11 اکتوبر 1885
آج مولانا شبیر احمد عثمانی ولد مولانا فضل الرحمن کا یوم پیدائش ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں مولانا شبیر احمد عثمانی کون تھے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی وہ تھے جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا قومی پرچم کراچی میں لہرایا تھا۔
لیکن ان کی ایک اور پہچان بھی یے۔
وہ جمعیت علماء اسلام کے پہلے صدر بھی تھے۔
تو پھر آج جمعیت علماء اسلام ان کا یوم پیدائش کیوں نہیں مناتی
اس کی ایک وجہ ہے۔مولانا شبیر احمد عثمانی سے دو جرم ہوئے تھے جسے جمعیت علماء ہند کے علماء نے کبھی معاف نہیں کیا۔
پہلا جرم۔
مولانا شبیر احمد عثمانی نے مولانا حسین احمد مدنی سے اختلاف رائے کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے تقسیم ہند کی حمایت کی تھی۔
دوسرا جرم ۔
12 ستمبر 1948 کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ پڑھایا تھا ۔اس موقع پہ ایک تقریر بھی کی تھی جس میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو اللہ کا ولی اور ہندوستان کا سب سے بڑا مسلمان قرار دیا تھا۔
مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس محمد علی جناح کو اللہ کا ولی قرار دیا جو قانونی طور پر اہل تشیع تھا۔
جی وہ ہی محمد علی جناح جو کلین شیو تھا۔
وہ ہی محمد علی جناح جو کتے پالتا تھا
وہ ہی محمد علی جناح جس کی مسلمانیت بھی اہل تشیع ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دی گئی تھی۔
مولانا شبیر احمد عثمانی نے اسی محمد علی جناح کو قائد اعظم مانتے ہوئے اللہ کا ولی کہا تھا۔
بےشک مولانا شبیر احمد عثمانی سچے تھے۔آج مودی کا ہندوستان بھی اس بات پہ گواہی دے رہا ہے
خیر یہ دو جرم تھے جن کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ نے کبھی مولانا شبیر احمد عثمانی کا نہ تو یوم پیدائش منایا اور نہ کبھی یوم وفات۔
کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یوم پیدائش یا یوم وفات منانا بدعت ہے۔کیونکہ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے تحت مولانا حسین احمد مدنی کی یاد میں شیخ الاسلام کانفرنس بھی ہوتی ہے اور مفتی محمود کی یاد میں مفکر اسلام کانفرنس بھی منعقد کی جاتی ہے۔
شکریہ مولانا شبیر احمد عثمانی قائد اعظم محمد علی جناح کی حمایت کرنے کے لئے۔
شکریہ بابا جانی ان اکابر پرستوں کو بےنقاب کرنے کے لئے۔
No comments:
Post a Comment