Ad3

20 اکتوبر 1888 یوم پیدائش صوبیدار خداداد خان

آج جنگ عظیم اول میں وکٹوریہ کراس پانے والے پاکستانی خداداد خان کا یومِ پیدائش ہے
نام :خداداد خان
تاریخ پیدائش: 20 اکتوبر 1888ء
جائے پیدائش : ضلع چکوال ، صوبہ پنجاب
واقعے کی تاریخ: 31 اکتوبر 1914ء
مقام شجاعت : ہولبیک، بلجئیم
رجمنٹ : ڈیوک آف کناٹ کے اپنے بلوچی
وکٹوریہ کراس برطانیہ کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ہے۔ یہ اعزاز 1857ء میں قائم ہوا تھا۔ 1911ء میں دربار دہلی کے موقع پر شاہ برطانیہ جارج پنجم نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ اگر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کوئی قابل رشک کارنامہ انجام دیں گے تو وہ بھی وکٹوریہ کراس کا اعزاز حاصل کرسکیں گے۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران برصغیر پاک و ہند کے بہت سے سپاہیوں نے یورپ کے مختلف محاذوں پر عسکری خدمات انجام دیں اور متعدد اعزازات حاصل کیے۔ انہی میں سے ایک سپاہی خداداد خان تھے جو موضع ڈھب ضلع چکوال کے رہنے والے تھے۔ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا اس وقت نمبر 129 ڈیوک آف کناٹس اون بلوچیز کہلاتی تھی اور کراچی میں تعینات تھی۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران سپاہی خداداد خان کو فرانس جانے کا حکم ملا وہ 24 اگست 1914ء کو سمندر کے راستے کراچی سے روانہ ہوئے اور 29 ستمبر کو فرانس کی بندرگاہ مارسیلز پر پہنچے جہاں انہیں ہولی بیک کے محاذ جنگ پر تعینات کیا گیا۔
یہ 13 اکتوبر 1914ء کا واقعہ ہے جب سپاہی خداداد خان کے دستے کا کمان آفیسر دشمن کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا اور مشین گن چلانے والے پانچ سپاہی بھی یکے بعد دیگرے مارے گئے‘ ایسے میں سپاہی خداداد خان زخمی ہونے کے باوجود نہایت استقلال سے اپنی مشین گن چلاتے رہے۔ اس معرکے میں 7 برطانوی اور 5 ہندی افسران اور 124 فوجی مارے گئے۔ 64 بے پتا ہوئے جو مارے ہوئے تصور کیے گئے۔
سپاہی خداداد خان کے اس کارنامے کے اعتراف کے طور پر حکومت برطانیہ نے 31 اکتوبر 1914ء کو انہیں برطانیہ کا سب سے بڑا عسکری اعزاز وکٹوریہ کراس دینے کا اعلان کیا۔ وکٹوریہ کراس ملنے کے بعد سپاہی خداداد خان کو صوبیدار خداداد خان بنا دیا گیا۔
صوبیدار خداداد خان نے 8 مارچ 1971ء کو سی ایم ایچ راولپنڈی میں وفات پائی اور ضلع منڈی بہائو الدین کے گائوں رکن میں اپنی زمینوں پر دفن ہوئے

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...