تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۳﴾
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں ، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، ایسے لوگ ہمیشہ ان ( باغات ) میں رہیں گے ، اور یہ زبردست کامیابی ہے ۔
These are the limits [set by] Allah , and whoever obeys Allah and His Messenger will be admitted by Him to gardens [in Paradise] under which rivers flow, abiding eternally therein; and that is the great attainment.
تفسیر
احکام وراثت کی اطاعت پر جنت کی بشارت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، (النساء : ١٣) یتیموں اور میراث کے متعلق جو احکام بیان کیے گئے ہیں یہ اللہ کی حدود ہیں یعنی اللہ کے دیئے ہوئے شرعی احکام ہیں اور اس کی اطاعت کی تفصیلات اور شرائط ہیں ان پر حدود کا اطلاق اس وجہ سے کیا گیا کہ مکلف کے لئے ان احکام سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ان احکام پر عمل کرے گا اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
No comments:
Post a Comment