں سے متعلق معاملہ اور نگراں کونسل کو عارضی مدت کے لیے دستور کا حصہ بنانے کا معاملہ حل کرنا فریقین میں سے کسی کے لیے بھی ناممکن نہیں تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں 5 جولائی 1977 کا دن بھلایا نہیں جا سکتا، یہی وہ دن تھا جب پاکستان میں سورج طلوع ہونے سے قبل ہی پورے ملک میں مارشل لا نافذ ہوچکا تھا، فوج کی اس کارروائی کو آپریشن فیئر پلے کا نام دیا گیا تھا،یہ کوئی اچانک اور غیر متوقع اقدام نہیں تھا۔
5 جولائی 1977 کی صبح 6 بج کر 4 منٹ پر مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا، کہ مسلح افواج نے پانچ جولائی کی صبح سے ملک میں نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور تمام سیاسی رہنما عارضی طور پر مارشل لا حکومت کی حفاظت میں ہیں،
ایسا عظیم انقلاب بپا ہونے کے باوجود ملک میں حالات کلی طور پر معمول کے مطابق رہے۔ ذرّہ برابر کوئی احتجاج یا ردعمل نہیں ہوا، بلکہ گذشتہ حالات کے پس منظر میں اسے ایک عمومی پذیرائی میسر آگئی۔ اسی روز جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں صدر مملکت فضل الٰہی چوہدری اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس یعقوب علی خاں سے ملاقات کی۔ 5 جولائی کو 1977ء کے مارشل لاء کے نفاذ سے متعلق ایک غیر معمولی گزٹ شائع ہوا جس میں اعلان کیا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد ضیاء الحق نے پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ: -1 اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور معطل رہے گا۔-2 قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ -3 وزیراعظم، وفاقی وزراء، وفاقی وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیر، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین، صوبائی گورنر، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزراء اپنے عہدوں پر قائم نہیں رہیں گے۔-4 صدر پاکستان اپنے عہدہ پر کام کرتے رہیں گے۔-5 پورا ملک مارشل لاء کے تحت آگیا ہے۔
28 جولائی 1977 کو جب مارشل لا حکام نے پیپلز پارٹی اور پاکستان قومی اتحاد کے سرکردہ رہنماوں کو رہا کیا تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور ملک کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد، لاہور، لاڑکانہ اور پشاور کا طوفانی دورہ کیا اور مارشل لا حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہو ئے تقاریر کیں۔
انہی دنوں مارشل لا حکومت کی ایما پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات تلاش کرنے کا آغاز ہوا اور بالآخر ریاستی اداروں نے ایک ایسا مقدمہ تلاش کرلیا، جس کے شکنجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی گردن پھنسا کر بالآخر انہیں تختہ دار دار تک پہنچایا گیا، یہ پیپلز پارٹی کے رہنما احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد قصوری کے قتل کا مقدمہ تھا جنہیں 11 نوممبر 1974 کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔
یہ کہانی 3 اور 4 اپریل 1979 کی درمیانی رات 2 بج کر 5 منٹ پر اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی، مگر اس کہانی کا پہلا باب ٹھیک 640 دن پہلے 5 جولائی 1977 کو لکھا گیا۔
No comments:
Post a Comment