1294ء پوپ بونی فیس آٹھویں سینٹ سیلسٹائن پنچم کی جگہ پر نئے پوپ منتخب کئے گئے۔
1715ء سویڈن کی فوج نے ناروے پر قبضہ کر لیا۔
1893ء ہنیری فورڈ نے پہلی گیس موٹر بنانے کا کام پورا کیا۔
1894ء کلکتہ میں پہلا طبی سیمنار منعقد ہوا۔
1914ء جرمن جنگی طیارہ نے انگلیند کے ڈوور پر بمباری کی۔
1921ء رابندر ناتھ ٹیگور نے وشو بھارتی یونیورسٹی قائم کی۔
1924ء البانیہ جمہوریہ بنا۔
1942ء سوویت روس کی لال فوج نے دوسری جنگ کے دوران جرمنی کے تاس جن سکاجا اور مورو جوسک ہوائی اڈے پر قبضہ کیا۔
1943ء امریکی صدر رزویلٹ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جنرل آئن ہاور کو اتحادی فوجیوں کا سپریم کمانڈر مقرر کیا۔
1946ء دوسری عالمی جنگ کے بعد چوتھے فرانسیسی جمہوریہ کا قیام۔
1946ء دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکی جنرل میکنان نے آٹھ لاکھ نابالغ نازیوں کو معافی دی۔
1951ء لیبیا اٹلی سے آزاد ہوا۔ ادریس اول لیبیا کے حکمراں بنے۔
1953ء نیوزی لینڈ میں ایک ایکسپریس ٹرین کے ندی میں گر جانے سے 151 افراد کی موت ہو گئی۔
1966ء لونا۔13 چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا تیسرا روبوٹیک خلائی گاڑی بنا۔
1968ء اپولو 8 مہم کے ممبروں نے چاند میں داخل ہو کر ایسی کامیابی حاصل کرنے والے پہلے انسان ہونے کا شرف حاصل کیا۔
1979ء پہلا یورپی ایرین راکٹ کا تجربہ کیا گیا۔
1986ء ایران نے عراق کے شط العرب جزیرہ پر حملہ کیا۔
1989ء بھارت کا پہلا تفریحی پارک ’ایسل ورلڈ‘ ممبئی میں کھولا گیا۔
1991ء سوویت یونین کے صدر میخائل گوربا چیف نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا۔
1997ء الجیریا میں سدی لامری قتل عام میں 50 سے 100 افراد ہلاک ہو گئے۔
۔
2000ء بھارتی وشوناتھن آنند شطرنج چیمپئن بنے
1851ء – کتب خانہ کانگریس میں آگ لگی
کانگریس دارالکتب (Library of Congress) امریکہ کانگریس کا تحقیق دارالکتب (لائبریری) ہے۔
1972ء – پشتون راہنما خان
عبد الغفار خان کابل میں 8 سال جلاوطنی گزارنے کے بعد واپس پاکستان لوٹے۔
1999ء – انڈین ائر لائن کی کھٹمنڈو کی طرف جانے والی پرواز کو اغوا کر کے افغانستان کے شہر کابل میں اتار لیا گیا۔
31 دسمبر 1999ء بھارتی جیل سے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے بعد اغوا کار جہاز اور مسافروں کو آزاد کر کے فرار ہو گئے۔
2003ء – صدر جنرل پرویز مشرف نے 31دسمبر 2004 تک فوجی وردی اتارنے کا اعلان کیا ۔
1971ء – سقوط ڈھاکہ کے اسباب کی نشاندہی کے لیے حمودالرحمن کمیشن کا قیام عمل میں آیا ۔ ٭دسمبر 1971ء میں سقوط ڈھاکا کے بعد اس دور کے واقعات اورسقوط کے اسباب کی تحقیقات کے لیے 24 دسمبر 1971ء کو صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس حمود الرحمن کی سرکردگی میں ایک کمیشن مقرر کیا۔ اس کمیشن میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طفیل علی عبدالرحمن اور پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق شامل تھے۔ اس کمیشن کا دائرہ کار بہت محدود رکھا گیا اور کہا گیا کہ کمیشن ان حالات کی تحقیقات کرے گا جن میں ایسٹرن کمان کے کمانڈر نے ہتھیار ڈالے اور اس کے زیر کمک مسلح افواج کے ارکان نے ہتھیار ڈالے اور مغربی پاکستان اور بھارت کی سرحدوں اور ریاست جموں و کشمیر میں سیز فائر لائن پر جنگ بندی کا حکم دیا۔‘‘ کمیشن نے 17 جنوری 1972ء کو اپنے کام کا آغاز کیا اور 12 جولائی 1972ء کو اپنی عبوری رپورٹ صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی خدمت میں پیش کردی۔ 1974ء میں جب بھارت سے جنگی قیدیوں کی واپسی مکمل ہوئی تو کمیشن نے تحقیقات کا ڈول دوبارہ ڈالا اور جنرل نیازی اور دوسرے فوجی قیدیوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد 25 نومبر 1974ء کو اپنی تفصیلی رپورٹ اور سفارشات بھٹو کی خدمت میں پیش کردیں جو اب پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے تھے۔ بھٹو نے قوم کے مسلسل مطالبے کے باوجود اس رپورٹ کو شائع نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس سے فوج کے مورال کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا جب کہ فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج نے اس رپورٹ کی اشاعت کی اجازت دے دی تھی۔ حکومت پاکستان ابھی اس رپورٹ کو شاید اور کچھ عرصہ تک خفیہ رکھتی مگر 21 اگست 2000ء کو بھارت کے جریدے انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک خصوصی اشاعت میں اس رپورٹ کے اہم اقتباسات شائع کردیے جو پاکستانی اخبارات میں بھی شائع ہوئے ۔اس کے بعد حکومت پاکستان کو بھی اس رپورٹ کو ڈی کلاسیفائی کرنے پر آمادہ ہونا پڑا۔ 30 دسمبر 2000ء کو حکومت پاکستان نے یہ دستاویز جزوی طور پہ ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کردی اور یوں اس رپورٹ کے بعض حصوں تک عوام کی رسائی ہوگئی۔
1951ء – لیبیا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔
1870ء – سرسید احمد خان نے علمی اور اصلاحی رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا
24 دسمبر 1988 وسیم سجاد (چوبیس دسمبر ۱۹۸۸ء تا بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ء) سینیٹ آف پاکستان کے تیسرے چیئرمین وسیم سجاد 30مارچ 1941ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ وہ 24 دسمبر 1988ء کو سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے اور مسلسل تین مرتبہ سینٹ کے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد 12 اکتوبر 1999ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ سب سے زیادہ عرصے تک چیئرمین سینیٹ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
24 دسمبر 2010ء کو گنیز بک آف ریکارڈز نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے محمد امین سلیم کی تیار کردہ ایک چاندی کی انگوٹھی کو دنیا کی سب سے بڑی چاندی کی انگوٹھی تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ چاندی کی اس انگوٹھی کا وزن 71.68کلو گرام (158.03 پائونڈ) اور اندرونی قطر 85 سینٹی میٹر (2 فٹ 9 انچ) تھا۔ اس انگوٹھی کی تیاری میں 97.83 فیصد خالص چاندی استعمال کی گئی تھی اور اسے امین اینڈ کمپنی لاہور کے اہتمام میں تیار کیا گیا تھا۔محمدامین سلیم نے اپنی اس انگوٹھی کو Fragrance of Love کانام دیا تھا۔
24 دسمبر 1960ء سے 31 دسمبر 1960ء تک لاہور میں پاکستانی اسکاوٹوں کی تیسری جمبوری منعقد ہوئی۔اس جمبوری میں پانچ ہزار سے زیادہ اسکاوٹوں نے حصہ لیا جن کا تعلق امریکا، برطانیہ، جاپان، فلپینز، افریقہ، ایران، سیلون، جرمنی، کمبوڈیا اور ملایا سے تھا۔ تقریبات کا افتتاح صدر پاکستان اور پاکستان کے چیف اسکائوٹ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کیا۔ اس تقریب میں اسکائوٹ تنظیم کے بانی لارڈ بیڈن پاول کی اہلیہ اور ورلڈ چیف گائیڈلیڈن بیڈن پاول نے بھی بطور خاص شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھی 2 آنہ مالیت کا ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر لاہور کی مشہور زمزمہ توپ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
24دسمبر 1978ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ہوائی جہازکی پہلی پرواز کی پچھتر ویں سالگرہ کے موقع پر 65 پیسے، ایک روپے، دو روپے اور سوا دو روپے مالیت کے چار ڈاک ٹکٹوں کا ایک خوب صورت سیٹ جاری کیا۔ ان ڈاک ٹکٹوںپر ہوائی جہازوں کے مختلف ماڈلز کی تصویریں بنی تھیں اور 75th Anniversary - First Powered Flightکے الفاظ تحریر تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا ۔
24دسمبر 1984ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اقوام متحدہ کے ادارے انکٹاڈ( یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر 60پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرانکٹاڈکا لوگو بنا تھا اور اس کے گرد ایک دائرے میں 20th ANNIVERSARY OF UNCTAD 1964 - 1984 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔
2018ء نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں سات سال قید اور ساڑھے پانچ ارب روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ۔ گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔
ولادت :
1166ء جان سینز تیرے ، (6 اپریل، 1199ء تا 19 اکتوبر، 1216ء) خاندان اونژو کا چوتھا شاہ انگلستان ، رچرڈ اول کا بھائی (وفات: 1216ء)
1167ء تموجن بمعروف چنگیز خان (تموجن کا مطلب ہے "لوہے کا کام کرنے والا"۔) ، (موسم بہار 1206ء تا 18 اگست 1227ء) پہلا منگول حکمران ، خاندان بورجگین سے تعلق رکھنے والا اور سلطنت منگول کا بانی حکمران (وفات: 1227ء)
1740ء آنڈرز جوہان لیکسل ، سوئیڈش نژاد روسی خاتون ماہر فلکیات، ریاضی دان، طبیعیات دان، استاد جامعہ (وفات: 1784ء)
1761ء سلیم ثالث، (7 اپریل 1789ء تا 29 مئی 1807ء) سلطنتِ عثمانیہ کا اٹھائیسواں سلطان ، موسیقار اور نغمہ ساز بھی تھا۔ میسور کے ٹیپو سلطان کا ہمعصر تھا (وفات: 1808ء)
1818ء جیمز پریسکوٹ جول، انگریز طبیعیات دان اور شراب ساز (وفات: 1889ء)
1822ء میتھیو آرنلڈ ، انگریزی شاعر، مصنف، ادبی تنقید نگار، استاد جامعہ، صحافی (وفات: 1888ء)
1868ء امانوئل لاسکر، جرمن شطرنج کھلاڑی، ریاضی دان اور فلسفی وہ (1894ء تا 1921ء) شطرنج کا عالمی چیمپئن رہا۔ (وفات: 1941ء)
1881ء جون ریمن جیمنیز ، نوبل انعام برائے ادب (1956ء) یافتہ ہسپانوئی شاعر (وفات: 1958ء)
1892ء روتھ چاٹرٹون، امریکی اداکارہ (وفات: 1961ء)
1892ء رشید احمد صدیقی، مضمون نگار، نقاد اور سوانح نگار (وفات: 1977ء)
1901ء الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف ، سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین (وفات: 1956ء)
1961ء الہام علیوف ، آذربائیجانی سیستدان ، (4 اگست 2003ء تا 4 نومبر 2003ء) ساتویں وزیر اعظم آذربائیجان اور 31 اکتوبر 2003ء سے آذربائیجان کے چوتھے اور موجودہ صدر ہیں۔ وہ حیدر علیوف کے بیٹے ہیں جو (1993ء تا 2003ء) آذربائیجان کے صدر تھے۔
1974ء کرستینا اومانیا ، کولمبیائی اداکارہ
1989ء جنید خان ، سوابی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کرکٹ کھلاڑی
3 قبل مسیح – گالبا، رومی بادشاہ (وفات۔ 69)
1919ء – قتیل شفائی، اردو کے ممتاز شاعر قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قتیل شفائی نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں حاصل کی تھی۔ بعدازاں وہ راولپنڈی میں قیام پذیر ہوئے جہاں انہوں نے حکیم محمد یحییٰ شفا سے اپنے کلام پر اصلاح لینا شروع کی اور انہی کی نسبت سے خود کو شفائی لکھنا شروع کیا۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا اور وہ اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا تھا۔ ٭11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
1937ء – فیلکس وینرینڈو، برازیلی فٹ بال کھلاڑی (وفات۔ 2012)
1956ء – انیل کپور بھارتی اداکار
1957ء – حامد کرزئی، افغان سیاست دان، بارہویں صدر افغانستان۔حامد کرزئی کا تعلق پشتون قبیلے پوپلزئی سے ہے۔ انکے والد عبدالاحد کرزئی ظاہرشاہ کے عہد میں ایک اہم سیاسی شخصیت رہ چکے ہیں۔ وہ دو مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن اور ایک مرتبہ اسپیکر بھی چنے گئے ۔ ان کا خاندان 1982 میں افغانستان میں حالات کی خرابی کے باعث کوئٹہ منتقل ہوگیا۔حامد کے والد کو دو سال پہلے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ قریبی مسجد سے نماز پڑھ کر گھر واپس آرہے تھے۔ ان کا قتل بھی افغانستان کے اعتدال پسند سابق سیاستدانوں کی پاکستان میں ہلاکتوں کے سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جاتا ہے۔حامد کرزئی نے ابتدائی تعلیم کابل کے ایک اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارت چلے گئے۔ہیں۔ان کی تعلیم ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں اور اس کے بعد امریکا میں ہوئی۔ انہیں اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ انگریزی اور دری زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے۔حامد کرزئی نے 1982 میں افغانستان لبریشن فرنٹ کے ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ انہیں پہلا سرکاری عہدہ پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعلقات خارجہ ملا۔ مجاہدین دور حکومت میں وہ 1992 سے 1994 تک افغانستان کے نائب وزیر خارجہ رہے۔ انہوں نے طالبان اسلامی تحریک کی ابتدا میں امن کی بحالی اور افراتفری کے خاتمے کی وجہ سے حمایت کی لیکن بعد میں اس کے سخت گیر موقف کی وجہ سے اس سے الگ ہو گئے۔ بعد انہوں نے ڈٹ کر طالبان کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ لوگ افغان مرد اور عورتوں کو اپنی گولیاں کا نشانہ بناکر نشانہ بازی کی مشق کرتے ہیں۔ دو برس پہلے جب ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تو شک کی انگلی طالبان کی جانب اٹھائی گئی۔امریکا نے جب افغانستان میں فوجی کارروائی شرورع کی، اس وقت وہ پاکستان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے طالبان کے خلاف مختلف دھڑوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور انہی خدمات کے صلے میں حامد کرزئی کو کابل پر امریکی قبضے کے بعد انہیں امریکی پٹھو حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کئی سال تک وہ یہ خدمات سرانجام دیتے رہا۔اکتوبر سن 2004 میں ہونے والے انتخابات میں اپنے حریف یونس قانونی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کے پہلے باقاعدہ منتخب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ حامد کرزئی کاشمار دنیا کے کمزور ترین سربراہ مملکت میں ہوتا ہے ان کی گورنمنٹ کی رٹ صرف دارلحکومت تک محدود ہے
1924ء – مشہور گلوکار محمد رفیع ۔محمد رفیع امرتسر کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی گلی میں ایک فقیر آتا تھا جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انہیں تعلیم دلائی۔رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتدا کی۔ پہلی پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں انہوں نے اپنا گیت زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انہیں سننے کے لئے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نےگانے سے انکار کر دیا ۔اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انہوں نے اِسٹیج پرگیت گایا۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انہوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انہیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کاگلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا
رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جبموسیقار اعظم نوشاد نے انہیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انہوں نے طلعت کے بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے اردو ،ہندی،مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فن کیرئیر میں ہزاروں گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔انہوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت تقریباً ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پے تجھ کو بٹھا کے‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمہاری نظر کیوں خفا ہوگئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘، ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جارہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔رفیع کو ان کے گیتوں پر 6 فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ حکومت نے انہیں پدم شری کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ 36000 سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہیں۔ اس سے بڑا کوئی اور اعزازنہیں ہو سکتا۔رفیع ایسے فنکار تھے جنہوں نے درجنوں فنکاروں کی زندگی بنا دی۔ فلم دوستی میں موسیقار شنکر جے کشن کے نغموں کو اپنی آواز دینے کے بعد وہ نغمے بہت مقبول ہوئے اور دنیا نے اس جوڑی کو پہچانا۔آپ کا انتقال 31 جولائی 1980 کو ہوا۔
1892ء – مضمون نگار ، نقاد اور سوانح نگار رشید احمد صدیقی کا یوم پیدائش ۔
1167ء – منگول حکمران چنگیز خان پیدا ہوا
24 دسمبر 1950۔پاکستان کا فخر معین اختر کراچی میں پیدا ہوئے ۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے معین اختر نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے کام کا آغاز6 ستمبر، 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، اسٹیج شوز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشرہ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کیے۔
نقالی کی صلاحیت کو اداکاری کا سب سے پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اداکاری کی معراج نہیں ہے۔ یہ سبق معین اختر نے اپنے کیرئر کی ابتداء ہی میں سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ نقالی کے فن میں ید طولٰی حاصل کرنے کے باوجود اس نے خود کو اس مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔مورخہ 22 اپریل 2011ء کو دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کرگئے
وفات
1524ء واسکوڈے گاما، پرتگالی مہم جو، قزاق امیرالبحر اور سیاست دان، پرتگالی ہندوستان کے وائسرائے، جنوبی ہندوستان کے علاقے کوچین میں انتقال کر گئے۔ (پیدائش: 1469ء)
1863ء ولیم تھیکرے، انگریز مصنف اور شاعر (پیدائش: 1811ء)
1948ء افسر مودودی ، بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر، مصنف اور ماہر طب یونانی (پیدائش: 1874ء)
1967ء برت باسکن، امریکی تاجر و شریک بانی باسکن روبنز (پیدائش: 1913ء)
1973ء ای وی راماسوامی نیکر، انڈین سماجی کارکن اور لیڈر، بمقام ویلور
1980ء کارل ڈونٹز ، جرمن ایڈمرل و صدر، پہلی جنگ عظیم میں جرمن یوبوٹ کا کمانڈر تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمن نیوی کا کمانڈر انچیف رہا۔ جرمنی کی شکست پر ہٹلر کا جانشین بنا۔ 1946ء میں نورمبرگ کی فوجی عدالت نے دس سال قید کی سزا دی۔ (پیدائش: 1891ء)
1987ء ایم جی رام چندرن، تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ
1997ء توشيرو ميفوني، چینی نژاد جاپانی اداکار و تخلیق کار (پیدائش: 1920ء)
1999ء جنرل جوآوو بتستا فیگوریدو، برازیل کے آخری فوجی حکمراں (پیدائش: 1918ء)
2008ء ہیرلڈ پنٹر، نوبل انعام برائے ادب (2005ء) یافتہ انگریز ناٹک نگار، ہدایت کار (پیدائش: 1930ء)
2007ء – پاکستان ٹی وی اور فلم کے مشہور اداکار اظہار قاضی کراچی میں انتقال کرگئے۔ اظہار قاضی 1957ء میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کی اور پاکستان اسٹیل ملز سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1984ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کی ڈرامہ سیریز دائرہ کے ایک ڈرامے تھکن سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔ اس ڈرامے میں ان کا کردار بہت مختصر سا تھا مگراس کردار میں اظہار قاضی نے اتنی اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا کہ پاکستان ٹیلی وژن کے پروڈیوسروں نے ان کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔اس ڈرامے کے بعد انہیں مشہور ڈرامہ پروڈیوسر قاسم جلالی کی ڈرامہ سیریلز گردش اور انا میں اپنے فن کے اظہار کا موقع ملا۔ ان سیریلز میں ان کی خوش قامتی، خوب صورت آواز اور ہیر اسٹائل نے ناظرین کو اس قدر متاثر کیا کہ انہیں پاکستانی امیتابھ بچن کہا جانے لگا۔ 1985ء میں فلم ساز اور ہدایت کار نذر شباب نے تقسیم کارستیش آنند کے مشورے پر انہیں اپنی فلم روبی میں بطور ہیرو کاسٹ کیا۔ اس فلم نے گولڈن جوبلی منائی اور یوں فلمی صنعت کے دروازے اظہار قاضی پر کھل گئے۔ اظہار قاضی اپنی زندگی کے آخر تک فلمی دنیا سے وابستہ رہے۔21 برس کے اس دورانیے میں انہوں نے مجموعی طور پر 87 فلموں میں کام کیا جن میں 30 فلمیں اردو میں، 27 فلمیں ڈبل ورژن، 26 فلمیں پنجابی میں، 3 فلمیں پشتو میں اور ایک فلم سندھی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ ان کی آخری فلم ایشیا کے ٹائیگر تھی جو ان کی ناگہانی وفات کی وجہ سے نامکمل رہ گئی۔
*تعطیلات و تہوار*
1951ء لیبیا اٹلی سے آزاد ہوا.
No comments:
Post a Comment