Ad3

11 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں

1138ء شام کے شہر حلب میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

1347ء علاوَالدین حسن نے منگو بادشاہ بن کر بہمنی خاندان حکومت کی بنیاد ڈالی۔

1582ء۔۔گریگورین کلینڈر اختیار کرنے کی وجہ سے روم۔پولینڈ۔اٹلی اور پرتگال میں 11 اکتوبر 1582 کی تاریخ آئی ہی نہیں۔

1634ء فرائس لینڈ ڈنمارک اور جرمنی میں بھیانک سیلاب سے تقریباََ 15 ہزار لوگوں کی موت ہو گئی۔

1687ء ہنگری نے ہبس برگس کی اطاعت قبول کی۔

1737ء بنگال میں آئے تباہ کن زلزلہ میں تین لاکھ افراد مارے گئے۔

1779ء پولینڈ کے شاہی گھرانے سے وابستہ کاسمیرپو لاسکی امریکی آزادی کی لڑائی میں مارے گئے۔

1797ء ہالینڈ کے نزدیک کیپر ڈاوَن میں برطانوی بیڑے نے ڈچ بیڑے کو شکست دی۔

1828ء ترکی کے ساتھ جنگ میں روس نے وارنا پر قبضہ کیا۔

1852ء آسٹریلیا کی سب سے قدیم سڈنی یونیورسٹی کا افتتاح۔

1868ء تھامس ایڈیسن نے اپنی پہلی ایجاد، برقی آواز کی مشین پینٹنٹ کروائی۔

1902ء جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ہوا۔

1905ء سان فرانسسکو سے ایشیائی لوگوں کے لئے اسکول شروع کیا گیا۔

1915ء پہلی جنگ عظیم میں برطانوی نرس ایڈتھ کاویلی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

1922ء ترکی اور یونان نے جنگ بندی پر دستخط کئے۔

1933ء لاطینی امریکی ممالک نے ریوڈی جنیرو ناجنگ معاہدہ پر دستخط کئے۔

1939ء ایلبرٹ آئین سٹائین کا خط امریکی صدر فرینکلن ڈی رُوز ویلٹ کو پیش کیا گیا، جس میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ نازی نیوکلیائی بم بنا سکتے ہیں۔

1945ء چین میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا

1947ء برازیل اور چلی نے سوویت یونین سے سیاسی و سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔

1956ء برطانیہ نے مارلنگا (آسٹریلیا) میں ایٹمی تجربہ کیا۔

1960ء مشرقی پاکستان میں طوفان سے تقریباََ چھ ہزار لوگوں کی موت ہو گئی۔

1962ء ویٹکن جزیرے کے دوسرے سیشن کو پوپ جان 23ویں نے خطاب کیا۔

1963ء اقوام متحدہ نے جنوبی افریقہ میں مظالم کی زور دار الفاظ میں مذمت کی۔

1967ء بولیویا کے حکام نے انقلابی گاویولا کی لاش دفن کر دی۔

1972ء جنوبی ویتنام میں 3 غیر ملکی مشنوں کو نقصان پہچانے پر امریکہ نے اپنے پائلٹوں پر پابندی لگا دی۔

1975ء افریقی ملک سوڈان میں عبوری آئین نافذ کیا گیا۔

1976ء ماوَسے تنگ کی بیوہ اور دیگر 3 افراد والا ’گینگ۔4‘ چین میں تختہ پلٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

1984ء خلائی گاڑی چیلنجر کے مسافر کیتھرین سویلویان خلاء میں چلنے والی پہلی امریکی خاتون بنی۔

2000ء جموں کشمیر ودھان سبھا میں زبردست شکست کے بعد فاروق عبداللہ نے وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دیا۔

2004ء یورپی یونین کے وزیر خارجہ نے لیبیا پر گزشتہ 18 برسوں سے عائد ہتھیاروں کی تجارت پر پابندی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

ولادت :

1884ء فریڈرخ برجیاس، نوبل انعام یافتہ جرمن ارجنٹائن کیمیادان اور ماہر تعلیم (وفات: 1949ء)

1885ء فرانسیوس ماؤریک، نوبل انعام یافتہ فرانسیسی مصنف، شاعر اور ڈراما نگار (وفات: 1970ء)

1902ء بھارتی کارکن اور سیاستدان لوک نائک جے پرکاش نارائن کا بہار کے ستبدیارا گاؤں میں جنم ہوا۔ (وفات: 1979ء)

1925ء ایلمور لینرڈ، امریکی مصنف اور اسکرین رائٹر (وفات: 2013ء)

1942ء امیتابھ بچن،امیتابھ بچن کا پیدائشی نام امیتابھ ہریونش شریواستوہے اور یہ11 اکتوبر، 1942ء کو ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ریاست اتر پردیش ﻣﯿﮟ پیدا ہونے والے بھارتی اداکار ہیں۔ انہیں ابتدائی مقبولیت 1970ء میں ملی اور آج ان کا شمار بھارتی فلم صنعت کی تاریخ میں معروف ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔اپنے اداکاری کے سفر کے دوران میں انہوں نے کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے جن میں تین نیشنل فلم ایوارڈ اور بارہفلم فیئر ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے پاس سب سے زیادہ دفع بہترین اداکار نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اداکاری کے علاوہ بچن نے گلوکاری، پیش کار اور میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ 1984ء سے 1987ء تک وہ بھارتی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔امیتابھ بچن کی شادی اداکارہ جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کے دو بچے ہیں شوئیتا نندا اور ابھیشیک بچن۔ ابھیشیک بھی فلم اداکار ہیں اور بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔ ﺳﻮ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﻠﻮﮮ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺍﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﻠﻤﯽ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ 1969 ﻣﯿﮟ ﻓﻠﻢ ﺳﺎﺕ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻓﻠﻤﯿﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺪﺍﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺟﯿﺖ ﻟﺌﮯ۔ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺑﭽﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻟﮧ ﻓﻠﻤﯽ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﺭﮦ ﻓﻠﻢ ﻓﯿﺌﺮ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺌﮯ۔ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻠﻢ انڈﺳﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺘﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺍﺱ ﺳﭙﺮ ﺍﺳﭩﺎﺭ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﮐﺌﯽ ﻧﯿﺸﻨﻞ ،ﻣﻌﺎﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺌﮯ۔ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺑﭽﻦ ﻧﮯ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭘﺮﻭﮈﯾﻮﺳﺮ، ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﻤﭙﯿﺌﺮ، ﭘﻠﮯ ﺑﯿﮏ ﺳﻨﮕﺮﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻌﻠﮯ، ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ، ﻻﻭﺍﺭﺙ، ﮐﻮﻟﯽ، ﺍﮔﻨﯽ پتھ، ﺧﺪﺍ ﮔﻮﺍﮦ، ﮨﻢ،ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ، ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻢ، ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ، سرﮐﺎﺭ ﺭﺍﺝﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ

1954ء۔۔مارشا سنگھ(17 جولائی 2012) برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ سے لیبر پارٹی کی جانب سے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ وہ بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی برطانیہ آ گئے تھے انہوں نے بریڈفورڈ کے اسکول بیل ویو بوائز اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ وہ ٹریڈیونین میں بھی سرگرم رہنما تھے۔ 1997 میں بریڈفورڈ کے ایک سفید فام ممبر آف پارلیمنٹ نے میکس میڈن نے مستعفی کا اعلان کیا جس پر لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق نئے امیدوار کو منتخب کرنے کے لیے جماعت کے اندر انتخابی عمل دہرایا گیا۔ اس انتخاب میں مارشا سنگھ کے علاوہ دیگر افراد میں لارڈ نذیراحمد، محمد عجیب، رنگزیب چوہدری، ذوالفقار احمد،محمد تاج، و دیگر کشمیری پاکستانی شامل تھے۔ مارشاء سنگھ پارٹی کے اندر منتخب ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے 1997 کے الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی۔ وہ بعد ازاں 2001 اور پھر 2005 کے الیکشن میں بھی منتخب ہوئے۔

1962ء جوآن کوزاک، امریکی اداکارہ

1963ء شہزادہ فیصل بن حسین، اردن

1964ء مائیکل جے نیلسن، امریکی اداکار

1983ء رسلان پونوماریوف، یوکرینیائی شطرنج کھلاڑی

1993ء شان مرے، آئرش فٹبالر

1885ء۔۔۔علامہ شبیر احمد عثمانی 10 محرم الحرام 1302ھ بمطابق 11 اکتوبر 1885ء کو پردہ عدم سے ظہور میں آئے۔علامہ عثمانی محمود الحسن کے تلامذہ میں سے تھے۔ 1325ھ بمطابق 1908ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث کے تمام طلباء میں اول آئے۔فراغت کے بعد دارالعلوم دیوبند میں فی سبیل اللہ پڑھاتے رہے۔ متوسط کتابوں سے لے کر مسلم شریف اور بخاری شریف کی تعلیم دی۔مدرسہ فتح پور دلی تشریف لے گئے اور وہاں صدر مدرس مقرر ہوئے۔1348ھ بمطابق 1930ء میں آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔1354ھ بمطابق 1936ء میں دارالعلوم دیوبند میں صدر مہتمم کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔آپ کے ممتاز تلامذہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی، محمد ادریس کاندھلوی، عالم دین مولانا بدرعالم میرٹھی، سید مناظر احسن گیلانی، حفظ الرحمٰن سیوہاروی، قاری محمد طیب قاسمی، اظہر سلہٹی اور سید یوسف بنوری(بانی جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپکی متعدد تصانیف ہیں، جن میں قرآن کریم کی تفسیر عثمانی اور مسلم شریف کی نامکل شرح فتح الملہم زبردست علمی شاہ کار ہے جس کو بعد میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے مکمل کیا ہے۔اس کے علاوہ اعجاز القرآن، اسلام کے بنیادی عقائد، العقل و النقل، فضل الباری شرح صحیح بخاری، الشباب اور مجموعہ رسائل ثلاثہ آپ کے علمی شاہکار ہیں۔آپ کی تمام زندگی خدمت اسلام میں گزری اور آپ کے کردار نے مسلمانوں میں زندگی کی روح دوڑادی۔سیاسی اور ملکی خدمات میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔تحریک خلافت میں آپ جمیعت علمائے ہند کی مجلس عامہ کے زبردست رکن تھے۔مسلم لیگ میں شریک ہو کر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی اور ایک جماعت “جمیعت علمائے اسلام“ کے نام سے 26 اکتوبر 1945 کو تشکیل دی جس کے پہلے صدر آپ منتخب ہوئے۔کشمیر کی جدوجہد آزادی میں بھی نمایاں حصہ لیا۔پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کے باعث آپ نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قانون اسلامی کی تجویز “قرارداد مقاصد“ کے نام سے پاس کرائی۔غرض یہ کہ تحریک پاکستان میں اگر ایک طرف دنیاوی حیثیت کے لوگوں کی خدمات ہیں تو دوسری طرف اتنی ہی علامہ شبیر احمد عثمانی کی دینی خدمات ہیں۔آپ نے کراچی میں 15 اگست 1947 کو پاکستان کا جھنڈا سرکاری طور پہ سب سے پہلے لہرایا۔آپ نے ہی 12 ستمبر 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ ان کی وصیت کے مطابق پڑھایا تھا ۔13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفرالمظفر 1369ھ کو گیارہ بج کر چالیس منٹ پر بروز منگل 64 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔

1993ء۔۔ہاردیک پانڈیا ایک بھارتی کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ آپ ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے بھارت قومی کرکٹ ٹیم میں کھیلتے ہیں۔

وفات :

1579ء سوکلو محمد پاشا، عثمانی سیاست دان، 43ویں وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ (پیدائش: 1506ء)

1889ء جیمز پریسکوٹ جول، انگریز ماہر طبیعیات (پیدائش: 1818ء)

1908ء خودی رام بوس، ہندوستانی انقلابی کارکن کو 19سال کی عمر میں پھانسی دی گئی۔

1963ء جین کاکتو، فرانسیسی شاعر، ناول نگار، اداکار، فلم ہدایت کار اور مصور (پیدائش: 1889ء)

1977ء ابراہیم الحامدی، شمالی یمن کے صدر کو ان کے بھائی سمیت قتل کر دیا گیا۔

2002ء۔۔دینا پاٹھک (پیدائش 4 مارچ 1922ء) گجراتی تھیٹر کی ڈائریکٹر اور ایک تجربہ کار اداکارہ تھیں۔ پانچ دہائیوں سے ہندی فلموں میں اداکاری کی، رتنا پاٹھک (نصیر الدین شاہ کی بیوی) اور سپریا پاٹھک (پنکج کپور کی بیوی ) کی والدہ اور شاہد کپور کی نانی۔ آخری دور میں بزرگ کرداروں سے کافی شہرت ملی۔ ان کی مقبول فلموں میں ہوں نئے ’خوبصورت‘، ’گول مال‘، ’کوشش‘، ’امراؤ جان‘، ’ایک چادر میلی سی‘، ’سوداگر‘، ’راجا بابو‘، ’آنکھیں ‘، ’پردیس‘، ’پنجر‘، ’دیوداس‘ اور ’تم بن‘ بہت مقبول ہوئیں۔

2005ء شان الحق حقی، اردو کے ماہر لسانیات، شاعر،11 اکتوبر 2005ء کو معروف شاعر‘ ادیب‘ محقق و نقاد‘مترجم اورماہر لسانیات شان الحق حقی ٹورنٹو (کینیڈا) میں وفات پاگئے۔ شان الحق حقی 15 ستمبر 1917ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد مولوی احتشام الدین حقی اپنے زمانے کے مشہور ماہر لسانیات تھے اور انہوں نے مولوی عبدالحق کی لغت کبیر کی تدوین میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی علمی ماحول میں شان الحق حقی کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے انگریزی میں ایم اے کیا جس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو اورہندوستان کے شعبہ اطلاعات کے مشہور ماہنامہ آج کل سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے 1950ء سے 1968ء تک حکومت پاکستان کے محکمہ مطبوعات و فلم سازی میں خدمات انجام دیں، بعدازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن کے سیلز ڈپارٹمنٹ سے بھی منسلک رہے۔ شان الحق حقی کی تصانیف میں تار پیراہن‘ دل کی زبان‘ حرف دل رس‘ نذر خسرو‘ انتخاب ظفر (مع مقدمہ) اور نکتہ راز‘ تراجم میں انجان راہی‘ تیسری دنیا‘ قلوپطرہ‘ گیتا نجلی اور ارتھ شاستر اور مرتبہ لغات میں فرہنگ تلفظ اور اوکسفرڈ انگریزی اردو لغت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ترقی اردو بورڈ میں بطور معتمد اعزازی خدمات انجام دیں اور اردو کی سب سے بڑی لغت کی تدوین میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا۔ شان الحق حقی کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ وہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں آسودۂ خاک ہیں۔

برصغیر کے نامور موسیقار استاد جھنڈے خان 11 اکتوبر1952ء کو گوجرانوالہ میں وفات پا گئے۔ استاد جھنڈے خان کا اصل نام میاں غلام مصطفی تھا اور وہ 1866ء میں جموں کے ایک گائوں کوٹلی اوکھلاں میں پیدا ہوئے تھے۔ علم موسیقی کے حصول کے لیے انہوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا اور پھر بمبئی کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں انہوں نے موسیقی کے بھنڈی بازار گھرانے کے موسیقاروں چھجو خان، نذیر خان اور خادم حسین خان سے اکتسابِ فیض کیا۔ موسیقی کے علم میں استعداد بہم پہنچانے کے بعد وہ مختلف تھیٹریکل کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہے اور ان کے لیے خوب صورت بندشیں اور دھنیں اختراع کرتے رہے۔ پھر بولتی فلموں کا دور آیا تو انہوں نے تیس سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں انہوں نے ایک اور فنی کرشمہ دکھایا اور وہ یہ کہ فلم ’’چتر لیکھا‘‘ کی تمام دھنیں ایک ہی راگ (بھیرویں) میں ترتیب دیں۔ سُر ایک ہی تھے لیکن ان کے زیر و بم میں ایسا تنوع رکھا تھا کہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ سننے والا ایک ہی راگ سن رہا ہے۔ استاد جھنڈے خان نے اپنے کمالات سے فلمی موسیقی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ برصغیر کی فلمی موسیقی انہی کے فنی اجتہاد اور رہبری کی مرہونِ منت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد استاد جھنڈے خان گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہوئے اور وہیں 11اکتوبر 1952ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

2012ء۔۔،شیر افگن نیازی پشتون نیازی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی سیاست دان تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں وہ جگر کے سرطان میں مبتلا تھے۔ وہ چار دن قومہ میں رہنے کے بعد 11 اکتوبر 2012ء کو 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

تعطیلات و تہوار:

لڑکیوں کا بین الاقوامی دن (بین الاقوامی)لڑکیوں کا بین الاقوامی دن، ہر سال 11 اکتوبر کوپاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔لڑکی پر ظلم و زیادتی کی تاریخ جتنی قدیم ہے خاتون کے روپ میں اس کے عزم و ہمت کی داستان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ لڑکی پیداہوتے ہی زندہ درگور کرنا، بیٹی اور بیٹے میں بھید بھاؤ رکھنا، انہیں تعلیم سے دور رکھنا اور دیگر کئی زیادتیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے لڑکیوں کے حقوق اور لڑکیوں کو درپیش مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے گیارہ اکتوبر کو لڑکیوں کا بین الاقوامی دن قرار دیا

یوم انقلاب (مقدونیہ)

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...