1797ء پیرس میں آندرا جیکس گرنیرن پہلی بار غبارہ سے کودنے میں پیراشوٹ کا استعمال کیا گیا۔
1879ء ہندوستان میں برطانوی حکمرانی کے خلاف پہلا غدر واسودیو بلونت پھڑ کی قیادت میں ہوا۔
1938ء چیسٹرکارسن نے پہلی زیروکس کاپنگ مشین کا مظاہرہ کیا۔ اور یوں پہلی مرتبہ کسی کاغذ کی فوٹو کاپی لی گئی۔
1949ء پولینڈ میں ٹرین حادثہ میں 200 افراد مارے گئے۔
1953ء مسلم لیگ اسمبلی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے سربراہ مسلمان ہوں گے۔
1954ء مغربی جرمنی نے ناٹو کی رکنیت اختیار کی۔
1962ء بھارت کا سب سے بڑا آبی پروجیکٹ بھاکھڑا نانگل کا افتتاح ہوا۔
1962ء جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کر رہے لیڈر نیلسن منڈیلا پر مقدمہ شروع۔
1964ء فرانسیسی فلسفی اور ادیب ژاں پال سارتر نے یہ کہتے ہوئے ادب کا نوبل انعام قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ اس سے ان کی تصنیف کے اثر میں کمی آئے گی۔
1966ء سوویت یونین نے چاند کے لئے لونا۔ 12 بھیجا۔
1968ء امریکی خلائی گاڑی اپولو ۔7 زمین پر واپس لوٹا۔
1975ء سوویت یونین کا خلائی جہاز وینسرا مریخ پر اترا۔
1979ء ایران کے برطرف شاہ علاج کے لئے امریکہ پہنچے۔
22 اکتوبر 1979ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 8 بچوں کے عالمی سال کے موقع پر چار خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کی اور ایک سووئنر اسٹیٹ جن کی خاص بات یہ تھی کہ ان تمام ٹکٹوں اور اسٹیٹ پر شائع ہونے والی ڈرائنگز بچوں ہی نے تیار کی تھیں، ان ڈرائنگز کا انتخاب صدر مملکت کی ہدایت پر بننے والی نیشنل آرگنائزنگ کمیٹی نے مصوری کے ایک مقابلے کے ذریعے کیا تھا جس میں پاکستان بھر کے بچوں نے حصہ لیا تھا۔ ان چار خصوصی ڈاک ٹکٹوں میں 40 پیسے مالیت والے ڈاک ٹکٹ کی ڈرائنگ کوئٹہ کے زعیم مالوف نے، 75 پیسے مالیت والے ٹکٹ کی ڈرائنگ لاہور کی مس روحی اکبر نے، ایک روپیہ مالیت والے ٹکٹ کی ڈرائنگ لاہور کے محمد اعظم نے اور ڈیڑھ روپیہ مالیت والے ٹکٹ کی ڈرائنگ لاہور کے محمد طیب نے تیار کی تھی جبکہ سووئنر شیٹ کی ڈرائنگ پشاور کی مس نگہت ممتاز کی تیار کردہ تھی۔یہ چاروں ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر جناب عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیے تھے۔
1980ء جنوبی کوریا کا نیا آئین وجود میں آیا۔
1989ء پاکستان نے سیف گیمز میں چھ سونے کے تمغات حاصل کئے۔
22اکتوبر1995ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے آمدورفت کے روایتی ذرائع کے موضوع پر پانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر کراچی میں چلنے والی وکٹوریہ کی تصویر بنی تھی اور اس پر انگریزی میں KARACHI VICTORIA کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے فیضی امیر نے تیارکیا تھا۔
22 اکتوبر 2004ء کو گنیز بک آف ریکارڈز کے منتظمین نے اعلان کیا کہ انہوں نے جدہ میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر ، ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی کا یہ دعویٰ تسلیم کرلیا ہے کہ وہ دنیا میں قرآن مجید کے سب سے چھوٹے نسخے کے مالک ہیں۔ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی قرآن پاک کے جس نسخے کے مالک ہیں وہ 1.70 سینٹی میٹر لمبا، 1.28 سینٹی میٹر چوڑا اور 0.72 سینٹی میٹر موٹا ہے۔ قرآن مجید کا یہ نسخہ 1292ھ (1875ء) میں شائع ہوا تھا۔ یہ مغربی خط میں تحریر کیا گیا ہے جو مراکش اور تیونس میں رائج ہے۔ قرآن مجید کا یہ نسخہ علی عثمان نے تحریر کیا تھا اور اسے قاہرہ (مصر) سے شائع کیا گیا تھا۔ اس نسخے میں 571 صفحات ہیں جنہیں محدب عدسے کی مدد سے پڑھا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر محمد سعید فضل کریم بیبانی 1962ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لارنس کالج مری اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور انہوں نے ایک غیر منقوط نعتیہ مجموعہ ممدوح کردگار کے نام سے تحریر کیا ہے۔
2005ء نائجریا کی پرائیویٹ ایئر کمپنی کا بوئنگ طیارہ حادثہ کا شکار ہوا، 117 افراد ہلاک ہو گئے۔
2008ء بھارت خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) نے ملک کے اول چندرمشن (چندریان) کو خلا میں چھوڑا۔
ولادت :
1688ء نادر شاہ افشار بمعروف نادر قلی بیگ اور طہماسپ علی خان ، (8 مارچ 1736ء تا 19 جون 1747ء) ایرانی بادشاہ اور خاندان افشار کی حکومت کا بانی تھا۔ اپنی عسکری صلاحیتوں کے باعث مورخین اسے ایشیا کا نپولین اور سکندر ثانی کہتے ہیں۔ (وفات: 1747ء)
1870ء آیان بینن ، نوبل ادب انعام (1933ء) یافتہ روسی زبان کے ادیب وہ پہلے روسی ادیب تھے جنہوں نے یہ انعام حاصل کیا۔ (وفات: 1953ء)
1873ء رام تیرتھ، ہندو سنت سوامی
1881ء کارل ڈیوڈ انڈریسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1937ء) یافتہ طبیعیات دان، استاد جامعہ (وفات: 1958ء)
1900ء اشفاق اللہ خان، برصغیر کے معروف انقلابی، مجاہد آزادی اور شاعر تھے جنہوں نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنی جان دے دی ۔ انہیں 19 دسمبر 1927ء کو پھانسی دے دی گئی۔ (وفات: 1927ء)
1903ء جارج ویل بیڈل ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1958ء) یافتہ امریکی ماہر جینیات، استاد جامعہ، سیاست دان (وفات: 1989ء)
1915ء اسحاق شامیر ، اسرائیلی سیاست دان اور ساتواں (10 اکتوبر 1983ء تا 13 ستمبر 1984ء اور (20 اکتوبر 1986ء تا 13 جولائی 1992ء) اسرائیلی وزیر اعظم (وفات: 2012ء)
1919ء ڈورس لیسنگ ، نوبل انعام برائے ادب (2007ء) یافتہ ایران میں پیدا ہونے والی انگریز شاعرہ، ناول نگار، ڈرامہ نگار، آپ بیتی نگار، منظر نویس، مضمون نگار، سائنس فکشن مصنف (وفات: 2013ء)
1937ء قادر خان ، پشین، بلوچستان میں پیدا ہونے والے پاکستانی نژاد بھارتی اداکار
1957ء کِٹو گِڈوانی ، بھارتی فلمی اداکارہ
1972ء ریشم ، پاکستانی اداکارہ
1973ء دوست محمد کھوسہ ، پنجاب کے اکیسویں (12 اپریل 2008ء تا 8 جون 2008ء) وزیر اعلیٰ
1988ء پرینیتی چوپڑا ، بھارتی فلمی اداکارہ
وفات :
1680ء رانا راج سنگھ، میواڑ کے راجہ
1975ء آرنلڈ ٹائن بی ، برطانوی مؤرخ (پیدائش: 1889ء)
1975ء۔۔ محمد میاں دیوبندی۔مشہور دیوبندی عالم اور مورخ۔
1981ء عبد القیوم خان، نائب سپیکر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے سابق وزیر داخلہ .22 اکتوبر 1981ء کو پاکستان کے نامور سیاستدان خان عبدالقیوم خان اسلام آباد میں وفات پاگئے اور حسن گڑھی ضلع پشاور میں آسودۂ خاک ہوئے۔ خان عبدالقیوم خان 16 جولائی 1901ء کو چترال میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پشاور، علی گڑھ، اور لندن کے فارغ التحصیل تھے۔ 1937ء میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی اور پارلیمانی زندگی کا آغاز کیا تاہم قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ ہوگئے اور پھر تمام عمر نہ صرف اسی جماعت کے دامن سے وابستہ رہے بلکہ اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ خان عبدالقیوم خان، سرحد کے وزیراعلیٰ، وفاقی وزیر خوراک و زراعت، وفاقی وزیر صنعت اور وفاقی وزیر داخلہ کے مناصب پر فائز رہے تھے۔ 1977ء کے عام انتخابات میں شکست کے بعد وہ سیاست سے کنارہ کش ہوگئے اور اسی گوشہ گیری کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
1964ء خواجہ ناظم الدین ، (14 ستمبر 1948ء تا 17 اکتوبر 1951ء) دوسرے گورنر جنرل پاکستان اور (17 اکتوبر 1951ء تا 17 اپریل 1953ء) دوسرے وزیراعظم پاکستان .19 جولائی 1894ء پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی تاریخ پیدائش ہے۔ خواجہ ناظم الدین جدوجہد آزادی کے ممتاز رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ ڈھاکا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نواب سلیم اللہ کے بھانجے تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ خواجہ ناظم الدین نے مسلم یونیورسٹی‘ علی گڑھ اور کیمبرج یونیورسٹی‘ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر سیاسی میدان میں داخل ہوئے۔ وہ ڈھاکا میونسپل کمیٹی کے چیئرمین‘ مجلس دستور ساز بنگال کے رکن اور متحدہ بنگال کے وزیر تعلیم‘ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کے مناصب پر فائز رہے۔ 1937ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور پھر تاعمر اسی جماعت سے منسلک رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1948ء میں قائد اعظم کی وفات کے بعد انہیں پاکستان کا گورنر جنرل منتخب کیا گیا 1951ء میں جب لیاقت علی خان شہید ہوئے تو وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں غیر آئینی طور پر برطرف کردیا جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ 1963ء میں ایک مرتبہ پھر سیاست کے میدان میں متحرک ہوئے۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات کے لیے وہ بھی ایک ممکنہ امیدوار تھے مگر خود انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار بنائے جانے کے لیے کوشش کی اور کامیاب رہے۔ ابھی یہ صدارتی مہم جاری تھی کہ 22 اکتوبر 1964ء کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
1971ء ہملٹن الیگزینڈر روسکین گب المعروف ایچ۔ اے۔ آر۔ گب ، اسکاٹ لینڈ نژاد برطانوی مؤرخ ، انہوں نے اسلام کے حوالے سے کافی کام کیا۔ ابن خلدون کی کتاب مقدمہ ابن خلدون کے حوالے سے بھی انہوں نے کافی کام کیا۔ (پیدائش: 1895ء)
1986ء البرٹ سزنٹ-گیورگی ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1937ء) یافتہ ہنگرین حیاتی کیمیا دان، کیمیادان، سیاست دان، طبیب، استاد جامعہ ، اس انعام کی وجہ وٹامن سی کو دریافت کرنا تھا نیز دوسری جنگ عظیم کے بعد انھوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا۔ (پیدائش: 1893ء)
1990ء لوئی التھیوز ، الجزائر میں پیدا ہونے والے جرانسیسی مارکسی ادیب، فلسفی اور نظریہ ساز نقاد (پیدائش: 1918ء)
1998ء حامد علی خان المعروف اجیت ، بھارتی فلمی اداکار (پیدائش: 1922ء)
2011ء سلطان بن عبد العزیز آل سعود ، آلِ سعود کے اہم رکن اور (1 اگست 2005ء تا 22 اکتوبر 2011ء) سعودی عرب کے ساتویں ولی عہد (پیدائش: 1930ء)
2015ء سید مہدی شاہ ، (30 نومبر 2009ء تا 31 مارچ 2015ء) گلگت بلتستان کے پہلے وزیرِ اعلیٰ (پیدائش: 1954ء)
تعطیلات و تہوار :
1953ء لاؤس کو فرانس سے آزادی ملی۔
No comments:
Post a Comment