Ad3

15 اکتوبر تاریخ کے آئینے میں

1529ء ترکی کے سلطان سلیمان اول نے ویانا کی ناکہ بندی ختم کر دی۔

1686ء اورنگ زیب نے بیجا پور پر قبضہ کیا اس کے ساتھ ہی 170 برس پرانی عادل شاہی خاندان کی حکمرانی ختم ہوئی۔

1833ء کیمرون کے بارے میں اینگلو جرمن کانفرنس ہوئی۔

1878ء امریکی شہر نیو یارک میں ایڈیسن الیکٹرک لائٹ کمپنی وجود میں آئی۔

1884ء فرانس میں الفریڈ ڈریکس کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

1932ء برطانوی ہندوستان میں پہلی فضائی سروس ’ٹاٹا ایئرلائنس‘ کا قیام عمل میں آیا۔

1944ء وارسا کی جنگ شروع ہوئی۔

15اکتوبر 1956ء کو ڈھاکا میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے موقع پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین ڈاک ٹکٹوں کا ایک خوبصورت سیٹ جاری کیا۔ جن پر مشرقی پاکستان کا نقشہ بنا ہوا تھا۔یہ پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹ تھے جن پر بنگالی زبان میں لفظ پاکستان طبع ہوا تھا۔

1964ء نکیتا خروچیف کو سویت کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

1968ء چیکو سلواکیہ میں سویت فوجیں رکھنے کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہوا۔

1970ء جمال عبدالناصر کی جگہ انور سادات مصر کے صدر منتخب ہوئے۔

1970ء روس کے مسافر بردار طیارہ کو ترکی میں اغوا کر لیا گیا۔

15 اکتوبر 1971ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایرانی شہنشاہیت کے ڈھائی ہزار سالہ جشن کے موقع پرتین ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ اورایک سووینیر شیٹ جاری کی۔ ان ڈاک ٹکٹوں اور سووینیر شیٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کی ڈیزائنرنگہت شیر محمدنے تیار کیا تھا۔

1973ء تھائی لینڈ میں مظاہرہ کرنے والے طلباء پر ٹینک سے کئے گئے حملے میں 300 طلباء مارے گئے۔

15اکتوبر 1973ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ورلڈ فوڈ پروگرام کی دسویں سالگرہ کے موقع پر 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراس ادارے کا لوگو بنا تھا اورTEN YEARS IN THE SERVICE OF DEVELOPMENT  کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

1987ء قاضی حسین احمد پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے۔

1987ء فجی کے گورنر جنرل نے استعفیٰ دیا۔

1987ء بورکینا فاسو کے صدر کیپٹن تھامس سنکارا کو تختہ پلٹنے کے بعد قتل کر دیا گیا اور ان کی جگہ کیپٹن بلیسی کومپور صدر بنے۔

1988ء اوجّولا پاٹل بحری راستے سے دنیا کا چکر لگانے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔

1990ء سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچیف کو نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔

1993ء جنوبی افریقہ کے نسل واد مخالف لیڈر نیلسن منڈیلا اور صدر ایف ڈبلیو ڈی کلارک کو نوبل انعام نوازا گیا۔

1994ء دوسری جنگ عظیم میں پولینڈ کے افسران نے سنہار اور جنوبی کوریائی طیارے مار گرانے کے معاملے میں حقائق چھپانے کی تردید کی۔

1998ء لبنان کی پارلیمنٹ نے خانہ جنگی کے بعد جنرل ایمل لاہود کو ملک کا پہلا صدر چنا۔

1999ء پاکستانی فوج کے چیف جنرل پرویز مشرف نے خود کو ملک کا نیا حکمراں اعلان کیا اور ایمرجنسی نافذ کی۔

2002ء پچاس برس سے زیادہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد اٹلی کے شاہی گھرانے کے ولی عہد وطن واپس آئے۔

15  اکتوبر 2009 کا دن  پاکستان کے لیے ایک برا دن ثابت ہوا جب ایک ہی دن میں ملک کے پانچ مقامات کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا۔
15 اکتوبر 2009 کے پہلے واقعے میں صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مسلح افراد کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی عمارت اور بیدیاں روڈ اور مناواں میں واقع پولیس تربیتی مراکز پر حملوں اور بعد ازاں کیے جانے والے آپریشن میں چوبیس افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں آٹھ سکیورٹی اہلکار، آٹھ شہری اور آٹھ ہی حملہ آور شامل تھے۔
دوسرا واقعہ صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں پیش آیا جہاں ایک خودکش بمبار نے چھاؤنی کے علاقے میں واقع پولیس سٹیشن پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی جس میں تین پولیس اہلکار اور سات عام شہریوں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ۔
تیسرا واقعہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پیش آیا جہاں 15 اکتوبر 2009 کو ایک سرکاری رہائشی کالونی میں ہونے والے ریموٹ کنٹرول کار بم دھماکے میں ایک بچہ ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

2017ء۔کرم ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں کیپٹن حسنین سمیت 4 فوجی شہید اور تین زخمی
2017ء۔جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کے خلاف کھلیتے ہوئے پہلی وکٹ کی شراکت میں 282 رنز کی ناقابل شکست اننگز کا ریکارڈ بنا دیا ۔ھاشم آملہ اور ڈی کوک کی ناقابل فراموش کارکردگی ۔

ولادت :

1542ء مغل بادشاہ جلال الدین اکبر عمر کوٹ، سندھ میں پیدا ہوئے۔

1844ء فریڈریک ولہن نتشے، جرمن مفکر

1856ء آسکر وائلڈ، آئرش ادیب

1931ء اے پی جے عبدالکلام، بھارتی صدر

1947ء عبد الرحمن السمیط، نامور کویتی مبلغ اسلام اور طبیب (پیدائش: 15 اگست 2015ء)

1987ء منٹھار رائے جیسانی پاکستانی سماجی کارکن

وفات :

1917ء ماتا ہاری، پہلی جنگ عظیم میں جاسوس خاتون کو پیرس میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

1918ء بھارت کے شرڈی کے سائیں بابا

1944ء رومیل، جرمن فیلڈ مارشل کے دوسری جنگ عظیم میں مارے جانے کا اعلان کیا گیا۔

1945ء پیئرے ساول، فرانس کے لیڈر، دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کا ساتھ دینے کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔

1946ء ہرمان جورنگ، نازی لیڈر اور ہٹلر کے وفادار، پھانسی دیئے جانے سے ایک روز قبل ہی زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

1964ء کول پورٹر، امریکی گلوکار اور موسیقار

1969ء عبدالرشید علی شیرمارک، صومالی صدر کو قتل کر دیا گیا۔

1987ء کیپٹن تھامس سنکارا، بورکینا فاسو کے صدر کو قتل کر دیا گیا۔

2011ء منشاء یاد، پاکستانی افسانہ، ڈراما اور ناول نگار بمقام اسلام آباد

15 اکتوبر 2010ء کو ماضی کی معروف فلمی اداکارہ سلونی کراچی میں وفات پاگئیں۔ سلونی کا اصل نام ظہرہ نازنین تھا اور وہ 1943ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئی تھیں۔ سلونی کو فلمی دنیا سے فضل احمد کریم فضلی نے متعارف کروایا تھا جنہوں نے اسے اپنی فلم ’’مسٹر بدھو‘‘ میں سائڈ رول کے لیے منتخب کیاتھا۔ یہ فلم بعدازاں ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کے نام سے نمائش پذیر ہوئی۔تاہم اس فلم کی ریلیز سے قبل27 نومبر 1964ء کو اداکارہ سلونی کی ایک اور فلم ’’غدار‘‘ نمائش پذیر ہوگئی یوں فلم ’’غدار‘‘ سلونی کی پہلی فلم قرار پائی ۔ سلونی نے مجموعی طور پر 67 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 36 فلمیں اردو میں اور 31 فلمیں پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ سلونی کی مقبول فلموں میں کھوٹا پیسا،عادل،باغی سردار، حاتم طائی، درندہ، چن مکھناں، دل دا جانی، لٹ دا مال،بالم، چھین لے آزادی، ظالم،شہنشاہ جہانگیر،سجن پیارا اور پھنے خان کے نام سرفہرست تھے۔سلونی کی آخری فلم پنجابی زبان میں بنائی جانے والی ’’امیرتے غریب‘‘ تھی جو 21 اپریل 1978ء کو نمائش پذیر ہوئی تھی۔ جون 1970ء میں سلونی نے فلم ساز اور ہدایت کار باری ملک کے عشق میں ناکامی پر دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹروں کی سر توڑ کوشش کے بعد انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچالیا گیا۔ اس واقعے کے بعد باری ملک نے سلونی سے شادی کرلی تھی۔ باری ملک اور سلونی نے تقریباً 25 برس متحدہ عرب امارات میں گزارے جہاں باری ملک اپنے کاروباری سلسلے میں مقیم تھے۔ سلونی اور باری ملک کی ایک صاحبزادی کی شادی الیاس کاشمیری مرحوم کے صاحبزادے سے ہوئی تھی۔   

تعطیلات و تہوار:

سفید چھڑی کا دن بصارت کا عالمی دن

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...