Ad3

14 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں

1066ء ولیم کی قیادت میں نارمینس نے ہسٹنگس کی لڑائی میں برطانوی فوج کو شکست دی۔

1806ء نیپولین بوناپارٹ نے پرشیا کو شکست دی۔

1813ء بویریا نے فرانس کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

1867ء جاپان میں توکوگوا شوگن خاندان کے 15ویں اور آخری حکمراں نے اپنے عہدے سے استعفی دیا۔

1912ء امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ پر گولی چلائی گئی لیکن کاغذوں کے بنڈل کی وجہ سے وہ بچ گئے۔

1913ء برطانیہ میں ویلس کے گلیمورگن میں واقع یونیورسل کوئلہ کان میں ہوئے دھماکے میں 439 افراد مارے گئے۔

1920ء سوویت یونین نے پیتسامو کا کچھ حصہ فن لینڈ کے حوالے کیا۔

1930ء فن لینڈ میں فاسسٹوں نے تختہ پلٹنے کی کوشش کی۔

1933ء نازی جرمنی نے لیگ آف نیشنز چھوڑنے کا اعلان کیا۔

1936ء بیلجیئم نے فرانس کے ساتھ فوجی اتحاد توڑ دیا۔

1939ء دوسری جنگ عظیم میں برطانوی جنگی جہاز رائل اوک 800 افراد سمیت ڈوب گیا۔

1944ء دوسری جنگ عظیم میں برطانوی اور یونانی فوج نے ایتھنز کو جرمنی کے قبضے سے آزاد کرایا۔

1946ء ہالینڈ اور انڈونیشیا نے جنگ بندی سمجھوتہ پر دستخط کئے۔

1947ء امریکی فضائیہ کے کیپٹن چارلس ایگر آواز سے تیز رفتار سے سفر کرنے والے پہلے انسان بنے۔

1949ء چینی فوج نے کینٹون پر قبضہ کیا۔

1955ء مشرقی پاکستان کا نام بدل کر مشرقی بنگال رکھ دیا گیا۔

1955ء پاکستان کی مرکزی حکومت نے مغربی پاکستان کے صوبہ جات، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبہ، کو ملا کر ایک اکائی میں تبدیل کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان کے صرف دو صوبے ہو گئے، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ اس صوبائی نظام کو "ون یونٹ سکیم" کا نام دیا گیا۔

1956ء بھارتی آئین کے خالق ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے بدھ مذہب قبول کیا۔

1958ء امریکہ نے نویدا میں ایٹمی تجربہ کیا۔
● 1964ء امریکی خلائی جہاز اپولو سیون سے پہلی دفعہ براہ راست نشریات نشر کیں گئیں۔

1964ء انسانی حقوق کے حامی امریکی سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام دیا گیا۔

1966ء امریکہ کے 175 طیاروں نے شمالی ویتنام پر ایک ساتھ بم گرائے۔

1967ء ہانگ کانگ میں کمیونسٹ دہشت گردوں نے بم دھماکہ سے 21 افراد کی جان لے لی۔

1968ء اپولو 7 سے ٹیلی ویژن کے لئے نشریات شروع کی گئیں۔

1970ء فلپائن میں طوفان سے تقریباََ 800 افراد ہلاک ہو گئے۔

1982ء امریکہ نے پاکستان کو پہلے چالیس ایف سولہ طیارے دیئے۔

1986ء مصر کے ناول نگار نجیب محفوظ کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا، وہ یہ انعام حاصل کرنے والے پہلے عرب ادیب بنے۔

1994ء یاسر عرفات، رابنِ اور شمون پیریس کو امن کانوبل پرائز دیا گیا۔

اکتوبر 1982ء میں پاکستان کی قدیم ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی کے قیام کی صد سالہ تقریبات منائی گئیں۔ اس موقع پر 14 اکتوبر 1982ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جس پر پنجاب یونیورسٹی کا مونو گرام اور واللّٰہ المشرق والمغرب  اور The University of the Punjab1882-1982 کے الفاظ طبع کئے گئے تھے۔ 40پیسے مالیت کا یہ خوبصورت ڈاک ڈاک پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس کے استاد سید تنویر رضوی نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس یادگاری ڈاک ٹکٹ کے ساتھ محکمہ ڈاک نے چھ خوبصورت لیبلز بھی جاری کئے جن پر پنجاب یونیورسٹی کی مسجد، یونیورسٹی ہال، پنجاب یونیورسٹی لائبریری، سینیٹ روم، یونیورسٹی کی رصدگاہ اور یونیورسٹی لاء کالج کے پرانے کیمپس کے اسکیچز طبع کئے گئے تھے۔       

ولادت :

1633ء – جیمز دوم شاہ انگلستان (و۔ 1701ء)

1643ء – بہادر شاہ اول، مغل بادشاہ (و۔ 1712ء)

1882ء – ڈی ولیرا، آئرلینڈی سیاست دان، تیسرے صدر آئرلینڈ (و۔ 1975ء)

1890ء – ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور، امریکی جنرل اور سیاست دان، 34ویں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (و۔ 1969ء)

1906ء – حسن البنا، مصری مذہبی رہنما، بانی اخوان المسلمون (و۔ 1949ء)

1911ء – لی ڈک تھو، ویتنامی جنرل اور سیاست دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1990ء)

1914ء – رئیمنڈ ڈیوس جے آر، امریکی کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 2006ء)

1927ء – راجر مور، انگریز اداکار (و۔ 2017ء)

1938ء – فرح دیبا پہلوی، ملکۂ ایران

1963ء – لوری پیٹی، امریکی اداکارہ

1968ء۔۔راشد لطیف۔ ایک سابق پاکستانی کرکٹ کے وکٹ کیپر ہیں

1977ء – سعید اجمل، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

1988ء – گلین میکسویل، آسٹریلوی کرکٹ کھلاڑی

1989ء۔۔شان مسعود خان ۔پاکستانی کرکٹر۔

وفات :

1092ء نظام الملک طوسی، سلجوقی وزیر

1944ء ارون رومیل، جرمن فیلڈ مارشل نے خود کشی کی۔ وہ ڈکٹیٹر ہٹلر کا تختہ پلٹنے کی کوشش میں شامل تھا۔

1969ء۔۔خان بہادر اردشیر ایرانی جو عام طور پر اردشیر ایرانیکے نام سے جانے جاتے ہیں، ابتدائی ہندوستانی سنیما کی خاموش اور بولتی فلموں کے مصنف، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، اداکار، فلم ڈسٹریبیوٹر، فلم شومن اور سینما گرافر تھے۔ وہہندوستان کی پہلی بولتی فلم عالم آرا، جو 14 مارچ،1931ء کو ممبئی کے میجسٹک تھیٹر میں پیش کی گئی کے ہدایت کار تھے۔

1973ء۔۔راجا صاحب محمود آباد ٭ تحریک پاکستان کے عظیم رہنما راجا امیر احمد خان راجا صاحب محمود آباد کی تاریخ پیدائش 5 نومبر 1914ء ہے۔ تحریک پاکستان کے جن رہنمائوں نے اس تحریک میں تن‘ من‘ دھن ہر طرح سے شرکت کی ان میں راجا صاحب محمود آباد‘ امیر احمد خان کا نام بلاشبہ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ راجا صاحب محمود آباد کا تعلق یوپی کے ایک حکمران گھرانے سے تھا ان کے والد مہاراجا سر محمد علی خان یو پی کے مشہور ریاست محمود آباد کے والی تھے جہاں راجا امیر احمد خان5 نومبر 1914ء کو پیدا ہوئے۔ ایک تو خاندانی ماحول پھر پیسے کی فراوانی چنانچہ راجا امیر احمد خان کی تعلیم و تربیت بڑے اچھے پیمانے پر ہوئی‘ اور وہ بہت جلد اردو‘ انگریزی اور فارسی زبانوں کے عالم بن گئے۔ 23 مارچ 1931ء کو جب مہاراجا سر محمد علی خان کی وفات ہوئی تو راجا امیر احمد خان محمود آباد کے والی بن گئے‘ لیکن راجا صاحب کی درویش طبعیت اس منصب کے بار کو نہ اٹھا سکی اور وہ بہت جلد مسلمانوں کے قومی مسائل کے حل کے لیے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں فعال حصہ لینے لگے۔ اس زمانے میں مسلم لیگ کو جب کبھی پیسے کی ضرورت پڑی راجا صاحب نے سب سے پہلے بڑھ کر اس ضرورت کو پورا کیا انہوں نے اپنی وسیع و عریض ریاست کی ساری آمدنی مسلمانوں کے مسائل کے حل کے وقف کردی تھی۔ 1947ء میں جب پاکستان بنا تو راجا صاحب پاکستان چلے آئے انہیں متعدد مرتبہ وزارت اور سفارت کی پیشکش ہوئیں لیکن راجا صاحب نے ہمیشہ اس سے گریز کیا اور بغیر کسی منصب کے لالچ کیے ہمیشہ پاکستان کی خدمت کے کمربستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں راجا صاحب انگلستان چلے گئے جہاں وہ اسلامک ریسرچ سینٹر سے وابستہ تھے۔ 14 اکتوبر 1973ء کو راجا صاحب نے لندن ہی میں انتقال کیا اور مشہد میں مدفون ہوئے

14 اکتوبر 1980ء کو پاکستان کے مشہور سیاست دان اور عالم دین مولانا مفتی محمود کراچی میں وفات پاگئے۔ مولانا مفتی محمود جنوری 1919ء میں موضع عبدالخیل پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے تھے، وہ  مراد آباد، دہلی اور دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1953ء میں تحریک ختم نبوت سے ہوا۔ 1956ء میں جمعیت علمائے اسلام کے نائب امیر بنے، یکم جنوری 1972ء سے 21 فروری 1973ء تک انہوں نے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کے فرائض انجام دیئے۔ اپنے پونے دس ماہ کے دور حکومت میں انہوں نے اردو کو صوبے کی سرکاری زبان بنایا، شراب پر پابندی عائد کی، جہیز پر پابندی لگائی، جمعہ کو عام تعطیل قرار دیا اور خواتین کو پردے کا حکم دیا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں مولانا مفتی محمود نے حزب اختلاف کی نو سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کی قیادت کی، انتخابات کے بعد وہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر تحریک کے روح و رواں قرار پائے۔ انہوں نے بھٹو سے مذاکرات میں قومی اتحاد کی ٹیم کی سربراہی بھی کی مگر مذاکرات کی یہ بیل منڈھے نہ بڑھ سکی اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء پر فتح ہوئی۔ مولانا مفتی محمود اپنے آبائی گائوں موضع عبدالخیل پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں آسودۂ خاک ہیں۔

1984ء۔۔مارٹن ریل ایک برطانیہ کے طبیعیات دان تھے۔ انھونے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1974ء میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنس دان انٹونی ہیوش کے ہمراہ ریڈیو اسٹرونومی پر کی گئی انکی تحقیقات تھیں.
2003ء مختار ولد دداہ، ماریٹانیہ کے پہلے صدر، جس نے فرانس سے آزادی کے بعد اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...