Ad3

14 اکتوبر 1980 جب جمعیت علماء اسلام دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی تھی۔

مولانا مفتی محمود جمعیت علما اسلام کے جنرل سیکرٹری تھے .جب کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی  تھے ....اس وقت ڈپٹی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمہ اللہ  تھے...

14 اکتوبر 1980 کو مفتی محمود  کی وفات کے بعد امیر مکرم مولانا عبداللہ درخواستی نے مخزن العلوم خانپور میں جمعیت علما اسلام کا اجلاس طلب کیا اور مولانا عبیداللہ انور کو ناظم عمومی بنادیا کیونکہ وہ پہلے سے ڈپٹی سیرٹری جنرل تھے جبکہ جمعیت کے دستور کا بھی یہی تقاضا تھا...

اس کے ساتھ مفتی محمود کے جواں سال بیٹے مولانا فضل الرحمن کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنا دیا اور فرمایا کہ بیٹا...تم ابھی کم عمر ہو ...وقت آئے گا آپ کو جماعت کا بڑا عہدہ دیا جائے گا ابھی آپ ان کے ساتھ کام کرنا شروع کرو....

یہ سن کر مولانا فضل الرحمن کی نتھنے پھولنے لگے وہ اٹھا اور مدرسے کے دوسرے کمرے میں اپنے چند ہمخیال رفقا کو لےکر الگ سے اجلاس کرنے لگا...جس میں اس نے مولانا عبدالکریم بیر شریف کو امیر بنادیا اور خود جنرل سیکرٹری بن گئے..

اس دوران مولانا زاہد الراشدی سمیت سینئر ساتھیوں نے بے حد کوشش کی اور انہیں اس حرکت سے باز رکھنے کے بہت جتن کیئے مگر مولانا فضل الرحمن نہیں مان رہا تھے ...

اور یوں جمعیت  علماء اسلام کی متحدہ قوت کو دولخت کردیا..... نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی تحریک چلانے کا اعلان اس نے اپنا دھڑا الگ کرنے کے بعد کیا....

آج بھی آپ دیکھ لیں۔جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے کلیدی عہدوں پر آل مفتی محمود فائز ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...