19 جولائی 1223
یوم پیدائش الملک الظاہر رکن الدین بیبرس
الملک الظاہر رکن الدین بیبرس بندقداری مملوک سلطنت کا پہلا نامور حکمران ہے۔ اس نے 1260ء سے 1277ء تک 17 سال مصر و شام پر حکومت کی۔ وہ ہلاکو خان اور دہلی کے غیاث الدین بلبن کا ہمعصر تھا۔ وہ نسلاً ایک قپچاق ترک تھا جسے غلام بنانے کے بعد قپچاق میں فروخت کر دیا گیا۔ وہ ساتویں صلیبی جنگمیں فرانس کے لوئس نہم اور 03 ستمبر 1260ء بمطابق 25 رمضان 658 ھجری کو جنگ عین جالوت میں منگولوں کو شکست دینے والے لشکروں کا کمانڈر تھا۔
یوم پیدائش الملک الظاہر رکن الدین بیبرس
الملک الظاہر رکن الدین بیبرس بندقداری مملوک سلطنت کا پہلا نامور حکمران ہے۔ اس نے 1260ء سے 1277ء تک 17 سال مصر و شام پر حکومت کی۔ وہ ہلاکو خان اور دہلی کے غیاث الدین بلبن کا ہمعصر تھا۔ وہ نسلاً ایک قپچاق ترک تھا جسے غلام بنانے کے بعد قپچاق میں فروخت کر دیا گیا۔ وہ ساتویں صلیبی جنگمیں فرانس کے لوئس نہم اور 03 ستمبر 1260ء بمطابق 25 رمضان 658 ھجری کو جنگ عین جالوت میں منگولوں کو شکست دینے والے لشکروں کا کمانڈر تھا۔
19 جولائی 1223 کو خوارزم شاہ کے ایک درباری کے گھر بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام محمود رکھا گیا۔ خوارزم شاہ کسی بات پر اس درباری سے خفا ہوگیا اور اسے قید کرلیا گیا ۔ اس طرح یہ اعلیٰ خاندان گردش میں آگیا۔ اسی دوران خوارزم کی سلطنت چنگیزی حملوں کی زد میں آکر تباہ ہوگئی اور تاتاریوں نے مسلمان بچوں اور جوانوں کو قید کرکے غلام بنا کر فروخت کرنا شروع کردیا۔محمود بھی انہی بچوں کی طرح غلام بن کر مختلف ہاتھوں فروخت ہوتا رہا اور آخر میں مصر کے بازار میں فروخت کیلئے لایا گیا۔ مصر میں مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے محمود فاطمہ نامی ایک نیک خصت خاتون کی تحویل میں آگیا۔ فاطمہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا نام بیبرس تھا ۔ محمود کی شکل اس لڑکے بیبرس سے ملتی تھی چنانچہ فاطمہ نے محمود کا نام بدل کر بیبرس رکھ دیا اور اسے اپنا بیٹا بنالیا۔ فاطمہ کا ایک بھائی مصر کے سلطان الملک صالح نجم الدین کے دربار سے منسلک تھا۔ اس کی ملاقات جب بیبرس سے ہوئی تو وہ اسے قاہرہ سلطان کے دربار میں لے گیا۔ سلطان الملک صالح نے کئی لاوارث لڑکے اپنی کفالت میں لیے ہوئے تھے۔ ان لڑکوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی جاتی ، خوراک کا خیال رکھا جاتا اور سخت جنگی تربیت کے مراحل سے گزارا جاتا۔ اس طرح یہ لڑکے سلطان کے وفادار بن جاتے اور سلطان کے ذاتی فوج میں شامل کرلیے جاتے۔بہر حال محمود براہ راست سلطان مصر کے زیر نگرانی تربیت پا کر رکن الدین بیبرس کے نام سے مصر کی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی لیاقت اور مہارت کے سبب مصری فوج کا سالار شمار ہونے لگا
رکن الدین بیبرس کی زندگی کی سب سے اہم جنگ معرکہ عین جالوت ہے جو 25 رمضان 658 بمطابق 03 ستمبر 1260 ہوا تھا۔
مصر شام اور فلسطین کے سرحدی علاقوں پر مشتمل عین جالوت کا میدان ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میدان کو عین جالوت اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں حضرت داؤد ؑ نے جالوت نامی ایک ظالم اورجابر بادشاہ کو شکست دی تھی۔ اس معرکہ آرائی کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ بیان کیا ہے،
ترجمہ:’’ اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا اسے سکھایا۔‘‘
(البقرۃ : آیت نمبر:251)
عین جالوت کے معنی ’’جالوت کا چشمہ‘‘کے ہیں اور اس علاقے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔ اس وقت مصر کا حاکم مملوک سلطان سیف الدین قطز تھا اور رکن الادین بیبرس اس کا سپہ سالار ۔
ترجمہ:’’ اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا اسے سکھایا۔‘‘
(البقرۃ : آیت نمبر:251)
عین جالوت کے معنی ’’جالوت کا چشمہ‘‘کے ہیں اور اس علاقے میں ہلاکو خان تین لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر پر حملہ آور تھا۔ اس وقت مصر کا حاکم مملوک سلطان سیف الدین قطز تھا اور رکن الادین بیبرس اس کا سپہ سالار ۔
سلطان قطز کی فوج کسی بھی طرح تین لاکھ کے لشکر جرار کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی اور اب مصر کی شکست کا مطلب تھا کہ ہلاکو خان کی رسائی حجاز مقدس کے شہروں اور حرمین شرفین تک ہوجاتی اور پھر مراکش، شمالی افریقہ کے مسلم علاقے اور پھر اندلس!
مگر اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو بچالیا۔ ایک معجزہ رونما ہوا اور ہلاکو خان کو اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ لے کر قراقرم واپس جانا پڑا ۔ قراقرام کے چوتھے خاقان اعظم منگو خان کا انتقال ہوگیا اور دنیا بھر سے تاتاری شہزادے قراقرم کے مرکزی جرگے جسے قرولتائی کہا جاتا تھا اس میں شرکت کرنے کیلئے قرقرم روانہ ہوگئے۔ ہلاکو خان نے اپنے نائب کتبغا خان کو بیس ہزار کا لشکر سونپ کر واپس قراقرم کی راہ اختیار کی۔
یہاں اس دھمکی آمیز خط کا ذکر ضروری ہے جو تاتاریوں کی طرف سے قطز کو لکھا گیا تھا، یہ خط ہلاکو خان کی طرف سے لکھا گیا تھا یاکتبغا خان کی طرف سے اس بارے میں تاریخ میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بہر حال تاتاری سفیر نے یہ خط سلطان قطز کو پیش کیا۔
’’یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا آقا ہے کہ اپنی پناہ گاہیں منہدم کردو، اطاعت قبول کرلو، اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلندو بالا اور جاودانی آسمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘
غالب امکان ہے کہ خط ہلاکو خان نے قراقرم روانگی سے قبل بھیجا تھا جس میں صاف انداز میں اعلان جنگ کیا گیا تھا۔ بہر حال تاتاری سفیر نے رعونت آمیز انداز میں یہ خط سلطان مصر کے سامنے پھینک دیا۔ یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر اور رکن الدین بیبرس کی آنکھیں غصے کے عالم میں سرخ ہوگئیں۔ سلطان کو خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے گئے تو سلطان نے سفیر سے کہا کہ ہمارا ہلاکو خان سے کوئی جھگڑا نہیں لہٰذا اسے چاہیے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ کر واپس چلا جائے ، اس پر سفیر نے جواب دیا ،
’’تو گویا چاہتے ہو کہ تمہارا بھی وہی حشر کیا جائے جو ہم تمہارے خلیفہ کا کرکے آئے ہیں ۔ جان لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘
تاتاری سفیر کا یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے کہا۔۔۔،
’’ان تاتاریوں کی زبانیں گدی سے کھینچ کر انہیں قتل کردیا جائے۔ ہمارے طرف سے خط کا جواب یہی ہے۔‘‘
’’تو گویا چاہتے ہو کہ تمہارا بھی وہی حشر کیا جائے جو ہم تمہارے خلیفہ کا کرکے آئے ہیں ۔ جان لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘
تاتاری سفیر کا یہ انداز دیکھ کر سلطان مصر آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے کہا۔۔۔،
’’ان تاتاریوں کی زبانیں گدی سے کھینچ کر انہیں قتل کردیا جائے۔ ہمارے طرف سے خط کا جواب یہی ہے۔‘‘
بہر طور25 رمضان 658 بمطابق 03 ستمبر 1260 کو عین جالوت کے میدان میں منگول سالار کتبغا خان اپنے لشکر کے ساتھ مقیم تھا کہ سلطان قطز اور امیر رکن الدین بیبرس افواج مصر کے ساتھ آ موجود ہوئے۔ ہلاکو خان کی روانگی کے بعد دونوں لشکروں میں عددی توازن تقریباً برابر ہوگیا تھا کیونکہ تاتاری لشکر کا بڑا حصہ ہلاکو خان اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ عملی طور پر افواج کی کمان رکن الدین بیبرس کے پاس تھی۔
بیبرس تاتاریوں کے قصے سن کر کہا کرتا تھا کہ ’’وقت آنے دو ہم ان وحشیوں کو بتادیں گے کہ صرف وہ ہی لڑنا نہیں جانتے بلکہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اِن کی گردنیں دبوچ سکتے ہیں۔‘‘
کتبغا خان کو ہلاکو خان کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ اس کی واپسی تک اسی جگہ قیام کرے اور مصر پر ہرگز حملہ آور نہ ہو۔ امیر رکن الدین بیبرس کو جب ہلاکو خان کی واپسی کی اطلاع ملی تو اس نے سلطان قطز کو فوراً منگولوں پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس طرح باقاعدہ طور پر آگے بڑھ کر رکن الدین بیبرس نے منگول لشکر پر حملہ کردیا۔
عین جالوت کی اس تاریخ ساز جنگ میں رکن الدین بیبرس نے تاتاریوں پر ان کا اپنا طریقہ حرب استعمال کیا۔ اس نے اپنے چند دستے ایک گھاٹی میں گھات لگا کر بٹھادیے۔ بیبرس نے ابتدائی طور پر پسپائی کا انداز اختیار کیااور منگول اس کی چال میں آکر گھاٹی میں پھنس گئے۔ گھات لگا کر دشمن کو تنگ جگہ لاکر پھنساناتاتاریوں کا اپنا انداز جنگ تھا جو رکن الدین بیبرس نے خود ان پر استعمال کیا اور ماضی کی فتوحات کے نشے میں سرشار کتبغا خان بیبرس کی چال میں آگیا۔ گھاٹی میں گھات لگائے محفوظ مصری دستے نے منگولوں کو تحس نحس کردیا۔ منگول لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ دو اطراف سے مسلمانوں میں گھر گئے۔ بیبرس نے منگول فوج کا قتل عام کیا اور انہیں اس بری طرح سے مارا کہ تاریخ میں اس سے پہلے تاتاریوں کے ساتھ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ کتبغا خان بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور بیبرس نے اسے قتل کردیا۔ منگول لشکر مکمل طور پر قتل یا گرفتار ہوگیا تھا۔ مقتول سالار کتبغا خان کی لاش کی نمائش قاہرہ کی گلیوں میں تاتاری قیدیوں کے ساتھ کی گئی اور بعد ازاں ان قیدیوں کو بھی قتل کردیا گیا۔
عین جالوت کے میدان میں تاتاریوں کی شکست کی خبریں شام اور فلسطین کی منگول مقبوضات میں آگ کی طرح پھیل گئیں ۔مسلمانوں نے منگول حاکموں کے خلاف بغاوت کردی اور جگہ جگہ سے خبریں آنے لگیں کہ مسلمانوں نے تاتاریوں سے شہر واپس لینے شروع کردیے ہیں۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے شام اور فلسطین کی اکثر مقبوضات منگول تسلط سے آزاد ہوگئیں ۔ اس طرح منگولیا سے اٹھنے والی کالی آندھی چالیس سال تک مظلوم مسلمانوں کا خون پی کر عین جالوت کے میدان میں رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی تاتاریوں نے مسلمانوں کے علاقوں پرکئی حملہ کیے مگر ان کے ناقابل شکست رہنے کا تاثر ختم ہوگیا تھا اور اب مسلمان ہر جگہ ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ ہندوستان پر مسلسل تاتاری حملے اور خلجیوں کا کامیاب دفاع اس کی ایک روشن مثال ہے۔
معرکہ عین جالوت سے قبل سلطان مصر سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ فتح کے بعد شام میں حلب اور اس کے اطراف کے علاقے بیبرس کے تصرف میں دے دیے جائیں گے۔ مگر بعد میں سیف الدین قطز مکر گیا اور اس طرح قطز اور بیبرس کے درمیان رنجش پیدا ہوگئی اور معرکہ عین جالوت کے چند دنوں بعد ہی پراسراطور پر سلطان قطز قتل کردیا گیا اور رکن الدین بیبرس سلطان مصر بناگیا۔ سلطان قطز کے پراسرار قتل میں تاریخ میں سلطان بیبرس کا نام مشکوک انداز میں لیا جاتا ہے۔
رکن الدین بیبرس کایہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے مصر و شام کو منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچایا۔ ورنہ ان ملکوں کا بھی وہی حشر ہوتا جو ایران، عراق اورترکستان کا ہوا۔ بیبرس نے نہ صرف یہ کہ شام پر منگولوں کے حملوں کو پسپا کیا بلکہ خود ان کے علاقوں پر حملہ آور ہوا۔ اس نے مصری سلطنت کی شمالی سرحد ایشیائے کوچک کے وسطی علاقوں تک پہنچادی۔
بیبرس کا دوسرا بڑا کارنامہ شام کے ساحل پر قابض یورپی حکومتوں کا زور توڑنا ہے۔ یہ حکومتیں پہلی صلیبی جنگکے زمانے سے شام کے ساحلی شہروں پر قابض تھیں۔ نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نے اگرچہ اندرون ملک اور فلسطین سے صلیبیوں کو نکال دیا تھا لیکن ساحلی شہروں پر ان کا اقتدار عرصے تک قائم رہا۔ ان کو بحری راستے سے یورپ سے برابر مدد پہنچتی رہتی تھی۔ یہ حکومتیں مصر و شام کے خلاف منگولوں سے اتحاد کرلیتی تھیں اور مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان دب گئے تھے۔
اس نے عین جالوت میں منگولوں کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کرنے پر 1268ء میں مسیحی سلطنت انطاکیہ کا خاتمہ کیا۔ انطاکیہ کی سلطنت کا خاتمہ 1271ء میں نویں صلیبی جنگ کا باعث بنا جس کی قیادت انگلستان کے شاہ ایڈورڈ نے کی تاہم وہ بیبرس سے کوئی بھی علاقہ چھیننے میں ناکام رہے۔اس نے صلیبیوں کو دیگر کئی جنگوں میں بھی شکست دی۔
بیبرس نے اپنی سلطنت کو جنوب میں سوڈان کی طرف بھی وسعت دی اور نوبہ کا علاقہ بھی فتح کر لیا جو ایوبی سلاطین کے زمانے سے مصر کی حکومت میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اپنی ان فتوحات اور کارناموں کی وجہ سے بیبرس کا نام مصر و شام میں صلاح الدین ایوبی کی طرح مشہور ہے۔ وہ نہ صرف مصری عوام بلکہ تمام عالم اسلام کا بڑا مقبول ہیرو ہے۔
بیبرس صرف ایک فاتح نہیں تھا بلکہ سمجھدار اور عادل حکمران بھی تھا۔ اس کے دور حکومت میں کئی اہم کام انجام دیے گئے۔ ان میں سے ایک خلافت کے سلسلے کی بحالی ہے۔ سقوط بغداد اور خلیفہ مستعصم باللہ کی شہادت کے بعد اسلامی دنیا تین سال تک بغیر خلافت کے رہی۔ اتفاق سے ظاہر باللہ عباسی کا ایک لڑکا ابو القاسم احمد منگولوں کی قید سے چھوٹ کر 1262ء میں مصر آگیا۔ بیبرس اس کو عزت و احترام کے ساتھ قاہرہ لایا اور اس زمانے کے مشہور عالم عزیز الدین عبدالسلام کی موجودگی میں اس کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور مصر میں اس کے نام کا خطبہ اور سکہ جاری کیا۔ اس طرح عباسی خلافت اب بغداد سے قاہرہ منتقل ہو گئی۔ اگرچہ مصر کے یہ عباسی خلیفہ صرف نام کے ہوتے تھے اور اصل میں اقتدار مملوک بادشاہوں کے پاس ہوتا تھا لیکن اس طرح کم از کم ایک اسلامی شعار کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
بیبرس اسلامی تعلیمات کا خود بھی پابند تھا اور اپنی سلطنت میں اس نے اسلامی احکام پر عمل کرانے کی بھی پوری کوشش کی۔ اس کے عہد میں عدالت میں بڑے سے بڑے آدمی پر مقدمہ چلایا جاسکتا تھا۔ کئی مرتبہ خود بیبرس پر بھی لوگوں نے مقدمات دائر کیے اور اس کو عدالت میں آنا پڑا۔ بیبرس نے شراب بنانے اور اس کی خرید و فروخت پر بھی پابندی لگادی تھی۔ حج سے پہلے مصر سے غلاف کعبہ کو مکہ معظمہ سے لے جانے کی رسم کا آغاز بھی بیبرس کے زمانے میں ہی ہوا۔ وہ پہلا حکمران ہے جس نے چاروں فقہات مالکی، حنفی، شافعی اور حنبلی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا اور مصر و شام میں چاروں فقہ سے تعلق رکھنے والے قاضیوں کا تقرر کیا۔ اس سے پہلے صرف شافعی قاضی مقرر کیے جاتے تھے کیونکہ مصر میں اکثریت فقہ شافعی پر عمل کرنے والوں کی ہے۔
بیبرس نے رفاہ عامہ کے کام بھی کیے۔ نہریں، پل اور مدرسے تعمیر کرائے۔
بیبرس کی وفات 01 جولائی 1277 کو ہوئی۔ وہ اپنے تعمیر کیے ہوئے ظاہریہ کتب خانہ (دمشق) کے احاطے میں دفن ہے۔
اس کی سوانح حیات "سیرت السلطان بیبرس" نامی کتاب میں درج ہے۔ وہ صلاح الدین ایوبی کی جنگی کامیابیوں سے بہت متاثر تھا اور اس کے کارناموں کو دہرانا چاہتا تھا۔
No comments:
Post a Comment